عصبیّت اور تعصّب —- منیر احمد خلیلی

0
  • 23
    Shares

وسیعُ النظری، رواداری، اعتدال و توازن اور حلم اور بردباری بہت اعلیٰ خوبیاں ہیں۔ جس معاشرے میں یہ فروغ پاتی ہیں وہاں اجتماعی اور انفرادی زندگی سکون اور خوش گواری میں بسرہوتی ہے۔ مہر محبت کے جذبوں میں طراوت آتی ہے۔ سماجی رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور تعمیر و ترقی کے لیے فضا ہموار ہوتی ہے۔ مجموعی طور معاشرے کا غالب عنصر کی نظر میں ان خوبیوں والے قابلِ قدر اور لائقِ ستائش سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں ایک عمومی قیاس یہ ہوتا ہے کہ وہ عیب گیر نہیں ہوتے۔ لوگوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں کے پیچھے نہیں پڑے رہتے۔ ان کی نظر میں اصل اہمیت انسانی تعلقات کی ہوتی ہے جن کی محکمی اور استواری کے لیے وہ اپنی رائے اور موقف کو بھی قربان کر دیتے ہیں۔ ادھر ہم جب دنیاکی معلوم تاریخ کو دیکھتے ہیں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ خیر و شر، حق و باطل، سچ اور جھوٹ اور نیکی اور بدی کی آویزش کبھی ختم نہیں ہوئی۔ مختلف عقائد، ا فکار اور نظریات والی قوتوںمیں سے ایک کو ہم خیر، حق، سچ اور نیکی کی قوت کہتے ہیں جب کہ دوسری قوت کو ہم شر، باطل، جھوٹ اور بدی کی پاسدار قوت کا نام دیتے ہیں۔ ان دونوں قوتوں کے درمیان کشمکش اور کھلے تصادم انسانی تاریخ کے المناک اور سیاہ باب ہیں۔ خدا کی اس زمین پر اللہ کے رسول اخلاقی اعتبار سے بہترین انسان تھے۔ نہ کوئی ان سے بڑھ کر وسیع النظر ہو ا ہے، نہ ان جیسی رواداری کسی نے دکھائی، نہ کسی اور کی زندگی ان جیسے اعتدال و توازن کا کبھی نمونہ رہی ہے اور نہ کوئی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ انبیاء سے زیادہ وہ تحمل و برداشت کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ لیکن ان عظیم اخلاقی صفات کے باوجود کے ابلیسی قوتوں کی ان عظیم ہستیوں سے دشمنی میں کبھی کمی نہیں آئی تھی۔ فساد آلود ذہنوں اور دلوں میں ان پاکیزہ ہستیوں کے ان اوصاف کی قدر کے بجائے ایک چڑ پیدا ہوتی رہی اور ان کے خلاف تعصب اور نفرت اور ضد کی روش پروان چڑھتی رہی۔

خیر، حق، سچ، جھوٹ اور بدی اور شر، باطل، سچ اور نیکی دو متضاد اخلاقی رویے اور طرزِ عمل ہیں۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک صالح فطرت اور شریف النفس شخص جب وسیع النّظری، رواداری، اعتدال و توازن کا مجسمہ اور تحمل و برداشت کا نمونہ بن کر معاشرے میں زندگی گزارتا ہے تو شر، باطل، جھوٹ اور بدی کے بارے میں اس کا نقطۂ ِ نظراور برتائو کیا ہونا چاہیے؟ہدایت ربانی، فطرتِ صحیحہ، فیضانِ تربیت اور پاکیزہ ماحول کی برکت سے ہمیں یہ شعور اور پہچان نصیب ہوئی کہ ان دو متضاد رویوں میںاول الذّکر چار چیزیں اچھی اور ان کے برعکس چار قسم کے طرزِ عمل برے رویے ہیں۔ کیا حقائق کی دنیا میں وسیع النظری، رواداری، اعتدال و توازن اور تحمل و برداشت کی خوبیاں ایسی بے تعصبی پیدا کر دیتی ہیں کہ ہمارا یہ شعور کند ہو جائے اور ہم وہ پہچان کھو بیٹھیں۔ یہاں سے ایک اور نکتہ نکل رہا ہے۔ عصبیت کا لفظ آج کل دانشوروں کی تحریروں میں کثرت سے آ رہا ہے اور مجھے اکثر محسوس ہوتا ہے کہ وہ عصبیت اور تعصّب میں فرق نہیں کرتے۔ عصبیت ہمیشہ مذموم و مردود نہیں ہوتی اور تعصّب کو کبھی بھی محمود و مقبول کے درجے پر نہیں رکھا گیا۔ ابن خلدون نے جب عصبیت کی ضرورت بتائی تو اس کے محمود و مقبول ہونے کی وجہ سے بتائی ہے۔ عصب کے مادہ سے ماخوذ لفظ عصبیت جوڑنے، ملانے اور محکم و مضبوط بنانے کو کہتے ہیں۔ قرابت داروں سے محبت، دوستوں سے تعلق، برادری سے وابستگی، مظلوم کی حمایت، حق دار کی مدد، طاقتورکے مقابلے میں کمزور کے ساتھ کھڑا ہونا، عدل کے اصولوں کی نگہداری کرنا عصبیت کے دائرے کے عمل ہیں اور اس وقت تک یہ محمود ہیں جب تک عصبیت تعصّب میں نہ بدل جائے۔ عصبیت مثبت انداز میں بروئے عمل آئے توملی، قومی، قبائلی، خاندانی، ذاتی روایات و اقدار کے ’خزانے‘کو سینے سے لگائے رکھنے کا داعیہ پیدا کرتی ہے۔ اس کے برعکس تعصّب حسد و حقد، نفرت و حقارت اور انتقام پر ابھارتا ہے اور سماجی رشتوں کو کاٹتا اور کمزور کرتا ہے۔ عصبیت آغازِ تحریر میں گنوائی گئی اعلیٰ خوبیوں والے افراد کے اندر خیر، حق، سچائی اور نیکی کے بارے میں اس حساسیت کو بھی عصبیت کہتے ہیں۔ وسیع النظری، رواداری، اعتدال و توازن اور تحمل و برداشت، حلم و تواضع اگرچہ انتہائی مطلوب رویے ہیں لیکن ان کی وجہ سے اگر پاکیزہ اقدار کے بارے میں حساسیت مر جائے تو یہ رویے قابلِ قدر اور لائقِ ستائش تصور نہیں رہتے۔ مداہنت اور چشم پوشی سے اپنی شناخت گم ہو جاتی ہے اور آخر بنی اسرائیل کے ان گم شدہ قبائل کا سا معاملہ ہو جاتا ہے جن کے بارے میں اہلِ علم کہتے ہیں کہ انہیں مار کر نہیں مٹایا گیا تھا بلکہ جن طاقتور قوموں کے اندر وہ رہ رہے تھے وہاں اپنی مذہبی روایات، اپنے اخلاقی اصولوں اور اپنے تہذیب و تمدّن اور کلچر کے بارے میں ان کی عصبیت یا حساسیت مر گئی تھی اور خوف یا شعوری مداہنت کی وجہ سے وہ غالب اقوام کے کلچر میں ایسے رنگے گئے کہ دوچار نسلوں کے بعد کسی کو یہ احساس ہی نہ رہا کہ وہ کون تھے اور کہاں گئے۔ ابتدا میں بیان کی گئی اعلیٰ خوبیوں کے نام پر ’غیر جانبداری‘ کے طور اطوار پختہ ہوتے ہیں تو خیر اور شر کی دو متضاد سوچوں اور قوتوں کی کشمکش ختم نہیں ہو جاتی۔ بس اس میں ’کش‘ یعنی کھنچائو میں زور آ جاتا ہے اوراس کے سامنے ’مکش‘ یعنی’ نہ کھینچو‘ کی فریادیں اٹھتی ہیں۔

اپنے اعتقادی، نظریاتی، اخلاقی اور تہذیبی وجود کی بقا کے لیے عصبیت کو زندہ رکھنا ناگزیر ہوتا ہے۔ عصبیت احساس و شعور کی وہ حدّت اور روشنی ہے جوکسی بھی نوعیت کے فساد کے پھیلنے، غلبہ پانے، پھلنے پھولنے اور مقبول ہونے کو گوارا نہ کرے۔ عصبیت ایک اندرونی کیفیت ہے۔ کسی فرد یا گروہ، قوم، قبیلے یہاں تک کہ معتقدات، اصول و مبادی، نظریات و افکار کے دفاع کا داخلی نظم ہے لیکن تعصّب کا رخ ہمیشہ اندر سے باہر یعنی دوسروں کی طرف ہوتا ہے۔ حد سے بڑھے ہوئے جوش و جنون کو تعصّب) fanaticism ( کہا جاتا ہے جس میں مبتلا شخص یا جماعت صحیح یا غلط کی تمیز کے بغیرایک موقف یا نظریے پر ڈٹ جاتی ہے۔ جھکائو کی اس کیفیت میں فہم، دلیل اور غور و فکر کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ دیوانگی کی یہ کیفیت میں اپنے فرقے اور گروہ کے ساتھ کھڑا کر دیتی ہے خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو اور بر سرِ حق ہو یا سراسر باطل ہو۔ کسی پیر مرشد، استاد یا رہنما کی رائے کو اس طرح حتمی انداز میں قبول کرنا بھی تعصّب ہے کہ اس میں سہو و خطا کا کوئی احتمال ہی نہیں۔ اسلام کی رو سے اس یقینی درجے پر صحت صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے کلام اور تعلیمات میں ہی پائی جاتی ہے۔ یہی fanaticism انتہا پسندی، شدت مزاجی اور مخالفین سے نفرت و حقارت اور دہشت گردی پر منتج ہوتا اور تباہی لاتاہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ تین بار فرمایا: ہَلَکَ الْمُتَنَطِّعُوْنَیعنی انتہا پسند اور شدت طبع لوگ ہلاک اور برباد ہوں گے۔ تنطّع غالب آ جائے تواوپر جس شعور اور پہچان کا ذکر ہوا ہے اس پر پردے پڑ جاتے ہیں۔ تعصّب اور تنطّع کے ماحول میں وسیع النّظری، رواداری، اعتدال و توازن اور حلم و بردباری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ہی نہیں چھوڑا جاتا۔ شر، باطل، جھوٹ اوربدی سکّہ رائج الوقت بن جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: