خواتین کا مزاح اور کثیر کاری (ملٹی ٹاسکنگ) —— شہنیلہ بیلگم والا

1
  • 159
    Shares

پچھلے دنوں دانش کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پہ ایک بحث چلی کہ اردو ادب میں کسی معروف مزاح نگار خاتون کا نام سننے کو کیوں نہیں ‏ملتا؟

بات ٹھک کر کے دل کو لگی کیونکہ بات صحیح تھی۔ کچھ خواتین کا ذکر خیر بھی ہوا مگر بات کچھ بنی ‏نہیں۔ واقعی اردو ادب میں بڑے مزاح نگاروں میں کسی خاتون کا نام ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ اس کی کیا وجہ ہو ‏سکتی ہے؟

اسی ادھیڑ بن میں رہے اور پھر ایک دن ایک رعایتی سیل سے واپسی پر گاڑی چلاتے ہوئے ہمیں اس کی ‏وجہ سمجھ آگئی۔ ساری گھتیاں اپنے آپ سلجھتی گئیں۔ یہ عقدہ کشائی کیونکر ہوئی اس کی ایک وجہ غالبا یہ ‏ہوئی کہ سیل 80 فیصد رعایتی تھی (ہم خواتین کا اولین ارمان) دوسرے جو چیزیں لینے کا سوچ کر گئے تھے وہ جاتے ہی بٹور لی تھیں (خواتین کا دوسرا ارمان) ‏چنانچہ دماغ انتہائی یکسوئی سے کام کر رہا تھا۔۔۔۔۔

تو قارئین بات ہو رہی تھی خواتین کے مزاح نہ لکھنے کی، اصل ‏بات یہ ہے کہ مرد حضرات ہر کام کے لیے اپنے دماغ میں الگ گوشہ رکھتے ہیں، یعنی اگر وہ اپنی پروفیشنل لائف ‏کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو صرف اسی پہ سوچیں گے اور اگر وہ کترینہ کیف کے دلکش خدوخال کے بارے میں ‏غور و فکر کر رہے ہیں تو صرف اسی پہ توجہ مرکوز ہوگی (اور یہ کام ہمیشہ زیادہ غور سے ہوگا) مجال ہے کہ اس وقت اپنا گرتا ہوا بچہ بھی نظر ‏آجائے۔ مگر عورتوں کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے، ہمارے دماغ میں سب چیزیں آپس میں جڑی ہوئی ہوتی ‏ہیں، یعنی ہم عورتیں ملٹی ٹاسکنگ کی عادی ہوتی ہیں، مثلا اہم اپنی پروفشنل لائف کے بارے میں سوچتے ہوئے ‏کولیگ کے نئے جوڑے، اپنے بڑھتے ہوئے وزن، گرتے ہوئے بالوں، کھانے میں گھی کے کم استعمال سے ہوتے ہوئے شوہر کی ‏بےاعتنائی تک جا سکتے ہیں۔م چونکہ ملٹی ٹاسکنگ کی عادت ہے اس لئے عورتیں مزاح کے ساتھ طنز کو بھی ‏یکساں مدنظر رکھتی ہیں، یعنی ہمارے مزاح کا کوٹہ طنز سے ہی پورا ہوجاتا ہے، جس کا نشانہ عموما شوہر بنتے ‏ہیں، نوکروں پہ تو طنز کے تیر چلائے نہیں جا سکتے، بھاگنے کا جو خطرہ رہتا ہے۔۔۔۔۔

مثال کے طور پر۔۔۔
بیوی اگر شوہر کو کہے:- واوووو۔۔۔۔ ‏اس سوچ کی آپ پہ آمد ہوئی ہے کہ آپ کو کوشش کرنی پڑی؟؟؟
تو یہ جملہ طنز و مزاح کا امتزاج ہے جسے خوش ذوق ‏شوہر مزاح اور سڑیل مزاج شوہر طنز کا نام دیتے ہیں۔

اور بیوی تو خدا نے وہ چیز بنائی ہے جو کسی بھی شوہر کے ‏ہر قسم کے احساس فخر کو فورا سے پیشتر ملیا میٹ کرنے کی دولت سے مالا مال ہوتی ہے۔ مثلا اس وقت دنیا کا سب ‏سے ہینڈسم وزیراعظم جسٹن ٹروڈو ہے، مجھے یقین ہے کہ اس کی بیوی کے پاس بھی وہ نادر وجوہات ہونگی، ‏جس کے ذریعے وہ اسے پل بھر میں شرمندہ کردے۔ مثلا دنیا کے وزیراعظموں کو دیکھو اور خود کو دیکھو۔ گھامڑ ‏دکھنے والوں نے کیا کیا جائیدادیں بنا لیں اور ایک تم ہو۔ ابھی تک اسی پھٹیچر گاڑی میں گھوم رہے ہو۔ شان و ‏شوکت دیکھی ہے ان کی۔ دعوتیں دیکھی ہیں ان کی۔ ایک تم ہو مہمان وزیراعظم کو ایک برگر پر ٹرخا دیتے ہو۔ ‏تمہیں تو بس عورتوں کو امپریس کرنا آتا ہے۔ یہ عورتیں رہیں تمہارے ساتھ تو پتا چلے۔ میں ہی ہوں جو گزارا کر ‏رہی ہوں۔ بری تک تو ڈھنگ کی لائے نہیں۔ ولیمے کا کھانا بھی گھٹیا کیا تھا۔ آج تک خربوزے خریدنے نہیں آئے۔ ہائے ‏میں تو شکل دیکھ کر ریجھ گئی۔ بھلے ہی انسان گنجا اور موٹا ہو مگر پیسہ بنانا آتا ہو۔۔۔۔۔۔

اف بات کہاں سے کہاں ‏نکل گئ، بس اسی لئے عورتیں مزاح نہیں لکھتیں ، کیونکہ مزاح لکھنا شروع کرتی ہیں تو بات مزاح سے ہوتی ہوئی ‏طنز پر جاتی ہے پھر یہ کب سنجیدہ سے رنجیدہ ہو جاتی ہے پتا ہی نہیں چلتا۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. ثمینہ ریاض احمد on

    زندہ باد مائی فیملی ❤❤❤ شہنیلہ آپ نے مزاح نگاری کا جواب دیتے ہوئے اچھی مزاح نگاری کی، مزا آ گیا ❤

Leave A Reply

%d bloggers like this: