سالٹ رینج کا عشق اور کٹاس راج: ایک رومان —  سحرش عثمان

0
  • 154
    Shares

کٹاس راج اُس کے مندروں بارے تحریر پڑھ کے نہ جانے کیوں بے ساختہ لکھنے بیٹھ گئی۔ کیبورڈ کھول تو لیا پر اب لکھا نہیں جا رہا کچھ۔

سمجھ ہی نہیں آرہی کہ سالٹ رینج کے ساتھ اپنا عشق لکھ دوں یا پھر تاریخی تہذیبی گفتگو کروں عقلمندوں والی۔

مجھے معلوم ہے آپ سب سوچتے ہوں گے عشق بہت بڑا لفظ ہے۔ آپ سب زیر لب مسکرائے بھی ہوں شائد کہ میری نسل میں اس لفظ کے استعما ل کا رواج پڑتا جا رہا ہے۔میں عشق میں گزرنے والی واردت سے واقف تو نہیں ہوں۔ لیکن مجھے لگتا ہے یہ اگر عشق نہیں تو قرین از عشق ضرور ہے۔

میرا دل سالٹ رینج کی طرف ویسے ہی کھنچتا ہے جیسے خیام کی رباعیوں کی طرف دوڑتا ہے۔ یا پھر خیام کا رباعی والی کی طرف۔

ہے نا عجیب بات؟ پر عجیب تو میں خود بھی ہوں۔ اور خود کے عجائب پر مسکرانا ہنسنا اداس ہونا بھی لطف دیتا ہے کبھی کبھی۔

بات کٹاس راج سے شروع کر کے خود پر لے آئی ہوں۔ کیسا ہی “خواتینی” مزاج پایا ہے میں نے بھی۔

خیر کہہ یہ رہی تھی کہ سمجھ نہیں آرہی کہ دل کی بات کہہ دوں یا دماغ کی۔

یوں تو میں سوچتی بھی دل سے ہی ہوں۔ لیکن دماغ میں ایک آدھی سوچ بھی بھر رکھی ہے جو مجھے “زمینی حقائق” پر لکھنے سوچنے پر کبھی کبھی مجبور بھی کر بھی دیتا ہوتا ہے۔ لیکن زیادہ اہمیت نہیں دیتی میں ایسی سوچوں کو۔

اس لیے بھی کیونکہ تاریخی تہذیبی پس منظر پر بہت سوں کی بہت سی کتابیں کام تحقیق اعلی سے اعلی معیاری سے معیاری مل جائے گی۔

پر وہ جو عشق کیا کسی نے سالٹ رینج سے وہ تو وہی بتا سکے گا نا؟

مجھے منفرد لکھنے کا زعم نہیں۔ بس یہ پتا ہے کہ جو میں کہہ سکتی ہوں وہ صرف میں کہہ سکتی ہوں۔

اور اب ارادہ کر بیٹھی ہوں تو پھر کہہ دیتی ہوں۔ گویا چراغ جلا کر سر راہ رکھ دیتی ہوں۔ چاہیں تو ضیاء پائیں چاہیں تو بجھا جائیں۔

سالٹ رینج جانا ہو تو ایسے لگتا ہے وقت تھم گیا ہو۔ یا پھر وقت کی رفتار سے پرے کوئی شہ زادی رستہ بھول کر ادھر آنکلی ہو اور اب حیران نظروں سے گرد و پیش میں پھیلے خاموش حسن کو دیکھتی ہو۔

حسن ہمیشہ خاموش ہی ہوتا ہے۔ حسن کی ادا شوخ ہوتی ہے۔ یہ اگر دریا میں ہو تو بہاؤ میں شوخ ہوجاتا ہے پہاڑ میں ہو کٹاؤ میں شوخی سے مسکراتا ہے خود کو سر کرنے کہ کوشش کرنے والوں گراتا گرا کر قہقہے لگاتا ہے۔ کسی مہربان دیوی میں ہو تو حسن باتونی پن سے چھلکتا ہے۔ ناک سکورنے سے یا پلکیں گرانے گرا کر اٹھانے سے۔

ایسا ہی خاموش حسن سالٹ رینج کا ہے خشک خاموش اور مسلسل۔

کبھی رہتاس کے نقشے میں جنگوؤں کی کہانیاں سناتا ہوا اور کبھی رہتاس سے پرے ٹلہ جوگیاں پر بیٹھے ایک جوگی کی ونجلی میں گنگناتا ہوا۔ کسقدر میٹھا لفظ ہے نا ونجلی۔بانسری لکھنا چاہا تھا پر نہ جانے کیوں مجھے لگا بانسری لکھنے سے شائد گنگناہٹ کی میٹھی کسک نہ پہنچ پائے آپ تک۔شائد اسی لیے زبان دان کہتے ہیں کہ کسی تہذیب کو پرکھنا ہو تو اس تہذیب کی زبان سیکھ لیں۔

سالٹ رینج کی زبان بھی تو ایسی ہی ہے نا۔ نمکین۔ سالٹ رینج کا یہ حسن کبھی نالہ کاہان کے کنارے چلتی ناریوں کی پازیب میں سما جاتا ہے۔ جو کسی زمانے میں جب یہاں پانی بھرنے آیا کرتی ہوں گی تو پانی کے گھڑے سر پہ اٹھائے اپنے لہجے کے لوچ میں کوئی گیت گنگناتی جاتی ہوں گی۔ ہیر کی بے باکی پر رشک رانجھے کے سنجوگ لینے کے قصوں پر حسرت بھی سے آہ بھی بھرتی ہوں گی۔ اور اپنے اپنے رانجھوں کے حسین سپنے آنکھوں میں بسائے نالہ کے سینے میں داستانیں چھوڑ جاتی ہوں گی۔ نالہ بھی حسن کا استعارہ ہے یہاں جرنیلی سڑک کو دو حصوں میں تقسیم کرتا حملہ کرنے والوں کے سامنے آخری کمزور اور موہوم مزاحمت۔ جسے جنگجو اپنی رعونت میں درخوئے اعتنا ہی نہ سمجھتے ہوں گے۔

پر رعونت زدہ چہروں کے لیے انتقام کا انتظام قدرت نے تاریخ کے صفحوں میں کر رکھا ہوتا ہے نا۔

اسی سالٹ رینج میں سانپ کی وہ قسم بھی پائی جاتی ہے جس نے ڈس لیا تھا سکندر کو۔

اسی سالٹ رینج میں پیدا ہونے بڑی ہونے اور پرورش پانے والی رخسائن( رخسانہ) نے ایتھنینز پر سو سال ( خود کے بعد بیٹؤں اور پوتے کے ذریعے)حکومت کی تھی۔

مجھے پتا ہے اس جملے کی “حقانیت ” چیک کرنے بہت سے لوگ اپنی اپنی تاریخ کی کتاب بھی کھول لیں گے تو بتاتی چلو کنگ کی بیوہکنگ کی بیوی ہوا کرتی تھی جس کو ہیملٹ میں شکسپئیر کے کردار کی سولولیکی کے کرب میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔خیر اسی سالٹ رینج کی رخسائن، ارسطو بھی جس کے حسن کے قصے لکھا کرتا تھا۔

جس نے یونانیوں میں وقت کی تعریف کے لیے بنائی گئی دیویوں کی آنکھیں نکلوا دی تھیں۔ کہ وقت اندھا ہوتا ہے۔ یہ پلٹنے پر آئے تو دن ایسے پھرتے ہیں کہ مفتوح قوم کی بیٹی فاتح قوم پر حکومت کرتی ہے۔

اور یہ ہی وقت ٹہرا ہوا ہے سالٹ رینج میں۔

کٹاس راج کے مندر ہوں یا گوجر خان کے ہر دوسرے گھر میں پردیسیوں کے انتظار میں بیٹھی دیویاں سب وقت کی رفتار سے آگے ٹہر کر رک کر کسی حسن مجسم کی داستان سناتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

جب کٹاس راج کے مندر دیکھے تو کانوں مندر کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ آتی جاتی منتیں دیکھائی سنائی پڑنے لگیں۔

اڑتے آنچلوں سے بندھی خواہشات اور اس پر دیویوں کے نذرانے۔

تین مندر تینوں طرز تعمیر میں تہذیب کی پختگی کا پتا دیتے ہوئے۔

یہ مندر بھی تو محبت کی کہانی پر ہی بنے تھے نا۔ سیتا کی یاد میں بہتے آنسوؤں کی لڑی سے بنے تالاب اور ان کے کنارے بنے مندر۔ جو آج زمانے کی بے ثباتی کا شکار ہیں۔

تنہا تنہا اداس اور شکستہ۔

اداسی سے یاد آیا کٹاس میں آوارہ گردی کرتے جب مندر میں گھسے تو دو پریمیوں کو راز و نیاز کرتے پایا۔ ہماری آمد پر انہوں نے ویسا ہی منہ بنایا جیسا ہم میتھ کے ٹیچر کو دیکھ کے بنایا کرتے تھے یعنی زہر۔پریمیوں کے اس ویلکم پر ہم گھبرا کر باہر آگئے۔اور واپسی کا سارا رستہ مسکراتے رہے یہ سوچ کر کہ کم از کم پریمی بائسڈ تو نہیں ہوتے۔

انہی خشک پہاڑیوں سے تھوڑا پرے چانکیہ بیٹھا اشوکا کو حکومت کے اسرار رموز سمجھاتا ہوگا نا۔ اور اسے بتاتا ہوگا بادشاہوں کے سینے میں دل نہیں ہوتے۔ اور یہ کہ دشمن کی جڑوں میں کھولتا ہوا پانی انڈیلے بغیر حکومتیں نہیں کی جاتیں۔

اور وہ ہی اشوکا جب حکومت سے اکتا جاتا ہوگا تو نظمیں لکھتا ہوگا کسی ناری کے گیسوؤں کی تابداری لفظوں سے بیان کرتا ہوگا۔ اور وہ نظمیں ریجن کی سب سے قدیم یونیورسٹی کے سلیبس کا حصہ بنا دی جاتی ہوں گی۔ آرکیالوجسٹ کہتے ہیں نا۔ زمیں کھود کر نکالی جانے والی زندگیوںِ میں سے ٹیکسلا والوں کی شاعری زبان ادب بڑا ریچ تھا بڑا ریفائن۔قرائن کہتے ہیں یہ علاقہ محبتوں کے لیے بھی بڑا موزوں تھا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: