ہاتھی کی قربانی —- ابن فاضل

0
  • 65
    Shares

ہاتھی کس زبان کا لفظ ہے۔
ہاتھی لفظ نہیں جانور ہے۔
اچھا تو پھر ہاتھی کس زبان کا جانور ہے۔
ہاتھی کی کی کوئی زبان نہیں ہوتی وہ بے زبان جانور ہے
لیکن ہاتھی کی تو زبان ہوتی ہے میں نے خود دیکھی تھی چڑیا گھر میں
وہ ہتھنی ہو گی۔ ہاتھی اور شوہر بے زبان جانور ہیں۔
چلو یہ بتاؤ ہاتھی کو ہاتھی کیوں کہتے ہیں۔
یہ تو پتہ نہیں، لیکن ہے زیادتی۔ اتنا۔۔۔۔ بڑا۔۔۔ جانور اور اتنا سا نام۔ ہاتھی۔ کم سے کم ہاتھا ہی ہوتا۔

ہوسکتا ہے کہ پہلے پہل ہاتھا ہی ہوتا ہو اور پھر ہاتھا پائی والوں نے سٹے لے لیا ہو۔ تو اس کو ہاتھی کر دیا گیا ہو۔ ویسے “تھی” تو موئنث کا صیغہ ہے نا اور وہ بھی ماضی کا۔ ہا۔۔ تھی۔ یعنی کوئی ہا۔۔ تھی جو اب نہیں ہے۔ کس قدر زیادتی ہے۔ اور کچھ نہیں تو۔۔۔۔ “ہاہے” ہی کرلیں۔ کم از حال کا صیغہ تو ہے۔ بلکہ اس کے سائز کے حساب سے تو “ہاہاہاہاہاہے” ہونا چاہیئے .
اصل میں اس کا نام پہلے سنگھاڑا تھا جو اس کے جسم اور ہیئت پر بہت جچتا تھا۔ لیکن پھر لال بجھکڑ کی غلطی سے ہاتھی ہو گیا۔
وہ کیسے؟
ہوا یوں کہ ایک دفعہ لال بجھکڑ کا دہلی جانا ہوا۔ وہاں اس نے بادشاہ سلامت کو ایک بڑے سے جانور پر جاتے دیکھا۔ اتنا چھوٹا بادشاہ اور اتنا بڑا جانور دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوا .بطور خاص اس کی ٹانگوں سے۔ کیونکہ اس سے پہلے اس نے اس پایے کے پایے نہ دیکھے تھے اور نہ ہی کھائے تھے۔ اس نے لوگوں سے پوچھا کہ اس کا نام کیا ہے تو لوگوں نے بتایا کہ “سنگھاڑا”۔ اس نے فوراً اپنی ڈائری میں نوٹ کر لیا۔ پھر کچھ دن بعد اس نے دیکھا کہ ایک شخص ریڑھی پر سنگھاڑے بیچ رہا تھا۔ اس نے یہ بھی پہلی بار دیکھے تھے۔ اشتیاق سے پوچھا کہ اس کا نام کیا ہے۔ اشتیاق نے جواب دیا “ہاتھی”۔ یاد رہے کہ اشتیاق ریڑھی والے کا نام تھا۔ فوراََ ڈیری میں نوٹ کیا “ہاتھی”۔ انانوے دن کے بعد جب لال بجھکڑ پشاور سے تھوڑا آگے اپنے گاؤں پہنچا تو اس کے روحانی شاگردوں کا ایک جم غفیر اس کو دیکھ کر امڈ پڑا۔ یعنی وہ تینوں ریٹائرڈ بزرگ جن کے ساتھ بیٹھ کر وہ تاش کھیلتا تھا اس کے گرد جمع ہوگئے اور لگے بزرگوں کی سی ضد کرنے کہ ہمیں بتاؤ کیا دیکھا۔ اس نے بہت منت سماجت کی کہ مجھے پہلے نہا دھو کر اور نسوار کھا کر تازہ دم تو ہو لینے دو پھر بتاتا ہوں۔ لیکن وہ بضد رہے کہ ابھی تو تمہیں نہائے ہوئے صرف آٹھ ماہ اور اکیس دن ہوئے ہیں ابھی اتنی کیا جلدی ہے۔ البتہ نسوار کی بابت ایک بزرگ نے ادھر ادھر اچھی طرح آؤ اور تاؤ دیکھ کر جیب سے شیشے والی ڈبیا نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دی۔ لال بجھکڑ نے گرم آہ نکالی اور نسوار کی چٹکی زیر زبان رکھ کر لگا ان کو اس بے تحاشہ جانور کے متعلق بتانے۔ باقی سب تو ان کو خوب سمجھ آگیا البتہ پائے پر پہنچ کر وہ بھی متفکر پائے گئے۔ ان کو بتا یا کہ اس کے پائے اتنے بڑے پائے کے ہیں کہ جتنے بڑے پائے کے فلاں پشتو شاعریا فلاں پشتو ادیب۔ لیکن پھر بھی وہ نہ سمجھ پائے۔ آخر لال بجھکڑ نے ان کو بتایا کہ اس کے پائے فلاں پشتو اداکارہ کے پائے کے ہیں۔ تب جا کر ان کو سمجھ آئی اور پھر وہ بھی حسبِ حق متاثر ہوئے۔ اس کے بعد کانوں کی باری آئی۔ کانوں کا سائز سمجھانے کے لئے لال بجھکڑ نے کسی مناسب سائز کی چیز کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا، اس کو قریب ہی حاجی فلاں خان صاحب اوریگا کمپلیکس والے کا جاپانی کپڑے کا کھوکھا نظر آگیا۔ وہ شاگردوں کو لیکر وہاں پہنچا اور تھوڑی سی تسلی کرنے کے بعد بولا اس کھوکھے کی لمبائی اور چوڑائی اس کے “دوکان” کے برابر ہے۔ بس پھر نہ صرف ان کو سمجھ آگئی بلکہ وہ اس کے بعد سے وہ اس کھوکھے اور باقی سب کھوکھوں کو “دوکان” کہنے لگے۔ جانور مذکور والا حجم بے تحاشہ و لحم بے اندازہ کی جملہ جغرافیائی خصوصیات جاننے کے بعد شاگردان بزرگ اس کا نام جاننے پر مصر ہوئے۔ لال بجھکڑ نے جھٹ سے ڈائری کھولی، اس پر صفحہ اول پر درج تھا۔ سنگھاڑا، ہاتھی۔ لال بجھکڑ نے اپنی کالی کھوپڑی پر پورا زور ڈالا۔ لیکن اس کو کچھ یاد نہ آیا۔ کہ ہاتھی کونسا تھا اور سنگھاڑا کونسا۔ پھر اس نے منہ دوسری طرف کرکے ہونٹوں کو گول کر کے ان میں شہادت کی انگلی گھمائی، بھر پوراووووووو کی آواز کے ساتھ، اور پوری یکسوئی سے اکڑ بکڑ کرنے لگا۔ جب وہ اسی نبے پورے سو پر پہنچا تو اس کی انگلی ہاتھی پر تھی۔ بس وہ دن اور آج دن وہ ہاتھی ہی کہلایا۔
اوہ اچھا۔ لیکن یہ ہاتھی گنے کیوں کھاتا ہے۔
اس لئے کہ اس کو چائے رس پسند نہیں۔ ویسے بھی اگر رس چائے میں گر گیا تو نکالے گا کیسے۔
یہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں کیوں ہوتا ہے
“ہاتھی کا پاؤں” دوہزار سال قبل یونان میں جوتوں کا مشہور برانڈ تھا۔ تب انکا اشتہار تھا “ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں”
ہاتھی ہندی زبان کا لفظ ہے۔ یہ خشکی کا سب بڑا جانور ہے۔ نوزائیدہ ہاتھی کا وزن اوسطاً ایک سو کلو اور مکمل ہاتھی کی وزن تین سے چھ ہزار کلو گرام ہوتا ہے۔ ہاتھی کی اوسط خوراک دوسو کلو گھاس پتے چارہ وغیرہ اور قریب اتنا ہی پانی روزانہ پیتا ہے۔ اس کی طبعی اوسط عمر ساٹھ سال ہوتی ہے۔ دنیا میں ہاتھیوں کی کل آبادی سات لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ ہاتھی چند جانوروں میں سے ایک ہے جن کے بڑے دانت ہوتے ہیں۔ بارہ سال کی عمر تک ہاتھی دانت کی لمبائی چھ فٹ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ ہاتھی دانت سے بہت سی اشیاء بنائی جاتی ہیں۔ جن میں زیورات اورزیورات کے ڈبے، فرنیچر کے بیل بوٹے، قلم، پیانو کے بٹن اور دیگر نمائشی اشیاء شامل ہیں۔ ہاتھی دانت کی بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے ہاتھیوں کو بڑے پیمانے پر قتل کیا جاتا ہے۔ ایک غیر سرکاری مگر مصدقہ رپورٹ کے مطابق پچھلے دو سال میں ستر ہزارسے زائد ہاتھیوں کو ہاتھی دانت کے حصول کی خاطر مارا گیا۔ یعنی تقریباً ہر پندرہ منٹ کے بعد دنیا میں کہیں کوئی ہاتھی انسان کی غیر ضروری نمودونمائش اور مختلف نظر آنے کی خواہش کی خاطر قربان ہوجاتا ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ انسان محض خود نمائشی، دکھاوے اور دوسروں سے ممتاز نظر آنے کی خاطر روئے زمین کے سب سے بڑے جانور ہاتھی کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتا۔
عید قربان پر جب میں فرائض بالخصوص نماز سے غافل اور حلال حرام کی تمیز سے عاری دوستوں کو بڑے بڑے اور کئی کئی قربانی کے جانور لا کر گھر کے باہر باندھے ہوئے دیکھتا ہوں تو جانے کیوں مجھے اپنی قربانی ہاتھی کی قربانی لگتی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: