ہارے ہوئے لشکر کا بہادر سپاہی: خرم سہیل

0
  • 474
    Shares

جون صاحب اپنے زمانے سے تقریباً دو سو برس بعد پیدا ہوئے۔ یہ وہ زمانہ ہے، جب تہذیب رخصت ہو رہی تھی، فن کی قدر کرنے والے بے سروساماں ہو چلے تھے۔  معاشرے کی ترجیحات تبدیل ہو رہی تھیں، اب نہ کوئی مغل دربار تھا، نہ ہی کوئی واجد علی شاہ کی ریاست اودھ، جس کے حضور وہ اپنا فن پیش کرتے اور داد پاتے۔ عہدِ حاضر، جس میں انہوں نے جنم لیا، وہ پتھر کے دور کی واپسی میں مصروف تھا، ایسے میں پھول کی بات کرناجرم تھا، لہٰذاخوشبو کی بات کرنے والے مجرم ٹھہرے۔

خرم سہیل

اب اتنی تاخیر کی سزا تو ملنی چاہیے تھی، سو وہ انہیں مل کر رہی۔ یوں تووہ کئی جان لیوا احساسات میں مبتلا تھے، مگر سب سے زیادہ پریشان کرنے والا احساس’’محبت‘‘ تھا۔  رومان اور تخیل، جون صاحب کے مزاج کے دو پر تھے، جن کے بل بوتے پر وہ تخلیق کی دنیا میں محو پرواز تھے۔ سماج میں رہتے ہوئے، انہیںضرورت تھی کہ دنیا داری کے معاملات کو بنا کر چلتے، مگر وہ کسی مخصوص ڈگر پر چلنے کے عادی نہ تھے، دل کی گواہی پر زندگی گزارنے والے اس شاعر ِبے بدل نے بڑا خرابہ پیدا کیا۔ خارجی دنیا سے انہیں کوئی سروکار نہیں تھا، داخلی دنیا کو مرکز مانے بیٹھے تھے، پھر یہ تو ہونا تھا۔

جوگزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

امروہے کی گلیوں میں ہوش تو سنبھالا، مگر خود کو زندگی بھر نہ سنبھال پائے۔ چوباروں کی کھڑکیاں، گھروں کے دروازے اور چلمنوں کے پیچھے سے مرمرئی انگلیاں، مسکان بھرتے ہوئے چہرے اور مجسم حسن، انہیں بے چین کیے رکھتا تھا۔ دید کی چاہ میں بے چینی، ان کے دل میں کچوکے لگاتی تھی اور درشن ہو جانے پر مسرت کی گدگدی،  انہیں مدہوش کر دیتی تھی۔ ظلم کی حد تک اعتراف کرلینے کے قائل تھے، اسی لیے جب کم عمری میں، محبت کا پہلا گرم جھونکا دل کو چھو کر گزرا تو گویا بے اختیار لکھ دیا۔

چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
سرخی دیکھ لو میرے رخسار کی

کم عمری میں جس نے کسی کی چاہ میں طمانچے کھائے ہوں، اس کی بے قراری کا عالم کیا ہوگا۔ زندگی کی ابتدا سے لے کر خاتمے تک، ان کے تجربات اتنے تلخ رہے، جن کی کڑواہٹ، ان کی شاعری اور نثری تحریروں میں بھی ملتی ہے، جو گفتگو کرتے تھے، اس میں بھی یہ ذائقہ پوری طرح موجود تھا۔ وہ خاص طور پر ایسے معاشرے میں زندہ تھے، جہاں جمالیات بتدریج دفن ہو رہی تھیں، اسی لیے زندگی کے آخری برسوں میں اعتراف کیا۔ ’’میں ہار چکا ہوں، معاشرے کو میں اپنی اقدار پہ لانا چاہتا تھا، مگر میں ہار گیا، یہ افلاطون اور کرگس کا معاشرہ نہیں ہے، یہ بونوں کا معاشرہ ہے۔‘‘ ان کی شاعری، سماج کا نوحہ تھی اور خسارے کا واویلا بھی، جس پر کوئی کان دھرنے کو تیار نہیں تھا۔

واعظ کو خرابے میں اک دعوت حق دی تھی
میں جان رہاتھا وہ جاہل نہیں آنے کا

یہ جون صاحب ہی تھے، جنہوں نے منافق معاشرے میں سچ کی سولی پرلٹک کر وہ زندگی گزاری، جوگزاری نہ جا سکتی ہو۔ رشتوں کی کرچیاں سے بار بار زخمی ہوئے،  آبلہ پا، چیخ و پکار کرتے کرتے خاموشی اختیار کرلی، پھر ان کے لکھے ہوئے حروف گویا ہوئے، سچائی چیخنے لگی، کیونکہ جس معاشرے میں وہ رہتے تھے، وہاں جھوٹ کا شور بپا تھا، سچائی کی آواز کانوں پڑی سنائی نہ دیتی تھی۔ تہذیب و تمدن اس معاشرے سے رخصت ہو رہے تھے، جون صاحب اس ہارے ہوئے لشکر کے بہادر سپاہی تھے، جو باہر کی لڑائی کو، اپنے اندر تک کھینچ لائے۔ وہ یہاں سے ہمیشہ کے لیے چلے گئے، مگر معاشرے کی جہالت کے استعارے، یادگاریں زندہ ہیں۔ جون صاحب اپنے آپ سے مکالمہ کرتے، تو ان کی اذیت دوہری ہو جاتی تھی۔

میں رہا عمر بھرجدا خود سے
یاد میں خود کو عمر بھر آیا

جون صاحب نے کیفیات کو حروف میں پرو کر لکھا۔ اسی سلسلے سے یہ شاعری اور نثرپارے ہیں، جن کی زبان، ہمارے دل کی آواز لگتی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ ہمیں اب ایک دوسرے کے دکھ سے کوئی واسطہ نہیں رہا۔ بتائیے، یہ اذیت کا وہ مقام ہے، جہاں سے پھر خاموشی گویا ہوتی ہے۔ انشائیوں میں درد کے یہ نغمے، احساس کے سینے میں پیوست ہیں، جن میں حالات حاضرہ کا تذکرہ، سماج کا دکھ اور ذات کا کرب بھی پوری طرح موجود تھا۔

جون صاحب فرماتے ہیں ’’ہم جو کھنکناتی ہوئی مٹی سے بنائے گئے، ہم جو خاک کے خمیر سے اٹھائے گئے اور ہم جو خاک میں ہی سلائے جائیں گے۔ ہم فتنہ وفساد کے زمانے میں زندہ ہیں اور دہشتوں نے ہمارا گھر دیکھ لیا ہے، سو ہم پر لازم آیا کہ ہم اپنے حجروں سے باہر آئیں اور مرنے والوں اور مارنے والوں کو اس المناک حقیقت سے آگاہ کریں کہ زندگی مارنے والوں اور مارے جانے والوں، دونوں ہی سے سوتیلی مائوں کا سا سلوک کرتی ہے۔ کسی کو ریشم و کمخواب کے بستر پر سلاتی ہے اور کسی کو بچھانے کے لیے گڈری بھی نصیب نہیں ہوتی لیکن موت سب کو ایک ہی نظر سے دیکھتی ہے، سب کو اپنی چھاتی سے سمیٹ لیتی ہے اور سب کو ایک ہی طور خاک میں ملاتی ہے۔ ‘‘

کتنی عجیب بات ہے کہ جون صاحب یہ کہہ کر چلے گئے۔ ہم نے ان کی شاعری کو تو تسلیم کرلیا، مگر وہ حساس انسان، جس نے اپنی اذیتوں کو قلم بند کیا، معاشرے کے نوحے لکھے، مگر کیا ہوا؟ ہم اخلاقی انحطاط کے جس بد ترین دور سے گزر رہے ہیں، وہاں ہو بھی کیا سکتا ہے کیونکہ ہم نے ہر رشتے میں ایک ترازو رکھ دیا ہے، ہر خواب کے ساتھ ایک منعفت جوڑ رکھی ہے، ہر امید کے پیچھے معاشی اسباب اکھٹے کر رکھے ہیں، ایسی تجارتی فضا میں لفظ کا ذکر کون کرے، جذبے پر بات کون کرے، ہم ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں، خود سے بھی بچھڑچکے ہیں، اسی لیے کوئی لفظ ہم پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ جون صاحب نے اپنی زندگی میں اگر کوئی روگ پالا بھی تو اس قدر حسین طریقے سے کہ دکھ پھر دکھ نہ رہا۔۔۔

بے دلی کیا یونہی دن گزر جائیں گے
صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے

کتنی دل کش ہو تم کتنا دل جو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

ہماری ملکی تاریخ میں کتنے لوگ ہونگے جنہوں نے ظالموں سے بلند آواز میں مکالمہ کیا اور کیا ظالم وہی ہوتا ہے جو آپ کو ظالم دکھائی دیتا ہے، کبھی کبھی ظلمت نیکی کا روپ دھار لیتی ہے، نفرت کو محبت کا بھیس بدلنا پڑتا ہے۔ وہ ظالم جو نیکی کے لبادے میں تھے، معصوم چہرے لیے امن کی بات کرتے تھے، جون ایلیا نے اُن کو، اُن کے اندر سے گھسیٹ کے باہر نکالا، زندگی کی خونریزی میں جون اکثر لہو لہان ہوئے، اسی رنگ میں زندگی کے فلسفے رقم کیے، جو کبھی شعر اور کبھی انشائیہ بنے، ہم میں سے کتنے چاہنے والے ہیں جو اس رنگ کو پہچان سکیں۔

جون فہمی اور جون شناسی کا دور تو ابھی شروع ہوا ہے۔ یہ سلسلہ ابھی چلے گا، بہت سے دل مفتوح ہوں گے، بغاوت کے کئی علم بلند ہوں گے، یہ شاعری اور نثری پارے ان کے لیے حوصلے کا منشور بنیں گے۔

زہر کے پیالے پینے والوں کے لفظ مرتے کبھی نہیں، وہ زندہ ہوتے ہیں جب ان کی معنوی منزل قریب آجاتی ہے، اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ آج بحیثیت قوم ہمارے موجودی حالات جو بھی ہیں، ان کی پیشن گوئی جون صاحب نے بہت پہلے کر دی تھی، آج ہر لفظ خون کی ہولی کی ترجمانی کر رہا ہے مگر ہم وقت سے پہلے سمجھنے کے عادی نہیں ہیں بلکہ جو ہمیں کسی ایسی کیفیت سے باخبر کرنا بھی چاہیے تو ہم اس کو دیوانہ اور پاگل کہہ کرمار دیتے ہیں پھر وہ جون ایلیابن جاتا ہے، جس کو دانائی ودیعت ہوتی ہے، ایسی دانائی جو نسل در نسل سفر کرے گی اور گزرتا ہوا قت جون صاحب کو ایک نئے سرے سے دریافت کرے گا۔

کرتا ہے ہا ہُو مُجھ میں
کون ہے بے قابو مجھ میں

جانے کس کی آنکھوں سے
بہتے ہیں آنسو مجھ میں

جون فہمی اور جون شناسی کا دور تو ابھی شروع ہوا ہے۔ یہ سلسلہ ابھی چلے گا، بہت سے دل مفتوح ہوں گے، بغاوت کے کئی علم بلند ہوں گے، یہ شاعری اور نثری پارے ان کے لیے حوصلے کا منشور بنیں گے۔ بناوٹ، تصنع اور جھوٹ کے سماج سے بغاوت کرنے والوں کے لیے جون صاحب کی تخلیقات، سفر کا سنگ میل ثابت ہوں گی۔ جون صاحب کے لکھے ہوئے انشائیوں میں سارے جہان کا درد ہے اور سماج سے مکالمہ بھی۔ درد کے قبیلے سے جڑے ہوئے فنکار، کل بھی خاموش تھے اور آج بھی خاموش ہیں، صرف جہالت بول رہی ہے۔ جون صاحب نے اپنی زندگی میں اس احساس کو بھی اپنے اندر محسوس کرلیا تھا، وہ اس بات سے بے خبر نہیں تھے، انہوں نے اس بات کومختلف زاویوں سے پیش کیا، جن میں سے ایک زاویہ یہ بھی تھا۔

میں تو صفوں کے درمیاں کب سے پڑا ہوں نیم جاں
میرے تمام جانثارمیرے لیے تو مر گئے

اپنا دکھ جھیلنا تو کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن کسی دوسرے کا دکھ جھیلنا بہت بڑی بات ہے اور جون صاحب کے دکھوں کو کوئی سمجھے، تو سمجھ آئے گی کہ وہ کتنے بڑے شاعر اور مفکر تھے مگر یہ کون سمجھے گا کیونکہ یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے دکھ سے کوئی واسطہ نہیں رہا۔۔۔

سوچا ہے کہ اب کارِ مسیحا نہ کریں گے
وہ خون بھی تھوکے گا تو پرواہ نہ کریں گے

اِ س بار وہ تلخی ہے کہ روٹھے بھی نہیں ہم
اب کے وہ لڑائی ہے کہ جھگڑا نہ کریں گے


نوٹ: یہ تحریر خالد احمد انصاری (جون ایلیا کی شخصیت اور تخلیقات کے حوالے سے ایک اہم محقق) کی فرمائش پرلکھی گئی ہے، وہ مستقل قریب میں جون ایلیا پر لکھی گئی تحریروں کا انتخاب شایع کریں گے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: