آگ لگے اس آگ کو ——- ابن فاضل

0
  • 106
    Shares

آگ بجھانا دنیا کا خطرناک اور مشکل ترین کام ہے اور آگ لگانا آسان ترین۔ آگ لگانے کیلیے ایک شعلہ، ذرا سا ایندھن اور آکسیجن در کار ہوتی ہے، یا بصورت ديگر ایک شعلہِ جوالا اور اک دلِ مضطرب۔ اول الذکر ایک کیمیائی عمل ہے۔ جس میں پہلے روشنی اور حرارت اور بعد میں راکھ پیدا ہوتی ہے۔ جبکہ ثانی الذکر ایک حیاتیاتی عمل ہے جس میں پہلے حرارت اور بعد میں بچے پیدا ہوتے ہیں۔ آگ لگنے کے عمل کو جلنا بھی کہتے ہیں۔ ہمارے ذہین بزرگوں نے عوام کی سہولت کے لئے آگ کے سوا بھی جلنے کے کئی اور طریقے دریافت کر رکھے ہیں۔جیسا کہ آسودہ حال ہمسائیوں سے جلنا، کامیاب رشتہ داروں سے جلنا، ساس کا بہو سے بہو کا ساس سے جلنا وغیرہ۔ ادب کی کتابوں میں مگر کچھ ایسے بے ادب لوگوں کا تذکرہ بھی ملتا ہے جو ساون کی بوندوں سے جلتے ہوئے پائے گئے ہیں۔حالانکہ ادب اور ذہنی حالت اگر نارمل ہوں تو پانی آگ بجھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ شعرا کرام کو مگر سائینس نے ادیبوں سے بھی زیادہ چھوٹ دے رکھی ہے وہ تو پانی میں بھی آگ لگا سکتے ہیں۔ ثبوت حاضر خدمت ہے۔

تیرے خط آج میں گنگا میں بہا آیا ہوں
آگ بہتے ہوئے پانی میں لگا آیا ہوں

ادھر موسیقار حضرات اور گویے موسیقی اور راگوں سے آگ لگائے پھرتے ہیں۔کہتے ہیں دیپک راگ سے آگ لگانا ماہر گویوں کے محض بائیں نتھنے کا کھیل تھا۔ ہم نے تصدیق کے لئے قابل خرگوشوی کا در پر حکمت کھٹکھٹایا، گویا ہوئے، بھائی دیپک کا تو پتہ نہیں، یہ ہمسائیوں کی دیپیکا البتہ آتش گیر ضرور ہے۔ بہرحال کچھ بھی ہو موسیقی اور آگ کا کوئی نہ کوئی رشتہ ضرور ہے، کیونکہ ہم نے ان دونوں کا ایک ساتھ ذکر محلے کے مولوی صاحب سے بھی بارہا سن رکھا ہے۔

آگ کے کئی فائدے ہیں۔ گھریلو لحاظ سے آگ سے ہمیں جو فوائد حاصل ہیں ان کو ارتقائی اعتبار سے دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ قبل از فیس بُک دور اس میں آگ کھانا پکانے، پانی گرم کرنے اور دودھ وغیرہ ابالنے کے کام آتی رہی۔ لیکن موجودہ عہد فیس بُک میں یہ سڑا چکن، دھواں گوشت اور لگی ہوئی فیرنی کے علاوہ سارے پانی کو بھاپ میں تبدیل کرنے اور چولہے کو دودھوں نہلانے کے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ صنعتی اعتبار سے روایتی طور پر اس سے بجلی پیدا کرنے، گاڑیوں کے کل پرزے بنانے اور کپڑا رنگنے وغیرہ کا کام لیا جاتا ہے۔ لیکن حال ہی میں اس سے مبینہ طور پر کچھ نافرمان اور ہٹ دھرم صنعتکاروں کو سبق سکھانے کا کام بھی لیا گیا ہے۔ دفتروں میں آگ کا کچھ قابلِ ذکر استعمال نہیں یہاں یہ محض سگریٹ سلگانے اور ناپسندیدہ سرکاری ریکارڈ و شواہد ٹھکانے لگانے کے کام آتی ہی۔ آگ نہ ہوتی تو ہمسایہ ملک کے اسی فیصد لوگ کنوارے رہ جاتے اور شائقین اسی فیصد پنجابی فلموں سے۔ ہمسائے اگنی کے سات پھیرے نہ لیں تو ان کی شادی باطل اور ہمارے پنجابی فلموں کے ولن جب تک سات ہزار سات سو لیٹر مٹی کے تیل سے آگ نہ لگائیں فلم فاسد۔ آگ نہ ہوتی تو شہد کی مکھیاں سست اور ناکارہ ہو جاتیں، مچھر” اوور ڈرنکنگ” کا شکار ہو کر امراض قلب و معدہ میں مبتلا ہوئے ہوتے۔ بہت سی بد زبان بہوویں تامرگ رحم دل ساسوں کے سینوں پر مونگ دلتیں۔

آگ کے استعمال سے متعلق تاریخ انسانی میں ایسے شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ انسان آگ سے استفاده اس وقت سے کررہا جب سے ابھی خود اس نے چقماق سے آگ لگانا بھی نہیں سیکھا تھا۔ جنگلوں میں آکسیجن کے عدم توازن سے خود بخود لگی آگ کو سالوں بجھنے نہیں دیا جاتا تھا اور اس کے کنارے ہی بستی آباد کرلی جاتی۔ آگہی میں اضافہ سے باقاعدہ شہری زندگی کا آغاز ہوا تو غفلت یا انسانی غلطیوں کے باعث آگ لگنے کے واقعات بھی ہونا شروع ہوئے۔ ایسے میں آگ بجھانے کے نظام کی ضرورت محسوس ہوئی۔ سب سے پہلے آگ بجھانے کا باقاعدہ آلہ دوہزار سال قبل مسیح بنایا گیا۔ جب کہ حکومتی سطح پر سب سے پہلے فائر بریگیڈ کا نظام سترہویں اور اٹھارویں صدی کے سنگم پر یورپ میں ہوا۔ تب سے لیکر آج تک اس میں بتدریج بہتری آئی ہے۔اٹھارہ سو بیس میں پہلا گھوڑوں سے چلنے والا فائر ٹرک اور انیس سو پانچ میں پہلا فائر انجن متعارف کروائے گئے۔ جہاز کے ذریعہ سے آگ بجھانے کا پہلا تجربہ دوسری جنگ عظیم میں اور ہیلی کاپٹر سے انیس سو سنتالیس میں کیا گیا۔ اسی طرح گھریلو آگ بجھانے والا فائر ایکسٹینگشر fire extinguishers پہلی بار برطانیہ میں اٹھارہ سو اٹھارہ میں بنایا گیا۔ آج کل مختلف اقسام کی آگ کے لیے مختلف اقسام کے ایکسٹینگشرز دستیاب ہیں۔

سنتے ہیں کہ ماضی انتہائی قریب تک آگ بجھانے کا کام صنف نازک کو تفویض نہیں کیا جاتا تھا۔ قابل خرگوشوی سے پوچھا۔ کہنے لگا خالق ارض و سما نے ابتداء آفرینش سے ہی حق و باطل کی ترویج کے لئے دوالگ قوتیں وضع کی ہیں جن کے ذمہ ہے کہ وہ اپنے اپنے کام کو فروغ دیں۔ یہ عین مشیت ایزدی ہے۔ عرض کیا حضور رحم کی اپیل کی جاتی ہے، اپنے فرمودات عالیہ پر بار دگر غور فرمائیے ان کی بلا کم و کاست اشاعت باعث نقص امن ہو سکتی ہے۔ میری دیوار، دیوار گریہ میں مبدل ہو سکتی ہے۔ جھٹ سے بولا۔بھئی میرا مطلب ہے حسن والوں کا کام آگ لگانا ہوتا ہے، آگ بجھانا انہیں زیب نہیں دیتا۔ پتہ نہیں اس کی اس بات کتنی معقولیت ہے لیکن یہ بات ضرور معقول لگتی ہے کہ آجکل ہمارے روز مرہ معمولات میں برقی آلات جیسا کہ موبائل فون اور چارجر، کمپیوٹر، استری اوون وغیرہ کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے اور ساتھ ہی مختلف گیسوں بشمول ایل پی جی، اور سی این جی کے سلنڈروں کی بھی بہتات ہے، نیز گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں میں پٹرول اور برقی کرنٹ کی ایک ساتھ موجود گی، ایسے میں غفلت اور حادثاتی طور پر آگ لگنے کے امکانات بھی اسی قدر زیادہ ہیں۔ جب تک فائر بریگیڈ کو اطلاع ہوتی ہے اور وہ پہنچتے ہیں بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اگر ہم میں سے ہر شہری آگ کی اقسام اور اس کے تدارک کے طریقوں کے بارے میں ضروری علم رکھتا ہو اور ہر گاڑی، گھر اور دفاتر وغیرہ میں مطلوبہ آگ بجھانے کے آلات مہیا ہوں تو بہت حد تک بڑے حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔

آگ کو اس کی قسموں کے حساب سے مندرجہ ذیل چھ درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

1: کلاس اے : جلنے والی ٹھوس اشیاء مثلاً کاغذ، لکڑی، کپڑا وغیرو
2: کلاس بی: جلنے والے مائع جیسے پٹرول، مٹی کا تیل روغن وغیرہ
3:کلاس سی: جلنے والی گیسیں مثال کے طور پہ سوئی گیس اور ایل پی جی وغیرہ
4: کلاس ڈی: جلنے والی دھاتیں مثلاً سوڈیم، پوٹاشیم، ایلومینیم اور میگنیشیم وغیرہ
5:کلاس ای: بجلی اور بجلی کے آلات سے لگنے والی آگ
6:کلاس ایف: پکانے کے تیل اور گھی وغیرہ سے لگنے والی آگ۔

اسی طرح آگ بجھانے والے آلات(fire extinguishers) کو بھی ان کے اندر موجود مادوں کے لحاظ سے مختلف قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے جو کہ یہ ہیں

1: پانی بھرے آلات water extinguisher
یہ پانی کا سپرے کرتے ہیں۔اور کلاس اے کی آگ کے لئے استعمال کریں۔اور کسی بھی کلاس کیلیے ہرگز استعمال نہ کریں۔
2: جھاگ پھینکنے والے آلات foam extinguisher
کلاس اے اور کلاس بی کیلیے۔ باقی کسی کلاس کے لئے ہرگز استعمال نہ کریں۔
3:خشک پاؤڈر والے آلات dry powder extinguisher
یہ کلاس اے، بی اور سی تینوں طرح کے لئے مفید ہیں۔ لیکن کلاس ایف کے لئے ممنوع
4:کاربن ڈائی آکسائیڈ والے آلات carbon dioxide extinguisher
یہ زیادہ تر کلاس ای کیلیے ہوتا ہے۔ جن میں کمپیوٹر اور دیگر برقی آلات شامل ہیں لیکن کلاس بی کے لئے بھی مفید ہیں۔البتہ کلاس اے اور ایف کے لئے الٹا نقصان دہ ہیں
5:مائع کیمیائی آلات wet chemical extinguisher

خاص طور پر کلاس ایف یعنی کچن میں لگنے والی آگ کے لئے۔لیکن کلاس اے کے لئے بھی مفید ہیں۔ اور باقیوں کے لئے منع ہیں۔
آگ کی قسم کے لحاظ سے ایکسٹنگشر کے چناؤ کا چارٹ لف ہے۔

ہم اگر تھوڑی سی کوشش سے یہ ضروری معلومات ازبر کرلیں اور ہر ہمارت میں اس کی نوعیت کے مطابق آگ بجھانے کے آلات کی مطلوبہ مقدار مہیا ہو تو یقیناََ بہت سے حوادث سے بچا جا سکتا ہے۔ ہیں اکثر متحیر رہتا ہوں کہ ایسی ناگزیر معلومات اور ضروری تربیت کو ہمارے تعلیمی نصاب کا حصہ کیوں نہیں بنایا جاتا۔اللہ کریم ہمیں درست فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنی امان میں رکھے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: