مردم شماری، کراچی اور جھوٹ سچ کی سیاسی کسوٹی — احمد اقبال

0
  • 50
    Shares

مشتاق یوسفی نے تو مزاح میں ہی بات کہی کہ جھوٹ کی تین اقسام ہیں؛ جھوٹ، سفید جھوٹ اور اعداد و شمار”
یہ بات ہے 19 سال پہلے ہونے والی مردم شماری کی جب میرا چھوٹا بھائی اخلاق احمد “جنگ” کے میگزین ایڈیشن کا ایڈیٹر اور میرا بیٹا افتاب اقبال اس کا ماتحت تھا۔ چھٹی کا دن تھا اور ہم ناشتے کی میز پر تھے کہ اخلاق نمودار ہوا اور میرے بیٹے کو لے گیا کہ” برخوردار!مردم شماری کےنتائج مرتب ہورہے ہیں۔ ان کو اشاعت سے روکنا ہے ورنہ سیاسی فساد ہو جائے گا۔ ۔ “کچھ یاد رہ جانے والی تفصیلات کے مطابق کرنا “خدا” کا ایسا ہوا کہ کہیں ابادی کم ہوئی تو کہیں دن دونی رات چوگنی ترقی کرتی رہی۔ اعداد و شمار تو یہی ظاہرکرتے تھے۔ ۔ حالانکہ لشکر اسلام کی عددی قوت بڑھانے میں امت شب و روز یکساں منہمک تھی اور ایک سے زیادہ پیداواری مشینیں رکھنے میں رکاوٹ نہ تھی۔ دو دیہی قصبات نے ثابت کیا کہ ” ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی”۔ اب یہ نہیں معلوم نہیں یہ ساقی سے کہنا ہی کیوں ضروری تھا۔ ” پیر جو گوٹھ” اور “نو شہرو فیروز” کی آبادی میں 345 فیصد زیادہ اضافہ تھا اور صرف 11 سال میں۔ ۔ شہری نتائج حد درجہ مایوس کن تھے اور شہری خفا تھے کہ جلوہ کثرت اولاد دکھانے میں ہم کسی سے کم نہیں توہم پھریہ نامردی کی تہمت کیونکر؟۔

عقدہ بالاخر کھلا کہ بات زور شباب کی نہیں ہے بلکہ سیاسی قوت اور معاشی ضرورت کی ہے۔ اسمبلی کی حلقہ بندی ہوتی ہے آبادی کی بنیاد پر اورکوٹہ سسٹم پر وسائل کی تقسیم کی۔ یوں جس کا دل چاہے اپنے پنڈ یا گوٹھ۔ کو لندن پیرس سے عظٰیم تر سمجھے یا کہے مگر آئین کہتا ہے سندھ میں شہر بس تین ہیں۔ کراچی، حیدر آباد اور سکھر۔ یہ لاڑکانہ نواب شاہ وغیرہ سب گاؤں ہیں۔ وسائل یا نوکری میں سندھ کا حصہ آبادی کی بنیاد پر بنتا ہے 19 فیصد، اس میں13 فیصد دیہی اور 6 فی صد شہری ہیں۔ مزید تقسیم سے تین شہروں کو ملا 2 فیصد ہر ایک کا خواہ کراچی ہو یا حیدر آباد یا سکھر۔ ۔ اب آئین کو کون بدلے اور کوٹہ سسٹم کیسے ختم ہو؟ یہ مرغی اور انڈےوالا معاملہ تھا کہ کون پہلے پیدا ہوا تھا۔ جناب شیخ اور فقیہ شہر کے دلائل لا حاصل ہیں۔

جب آبادی زیادہ مانی جا ئے گی تو وسائل زیادہ ملیں گے اور ایک دو “عوامی” نمایندے بھی بڑھ جائیں گے۔ ۔ مثال لیتے ہیں کراچی کی چنانچہ اسی فارمولے پر عمل کرتے ہوئے جو نسلی اور اصلی یا جعلی سیاسی راہنما تھے وہ ایک راگ گاتے رہے جس کے سر وقت اور مفادات کے ساتھ بدلتے رہے۔ ہم جیسے توبہت تھے پیارے ناظرین و سامعین۔ میں سب کی سنتا میں بھی رہا اور دیکھتا بھی رہا۔ ایک صبح اپنے گلشن معمار سے نکلا تو عجب نظارہ دیکھا۔ ایک وسیع و عریض میدان میں جہاں رات تک کچھ نہ تھا، صبحدم ننھے ننھے دو رنگ کے قطار در قطار جھنڈے یوں اگ آئے تھے جیسے صحن چمن میں شجر کاری کے کمال سے نوخیز کونپلوں نے سر نکالا ہو۔ نصف پشتو کے اور بقیہ نصف اردوکے علمبردار تھے، جنہوں نےبڑی ایمانداری سے سرکاری زمیں پر “سرکار” کی معاونت سے ڈاکا ڈالا تھا۔ مال غنیمت کی تقسیم کا فارمولا پہلے ہی طے تھا کہ چور اس معاملے میں بڑے با اصول مشہور ہیں۔

سرکار کی طرف سے ابتدا بھی یوں ہوئی کہ ایک ڈٰی ایس صاحب نے وہاں راتوں ایف بی آر کی زمین پر ایک فرقے کی عبادت گاہ تعمیر کرادی۔ ۔ خیر سےوہ منشات فروشوں کی سر پرستی میں بھی نیک نام تھے اور ان کے خلاف مہم چلانے میں بھی۔ ۔ رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی کی مکمل عملی تفسیر۔ ان کے زیر سایہ مسجد تو بنادی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے۔ یہ فارمولا تو کوئی ایک صدی پہلے لاہورمیں بھی آزما لیا گیا تھا۔ کوتوالی پولیس اسٹیشن کے ساتھ وہ مسجد آج بھی سر اٹھائے موجود ہے۔ ۔ پلاٹس کی تقسیم اور ملکیت کے جھنڈے ایک ماہ بعد اگائے گئے کہ جب یقین کامل ہوا کہ اب کسی کافر میں عبادت گاہ کو ناجائز تعمیر کہنے کی ہمت نہیں۔ ۔ اور ہمت واقعی نہ تھی ورنہ سارے کراچی کے امینیٹی پلاٹس پر “چائنا کٹنگ” کی انوکھی اصطلاح کیسے زباں زد خاص و عام ہوتی بھلا؟

اسی دور میں اسٹریٹ کرائم کا لفظ صحافت میں زبان زدعام ہوا۔ آبادی کا مسئلہ بھی اس دور میں اسٹریٹ کرائم جیسا ہی تھا کہ اردو بولنے والے تو خیر اپنی اکثریت کو غیر متنازعہ جانتے ہی تھے اور اس کا ثبوت دینا بی غیر ضروری سمجھتے تھے لیکن شہر کے کچھ حصوں میں اکثریت والے پختون رفتہ رفتہ ہر بیان میں اپنی آبادی کا تناسب بڑھاتے گئے کہ ان کی فکر معاش میں نقل مکانی کا عمل جاری تھا۔ سندھی بولنے والے کیوں پیچھے رہتے جو خود کو صوبے کا مالک کہتے تھے۔ ایک اور طبقہ سرائیکی علاقے سے تعلق رکھنے والوں کا بڑھا۔ شہر میں گجراتی بولنے والے میمن اور اسمٰعیلی بھی کم نہ تھے۔ اس طرح آبادی کا ایسا حلیم تھا جس میں بنگالی، بلوچی اور برمی مصالحے کی طرح سب ہی شامل تھے۔ ۔ تاہم “اجتماعی مفاد” پیش نظر رکھنے کے لئے آبادی میں اضافے کا راگ مشترک سمجھا گیا۔ 19 سال بہت کافی عرصہ ہوتے ہیں۔ رفتہ رفتہ آبادی میں اضافے کی رفتار کو زبانی ایکسلریٹر دیا گیا آبادی۔ ڈیڑھ، پونے دو، دو، سوا دو، ڈھائی کروڑ کی ہوش ربا اسپیڈ تک بڑھا دی گئی۔ کراچی کو دنیا کے بڑے شہروں کی فہرست میں ترقی دینے کا عمل جاری رہا۔ کون پوچھے کہ بھائی تم نے کب گنا؟ اور جواب دینے والا کیوں جواب دے؟

قتدار کی سہ فریقی جنگ میں عوام کہاں شامل ہو سکتے تھے، ۔ جو روزمرہ کے مسایل کے عذاب میں سکھ چین کا نام بھی بھول گئے۔ معاش کا مسئلہ تو حل کر لیتے ہیں مگر بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ، لینڈ اوربھتہ مافیا سے کون نمٹے؟ اب جو جنگ جاری ہے اس میں تین قوتیں ہیں پہلی 25 سال سے شہر کے حاکم جو 70 سال قبل کے اجداد سے منسوب ” مہاجر” ہیں۔ دوسری صوبے کی حاکم پیپلز پارٹی، اور تیسری امن اور سلامتی کی علمبردار۔ ان میں اتفاق رائے اب تک صرف ایک بات پر نظر آتا ہے۔ ۔ شہر میں انتظامی کام کیسے نہ ہونے دیا جائے سو اب یہ سب، ۔ آبادی کی فیملی پلاننگ میں پیش پیش قوتیں شہری آبادی میں اضافے کے متفقہ پلان کو فلاپ ہوتا کیسے برداشت کریں؟ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔

مردم شماری کے کچھ ساینٹفک طریقے تو استعمال ہوں گے جو 19 سال قبل موبائل فون کی طرح ڈیجیٹل ڈیٹا انٹری کی صورت میں استعمال ہوئے۔ جیسے اب کی بار ووٹ کاؤنٹنگ مشین استعمال ہوگی جو پہلے بھارت تک میں تھی لیکن ہم نے اسے بوجوہ دور رکھاتھا۔ اب عین الیکشن کے بخار میں یہ اصل آبادی کا درد زہ بھی شروع ہوگیا۔ ۔ واویلا تو ہوگا لیکن اس سے افاقے کی امید۔ ۔ ۔ ؟
ایں خیال است و حال است و جنوں

اول تو یہ سوال ہی متنازعہ بن گیا ہے کہ کل آبادی کتنی ہے اور سرکاری سطح پر کراچی کی آبادی کو ڈیڑھ کروڑ تسلیم کرنے سے حکومتی سظح پر بھی انکار کیا گیا ہے اور ایم کیو ایم بھی اعداد کی صحت کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔ اس کے اسباب کا کچھ جائزہ، اپنے مطالعے اورخیال کے مطابق ایک پوسٹ میں میں نے کیا تھا۔ کیونکہ اسی شہر کراچی میں رہ کر ہی نے 40 سال سے اس شہر کے بدلتے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور معاشی منظر نامے کو عینی شاہد کی حیثیت سے دیکھا اور سمجھا ہے۔ کل ابادی میں مختلف لسانی طبقات کی قوت اور تلاش معاش میں آکے آباد ہو جانے والوں کی تعداد اورمقامی انتظامی سیاست میں ان کی مثبت یا منفی شراکت کا جائزہ لینا عملا” ناممکن ہے۔ کون اور کتنے فیصد کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ محض زبانی دعوے ہیں، 1975 میں جہاں اب بوٹ بیسن سے دو دریا تک تعمیرات اور ترقیات کا انقلاب ایک ہجوم بے کراں کی صورت دکھائی دیتا ہے یہ علاقہ صرف ایک جھگی ہوٹل تھا۔ 1095تک یہ سچ مچ روشنیوں کا شہر تھا جہاں معاشی مواقع کی فراوانی ملک کے ہر حصے سے صلاےؑ عام دیتی تھی اور یہاں آنے والے یقینا” معاشی خوشحالی کے مواقع سے فیضیاب ہوتے تھے۔

راقم شادی کے بعد کراچی پہنچا تو قلیل معاوضے والا ملازم سرکار ہی تھا جس کے پاس سائکل بھی نہ تھی۔ میں نے نائٹ کالجوں میں پڑھایا، ۔ پھر لکھنا شروع کیا تو 5 سال بعدموٹر سائیکل کا مالک اورمزید 5 سال بعد 13000 میں کار خریدنے کے قابل ہوسکا تھا جب پٹرول ایک روپیہ لیٹر تھا تو سرکار کی غلامی کو خیر باد کہہ سکا۔ خوشحالی کی یہ کہانی دوسرے صوبوں سے کراچی میں آکر بس نے والوں کی کہانی بھی ہے۔ ہر بندرگاہ مثلا” بمبئی ور کلکتہ بھی ایسے ہی مواقع فراہم کرتی ہیں۔ لیکن کراچی کی بد قسمتی کہ سیاسی استعمار کی قوتوں نے 1985 کے بعد مفاہمت کی فضا کا رخ بدلنے کے لئے ایک حادثے کو بہانہ کرلیا۔ ایک طالبہ بشریٰ زیدی کی حادثاتی ہلاکت سے ایم کیو ایم نے اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا جو دن بہ دن متشدد ہوتی چلی گئی۔ اور 1987 میں خونریزی کا جو سلسلہ شروع ہوا اس نے بالاخر شہر کو جنگل بنادیا، جہاں جنگل کے ہی قانون کی عمل داری بڑھتی گئی۔ میں اسٹریٹ کرائمز سے ہر قسم کی مافیا کے تسلط کی تفصیلات میں نہیں جا سکتا۔ ؎ اب یہ کہانی عام ہوئی ہے سنتا جا شرماتا جا۔

لیکن ایک وقت آیا کہ میں نے کراچی چھوڑ دینے میں عافیت جانی۔ ظاہر ہے کہ یہ معاش کی اور رشتوں کی زنجیر سے جکڑی ہوئی اکثریت کے اختیار میں نہیں۔ تب تک شہر واضح  طور پر چار متحارب قوتوں کی گرفت میں تھا۔ ایک وہ جن کو ابا و اجداد کی نقل مکانی کے 50 سال بعد یاد دلایا گیا کہ تم تو اردو بولنے والے مہاجر ہو حالانکہ مہاجرتو مشرقی پنجاب کے بھی تھے جو پنجابی بولتے تھے۔ دوسرے فرزندان زمین سندھی تھے جن کو بتایا گیا کہ صوبے کے مالک تم ہو۔ تیسرے وہ پختون تھے جوشہر کے مضافات میں آباد ہوئے لیکن اپنی محنت اور صلاحیت سے ایک مضبوط معاشی قوت بنے۔ انہوں نے تمام ٹرانسپورٹ، سبزی اور فروٹ منڈی، کپڑے کے کاروبارمیں رابی سنٹر جیسے مرکز، شیر شاہ جیسی آٹوپارٹس مارکیٹ، ہارڈوئیراور ہیوی مشنری کے ساتھ اپنی کڑاہی سے قورمہ کا صفایا کیا ہی کیا ساتھ ہی چائے پراٹھے کو صنعت بنا دیا۔۔ اس کے ساتھ اپنی روایات کے باعث وہ ایسی مسلح اقلیت تھے جو اکثریت کے سامنے کھڑی ہو سکتی تھی۔

اس آبادی میں نچلی سطح کے محنت کش سرائیکی شامل ہوئے۔ ۔ میمن اور آغا خانی ایک منظم اور خوشحال کاروباری اقلیت کے طور پر پہلے سے موجود تھے۔ اب یہاں بنگالی گنے کا رس نکالنے لگے تو مکرانی اور بلوچی گدھا گاڑیاں اور اونٹ گاڑیاں چلاتے نظر آئے۔ اس مخلوط ہجوم میں کون بتائے اور کیسے بتائےکہ آبادی میں کس کا، کیا تناسب ہے؟ اس شہربے پناہ کی تقسیم بھی یوں ہو ہوگئی یا کی گئی کہ پختون باہرجانے والے راستوں پر قلعہ بند ہوگئے۔ گجراتی بولنے والے آغا خانیوں میمنوں نے شہر کے وسط میں اپنی آبادی کو دیگر کے لئے ممنوعہ بنا دیا یہاں تک کہ مہاجر ہیڈ آفس کے آس پاس فلیٹوں میں بورڈ لگا دئے گئے کہ دکان یا فلیٹ خریدنے والا غیر آغا خانی اپنے نقصان کا خود زمے دار ہوگا اور ایم کیو ایم بھی دم نہ مار سکی اور اس “ریاست کے اند ریاست” کے غیر قانونی غیر آئینی عمل کو آج تک کوئی حکومت یا سیاسی قوت روک نہیں سکی۔ اب شہرمختلف حصوں میں بٹا ہوا دیکھا جاسکتا ہے نچلا طبقہ، نچلا متوسط طبقہ اور متوسط طبقہ۔ اور بالائی طبقہ اپنے اپنے مسائل اور کمپلکس رکھتا ہے۔ 1979 میں شریک اقتدار ہونے والی قوت رینجرز کی تھی جن کو کراچی یونیورسٹی کے حالات سنبھالنے کے لئے طلب کیا گیا تھا۔ شاید پاکستان کی کسی یونیورسٹی میں ایسی فورس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ وہ آج کراچی میں سیاہ سفید کی مالک قوت ہیں لیکن شہر کی بد انتظامی اور لا قانونیت کا حال بد سے بد تر کی جانب جارہا ہے او ر شہر ہر قسم کی مافیا کے ہاتھوں میں یرغمال ہے جس کے سامنے سپریم کورٹ کا حکم بھی بے معنی ہے۔ ایسے میں آپ کس کے دعوے پر یقین کر سکتے ہیں کہ کراچی میں کیا ہوا اور جو ہورہا ہے کیوں ہورہا ہے یہ موضوع ایک کتاب کا متقاضی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: