پاکستان کے موجودہ ادبی رسائل: تنقیدی پیش کش اور نقطۂ نظر

0
  • 49
    Shares

ادب کی ترویج و اشاعت میں جو کردار رسائل کا رہا ہے وہ کتاب کلچر یا دیگر ادبی سرگرمیوں سے کہیں بڑھ کے ہے۔خوش قسمتی سے اُردو میں بہت سے اہم جرائد و رسائل اس اہم ذمہ داری کو نبھاتے رہے ہیں۔ رسائل کلچر اصل میں انگریزعہد میں آیا جب ادب کو ایک سماجی حقیقت کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ پریس نے برصغیر میں ایک نئی تخلیقی دنیا کا دروازہ کھول دیا۔ اخبارات اور کتابوں کی اشاعت نے ہماری سماجی اور تخلیقی زندگی پر بہت سے اثرات ڈالے۔ ادب بھی ان اثرات سے بہرہ مند ہونے لگا۔ نِت نئے رسائل جاری ہونے لگے۔ بیسویں صدی میں خصوصاً اس اہم شعبے کی طرف ادیبوں نے توجہ دی۔سرسید نے ’’تہذیب اخلاق‘‘ نکالا۔ جو ادبی رسالہ تو نہ تھا مگر ادب پر گہرے اثرات مرتب کرتا گیا۔ ’’تہذیب اخلاق ‘‘کے رد عمل میں ایک بہت اہم رسالہ ’’تیرہویں صدی‘‘ بھی ہے جو میر ناصر علی خان دہلوی نے ۱۸۷۶ء کو جاری کیا۔ یہ اہم رسالہ رومانوی فکر کا نمائندہ تھا جو سرسید کی عقل پرستی کے رد میں جاری ہوا۔ چار پانچ سال کے بعد یہ بند ہو گیا پھر میر ناصر علی دہلوی نے نام تبدیل کر کے ’’صلائے عام‘‘ کے نام سے ایک اور رسالہ نکالا جو ۱۹۰۸ ء سے ۱۹۳۲ء تک جاری رہا۔ اس رسالے کی تنقیدی اور فکری سرمایے پر ابھی نظر نہیں پڑی۔ جامعات کو اس پر پوری توجہ دینی چاہیے اور میر ناصر علی دہلوی کی ادبی خدمات پر کام کروانا چاہیے۔ صلائے عام میں اُس وقت کے تناظرات کو پہچاننے میں مشکل پیش نہیں آتی۔ وہ عقل پرستی کے خلاف ایک جہاد کی طرح کام کرتے رہے۔ بہت کم لوگوں کو پتا ہے کہ اُردو میں رومانوی تحریک کے پس منظر میں میر ناصر علی کا نام اور کام ایک تحریک کی طرح تھا۔اسی عہد میں ’’مخزن‘‘ کا کام اور ادبی خدمات نمایاں ہیں جسے سر عبد القادر نکالتے تھے۔ ’’مخزن‘‘ میں خصوصاً جدید شاعری کو زیادہ موضوع بنایا گیا۔ یہ بھی رومانوی تحریک کا نمائندہ رسالہ بن کر سامنے آیا۔ آگے چل کر ’’ساقی‘‘ اور’’ ادبی دنیا‘‘ کی اہمیت کا کون انکار کر سکتا ہے۔ادبی دنیا کو میرا جی اور ساقی کو شاہد احمد دہلوی نے اپنے اعلیٰ ادبی ذوق سے اعلیٰ ادب کا مرکز بنا دیا۔ان دو جریدوں نے مجموعی طور پر ادب کی شکل نکھارنے میں ایک قدم بڑھ کے کام کیا۔ یہی وہ دور تھا جب اُردو میں تخلیقی ادب اپنی جون بدل رہا تھا۔ نئے نئے سوالات نئی اصناف کے ساتھ مرکز گفتگو بن رہے تھے۔ ساقی میں حسن عسکری نے باقاعدہ ’’جھلکیاں‘‘ کے عنوان سے کالم لکھنے کا آغاز کیا جس میں ادب میں اٹھنے والے نئے سوالات کو اپنا موضوع بنایا جاتا۔اسی دور میں محمد طفیل کا ’’نقوش‘‘، وزیر آغا کا ’’اوراق‘‘ اور احمد ندیم قاسمی کا ’’فنون‘‘ بھی جاری ہوئے جنھوں نے ایک عہد کی تعمیر کی۔ محمد طفیل نے تقریباً تمام اصناف کو اپنا موضوع بنایا۔ نقوش کے رسول نمبر، افسانہ نمبر، آپ بیتی نمبر، خطوط نمبر وغیرہ اہم شمارے تھے۔ہمارا عہد اگرچہ ’’اوراق‘‘ اور فنون‘‘ کے عہد سے آگے آ چکا ہے مگر ہمیں ابھی تک ’’اوراق‘‘ اور ’’فنون‘‘ کے تربیت یافتہ ادیبوں کی رہنمائی میسر ہے اور ہمارے عہد کی تعمیری و تخلیقی شناخت انھی رسائل کے تربیت یافتہ افراد سے متعین ہوتی نظر آتی ہے۔ ’’اوراق‘‘ کا قد اس لیے زیادہ برا ہے کہ اس میںنئی تنقیدی مباحث اورجدید نظم کو زیادہ اہمیت دی گئی۔ حتیٰ کہ ’’سوال یہ ہے‘‘ کے عنوان سے باقاعدہ ایک سلسلہ شروع کیا گیا جس میں جید لکھاری حصہ لیتے جو ادب کے ہم عصر مسائل کے مختلف تناظرات کو سمیٹنے کی اہلیت رکھتا۔ ’’فنون‘‘ غزل کی ترویج کا باعث بنا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اُردو کو اعلیٰ طرز کے غزل گو ’’فنون‘‘ نے ہی فراہم کیے۔

پچھلی کچھ ایک دو دہائیوں سے اُردو میں جرائد کا اسلوبیاتی انداز بھی بدلا ہے اور پیش کش کے لیے مواد کی ترجیحات میں واضح فرق بھی آیاہے۔ آج کے ادبی جرائد، ادب کو موضوع بناتے ہوئے اپنے تناظرات کو سمجھنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں اور کسی حد تک سمت نمائی بھی۔میں اگرپچھلی ڈیڑھ دہائی میں سامنے آنے والے چند رسالوں کا نام لوں تو اُن میں کراچی سے شائع ہونے رسائل میں دنیا زاد (آصف فرخی)، آج (اجمل کمال)، مکالمہ (مبین مرزا)، ارتقا (محمد علی صدیقی)، اسالیب (عنبرین عنبر)، اجرا (احسن سلیم) اپنی وضع اور مباحث میں منفرد اور کچھ ہٹ کے پیش کرنے والے رسائل ہیں۔ راولپنڈی سے سمبل (علی محمد فرشی)، تسطیر (نصیر احمد ناصر) اور ادبیات (محمد عاصم بٹ، اختررضا سلیمی) نمایاں اور اپنی شناخت بنانے والے جرائد ہیں۔ کہانی اور کہانی کار کو سمجھنے کی طرف ایک اچھی جہت ’’کہانی کار‘‘ (احمد اعجاز) اور ’’کہانی گھر‘‘ (زاہد حسن) میں بھی نظر آتی ہے۔

لاہور سے جرائد کے اعتبار سے کوئی خاص شمولیت نظر نہیں آتی۔ ایک عرصہ ہو گیا جب محمد سلیم الرحمن کا رسالہ ’’سویرا‘‘ نظر نواز ہوتا تو کچھ ہٹ کے دیکھنے کو ملتا۔ ایسا لگتا ہے انیس ناگی اور سہیل احمد خان کے بعد ’’سویرا‘‘ تو ہار سا گیا ہے۔ لاہور اس اہم رسالے کے علاوہ خاموش سا ہے۔کچھ اور رسائل بھی سامنے آئے ہیں جنھیں میں بہت اہمیت دیتا ہوں ان میں کولاژ (شاہدہ تبسم)، تناظر (ایم خالد فیاض) اور ڈاکٹر تحسین فراقی کا ادبی شاہکار ’’مباحث‘‘ ہیں۔ ’’مباحث‘‘ نے اپنی فکریات کو خالصتاً ادبی جمالیات کے ایک خاص حصے تک منسلک رکھنے کو ترجیح دی ہے۔ شاید اس وجہ سے ’’مباحث‘‘ ادبی دنیا کے موجودہ فکری رجحانات کا نمائندہ نہیں بن سکا۔ مگر ڈاکٹر تحسین فراقی کا علمی اور ادبی وقار اپنی جگہ مسلّم ہے۔ اس لیے اس جریدے کی اہمیت بھی مسلّم ہے۔ تحسین فراقی صاحب اس رسالے کے علاوہ بھی ایک جریدہ ’’صحیفہ‘‘ مرتب کر رہے ہیں جو مجلس ترقی ادب کا نمائندہ ہے۔ یہ جریدہ خالصتاً تحقیقی موضوعات کو سمیٹتا ہے اس لیے اپنی فکریات میں محدود ہے۔ کچھ اسی قسم کا ایک رسالہ ’’ مخزن‘‘ بھی ہے جو قائد اعظم لائبریری لاہور کا نمائندہ ہے۔ اس رسالے کا نام مخزن (عبدلقادر) کے نام بھی ہی رکھا گیا ہے مگر اس کی فکری مباحث اور مخزن سے کوئی تعلق نہیں۔ صوری اور اپنی اشاعت کی باقاعدگی کے حوالے سے یہ بھی ایک اچھا رسالہ ہے مگر کسی بڑے فکری تحرک کا باعث نہیں بن سکا۔ اسلام آباد سے ہی ہم ’’نقاط‘‘ کے نام سے ایک ادبی مجلہ باقاعدگی سے نکال رہے ہیں۔

ادبی جرائد کو کیسا ہونا چاہیے! یہ ایک ایسی بحث ہے جو ہمارے ادبی مسائل کو سمجھنے کے مترادف ہے۔ ادبی جرائد اب ادب کی خالص شکل کو پیش نہیں کر سکتے یعنی محض تخلیقی ادب چھاپ کر ایک رسالہ ادب کی کوئی خدمت انجام نہیں دے سکتا کیوں کہ تخلیقی ادب کے اشاعتی اطہار کے بہت سے موثرذرائع پیدا ہو چکے ہیں۔ رسائل کے وظیفے کا معاملہ ادب کے اندر پیدا ہونے والے فکری مسائل کو سمیٹنے کا زیادہ ہے۔ ہر چیز اپنے تناظرات کی ایک توجیح ہے۔ ایک وقت تھا جب ادبی جرائد اصناف تک محدود رہ کر مدیر کی فکری یا جمالیاتی ذوق کی خام حالت سے ٹھوس شکل میں پیش ہوتے تھے۔ اب ادب کا معاملہ دو جمع دو والا نہیں رہ گیا۔ ادب کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔ ادب کا سب سے اہم ذریعہ ’’زبان‘‘ ہے جس کو ایک ثقافتی تشکیل قرار دے دیا ہے۔ گویا ادب مصنف کی ’’تخلیق‘‘ نہیں، مصنف بھی زبان کے ذریعے’’ تشکیل‘‘ ہوتا ہے اور یوں صرف فن پاروں کی جمع آوری ہی مدیر کا کام نہیں رہ گیا۔ ادب کے اندر جن سوالات کو اُٹھایا جا رہا ہے اگر جرائد اُن کا حصہ نہیں بنتے تو وہ کارِ زیاں میں مشغول ہیں۔ ادب خلا میں تیار نہیں ہوتا اور نہ ہی ادیب اپنے تخلیقی کرب میں ذات کی جمالیاتی یا فکری الجھنوں تک محدود رہتا ہے۔ ادب کے تخلیقی عمل میں دیگر علوم کا ناگزیر حد تک عمل دخل ہو گیاہے۔ ایک شاعر یا کہانی کار اپنے ماحول کے جملہ فکری مباحث سے کٹ کے کچھ لکھ ہی نہیں سکتا۔یہ سارا عمل غیر شعوری ہوتا ہے۔ یوں ایک شاعر کا نقطہ نظر یا کہانی کا کرداری مطالعہ ایک تناظرContext میں سمجھنے سے ہی سمجھ میں آتا ہے ورنہ فن پارہ اکہرہ اور شخصی تشریح یا حظ اندوزی تک رک جائے گا۔

جرائد نے اپنے Context کو پھیلایا ہے۔ ایسا نہیں کہ اُردو ادبی جرائد میں پہلے ایسا نہیںتھا۔ کم ازکم ’’اوراق‘‘ کو ہم اپنے معاصرین میں مختلف رسالہ پاتے ہیں۔ مگر بات وہی کہ ’اوراق ‘کے مسائل اور تناظر بھی کچھ محدود تھے اور خاص سطح سے آگے نہیں آ سکے۔ شاید اُس وقت کے حالات کے تابع ہو کے ہی ’’اوراق‘‘ اپنی فکری تشکیل کرتا رہا۔ اب حالات محض غزلوں یا کہانیوں کو پیش کرنا نہیں رہ گیا بلکہ ادب کی جمالیاتی اور فکری بنت کاری کو اُس مکالمے کے اندر دکھانے کا کام بھی آن پڑا ہے جو رسالے کا مدیر اپنی ادبی اور سماجی فکریات میں چنتا ہے۔

اس حوالے سے کتابی سلسلہ ’’دنیا زاد‘‘ نے اپنی فکری شناخت سے سب سے زیادہ حصہ ڈالا ہے۔ نو گیارہ کے بعد کی صورتِ حال اور خطے کو درپیش جن حالات میں تخلیقی سطح پر شاعر اور کہانی کار جن جن کرب انگیز کیفیات سے گزرا ہے آصف فرخی نے کمال ہنر مندی سے جوڑ کر محفوظ کر لیا ہے۔ اُردو جس پر جتنا بھی ناز کرے وہ کم ہوگا۔’’ دنیا زاد‘‘ ادب کی ادبیت کو سمجھنے کا رسالہ ہے۔ ایک ادب اپنی تخلیقی سماجیت میں کن مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے اور اُس کی فکری بنت میں کون کون سے عوامل ہوتے ہیں، ان سوالات کا بخوبی جواب ’’دنیا زاد‘‘ کے خصوصی شماروں میں ملتا ہے۔ ’دنیازاد‘ کا ایک اور کارنامہ اُردو کو عالمی تناظر میں دیکھنے کا ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والا شمارہ ’’مین بکر ایوارڈ‘‘ کے شرکا کو اُردو میں متعارف کروایا گیا ہے۔ یہ صرف تعارف ہی نہیں بلکہ اُردو کے ادبی وقار کو ماپنے کی طرف بھی کامیاب کوشش ہے۔کیوں کہ ان میں ناول نگار اور کہانی کار انتظار حسین بھی شامل ہیں۔ آصف فرخی ایک کہانی کار اور معروف مترجم بھی ہیں۔ یہ دونوں خصوصیات اُن کے مدیرانہ منصب کے لیے بہت ممد ثابت ہوئی ہیں۔ ’دنیا زاد‘ ایک ایسی کھڑکی ہے جس نے اُردو کی تنگ فکری فضا کو باہر کی وسیع تخلیقی اور تنقیدی دنیا سے جوڑ رکھا ہے۔ عموماً اس کام کو ترجموں کی شکل میں پورا کیا جاتا ہے مگر دنیا زاد میں انگریزی اور دنیا کی دیگر دوسری زبانوں میں اعلیٰ ادب کے مسائل پر ڈھیر ساری بحث بھی ملتی ہے جس سے اُردو لکھاریوں کی براہِ راست شمولیت سے اس پرچے کے قد میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی طور پر دنیا زاد کا مزاج فکشن کی طرف ہے۔ خالص تنقید اور شاعری دوسری ترجیح میں شمار لگتی ہیں۔

پچھلی کچھ ایک دہائی کے اہم ادبی مباحث میں ’’سمبل‘‘ نے بھی بہت اہم حصہ لیا ہے۔ سمبل کے مدیر’’علی محمد فرشی‘‘ خود بھی ایک صاحب طرز نظم نگار ہیں شاید اسی لیے بھی انھوں نے ادب کی کھڑکی کے اندر ہی ادب کی جمالیات متعین کی ہیں۔ ’’سمبل‘‘ کا سارا زور ادب کی جمالیات کی تلاش رہا ہے اور وہ رسالے کے اندر ادب کی تخلیقی پیمائش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ مجموعی طور پر ’’سمبل‘‘ نے ادبی تخلیقی فن پاروں کی عظمت پر ادب پر اثر انداز عناصر کو کھوجنے کا پیغام دیا ہے۔ یہ بھی ایک اہم پہلوہے جس کا بخوبی اندازہ ’’سمبل‘‘ کے تمام شماروں کی ورق گرادانی کرتے ہوئے ملتا ہے۔ ’’سمبل‘‘ کا ایک اور اختصاص اعلیٰ درجے کے نظم نگار اورغزل گو شعر ا کو متعارف کروانا ہے۔ سمبل کو نئی جدیدنظم کی انتھالوجی بھی کہا جاتا ہے۔ تنقیدی حوالے سے نئے بحثوں کو جگہ دی گئی ہے۔ قرات خوانی کا جتنا خیال’ سمبل ‘میں رکھا گیا ہے شاید ہی کسی اُردو رسالے میں اس کا اہتمام کیا جاتا ہو۔ مخلتف گوشوں کو مختلف ناموں سے علیحدہ کر دیا ہے جن کے نام بھی مدیر کی اعلیٰ ذوقی کا پتا دیتے ہیں۔

کتابی سلسلہ ’’آج‘‘ کو کہانی کا نمائندہ جریدہ کہا جاتا ہے مگر میرے خیال میں اُردو کی شعریات کی تلاش میں بہت زیادہ حصہ’’ آج‘‘ نے بھی لیا ہے۔ اجمل کمال کا یہ رسالہ اُردو میں اُن تراجم کو پیش کرنے میں کوئی اڑھائی دہائیوں سے مصروف ہیں جو ادب کے اُن جملہ فکریات سے جڑا ہُوا ہے جن کے حصار میں نہ چاہتے ہوئے بھی ایک ادیب کو رہنا پڑتا ہے۔ ہمارے قومی المیے اور فکری بحران کا اظہار اجمل کمال نے جس طرح کیا ہے اُردو میں کوئی بھی رسالہ اُس طرح کا اظہار نہیں کر سکا۔ کہانیوں میں جس ادبی وقار کا خیال اجمل کمال رکھتے آ رہے ہیں اُردو کے چند ایک ہی رسالے کو وہ نصیب ہو سکاہے۔ اجمل کمال کا انتخاب صرف خوش ذوقی تک محدود نہیں، بلکہ ’’آج‘‘ کے صفحات پر اپنی جگہ بنانے والی ہر کہانی اُردو کے فکشن کے مجموعی سرمایے میں اٖضافہ بھی بنی ہے۔ شاعری بھی ترجمے کی صورت ہی سامنے آئی ہے مگر ’’آج‘‘ میں طبع زاد کہانیوں کی طرح شاعری بھی خال خال نظر آ جاتی ہے۔ شاعری میں بھی اجمل کمال نے کہانیوں کی طرح Content کو ہی سامنے رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ ’’آج‘‘ میں غزل اپنی جگہ نہیں بنا پائی۔ شاعری میں بھی نثری شاعری کا پلڑا بھاری ہے۔

ادبی رسالہ ہی کیوں؟ یہ سوال اب پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ اگر رسالہ نکالا ہی جائے تو وہ ادب کی ’’ادبیت‘‘ اور فن پاروں کی’’ تخلیقیت‘‘ کو سمیٹنے سے قاصر کیوں ہو؟ ایک ادبی رسالہ اپنے حاضر اور غائب سے اس قدر نابلد کیوں ہو؟ سماجیت کا عمل ادب میں کس طرح کارگر ہوتا ہے، ان سوالوں کے جواب ادبی رسالے کا موضوع کیوں نہیں ہوتے؟ ادب کو ادب کے طور پر لیتے ہوئے صرف اُردو تک کیوں محدود رہا جائے یا صرف ایک صنف کی محدود تکنیکی جمالیاتی گرہ کشائی تک ہی محدود کیوں رہاجائے؟

ادبی رسالوں کے مدیران کو اس طرف بھی دھیان دینا ہو گا۔چند رسالوں کے ’شور‘ کے علاوہ اُردو کے اندر ایک قسم کا جو جمود ہے وہ رسالوں کی خموشی بھی ہے۔ اور جو چھپ رہے ہیں اُن کے مدیران اپنے تناظرات کی تشکیل میں اب اتنا وقت نہیں دینا چاہ رہے اسے لیے رسالے پھیکے اور بے رونق ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے مباحث جن کی صرف خالی صفحوں کو ضرورت ہو اذہان کو نہیںان کا شائع کرنا بھی کار ِ زیاں ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: