پویلئین اینڈ سے ۔۔۔۔ اک سفر اونچے نیچے راستوں کا — قسط 1

0
  • 100
    Shares

کرکٹ۔۔۔۔ کیماڑی تا لنڈی کوتل،قوم۔کا یکساں جنون۔
کرکٹ ۔۔۔ جس میں ہم۔نے کبھی آسمان کی رفعتیں چھولیں تو کبھی پستیوں کی دھول چاٹی
اونچے نیچے راستوں کا سفر جس میں ہنسنا بھی ہے اور رونا بھی۔
شکور پٹھان اپنی کرکٹ کی یادیں لے کر آپ کے ساتھ۔  پاکستان کرکٹ سے جڑی یادوں کے بارے میں یہ سلسلہ وار تحریر دانش کے قارئین آج سے ملاحظہ کرسکیں گے۔


” امی کھانا دے دیں۔ “

اسکول سے آکر بستہ ایک طرف پھینک کر میں باورچی خانے میں ایک مونڈھا کھینچ کر بیٹھا ہوا تھا۔ امی نے کھانا نکال کر سامنے رکھ دیا۔
ان دنوں کبھی یہ سوال نہیں کیا کہ آج کیا پکایا ہے؟ اس سوال کی گنجائش ہی نہ تھی۔ نہ کھانے میں کوئی بہت زیادہ اقسام ہوتی تھیں۔ دال روٹی، یا دال چاول، یا سبزی روٹی۔ گوشت وغیرہ کسی شادی، یا میّت پر کھانے ملتا یا پھر کبھی کبھار رمضان میں گھر میں بھی پکتا؟
لیکن زندگی سے کوئی شکایت نہیں تھی کہ چند ایک ضروریات کے علاوہ دوسری آسائشوں سے شناسائی تھی ہی نہیں۔
کھانا کھا کر فوراً گلی میں نکل آتے، جہاں دوسرے ہم عمر منتظر ہوتے۔
اور لیاری کے قدیم ترین محلے کی یہ کچّی گلیاں ہمارا کھیل کا میدان تھیں۔ دونوں جانب کی سیم زدہ دیواروں کے ساتھ ساتھ نالیاں بنی ہوتیں جو ہر مکان کے ساتھ بنی “حوضی” سے ملی ہوتی۔ یہ حوضی دراصل کھلے گٹر ہوتے جن کا بول و براز ہر دوسرے دن بیل گاڑیوں پر بنی ٹنکیوں میں منتقل کیا جاتا۔ ہر دوسرے تیسرے دن کاندھوں پر سلنڈر رکھے بلدیہ کے اہل کار نظر آتے جو ان حوضیوں پر فینائل کا اسپرے کرتے۔ اور حیرت کی بات تھی کہ وہاں مچھر شاذ ہی نظر آتے۔

کیا کھیلیں۔ ایک دوسرے سے سوال ہوتا۔
کھانے میں ہمارے پاس گنجائش نہیں تھی لیکن یہاں بے تحاشہ گنجائش تھی۔ ہمارے پاس کھیل کا سامان نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی لیکن ہم بے شمار کھیل کھیلتے۔
ایک طویل فہرست تھی لیکن بہت جلد ہم کسی فیصلے پر پہنچ جاتے، پکڑم پکڑائی، لنگڑی ٹانگ، آنکھ مچولی، کِل کِل کانٹا، کھوکھو، کوڑا جمال شاہی، پہل دوج، سُرپالا، کبڈی اور ایسے ہی کئی کھیل تھے جن میں کسی سامان کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
ہماری عمریں پانچ چھ سال کی تھیں۔ ہم سے ذرا بڑے، جنہیں دو پیسے یا ایک آنا جیب خرچ ملتا تھا وہ لٹّو، پتنگ بازی، گلی ڈنڈا وغیرہ کھیلنے کی استطاعت رکھتے اور ہم انہیں دیکھتے رہتے۔

یا اگر کبھی بارش کے بعد تو کوئی لڑکا ایک سریا لے آتا اور ہم نرم زمین میں سریا گاڑنے کا کھیل کھیلتے۔ ایک اور مفت کا کھیل جسے ہمارے گھر والے ‘ جوا’ قرادیتے اور ہم کہیں چھپ کر کھیلتے وہ تھا ” پاکٹ” کھیلنا۔ یہ سگریٹ کے پیکٹ ہوتے جنہیں ہماری زبان میں “پاکٹ” کہا جاتا تھا۔ ان کی مختلف قیمتیں تھیں۔ قینچی، ڈائمنڈ، پیلا ہاتھی، آل ون، اور فوکس اون وغیرہ ایک کے ” پاکٹ” ہوتے، کیپسٹن، کیوینڈر، کنگ اسٹارک، پاسنگ شو، ووڈ بائن ذرا بڑی قیمت کے ہوتے۔ لیکن، تھری کاسل، گولڈ لیف، پلیرز نمبر ون، اور گولڈ فلیک وغیرہ “سو” کے ہوتے اور انہیں تلاش کرنے کے لئے ہمیں دو دراز کے محلوں کی خاک، بلکہ دکانوں کے پچھواڑے چھاننا پڑتے کہ غریب محلوں میں یہ برانڈ پینے والے بہت کم ہوتے۔
لیکن ایک کھیل ایسا تھا کہ جس میں چھوٹے بڑے سب شامل ہوتے اور جسے کھیلنے کے لئے ہر وقت تیار ہوتےاور وہ تھا ” گیند بلّا”۔
محلے میں کسی ایک لڑکے پاس ” ٹینس” کی ایک گیند ہوتی جسے ہماری زبان میں ” کمِچ” کی گیند کہا جاتا تھا۔

یہ جو میں ہماری زبان، ہماری زبان، کی رٹ لگا رہاہوں، یہ وہ زبان تھی جو صرف ہم ہی بولتے اور سمجھتے تھے۔ ہم سب سرکاری اسکول میں ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھنے والے بچّے تھے جنہیں، الف مد آ، ب زبر با اور دو اِکّم دو، دو دُونی چار کے علاوہ کچھ نہیں آتا تھا۔ کرکٹ ہمارے لئے گیند بلّا تھی، ٹیمیں ‘ پالٹی’ (پارٹی) کہلاتیں اور ساتھی کھلاڑی، ” ایاڑی” ہوتے تھے۔
اور وہ جو گیند اس لڑکے کے پاس ہوتی اس کا رنگ سیاہ ہوتا، یہ تو بہت ہی بعد میں پتہ چلا کہ ٹینس کی گیند پر تو بڑا نرم سارؤاں ہوتا ہے اور یہ نسبتًا سخت ہوتی ہے۔ ہماری کر مچ یعنی ٹینس کی گیند اپنے بہترین دن گذار ہوچکی ہوتی تھی اور بہت پہلے اس کا رواں جھڑ چکا ہوتا، پھر اس پر پیلے رنگ کا ربڑنظرآتا، جو کچھ عرصہ بعد غائب ہوجاتا اور گیند کی آخری سیاہ رنگ کی پرت سامنے آتی۔
اور ہم سب مل کر اپنے اس قیمتی اثاثے کی حفاظت کرتے۔ اس کے لئے پہلے سے قانون سازی کی جاتی تھی اور شرائط کو کھیل سے پہلے دوہرایا جاتا تھا،
” گیند کھوئے لے لوں، بلا ٹوٹے لے لوں” کہ ساتھ گیند اور بلے کا مالک اپنے حقوق ملکیت کا اقرار کرواتا۔

فلاں کے گھر یا چھت پر گیند چلی گئی تو آؤٹ، رن آؤٹ کی نہیں ہورہی، پہلی گیند ٹرائی بال ہوگی، آخری لڑکا دوباریاں لے گا۔ سب سے چھوٹے کو پہلی باری ملے گی۔ یہ سارے شرائط وضو ابط پر متفق ہوتے ہی ایک لڑکا بلّا یا بلّا نما تختہ لے کر ایک جانب چلا جاتا اور زمین پر تنکے یا انگلی سے کچھ ہند سے لکھ کر اور ان کے اوپر لکیریں کاڑھ کر ہندسوں کو بلّے سے چھپا دیتا۔ ریڈی کی آواز کے ساتھ ہی سب اس کی جانب دوڑ پڑتے اور ان لکیروں پر انگلی رکھتے، ہندسوں پر سے بلا ہٹاتے ہی نتائج سامنے آجاتے اور کسی کی مسرت آمیز تو کسی کی حسر ت بھری آواز آتی۔

دیوار پر کوئلے سے بنائی ہوئی وکٹ کے سامنے ‘ سوا بلّے’ کے فاصلے یعنی کریز پر بیٹنگ کرنے والا کھڑا ہوجاتا اور پندر بیس گز کی دوری پر ایک پتھر یا چپل رکھ کر دوسرا ‘ اینڈ’ بنتا جہاں سے گیند کرائی جاتی۔ اسٹمپ اور ایل بی ڈبلو کے قانون سے ہم آشنا نہیں تھے کے وکٹ دیوار پر بنی ہوتی اور کوئی وکٹ کیپر نہیں ہوتا۔
نہ ہی امپائر کا ٹنٹا ہوتا۔ اگر کوئی صاف آؤٹ ہوتا تو خود ہی باری چھوڑ دیتا ورنہ دوسری صورت میں قسم دی جاتی، یا قسم کھائی جاتی۔ اگر قسم کو مان لیا جاتا تو فیصلہ ہوجاتا، بصورت دیگر گالیوں کا تبادلہ ہوتا اور نتیجتاً ‘ جاؤ ہم نہیں کھیلتے” پر کھیل کا اختتام ہوجاتا جو دوسرے دن پھر انہی شرائط اور قوانین کے ساتھ شروع ہوجاتا۔
یہ تھی کرکٹ کے کھیل سے میری ابتدائی آشنائی۔

ہم کرائے کا مکان میں رہتے تھے۔ مکان مالک دو بھائی تھے جن کے گھر ساتھ جڑے ہوئے تھے اور انہوں دو اور گھر بھی جو ساتھ ہی بنے ہوئے تھے کرایہ پر دئیے ہوئے تھے۔ یعنی کل ملا کر پانچ گھر تھے اور سب گھروں سے کچھ اس طرح دروازے نکلتے تھے کہ سارے گھر آپس میں متصل تھے۔ ہم بڑے مکان مالک کے صحن میں پکّے فرش پر کھیلتے۔ ان کا بڑا لڑکا عرفان سیکنڈری اسکول میں پڑھتا تھا اور بہار کالونی کے میدان یا ماری پور میں سمندر کے کنارے بنے میدانوں میں کرکٹ کھیلتا۔ عرفان بھائی کے پاس ایک باقاعدہ کرکٹ بیٹ تھا جس پر لال رنگ کی ” بینڈیچ” تھی اور ایک جھلّی سی چڑھی تھی۔ یہ دراصل پریکٹس بیٹ تھا۔ ان کے پاس ایک استعمال شدہ گیند تھی اور یہ پہلی کرکٹ بال تھی جو ہم نے دیکھی۔ اسے ہم ” کاٹ بال” کہتے تھے جو شاید cork ball تھی۔ عرفان بھائی کبھی ہمیں اپنی نگرانی میں کھیلنے کی اجازت دیتے۔ گھر میں شاٹ مارنے کی اجازت نہیں تھی اور عرفان بھائی نے ہمیں سکھایا بلّے کو دونوں ٹانگوں کے ساتھ ملا کر اور آگے کی جانب جھک کر کیسے گیند کو روکا جاتا ہے۔
یہاں بہت زیادہ کرکٹ کھیلنے کی گنجائش تو نہیں تھی لیکن ہمارے دل سے کرکٹ کی سخت گیند کا ڈر ختم ہوگیا۔ لیکن اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ کس رفتار سے آپ کی جانب آتی ہے،
اور پھر میرے بڑے چچا ایک دن ایک چمکدار سی اور چکنی سی گیند لے کر آئے۔ ان کی عمر پندرہ سولہ سال کی تھی اور وہ شہر میں کہیں کسی کرکٹ ٹیم سے کھیلتے تھے۔ میں اپنے چچا کا لاڈلا تھا۔ یہ گیند دیکھ کر بہت خوشی ہوئی لیکن پہلی ہی اتوار کو وہ گیند اپنے ساتھ لے گئے کہ ان کا میچ تھا۔ وہ جوبلی سنیما کے پاس کسی ٹیم سے کھیلتے تھے۔
کرکٹ سے بتدریج تعارف ہوتا جارہا تھا لیکن اب تک کوئی باقاعدہ کرکٹ میچ نہیں دیکھا تھا۔ ایک دن دیکھا کہ گھر کے قریب درزی کی دکان پر جہاں ہمیشہ ریڈیو پر گانے بجتے رہتے تھے، وہاں میرے چھوٹے چچا اور ان کے دوست بیٹھے کچھ سن رہے ہیں، اور تالیاں بجائی جارہی ہیں۔ ساتھ ہی امتیاز، حنیف اور فضل اور ڈیکسٹر، کامپٹن قسم کے نام کان میں پڑے۔ اور پاکستان اور ” ایم سی سی” کے الفاظ متواتر سنائی دیتے۔

میری پھوپھی کا گھر کوکن سوسائٹی، حیدر علی روڈ پر تھا۔ ہم چھٹیوں میں، یا کسی غمی خوشی کے موقع پر وہاں جاتے اور ہفتوں، بلکہ بعض اوقات مہینوں وہاں رہتے۔ کوکن سوسائٹی میں مکانوں کے درمیان گھرا ہوا ایک ڈھلان نما، پتھریلا سا میدان تھا جہاں ایک جانب سڑک تھی جس پر چوہتر نمبر کی بس جو بعد میں گیارہ نمبر میں تبدیل ہوگئی تھی، کا اسٹاپ تھا۔ یہ میدان آج بھی موجود ہے اور اس کی باقاعدہ بھرائی کرکے اور چہاردیواری تعمیر کرکے ایک خوبصورت میدان کی شکل دے دی گئی ہے، لیکن اب یہ کوکن سوسائٹی کی ملکیت نہیں ہے۔

یہاں کوکن کرکٹ کلب کھیلا کرتی جس میں میرے، مجھ سے بڑی عمرکے کزنز بھی کھیلتے تھے۔ یہاں پہلی بار کھلاڑیوں کو سفید لباس میں دیکھا۔ سروں پر سبز، نیلی یا لال کاؤنٹی کیپ، پیروں پر پیڈ اور ہاتھوں میں دستانے پہنے ان کھلاڑیوں کو میں مبہوت ہوکر دیکھتا کہ اسی طرح کی تصویریں اخبار میں بھی نظر آتی تھیں۔ میرے خیال میں یہی تھے جو پاکستان کی ٹیم میں تھے۔ ( اور بعد میں یہیں سے کئی لڑکوں نے پاکستان کے لئیے کھیلا بھی، جن میں اعجاز فقیہ، شاہد اسرار، اسلم قریشی چند ایک نام ہیں).
یہاں شہر کے دوسرے حصوں کی ٹیمیں آتیں، ایک خوبصورت سا گول مول سا نوجوان جو دو تین بار یہاں کھیلنے آیا اسے دنیا ‘ رتن کمار’ کے نام سے جانتی تھی اور جو اس زمانے میں فلموں کا مقبول ہیرو تھا۔

ہم لیکن اب تک اتنے بڑے نہیں تھے کہ ان کے ساتھ کھیل سکتے۔ ہاں شام کو جب پریکٹس ہوتی تو ہمیں وکٹ کیپر کے پیچھے بہت دور ” سیکنڈ وکٹ کیپر ” بنا کر کھڑا کردیا جاتا کہ ہمارے پاس “نیٹ” نہیں تھے۔ شام سے کچھ دیر پہلے ہمیں بھی دوچار گیندیں کرائی جاتیں اور بالر کو ہدایت کی جاتی کہ بچے کو ذرا آہستہ گیند کراؤ۔ اور یہ ہماری ساری محنت کا حاصل ہوتا،

اور پھر یاد نہیں کہ کس وجہ سے ہم کوکن سوسائٹی میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ سن تریسٹھ کے آخر میں دولت مشترکہ یعنی کامن ویلتھ کی ٹیم پاکستان آئی۔
اور سن تریسٹھ سے میرا کرکٹ کے ساتھ وہ رومانس شروع ہوا جو آج تریسٹھ سال کا ہوجائے کے بعد بھی ویسا ہی پرشباب ہے

تب سے اب تک اس سفر میں کئی اونچے نیچے مقام آئے۔


اونچے نیچے راستوں کے اس سفر کی کہانی بشرطِ زندگی جاری رہے گی۔
اگلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: