پویلئین اینڈ سے ۔۔۔۔ اک سفر اونچے نیچے راستوں کا — قسط 2

0
  • 56
    Shares

کرکٹ۔۔۔۔ کیماڑی تا لنڈی کوتل،قوم۔کا یکساں جنون۔
کرکٹ ۔۔۔ جس میں ہم۔نے کبھی آسمان کی رفعتیں چھولیں تو کبھی پستیوں کی دھول چاٹی۔   اونچے نیچے راستوں کا سفر جس میں ہنسنا بھی ہے اور رونا بھی۔
شکور پٹھان اپنی کرکٹ کی یادیں لے کر آپ کے ساتھ۔  پاکستان کرکٹ سے جڑی یادوں کے بارے میں اس سلسلہ وار تحریر کی دوسری قسط دانش کے قارئین کے لئے۔


“ہم اسے بھی ساتھ لے جارہےہیں” چچا نے دادی کو بتایا۔
” ارے سے کہاں لئے جارہے ہو۔ اتنا سا تو ہے، کہیں ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا تو؟” دادی کے لئے میں ہمیشہ سے ‘ اتنا سا” تھا
” ارے ہم سب ہونگے۔کہاں بھاگے گا یہ؟” چچا نے دادی کو اطمینان دلایا۔

ہم اپنی پھوپھی کے ہاں یعنی کوکن سوسائٹی آئے ہوئے تھے۔ یہ ایک مشترکہ خاندان تھا۔ پھوپھا کے دو بھائیوں کے خاندان، ان کے والد اور والدہ اور ایک بہن جو ہندوستان میں رہ گئی رکھتیں ان کا بیٹا بھی ساتھ ہی رہتا تھا۔ یہ ایک بھرا پرا گھر تھا۔ اور ہم بھی بہار کالونی سے یہاں آکر براجے ہوئے تھے۔ یہ کوئی بہت بڑا گھر نہیں تھا لیکن ان دنوں گھر چاہے چھوٹے ہوں دل بہت بڑے ہوتے تھے۔ ایک عجیب ہی ماحول تھا کہ اگر میں وہاں کے قصے سنانے بیٹھ جاؤں تو جو داستان امیر حمزہ میں سنانے جارہا ہوں وہ، وہیں رہ جائے گی۔
پھوپھی کے گھر کے نوجوان اور میرے چچا اسٹیڈیئم جانے کی تیاری کررہے تھے جہاں پاکستان اور کامن ویلتھ کے درمیان پہلا غیر سرکاری ٹسٹ میچ کھیلا جانے والا تھا۔
اور یہ میں آج آپ کو بتا رہا ہوں ورنہ اس وقت مجھے خاک پتہ تھا کہ کامن ویلتھ کیا بلا ہے اور غیر سرکاری کیا ہوتا ہے۔

اور جو بچے یہ پڑھ رہے ہوں انہیں لگے ہاتھوں بتادوں کہ Commonwealth یعنی دولت مشترکہ سابقہ برطانیہ کی نو آبادیوں کی تنظیم تھی جو ملکہ برطانیہ کو اپنا حاکم اعلی تسلیم کرتی تھی اور گروپ کے ممبران ایک دوسرے کو تجارت، تعلیم، کھیل وثقافت اور دوسرے شعبوں میں خصوصی رعایت دیتے تھے۔ دولت مشترکہ کے ممالک کے درمیان سفیر آج بھی ” ہائی کمشنر” کہلاتا ہے چنانچہ برطانیہ اور بھارت میں پاکستان کا سفیر نہیں بلکہ ہائی کمشنر ہوتا ہے۔ سفیر اور ہائی کمشنر میں کیا فرق ہوتا ہے، یہ جانے بغیر بھی آپ کا کھانا ہضم ہوجائے گا چنانچہ آگے بڑھتے ہیں۔

ان دنوں کرکٹ بھی دولت مشترکہ کے ممالک کے درمیان ہی کھیلی جاتی تھی۔ دوسرے ممالک اس بدعت سے آشنا نہیں ہوئے تھے۔
خیر جی! چچا نے دادی کو راضی کرلیا اور میں بھی اسٹیڈیم جانے والے قافلے کے ساتھ تیاریوں میں جت گیا۔ اس قافلے میں نہ صرف پھوپھا کے گھر کے لڑکے بلکہ محلے کے اور بہت سے لڑکے بھی شامل تھے۔

گھر میں دودھ اور پھینٹے ہوئے انڈے میں ڈبوئی ہوئی میٹھی ڈبل روٹی (French Toast) تلی جارہی تھی۔ ساتھ ہی پراٹھے اور قیمہ ناشتہ دان میں رکھے جارہے تھے۔ موسمی، سیب اور کیلے، چائے کے تھرمس، دوربین، زمین پر دسترخوان کے طور پر بچھانے کے لئےپرانے اخبار، ٹرانزسٹر ریڈیو اور اسپرو کی گولیوں کا جائزہ لیا جارہا تھا۔ محلے کے سارے لڑکے یہیں جمع تھے۔
آٹھ ساڑھے آٹھ بجے کے قریب اس سارے سازوسامان کے ساتھ یہ قافلہ پیدل اسٹیڈیم کے لئے روانہ ہوا۔

حیدر علی روڈ جہاں چڑھائی چڑھتا ہے اور جہاں ‘ دلی کی ایک شام (Twilight in Delhi) کے مصنف پروفیسر احمد علی کی پہاڑی پتھروں سے بنی ہوئی انگلش کاٹیج نما کوٹھی کے پاس سے گذرتے ہوئے،الہی بخش سومرو کے بنگلے کے صحن میں پڑی جامنوں پر نظر ڈالتے اور نئی بنی دھوراجی کالونی کے حیران پریشان میمن لڑکوں سے چھیڑ خانی کرتے ہم اسٹیڈیم روڈ پہنچ گئے۔ جہاں شہر بھر سے خصوصی بسیں آرہی تھیں جن پر نیشنل اسٹیڈیم کی عارضی تختی لگی ہوئی تھی۔

نیشنل اسٹیڈیم کے باہر مختلف اطراف سے لوگوں کی قطاریں نظر آرہی تھیں۔ اگر وہ تصویریں میرے پاس ہوتیں تو آپ دیکھ کر حیران ہوجاتے کہ ” ہیں ! پاکستانی اور اتنا ڈسپلن؟!”۔
دراصل اس وقت تک ہمارے لوگ اتنے پڑھے لکھے نہیں تھے اور ان کی انگریز کے زمانے والی بری عادتیں اب تک باقی تھیں۔ قانون کی بہت حد تک پاسداری کی جاتی تھی۔ رات کو بغیر بتی سائیکل چلانے والے اور ریڈیو کا لائسنس نہ بنوانے والوں کا بھی چالان ہوجاتا تھا۔ راشن کارڈ میں اصل سے زیادہ تعداد لکھوانے والوں کو بری نظر سے دیکھا جاتا تھا۔

اسٹیڈیم کے اندر سے شور کی آوازیں آرہی تھیں حالانکہ کھیل ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد ہم بھی اسی تماشے کا حصہ تھے۔
اور میں حیرت سے دائرے میں بنے سر سبز میدان اور سیڑھیوں پر بیٹھے تماشائیوں کو دیکھتا تھا۔ کراچی میں سبزہ نام کی چیز شاید گاندھی گارڈن یا جہانگیر پارک میں ہوتی تھی یا پھر سو کا نوٹ سبزہ کہلاتا تھا۔ میری اب تک کی عمر بہار کالونی، کورنگی اور سوسائٹی میں بسر ہوئی تھی جہاں میری یادداشت میں کوئی گھاس کے میدان یا پارک نہیں تھے۔ ہاں بندر روڈ پر سڑک کنارے گھاس کے قطعے نظر آتے جن کے ساتھ ناریل کے درختوں پر ” پاکولا” والوں نے پاکولا کی تصویر پینٹ کی ہوتی تھی اور وہ ایک بہت بڑی بوتل معلوم ہوتے تھے۔ یا پھر اردو بازار کے پاس ‘ سوبھراج’ ہسپتال کے سامنے جہاں شاید سوبھراج کا مرمریں مجسمہ بھی ایستادہ تھا ایک چھوٹا سا گھاس کا قطعہ تھا جہاں میں اپنی چھوٹی بہن کی ولادت کے وقت گیا تھا۔ میں نے اب تک گاندھی گارڈن، کلفٹن، منوڑا اور منگھوپیر نہیں دیکھے تھے۔ کراچی میں اس وقت شاید یہی عوامی تفریحی مقامات تھے۔

تقریباً ساری نشستیں بھر چکی تھیں۔ ہماری ٹولی بارہ پندرہ لوگوں پر مشتمل تھی اور سب ساتھ بیٹھنا چاہتے تھے۔ تماشائیوں سے لڑتے بھڑتے بالآخر ہمیں یہاں وہاں نشستیں مل ہی گئیں۔

اب دائیں جانب نظر ڈالی جہاں پویلین کے سامنے گروپ فوٹو لئے جارہے تھے اور چچا اور دوسرے لڑکے تبصرے کررہے تھے، وہ امتیاز ہے، وہ سعید ہے، فلاں بوچر ہے اور وہ گریونی ہے۔
کچھ دیر بعد سب اندر چلے گئے۔
یکایک تالیوں کا شور اٹھا اور پویلئین کی جانب سے ایک طویل القامت اور ایک پستہ قد اور فربہی مائل صاحب برآمد ہوئے۔ یہ امپائر شجاع اور داؤد تھے۔
اور پھر تو تالیوں میں شدت آگئی جب کھلاڑی میدان میں اترنے لگے۔ یہ پاکستان کی ٹیم تھی۔ یہ سب میدان میں مختلف جگہ پھیل گئے۔

اور ایک بار پھر تالیاں بجنا شروع ہوئیں۔ اب پویلئین سے بلے باز برآمد ہورہے تھے۔ سروں پر کاؤنٹی کیپ، سفید پتلون قمیص، ٹانگوں پر پیڈ اور ہاتھوں دستانے پہنے اور بلے تھامے ہوئے ان کھلاڑیوں کو میں سحر زدہ ہوکر دیکھ رہا تھا۔ آج اتنے سالوں بعد بھی مجھے ان کا سر اٹھا کر سورج کی جانب دیکھنا، بازؤں کو ورزش کے انداز میں گھمانا یاد ہے۔
ان میں سے ایک انتہائی سرخ و سفید انگریز اور دوسرا سیاہ فام تھا لیکن نجانے اس میں بھی کیا کشش تھی۔ کرکٹ کے کھیل میں وہ کالے کلوٹے حبشی بڑے ہی خوبصورت لگتے۔
یہ کپتان پیٹر رچرڈسن اور سیمور نرس تھے۔۔۔مجھے اس وقت صرف رچرڈسن کا نام سمجھ میں آیا تھا جو میرے ساتھ بیٹھے لوگوں سے میں نے سنا۔

کھیل شروع ہواہی تھا کہ کچھ ہی دیر بعد اسٹیڈیم شور سے گونج اٹھا۔ کالا کھلاڑی مڑ کر دستانے اتارتا ہوا واپس جا رہا تھا۔ چچا اور ان کے ساتھی بڑے پرجوش نظر آتے تھے۔
” ارے کیا کیچ لیا ہے امتیاز نے”
“ویل بولڈ فاروق حمید”
لیکن اس کے بعد بہت دیر تک صرف چوکے اور رنز ہی بنتے رہے، کوئی واپس جانے کا نام نہ لیتا تھا۔
اور اس ایک دن میں، میں نے بہت سارے انگریزی کے لفظ سیکھ لئے۔ ٹاس، ایمپائر، میڈن اوور، پویلئین اینڈ، کنٹری کلب اینڈ، اسکور، باؤنڈری اور بہت سارے لفظ میں نے نہ صرف سنے بلکہ معنی بھی معلوم ہوگئے۔ اور یہ کرکٹ کا ہی اعجاز تھا کہ میں نے کرکٹ کمینٹری کے زریعے انگریزی کی ابتدائی شبدھ بدھ حاصل کی۔

اور میدان سے باہر تماشائیوں میں بھی بہت سی سرگرمیاں جاری تھیں۔ ہمارے عین مقابل اسٹیڈیم کے عقب میں ایک پہاڑی تھی جس میں ایک درخت پر کئی تماشائی بیٹھے مفت کے مزے لے رہے تھے۔ اس کے پیچھے ایک سفید عمارت تھی۔ یہ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ یہ پی سی ایس آئی آر کی آبزرویٹری تھی۔

ہر تھوڑی دیر بعد کوئی نہ کوئی خوانچہ اٹھائے، پاپڑ، چنا جور گرم، ناریل کی قاشیں لئے تماشائیوں کے بیچ میں نظر آتا۔ چنا جور گرم والا ایک جملہ کہتا اور تماشائی اس کا جواب دیتے۔ مجھے ٹھیک سے یاد نہیں لیکن تماشائیوں کا” لے بھی لو، دے بھی دو” ایک ساتھ کہنا یاد ہے۔
آپ نے سرکس میں بانسوں پر کھڑے لمبے آدمی دیکھے ہوں گے۔ ایسے ہی دو غالبا دس فٹ طویل آدمی جنہوں نے نیوی کے سپاہیوں جیسے کپڑے پہنے ہوئے تھے، سامنے ٹہل رہے تھے۔ یہ کیوینڈر نیوی کٹ کی اشتہار بازی تھی۔

اور میدان کے بیچ ایک بلے باز کے شاٹ پر تالیاں بجتیں اور یہ میرا کرکٹ کا اولین ہیرو ‘ روہن کنہائی’ تھا۔ چائے کے وقفے سے کچھ دیر پہلے کنہائی کی سنچری پر تمام اسٹیڈیم نے کھڑے ہوکر اور تالیاں بجا کر داد دی۔ جی ہاں اس وقت ہم بہت فراخ طبیعت کے اور اسپورٹسمین اسپرٹ کے حامل تھے اور مخالف کھلاڑیوں کے اچھے کھیل کی کھل کر داد دیتے تھے۔

اب جو بھی بلے باز آتا فورا نہیں جاتا تھا۔ باسل بوچر اور ٹام گریونی کے جانے کے بعد ایک کھلاڑی کے میدان میں آنے پر تالیاں کچھ زیادہ ہی بجیں۔
یہ خالد عباداللہ تھا۔ یہ پاکستانی کھلاڑی دولت مشترکہ کی جانب سے کھیل رہا تھا۔ اس نے بھی خوب بلے بازی کے جوہر دکھائے۔
میں لنچ کا ذکر کرنا ہی بھول گیا۔ بارہ بجے ایمپائر نے وکٹوں پر رکھی گلیاں ( بیلز) گرا دیں اور کھلاڑیوں سمیت پویلئین میں غائب ہوگئے۔
ہم نے اخبار سیڑھیوں پر بچھا کر ان پر کھانا سجایا اور گویا کہ پکنک کے سے انداز میں کھانا تقسیم کیا گیا۔ کچھ ہی دیر بعد اسٹیڈیم کی سیڑھیوں پر سنگترے اور کیلے کے چھلکے یہاں وہاں نظر آنے لگے۔ پویلئین کی جانب سے لاؤڈ اسپیکر پر گانے بجائے جارہے تھے۔

پھر دوسری بار چائے کا وقفہ آیا۔ ہاں یاد آیا کہ لنچ اور ‘ٹی’ کے الفاظ بھی اسی دن سیکھے۔ میں نے بتایا تھا ناں کہ میں گورنمنٹ اسکول میں ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھتا تھا اور ہمیں انگریزی نہیں پڑھائی جاتی تھی۔
شام تک مختلف گورے اور کالے کھلاڑیوں نے مل کر تین سو سے کچھ اوپر رنز بنا لئے۔ اب سائے بہت ملے ہوتے جارہے تھے کہ ایمپائر وہ نے دونوں جانب کی وکٹیں نیچی کرکے آج کے کھیل کے اختتام کا اعلان کیا۔
پورے میچ کی روداد تو بہت طویل ہے لیکن دوسرے دن کی دو باتیں ضرور بتاؤں گا۔ اور کرکٹ کے کھیل سے جو میرا رومانس شروع ہوا اس میں ان دو تین کھلاڑیوں کا بھی ایک کردار ہے۔

میں نے روہن کنہائی کا تذکرہ کیا،
جب پاکستان کی بیٹنگ شروع ہوئی تو کپتان امتیاز احمد کے ساتھ فقیر اعزاز الدین بیٹنگ کے لئے آئے۔ اور یہ شاید امتیاز کے آخری بین الاقوامی میچز تھے، میں نے اس کے بعد انہیں کھیلتے ہوئے نہیں دیکھا۔
ہمارے بلے باز وکٹ پر کھڑے ‘ گارڈ لے رہے تھے اور دوسری جانب ایک لمبا چوڑا سیاہ فام کھلاڑی گویا تماشائیوں کی جانب جارہا تھا۔ جی نہیں یہ باؤنڈری سے کچھ پہلے رک گیا اور واپس مڑ کر دوڑتا ہوا آیا اور وکٹ کے قریب آکر تقریباً گز بھر ہوا میں اچھلا ہے تو جانو کلیجہ اچھل کر حلق میں آتا ہوا محسوس ہوا۔

‘ یہ چارلی گریفتھ تھا۔ ساڑھے چھ فٹ کا یہ عفریت جسے دیکھ ہم تماشائی خوفزدہ ہوجاتے تھے، اس کے مقابل بلے باز کا نجانے کیا حال ہوتا ہوگا۔ میں نے بہت سے بالر دیکھے، گریفتھ سے زیادہ طویل اور تیز تر، لیکن جو ہیبت گریفتھ میں دیکھی وہ کسی اور میں نظر نہیں آئی،
اور میری زندگی کے پہلے میچ کی سب سے خوبصورت یاد مشتاق محمد کی بیٹنگ ہے۔ مشتاق نے شاید پونے دوسو کے قریب رنز بنائے۔ لیکن ان کی بیٹنگ میں جو خوبصورتی تھی برسوں مجھے اپنا گرویدہ بنائے رکھی۔

میرے ابتدائی بیٹنگ ہیرو مشتاق اور کنہائی تھے اور یہ غلط بھی نہ تھا کہ اس پورے دورے میں دونوں نے ہر میچ میں یا تو سنچری بنائی یا سب سے زیادہ اسکور بنایا۔
ایک اور چیز جس نے کرکٹ کو میرے حواسوں پر طاری کیا وہ کھلاڑیوں کے خوبصورت نام تھے۔ ہمارے اسکول کے دوستوں کے نام سیدھے سادے محمد بشیر، ریاض علی، رفیق احمد وغیرہ ہوتے تھے۔
کرکٹ کے ان کھلاڑیوں کے نام کچھ یوں تھے، انتخاب عالم، آصف اقبال، نسیم الغنی، فاروق حمید اور آج کے فلمی ہیرو معمر رانا کے والد شفقت رانا۔
ایک اور نام جو کمینٹری سنتے ہوئے عمر قریشی اور ان کے ساتھی جمشید مارکر کے منہ سے سنتے ہوئے بہت اچھا لگتا تھا وہ تھا ” انٹاؤ ڈی سوزا’۔
یہ مسیحی کھلاڑی تھے لیکن ہم ان دنوں انٹاؤ اور والس میتھائس کو ان کے مذہب نہیں بلکہ کھیل سے جانتے تھے اور ان کو بھی یونہی چاہتے تھے جیسے حنیف اور سعید کو چاہتے تھے۔

اگلے میچوں میں لاہور میں بیٹنگ کا افتتاح ‘ محمد مناف’ نے کیا۔ یہ ہماری کوکنی برادری سے تعلق رکھتے تھے اور بے حد وجیہہ اور پرکشش تھے۔ سنا ہے کہ ہندوستان کے دورے میں کوئی اداکارہ نگار سلطانہ ان پر فریفتہ ہوگئی تھی۔ مناف تیز بولر تھے لیکن ان سے بیٹنگ کروائی گئی اور انہوں ںے اس میچ میں کوئی خاص کارنامہ نہیں انجام دیا۔ لیکن ہمارے محلے میں مناف کا گھر ہمیشہ مشہور رہا۔ بہت بعد کے سالوں میں رمضان میں تراویح میں اکثر ان کے ساتھ کھڑے ہوکر نماز ادا کرنے کا موقع ملا جہاں میں انہیں سلام کیا کرتا اور وہ جواب دے کر مجھ سے ہاتھ ملاتے۔

ان دنوں بیٹنگ میں بہت رنز بنا کرتے تھے۔ چار سو رنز بنانا عام سی بات تھی۔ شاید دوسرے میچ میں مخالف ٹیم نے چھ سو رنز بنائے جس کے جواب میں ہم ںے بھی ساڑھے پانچ سو رنز بنائے۔
ایک میچ ڈھاکہ میں تھا۔ یہاں ایک اور خوبصورت کھلاڑی پرویز سجاد کی تصویریں اخبار میں آتیں۔ یہ ایک اور خوبصورت کھلاڑی وقار احمد کے بھائی تھے جو کہ اداکارہ جمیلہ رزاق کے شوہر تھے اور ہل پارک کے پاس ایک خوبصورت سے بنگلے میں رہتے تھے۔

کنہائی، مشتاق اور گریونی کے علاوہ شاید سعید احمد، عباداللہ، سیمور نرس وغیرہ نے بھی سنچریاں بنائیں۔

کرکٹ کی خبریں پڑھنے کے لئے اخبار پڑھنے کا شوق ہوا۔ کرکٹ اب دل ودماغ پر چھائی رہتی تھی۔ کھلاڑیوں کی تصویر جہاں نظر آتی اس کے ساتھ کی خبر ضرور پڑھتا۔ ہر وقت کھلاڑیوں کے بارے میں سوچتا اور اپنے آپ کو سفید کٹ میں پیڈ باندھے اور ہاتھوں میں بلا تھامے دیکھتا۔

ایک اور چیز تھی جس نے نہ صرف کرکٹ بلکہ دوسرے کھیلوں کا بھی دیوانہ بنایا اس کا ذکر انشاءاللہ اگلی قسط میں۔۔۔۔ کرکٹ کی مزید یادوں کے ساتھ۔


پہلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کریں
تیسری قسط اس لنک پہ ملا حظہ کریںhttp://daanish.pk/13043

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: