ادبی صحافت کا ماضی اور حال: جرائد سے ویب سائٹس تک

0
  • 98
    Shares

کسی بھی زبان کے رسائل کی اشاعت کا مقصد صرف اُس زبان میں تخلیق ہونے والے عمدہ ادب پاروں سے قارئین کو روشناس کرانا نہیں بلکہ اُن میں اشاعت پذیر ہونے والے فن پاروں پر بحث و تمحیص کی ہر ممکن مساعی کو ثمر آور بنانا بھی ہوتا ہے۔ جس سے فن پارے کی معنوی قدر و قیمت متعین ہو سکے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ کسی بھی رسالے کا مزاج و معیار اُس کے مدیر کے عالمانہ مزاج و معیار سے متعین ہوتا ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ہر زمانے میں, ہر زبان کے بڑے رسائل ہمیشہ متبحر اذہان کے فیضان ثابت ہوتے رہے ہیں۔ انگریزی میں The Criterion کی مثال پیش کی جا سکتی ہے۔ یہ رسالہ برطانیہ کا ادبی رسالہ تھا جو انگریزی کے ممتاز شاعر، ڈرامہ نگار اور نقاد ٹی۔ ایس۔ الیٹ کی ادارت میں 1922سے لے کر 1939تک باقاعدہ ہر ماہ شائع ہوتا رہا۔ اس رسالے کے معیار کے متعلق 1935 میں جارج آرویل نے اپنے ایک دوست کو خط میں لکھا تھا کہ اس رسالے میں جتنے عمدہ مضامین میں نے پڑھے ہیں، کسی اور رسالے میں نہیں پڑ ھے.اس رسالے کی پہلی اشاعتی تعداد چھ سو تھی، اور اس کی پہلی اشاعت کے تخلیقی معاونین میں ورجینیا وولف، ڈبلو۔ بی۔ ایٹس، .ای۔ ایم۔ فارسٹر اور ایذرا پاونڈ جیسے عظیم المرتبت شاعر و ادیب شامل تھے۔ اس رسالے کی ایک اجتہادی حیثیت یہ بھی رہی ہے کہ اس رسالے کے وسیلے سے Marcel Proust اور Paul Valery جیسے ممتاز فرانسیسی ادیبوں کی تخلیقات پہلی بار انگریزی میں شائع کی گئیں۔

انگریزی کی بات چل رہی ہے تو بھلا انگریزی کے قد آور نقاد ایف۔ آر۔ لیوس اور ایل۔ سی نایٹس کی ادارتِ مشترکہ میں شائع ہونے والے رسالے Scrutiny کا ذکر کیسے نہ آئے یہ رسالہ اور اُس کی تحریرکی خوبیاں آج تک یاد کی جاتی ہیں۔ یہ وہی لیوس ہیں جن کی نگرانی میں اردو کے یکتائے اسلوب نقاد کلیم الدین احمد نے اپنا تحقیقی مقالہ (کیمبرج یونی ورسٹی) لکھا تھا۔

اسی طرح روسی زبان کا Fakel اور فرانسیسی زبان کا رسالہ Tel Quel اپنے تفکیری مباحث کے لیے خاصے معروف ہیں۔ انگریزی کی طرح اردو کی ادبی صحافت کی تاریخ بھی قابلِ صد رشک ہے۔ زمانہ (پریم چند)، اردوئے معلی (حسرت موہانی)، مخزن (عبد القادر)، نیا دور (ممتاز شیریں)، نگار (نیاز فتح پوری)، آجکل (جوش ملیح آبادی)، فنون (احمد ندیم قاسمی)، سویرا (حنیف رامے)، اوراق (وزیر آغا)، سوغات (محمود ایاز)، شعر و حکمت (شہریار، مغنی تبسم) اور شب خون (شمس الرحمن فاروقی) وغیرہ کے علاوہ اور بھی رسائل کی نشاندہی ممکن۔ لیکن چونکہ یہاں فہرست سازی مقصود نہیں بلکہ اُن قدروں کی بازیافت مطلوب ہے جن سے رسائلِ مذکورہ کی تاریخی حیثیت متعین ہوتی ہے۔

یوں تو یہ تمام رسائل اپنی تخلیقی پیش کش اور تنقیدی رویوں کے اظہار کی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ لیکن “شب خون” کواس لحاظ سے اولیت حاصل ہے، اور اگر حاصل نہیں ہے تو اُسے یہ اولیت حاصل ہونی چاہیئے کہ اس رسالے سے اردو ادب میں ایک ایسے عہد کا آغاز ہوتا ہے جو پوری طرح رد وقبول سے عبارت تھا۔ “شب خون” کی اشاعت سے قبل ترقی پسند ی کی انتہا پسندی اردو ادب میں ایک غالب رویے کے طور پر رائج تھی۔

سیاسی جماعت کی طرح ادب بھی چند منشورات تک محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ مارکس کے سیاسی فلسفے کو سمجھے بغیر ہی اُسے تخلیق و تنقیدکی بنا قرار دے دی گئی تھی۔ اردو کے بیشتر ترقی پسند ادب کو پڑھنے اور بہت کوشش کرنے کے بعد بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مارکس کا طبقاتی تصادم اُس کے فلسفے کا ایک مرحلہ تھا یا منزل۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مارکس کا فلسفہ اُس نظام کو رائج کرنے کا وسیلہ تھا جو مساوات پر اُستوار ہو۔ لیکن ہماری ترقی پسندی میں طبقاتی تصادم کو ایک حاوی تخلیقی میلان سمجھ لیا گیا۔ مطلب یہ کہ راستے کو منزل سمجھ لیا گیا۔ اس صورت میں ادب میں گُمراہی کا پیدا ہونا فطری تھا۔ ترقی پسندی کے اس طریقِ کار سے اُس کے ادب کی ایک شناخت تو قائم ضرور ہو گئی لیکن اسی کے ساتھ ساتھ فن کاروں کی فکری و فنی آزادی کے تمام راستے بھی بند ہو گئے۔ سنہ ساٹھ کی دہائی میں “شب خون” کی اشاعت کے ساتھ شمس الرحمن فاروقی نے پہلی بار فن کار کی فکری اور فنی آزادی کا اعلان کیا۔ جس کے نتیجے میں قلعہ بند ادیبوں نے اپنی یکجہت فکری غلامی سے رہائی حاصل کی۔ “شب خون” کو صرف اس اعتبار سے ہی اہمیت حاصل نہیں کہ اُس نے ہر نوع کی تخلیقی وابستگی کو غیر ضروری قرار دیا تھا بلکہ اسی رسالے کے توسط سے شمس الرحمن فاروقی نے اردو میں “جدیدیت” کی پہلی باقاعدہ فلسفیانہ اور استدلالی بحث کا آغاز بھی کیا۔

یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئیے کہ “شب خون” نے جہاں ایک طرف جدیدیت کے تخلیقی میلانات کی نظریاتی صورتِ حال کو نمایاں کیا وہیں اُس نے شاعر و ادیب کی ایک ایسی نسل کی افزائش کی جو ہر نوع کی کوری تقلید کو نا مناسب تسلیم کرتی تھی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت جلد جدیدیت کے زیرِ اثر پران چڑھنے والی نئی نسل کے تخلیقی شعور میں غیر معمولی نکھار پیدا ہو اور شعر و ادب میں اُس کی انفرادیت متعین ہوئی۔ اردو میں جدیدیت، ترقی پسندی کی طرح محض مغرب کی تقلید نہیں تھی بلکہ اُس نے مغرب کی وجودی فکر کی تخلیقی جہت کو اپنی ادبی تہذیب میں پیوست کرنے کی کوشش کی تھی۔

رکھنے والے “شب خون” پر آج جس قدر چاہیں یہ الزامات رکھیں کہ اس سے اردو میں تجربی اور تجریدی ادب کی بے معنویت کو فروغ حاصل ہوا اور اسی سے علامتی طرزِ اظہار کے نام پر ادب میں مہملیت کی روایت قائم ہوئی۔ لیکن کسی میں اتنی علمی جرات نہیں کہ وہ “شب خون” کے تخلیقی اور تنقیدی مباحث, اور اُن مباحث سے پیدا ہونے والے ادبی ذوق کو غلط ثابت کر سکے۔ مذکورہ رسالے بالعموم اور “شب خون” بالخصوص نے ادبی صحافت میں جو برا بھلا کیا، وہ تمام متعلقہ لوگ بخوبی جانتے ہیں. لیکن جب آج کی ادبی صحافت پر نظر ڈالی جاتی ہے تو بڑی مایوسی ہوتی ہے۔ یوں تو برِ صغیر ہند و پاک سے متعدد رسالے  ہو تے ہیں۔ لیکن ان رسالوں میں کچھ ہی ایسے ہیں جن کی ادبی، تحقیقی اور تنقیدی کد و کاوش قابلِ تحسین قرار دی جا سکے۔ اکثریت ایسے رسالوں کی ہے جو ادبی گوشوں کے نام پر اوسط درجے یا یوں کہیے کہ محلے ٹولے کے شاعر و ادیب پر لچر سی تحریر شائع کرنا باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔

آج کی ادبی صحافت میں یہ خامی اس لیے پیدا ہوئی کہ اس نوع کے رسائل کے مدیران کی بذاتِ خود کو ئی تخلیقی اور تنقیدی حیثیت نہیں۔ کسی رسالے کی ادارت کا منصبِ جلیلہ اُسی کو زیب دیتا ہے جو متبحرِ علمی کی صفت سے متصف ہو۔ یہاں اس بات کا اعتراف ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اردو کی مکتوبی ادبی صحافت کے بر عکس برقیاتی ادبی صحافت دامنِ دل می کشید کی زیادہ قوت رکھتی ہے۔ اس ضمن میں “دانش”، “ایک روزن” اور “لالٹین” کی مثالیں بالکل سامنے کی ہیں۔ ان تمام برقی رسائل میں تخلیق و تنقید کا ایک واضح شعور نظر آتا ہے۔ مشمولات کے تنوع سے مذکورہ رسائل کے مدیران کے فکری تنوع کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔ یہ برقی رسائل سو دو سو صفحے کے مکتوبی رسائل و جرائد سے زیادہ ہمہ گیر نظر آتے ہیں۔


معراج رعنا
شعبۂ اردو، چھتر پتی شاہو جی مہاراج یونی ورسٹی، کانپور (بھارت)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: