ایک مردہ فلسفی کا روزنامچہ —- جنید عاصم

0
  • 59
    Shares

میں مر چکا ہوں. شاید یہ واحد خواہش ہے جو میری پوری ہوئی اور آخری بھی کہ اس کے بعد میں کوئی خواہش نہیں کر سکوں گا. میں اب بھی خوش نہیں ہوں ‘اس لئے نہیں کہ مرنا ہمیشہ ہی ناخوشگوار ہوتا ہے’، اور حادثاتی موت تو انسان کے ساتھ رونما ہونے والا بد ترین فعل ہے یا مر کے جو حساب دینا ہے اس کیلئے کیا جمع خرچ کیا ہے اور نہ ہی اس لئے کہ میں میرے پیاروں سے بچھڑ چکا ہوں, اس لئے بھی نہیں کہ میں میرے لوگوں کو یکجا ہوتے نہیں دیکھ سکا. میری ناراضی یا یوں سمجھ لیجئے کہ پریشانی یہ بھی نہیں کہ میرے دوست جنہیں میں خود کو یاد کرنے کے قابل کوئی موقع نہ دے سکا بہت جلد مجھے بھول جائیں گے, بلکہ مجھے افسوس ہے تو اس لمحہ کا جو میں نہیں دیکھ سکا یا مجھے دیکھنا نصیب نہ ہوا. اور میرے قاتل کو سزا ملنی چاہیے تو فقط اسی وجہ سے کہ اس نے مجھے اس لمحہ سے محروم کر دیا جو کسی انسان کی زندگی کا کل اثاثہ ہوتا ہے. اس نے مجھے اس معلومات سے بھی محروم کردیا جو صرف ایک مرنے والا ہی جان سکتا ہے.

میں جانتا ہوں کہ مرنے کے بعد لوگ زیادہ تر مردے کے بچھڑنے سے زیادہ اس بات پہ افسوس کرتے ہیں کہ وہ نجانے کتنی خوشیوں سے محروم رہ گیا جو مستقبل میں اس کو ملنا تھیں اور یہ بھی کہ کسی غم کی صورتحال کے دوران وہ کس طرح کا برتاؤ کرتا. انسان کا رویہ ایک ہی قسم کی خوشی اور غمی کے دوران بدلتا رہتا ہے. میں جانتا ہوں کہ میں بھی اسی طرح سوچا کرتا تھا. اسی طرح بہت سی اور باتیں جو اکثر لوگ ایک ہی طرح سے سوچتے ہیں. جیسے ایک دن جب میں نے اپنے دوست کو کہا کہ ٹرک کی چھت پہ بیٹھے انسان ہوائی جہاز پہ بیٹھنے والوں سے زیادہ خوش قسمت ہیں کہ کم اونچائی سے ہی سہی انہیں فضائیں دیکھنے کیلئے شیشوں میں مقید نہیں ہونا پڑتا اور نہ انہیں جہاز سے اترنے والے کی طرح اڈے پر انتظار کرنا پڑتا ہے اور نہ ہی اس رسم کی غلامی کہ جہاز سے اترو اور لوگوں سے ایسے ملو کہ دنیا فتح کر کے آئے ہو, بس اڈے پہ پہنچے نیچے اترے اور گھر چلے گئے. اور میری یہ بات سن کر وہ دوست بھی اچھل پڑا کہ وہ بھی ایسے ہی سوچتا تھا. کیا کروں کہ میں نے جو دوست بھی بنایا یا وہ بن گیا بالکل میری ہی طرح تھا. یہ بھی اکثر مجھے احساس کمتری میں مبتلا کردیتا تھا کہ ایسی فطرت کہ باوجود بھی میں انفرادی نہیں تھا. اور دلچسپ یہ کہ میری ٹرک پہ بیٹھنے کی خواہش بھی کبھی پوری نہ ہو سکی.

ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ باوجود مرنے کے بھی میں خوش نہیں تھا. میں خوش کیسے ہو سکتا تھا کہ میں میری زندگی کی فلم نہ دیکھ سکا. میں ان شاعروں اور فلسفیوں کو کیا جواب دوں گا جو پہلے سے مر چکے ہیں کہ میری زندگی کا سب سے خوش کن لمحہ کون سا تھا اور کس بات نے مرتے وقت مجھے سب سے زیادہ رنجیدہ کیا. میں یہ بھی نہ جان سکا کہ دوستوں میں کون مجھے سب سے زیادہ پیارا اور کس سے بچھڑنا سب سے دردناک ہو تا. میں فارسی ادب کے ستاروں سعدی اور رومی کے سامنے بھی نہیں جا سکوں گا کہ ان میں سے کس کیساتھ یہ بحث کر سکوں کہ مرتے وقت جان ہونٹوں یا ناخنوں میں کس سے نکلتی ہے اور یہ کہ ان کو بول سکوں کہ آپ میں سے جان نکلنے کے حوالے سے ایک شخص غلطی پہ تھا اور یہ بھی قانون قدرت ہے کہ اس نے میرے سامنے انکی لاج رکھ لی تھی کہ کسی کو بھی غلط ثابت نہیں ہونے دیا.

بچپن میں زندگی میرے لئے خدا کی سب سے بڑی نعمت تھی, میں جو چاہتا کر سکتا تھا, کسی روک ٹوک کے بغیر اور پھر ایک دن مجھے سکول بھیج دیا گیا. میں پریشان نہیں تھا بلکہ اس کو زندگی کی خوبصورتی سمجھتا تھا, میں ٹی وی بھی دیکھتا تھا اور یہی سمجھتا تھا کہ میری زندگی کی اگلی قسط شروع ہو گئی ہے. ہر روز نئے نئے لوگوں سے ملنا, نئی نئی باتیں سیکھنا جس میں جھوٹ بولنا بھی تھا کسی طلسماتی کہانی جیسا لگتا تھا. اور بعد میں میں نے محسوس کیا کہ یہ جھوٹ ہی تھا کہ زندگی اور زمانے کے متعلق میں شک بھری نظروں سے دیکھنے لگا.

میں جب نئی پود کو دیکھتا ہوں تو پریشان ہو جاتا ہوں کہ کیا وہ مجھ سے بھی پہلے زندگی سے تائب ہونے کا سوچ لیں گے کہ ان کے پاس زندہ رہنے کے جواز کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں. پھر جوں جوں میں بڑا ہوتا گیا میرے اندر جینے کی خواہش کم اور نہ جینے کی بڑھتی گئی. یونیورسٹی کے دوران تو میں نے اپنے آپ کو مکمل طور پہ ملامتی ادب اور اس کے پس منظر میں محدود کر لیا. میں نے ورجنیا وولف اور ہیمنگوے کے متعلق بھی پڑھا کہ کس طرح انہوں نے موت کے مقابل زندگی کو ٹھکرا دیا تھا.  ایسی ویڈیو بھی دیکھی جس میں ایک شخص سوئٹزرلینڈ میں خودکشی کے قانون کے لاگو ہونے کے بعد گھر والوں کے سامنے اپنی جان دے دیتا ہے.  مشینوں نے اسکی جان اس انداز سے نکالی کہ مرتے وقت اس کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی اور میں سوچ میں پڑ گیا کہ لمحہ موجود میں وہ شخص کس بات پہ مسکرا رہا تھا. کیا وہ ایسا شخص تھا جو نیا گھر لینے پر پہلے اس میں جاتا ہے اور گھر والوں کیلئے اس کو سجاتا ہے اور انتظار کرتا ہے کہ وہ جلد ہی آنے والے ہیں.

یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد زندگی بالکل رک سی گئی تھی, وہ راستے جن پر میں کبھی دوستوں کیساتھ پھرتا تھا میرے لئے بالکل اجنبی بن چکے تھے. اس کے اوپر چلتی بسیں کسی منزل سے محروم ہو چکی تھیں, ان سے اترتے لوگ یوں لگتے کہ اتریں گے اور غائب ہو جائیں گے اور چڑھنے والے تب تک ہی زندہ ہیں جب تک وہ اترتے نہیں اور اسی نہ ختم ہونے والے سفر کی دلدل میں دھنس جائیں گے جس سے واپسی ممکن نہیں. زندگی اس دن بھی چرچراہٹ میں بدل گئی جب میں لائبریری میں اس بوڑھے پڑھاکو سے ملا جس کے رشتہ دار آزادی کے وقت مار دیئے گئے تھے اور ستر سالوں میں کسی نے اس کے اوپر دست شفقت نہیں رکھا تھا. لیکن وہ تو زندگی اور موت دونوں سے باغی تھا. وہ موت سے باغی تھا کہ اس نے اس کا سب کچھ چھین لیا اور زندگی سے بھی کہ وہ اس کے خاندان کی حفاظت نہ کر سکی. کہتے ہیں موت تنہائی ہے تو کیا وہ پہلے ہی سے مر چکا ہے, شاید وہ مر چکا ہے اس لئے تو اسے کبھی زندوں کے پاس نہیں بیٹھتے دیکھا تھا.

میرے مرنے کی خواہش کا ایک سبب میرا زندہ لاشوں کے بیچ رہنا بھی تھا. میں لکشمی چوک کی پچھلی طرف ایک ایسے ہاسٹل میں رہتا تھا جہاں صرف جراثیم ہی رہ سکتے ہیں اور جراثیم اگر انسان ہوتے تو یہ ہاسٹل ڈیفنس ہوتا. اس ہاسٹل کے بارے میں سب سے دلچسپ یا قابل نفرت اس کا ایسی جگہ پہ ہونا تھا جہاں ہر طرف لوہے کے کوٹے جانے, ویلڈنگ کے جوڑے جانے اور پرنٹنگ پریس کی چھپ چھپ کرتی مشینوں کا شور تھا. اکثر جب میں تھک ہار کر شام کو یہاں آتا تو سب سے پہلے جو چیز نظر آتی وہ غسل خانوں کے اندر سے نکلتا گندا پانی اور اس کی نتھنے جلا دینے والی بو ہوتی. یہاں پانی کبھی اس وقت نہیں آتا تھا جب اسکی ضرورت ہو اور جب اس محلہ میں پانی کی ضرورت نہ رہتی تب وہ سارا یہاں آ جاتا تھا. اس کے رہائشی بالکل ایسے افراد نہیں تھے جن کا میں نے کبھی سامنا کیا تھا. اور ان کو دیکھ کر مجھے اور بھی احساس ہوتا رہا کہ زندگی ملنا اور گزارنا کس جرم کی سزا تھی.

ابھی دیکھیے نا میرے سامنے ایک ایسا بڈھا رہتا تھا جس نے اپنی زندگی کی ساری کمائی ایک شخص کو اس وجہ سے دے دی کہ وہ کسی کاروبار میں لگا دے اور اس کو ہر ہفتہ اس کا منافع دیتا رہے اور وہ بھی نوسرباز نکلا. یا میرا پڑوسی” ہیپی” جو گاؤں سے یہاں اداکار بننے آیا تھا, اور جسے میں نے سارے عرصہ میں کبھی نہاتے نہیں دیکھا تھا, ایک بار جب میں نے اسکی اداکاری کی تعریف کردی جب کہ میں نے کبھی اسکو اداکاری نہیں کرتے دیکھا تھا تو اس نے سوچ لیا کہ شاید میں بھی اداکار بننا چاہتا ہوں اور مجھے اپنا پرستار سمجھ کر پیش آتا رہا. حد تو اس دن ہو گئی جب اس نے کہا کہ اگر تم اداکاری کرو تو میں تمہاری بات کرتا ہوں. اور وہ پٹھان جس نے اپنے بارے میں کبھی سچ نہیں بولا تھا.

میں کیا کرسکتا تھا کہ میرے پاس اتنے بھی پیسے نہیں تھے کہ میں کسی اچھی جگہ جا کر رہ سکوں. اور ایک دفعہ جب میں نے کسی سے سگریٹ مانگا تو وہ اس قدر گھٹیا قسم کا تھا کہ پوری رات مجھے چکر آتے رہے اور سینہ درد کرتا رہا. میں گاؤں بھی گیا کہ کچھ چین پا سکوں, دوستوں کے پاس بھی مگر میں جہاں گیا, جس جگہ بیٹھا مجھے محسوس ہوا کہ میں ان کے نزدیک ایک درخت کی سی حیثیت اختیار کر چکا ہوں, جسے انہوں نے اگایا ہو, اسکی نوک پلک سنواری ہو اور کیڑے مار ادویات ڈالی ہوں کہ پھل دے سکوں مگر انہیں کیسے بتاتا کہ اس اسپرے نے میرا بیج پیدا کرنے والا عنصر جلا دیا ہے. میں وہ کھوکھلا درخت بن چکا ہوں جسے بس جلانے کے ہی کام لایا جا سکتا ہے. میں چپ رہا کہ وہ میری چھاؤں سے بھی نہ نکل جائیں کہ یہ اور بھی تھکا دینے والا ہو گا.

میں نے جلد وہاں سے نکلنے کی کوشش کی اور واپس شہر چلا آیا اور بالآخر آج کا دن آن پہنچا جب میں نے جلدی سے سڑک پار کرنے کی کوشش کی اور اس جلدی میں ایک ٹرک نے مجھے نیچے دے کر کچل دیا اور یہ سارا عرصہ میں یہی سوچتا رہا کہ آخر کس چیز نے مجھے اتنا سوچنے پہ مجبور کیا کہ میں اب کچھ بھی نہیں سوچ سکوں گا. مجھے اس زندگی سے نجات دلانے پر میں میرے قاتل کو معاف کرتا ہوں, ہو سکے تو آپ بھی کر دیجیے گا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: