پہلی محبت —- کاشف نصیر

0
  • 39
    Shares

کہتے ہیں کہ جیسے ہی آپ تازہ تازہ پچپن سے نکل کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں لاشعوری طور پر اپنے آس پاس کسی ایسے شخص کی تلاش شروع کردیتے ہیں جسکے تصور میں دن اور رات ایک کریں۔ بس پھر اس سعی میں جہاں آپکی نظر ٹھہرتی ہے، پہلی محبت کا حادثہ وہیں درپش آجاتا ہے۔ ناجانے وہ کون لوگ ہیں جنکی پہلی محبت ہی چل پڑتی ورنہ زندگی آگے بڑھ جاتی ہے اور پہلی محبت کہیں پیچھے پرانی ڈائری میں بند ہوجاتی ہے۔ تقدیس مشرق کچھ لوگوں کو جتنی ناگوار گزرے مگر یہی تو وہ روایات ہیں جو پہلی محبت کو مقدس بناتی ہیں اور اسکی یادوں میں پاکیزگی بھی برقرار رکھتی ہیں۔

پہلی محبت اکثر یکطرفہ ہوتی ہے۔ یکطرفہ بھی معلوم نہیں کون کہتا ہے ورنہ اصل میں تو اس سہمی ہوئی محبت سے محبوب اتنا ہی بے خبر ہوتا ہے جتنا محکمہ شماریات والے کراچی کی آبادی سے۔ البتہ کچھ لوگ بازی گر قسم کے بھی ہوتے ہیں جنکی پہلی محبت نہ پوشیدہ ہوتی اور نہ یکطرفہ۔ ایسی محبت کا انجام ہمیشہ شادی پر ہی ہوتا ہے لیکن یہ طے نہیں کہ لڑکے نے سر پر سہرا سجانا ہے یا کسی انکل نما دلہے کی تمام برائیاں اکھٹی کرکے مقدمے کی صورت بزم یاراں میں پیش کرنی ہے۔ ہمارے دور میں اسکول کے بعد گلی کے نکڑ اور چھوٹی کلاس کے لڑکے ایسی محبتوں کے کام آتے تھے لیکن اب تو سمارٹ فون کا دور ہے، نمبر مل جائے تو کام بن جاتا ہے۔ ایک چینلج اس زمانے میں محلے کے بڑے لڑکے، تاک جھاک کرنے والی خواتین اور گھسٹ بڈھے ہوا کرتے تھے۔ آج کل کے چیلنجز کا زیادہ علم نہیں ہے۔

کوئی آٹھ دس سال پرانی بات ہے۔ ہم یونیورسٹی کے پہلے سال میں تھے اور محلے کی مسجد سے ملحق اسکول میں انگریزی پڑھا کر وقت بسر کرتے تھے۔ یہ مقام و مرتبہ چھوٹے لڑکوں کی پہلی محبت کے دشمن بننے کے لئے کافی تھا۔ کہتے ہیں کہ ایسی دشمنی میں انتقام کا پہلو زیادہ ہوتا ہے۔ خیر کرائے دار کی لڑکی نئی نئی نویں جماعت میں پہنچی تھی اور اسکی کلاس کا ایک لڑکا اسکے پیچھے ہماری گلی میں منڈلاتا پھرتا تھا۔ اتفاق سے وہ لڑکا شریف، معقول اور اچھی فیملی سے ہونے کے ساتھ اکثر مسجد میں بھی نظر آتا تھا۔ ایک روز ہم نے نہی المنر کے واسطے اسکو اسکول بلوایا اور دفتر میں بیٹھ کر بات کی۔ پہلی محبت کا ولولہ اسکے بے خوف وجود سے باہر آرہا تھا۔ لڑکے کی جرت اور لڑکی کی معصومیت پر حسد اور جلن کا کچھ ملا جلا احساس تھا۔ سوچا بات اتنی آگے بڑھ گئی ہے کہ ڈرانے دھمکانے سے روکنے کی نہیں۔ سو ہم کسی رشتے والی ماسی کی طرح بروئے کار آئے۔ اگر لڑکے کی جلاد والدہ نے نہ نہ کی رٹ نہ لگائی ہوتی تو منگنی تو کم از کم ہم نے کروا دینی تھی۔

خیر وہ وقت تو کسی سیل رواں کی طرح گزر گیا ہے اور اسکے راستے میں کھڑے ناجانے کتنے تناور درخت اب جڑ سے اکھڑ چکے ہیں۔ سنتے ہیں کہ کوئی چار سال پہلے اس لڑکی کی ہمارے ایک پرانے دوست کے سب سے بڑے بھائی سے شادی ہوگئی ہے۔ خیر سے دو بچے پیں، بیٹے کا اسی سال اسکول میں داخلہ ہوا ہے اور بیٹی ماشاء اللہ پاوں پاوں چلنے لگی ہے۔ لڑکا حسب توقع کنورا ہے اور کون جانے کے اس کنوارگی میں زندگی کی کتنی اور بہاریں گزریں گی۔ آج شام وہ اپنی سی وی لیکر میرے پاس آیا تھا۔ چند ماہ پہلے انجنئیر ہوا ہے اور کہیں انٹرشپ کرنا چاہتا ہے۔ سوچا کہ جاتے جاتے کچھ اس لڑکی کا قصہ چھیڑوں لیکن پھر یہ سوچ کر روک گیا کہ ممکن ہے کہ اب وہ بھی اپنی پہلی محبت پر ہنستا ہوگا!!! خیر چھوڑیں مزے کی بات یہ ہے کہ آج کل وہ اسی اسکول میں مدرس ہے جہاں کبھی ہم پڑھایا کرتے تھے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: