مصروف لوگ —— مدیحی عدن

0
  • 34
    Shares

اکثر لوگوں سے حال چال پوچھنے کے بعد جب سوال کیا جاتا ہے کہ آجکل کیا چل رہا ہے؟ تو جواب ملتا ہے “بہت مصروف ہیں۔۔” یا پھر ‘Busy ہیں’۔۔” جیسے یہ جواب زبان پہ چڑھ گیا ہو اور بے ساختہ منہ سے ایسے کسی بھی سوال پہ آپ ہی نکل آتا ہو۔
لیکن اگر غور کیا جائے اور اپنے روز مرہ کے معمولات کو دیکھا جائے توسب اتنے بھی مصروف نہیں ہوتے جتنی ہر وقت مصروف رہنے کی ایکٹنگ کر رہے ہوتےہیں۔ بات تھوڑی بھاری ہے کیونکہ مصروف رہنا یا مصروف ایکٹ کرنا ایک سٹیٹس سمبل سمجھا جاتا ہے اور کسی کی کام کی اہمیت اور نوعیت کا اندازہ بھی اسی معیار سے لگایا جاتا ہے۔
حالانکہ معیار انکی مصروفیت کی وجہ بننے والے کام کو دیکھ کے ہونا چاہیے کہ اس شخص نے اب تک زندگی میں کتنا کچھ حاصل کر لیا ہے۔

کچھ ایسی ہی بحث میری کافی لوگوں کے ساتھ بھی ہوئی جس میں میرا نقطہ نظر یہ تھا کہ لوگ اتنے مصروف ہوتے نہیں جتنا Pretend کرتے، کچھ روز قبل ایک میڈیکل سینٹر میں جانا ہوا، جہاں میرے ساتھ کافی اورمریض بھی موجود تھے،جو اپنی باری آنے کا انتظار کر رہے تھے۔۔ اتنے میں ایک ڈاکٹر صاحبہ کچھ دیر کے لیے ایک ڈسک پہ چائے کا کپ تھامے ہوئے آئیں اورسکون سے بیٹھ کے اپنا موبائل دیکھنے لگیں کہ اتنے میں ان کے موبائل پہ ایک کال آئی تو انہوں نے نام وغیرہ پوچھا اور کچھ دیر کوئی دوائی سے متعلق بات کی پھر رابطے میں رہنے کا کہا اور کال بند کر دی۔ اتنے میں میرے پاس بیٹھی ایک خاتون جو کہ خود چیک اپ کے لیے آئی ہوئی تھیں مجھے بتانے لگیں:
“یہ ڈاکٹر بہت اچھی ہیں حالانکہ اتنی سینئر پوسٹ پہ کام کر رہی ہیں لیکن یہ مریض سے کال پہ بات چیت کر لیتی ہیں اور مشورہ بھی دے دیتی ہیں۔۔ اکثر رپورٹس واٹس ایپ پہ ہی چیک کر کے مشورہ دے دیتی ہیں اورمریضوں کا کلینک آنے کا چکر بچ جاتا ہے۔ انکی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اکثر اپنی مصروفیت کے باعث کال نہیں اٹھا پاتیں لیکن ہمیشہ فرصت میں کال بیک کر لیتی ہیں۔۔”

اس خاتون کی باتین سن کے میں حیران نہیں ہوئی تھی کیونکہ میں نے خود ان سے دوتین بار کال اور واٹس ایپ پہ بات چیت کر رکھی تھی۔ میرے مطابق وہ مصروف ڈاکٹر نہیں تھیں کیونکہ میں نے انھیں مصروفیت کو Pretend کرتے نہیں دیکھا تھا وہ اپنے کام کرنے کے طریقے اور عادات کے لحاظ سے ایک Productive شخصیت کی مالک تھیں جن کے مقاصد میں ایک کامیاب ڈاکٹر بننے کے ساتھ ساتھ اپنے مریضوں کو مؤثر وقت دینا اور ان کے لیے آسانیاں مہیا کرنا شامل تھا۔

‘being busy’اور ‘productive’ دو ایسی اصطلاحات ہیں جن کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے۔ مصروف رہنا ایک دلچسپ عمل ہے لیکن اپنی مصروفیت کا ہر وقت شور شرابہ کرناہماری تخلیقی صلاحتوں کو مفلوج کر سکتا ہے کیونکہ جب ہم اپنے بارے میں ہر وقت یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم کتنے مصروف ہیں تو ہمارےاندر ایک منفی احساس پیدا ہوتا ہے جو دماغی تناو میں اضافہ کا باعث بنتا ہے اور ہمارا فوکس ایک کام سے ہٹ کے بہت سے مختلف چھوٹے بڑے کاموں کوایک ساتھ مکمل کرنے پہ لگ جاتا ہے۔ اورایسا مستقل کرتے رہنے سے بہت سے کام ہمیشہ نامکمل یاپھر “کل، آئندہ کر لیں گے” والی لسٹ میں جمع ہوتے رہتے ہیں اور صلاحتیں بٹتی رہتی ہیں اور کچھ عرصے بعد پتہ چلتا ہے کہ ہم مصروف تو بہت تھے لیکن بہت سارے کام ادھورے چھوڑ رکھے ہیں اور اپنی محنت سے اتنا کچھ حاصل نہیں کیا جتنے کا ذہن میں شور شرابہ ڈال رکھا تھا
اسلیے مصروف لوگ ہروقت یہ جملہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ ان کے پاس وقت بہت کم ہے لیکن productive لوگ اس جملے کی قید سے آزاد پائے جاتے اور کسی بھی اہم کام کے لیے آسانی سے وقت نکال لیتے ہیں۔

مصنف سکاٹ برکون نے حال ہی میں اپنے بلاگز پر اس الجھن کا اچھی طرح سے خلاصہ کیا:
” جو لوگ ہمیشہ مصروف ہوتے ہیں وہ وقت کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔ وہ وقت کے معاملے میں بہت غریب ہوتے ہیں اور وقت کا قرض ان پہ بہت چڑھ چکا ہوتا ہے۔ اسلیئے وہ ایک وقت میں یا تو بہت زیادہ کرنے کی کوشش کر رہےہوتے ہیں، یا پھر وہ کام نہیں کر رہے ہوتے جس کو وہ بہت اچھی طرح سے کر سکتے ہیں۔”

مصروفیت کی الجھن سے نکلنے کا سب سے آسان حل یہ ہے کہ اپنے اہداف “Goals ” کو ایک صفحے پہ لکھیں اور پھر درجہ بندی کریں کہ ان میں سے کونسے حدف بہت زیادہ اہم ہیں، کونسے کم اہمیت کے حامل ہیں اور کون سے ایسے ہیں جن کو مستقبل قریب پہ چھوڑا جا سکتا ہے۔ ایک غلطی جو سب سے زیادہ دیکھنے میں آتی ہے کہ ہمارے اہداف (goals)بہت زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں حالانکہ کاموں کو اچھے طریقے سے نمٹانے کے لیے ایک وقت میں تین سےچار اہداف کی حد بہت ہوتی ہے۔ پھر روز اپنے دماغ میں اس بات کو بار بار دھرائیں: “آپ مصروف نہیں ہیں”۔۔ اور اس جملے کو کئی بار اونچی آواز میں بھی کہیے کیونکہ ایسا کرنے سے دماغ کی یاداشت سے وہ ڑٹا ہوا جملہ “ہم بہت مصروف ہیں۔۔” مٹنے لگے گا اور نئے جملے کی قبولیت پیدا ہو گی، جس سے کام کرنے کی صلاحیت بڑھے گئی اور بہت سکون سے ایک کے بعد دوسرا کام آسانی سے نمٹنے لگ جائے گا۔

بات کا آخر سکاٹ برکون کے ہی مشورے سے کروں گی جو مصروف رہنے کے کلچر سے بچنے کے بارے میں لکھتے ہیں:
“میں جان بوجھ کر اپنے کیلنڈر کو بھرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ میں ہر کام کو “ہاں ” نہیں کہتا کیونکہ ایسا کرنے سے میں خود کو بہت مصروف کر لوں گا، اور میں سوچتا ہوں کہ یہ ہر وقت کی “ہاں” میرے مقاصد پہ بھی اثر انداز ہو گی، میں ہمیشہ اپنے وقت میں سے کچھ ٹائم مارجن اپنے لیے خاص بچا کے رکھتاہوں، جس میں میرے پاس آزادی ہوتی ہے کہ اس وقت کو کسی طرح سے بھی گزاروں۔۔اکثر اپنے ساتھ اکیلے خالی ذہن کے ساتھ تقریباً کوئی کام نہ کر کے بھی گزار لیتا ہوں۔۔۔”

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: