گونگی، بہری نرس یا بیوی —- عینی خان

0
  • 85
    Shares

رابعہ کا گھر سلیقے کرینے سے سجا ہوا تھا۔ اپنی جگہ پر ترتیب سے رکھی ہر شے اُس کے سگھڑاپے کی گواہی دے رہی تھی۔ کچن سے آتی کیک کی میٹھی خوشبو جیسے ابھی ابھی کیک اوون سے باہر نکلا ہو پورے گھر میں پھیلی تھی۔ اچانک دروازے کی گھنٹی بجی۔ خوبصورتی سے کلپ میں بندھے گھنگرالے بال جن کی کچھ لٹیں اُس کے گالوں پر جھول رہی تھی۔ گرے کلر کے شلوار قمیض میں ملبوس، جو اس کی گندمی رنگت پر بہت خوبصورت لگ رہا تھا، رابعہ دروازہ کھولنے باہر آئی۔
اسد آج آپ جلدی آ گئے؟

اُس نے خاوند کی طرف ایک پیار بھری مسکراہٹ اچھالی۔
اسد: جی جناب! مجھے پتہ تھا گھر میں کیک بن رہا ہے خوشبو کھینچ لائی۔
اسد کی آنکھوں میں شوخی تھی۔
ابھی آپ کے لیے چاۓ بنا کر لاتی ہوں رابعہ کچن میں چلی گئی۔
اسد صوفے سے ٹیک لگاۓ آنکھیں بند کیے بیٹھے رہے، کچھ دیر بعد رابعہ چاۓ اور کیک ٹرے میں سجاۓ کمرے میں داخل ہوئی۔
رابعہ: اسد چاۓ لیجیے اور جلدی گھر آنے کی وجہ تو بتائیے؟ کچھ پریشان لگ رہے ہیں؟
اسد: ہاں پریشان تو ہوں میرے دفتر کا ماحول بہت خراب ہوتا جا رہا ہے آفس پولیٹکس بہت بڑھ گئی ہے،
رابعہ: اوہ ہو۔ یہ تو ٹھیک بات نہیں۔
اسد: کچھ دن پہلے سر نے مجھے ایک assignment دیا اور۔۔۔
پھر وہ بولتا گیا مگر رابعہ جیسے فضا میں گھور رہی تھی۔
رابعہ: (غیر دلچسپی سے) اللہ خیر کرے گا۔
رابعہ کو پوری بات سننے میں قطعی کوئ دلچسپی نہ تھی۔

دونوں میاں بیوی کسی پارٹی سے واپس آ رہے تھے، 12 سالہ ماریہ اور 11 سالہ خرم گاڑی میں پیچھے بیٹھے تھے، ماریہ بیٹھی بیٹھی سو رہی تھی جبکہ خرم ویڈیو گیم کھیل رہا تھا، رابعہ نے خوبصورت ہلکے نیلے رنگ کا سوٹ پہنا ہوا ہے کانوں میں میچنگ ائر رنگز پہنے، ہونٹوں پر براؤن کلر کی لپ اسٹک اور بال خوبصورتی سے شانوں پر بکھراۓ ہوئے ہیں۔

رابعہ: اسد میں نے لسٹ بنائی ہے کل گروسری کرنے جائیں گے۔
اسد:ٹھیک ہے، کل شام کو چلیں گے۔
کچھ دیر خاموشی رہی پھر اسد نے ریڈیو پر ہلکی آواز میں لگے گانے “کو کو کورینا ” پر تبصرہ کیا
اسد: بچپن میں یہ گانا مجھے بہت پسند تھا۔
رابعہ مسکرا دی۔
کچھ دیر پھر خاموشی رہی۔
اسد نے رابعہ کی طرف دیکھ کر کہا۔ یار رابعہ میں چاہتا ہوں کہ ہم مختلف ممالک کی سیر کریں مل کر خوب انجواۓ کریں۔ رابعہ مسکرا دی۔
اسد: کہاں جانا پسند ہے تمہیں؟
رابعہ بے توجہی سے: ہاں دیکھیں گے، جائیں گے۔
اسد: میری خواہش ہے کے میں۔۔۔۔۔
اور پھر اسد بولتے رہے رابعہ بات نظر انداز کر کے گاڑی سے باہر دیکھنے لگی۔

ماریہ سکول سے گھر آتی ہے بھاگی ہوئی کچن میں جاتی ہے۔
ماما! آپکو پتہ ہے کہ آج کیا ہوا۔۔۔۔۔؟
رابعہ بات کاٹتے ہوئے “بیٹا دیکھو آج میں نے آپ کے لیے آپکے پسندیدہ vegetable rice بناۓ ہیں ”
ماریہ: واووو ماما
ماریہ اپنی ماں سے لپٹ گئی۔
ماما سنیں نا۔۔۔ آج میری ایک فرینڈ نے مجھے۔۔۔۔
رابعہ: ہاں ہاں بیٹا بعد میں۔

ماریہ: ماما آپ کبھی بات نہیں سنتیں، میری فرینڈ فائزہ کی ماما اُس کی ہر بات سنتی ہیں، اُس کی سب پرابلمز سالوو کرتی ہیں۔
رابعہ: ہاں فائزہ کی ماما وہ پھوہڑ عورت جس کو ڈھنگ سے کھانا بھی نہیں بنانا آتا؟ رابعہ کے ہونٹوں پر فخریہ مسکراہٹ تھی۔
رابعہ: اسد آپ آج کام پر نہیں جائیں گے آپ کی طیعت بالکل بھی ٹھیک نہیں۔
اسد: بس رابعہ اب میں ٹھیک ہوں، بلکہ بیمار تو تم لگ رہی ہو تم پوری رات نہیں سوئی، کچھ آرام کر لو۔
رابی! میری خواہش ہے تمیں دنیا کی ہر خوشی دوں، تم اور میں۔۔۔۔
رابعہ: اچھا اچھا بس اب آپ آرام کریں اور جب تک پوری طرح ٹھیک نہیں ہوتے کام پر نہیں جانا۔

اسد: رابعہ سنو تو میں تمہارے لیے اپنے دل میں بے پناہ محبت رکھتا ہوں، مگر کام کی کچھ اُلجھنوں میں پھنسا ہوا ہوں، بچے بھی بڑے ہو رہے ہیں اُن کے مستقبل کے لیے سوچتا ہوں کے بینک میں کچھ پیسے ہوں تم کیا سوچتی ہو؟
رابعہ: ہہممم ہاں صحیح ہے۔
رابعہ دیوار کو گھورنے لگی، آپ کو سوپ بنا کر دیتی ہوں۔
اسد: رابی ابھی صرف میرے پاس رہو، مجھ سے بات کرو۔
رابعہ: بس چپ کر کے آرام کریں۔
رابعہ مسکرانے لگی، سوپ لاتی ہوں اور کمرے سے چلی گئی۔

شام کا وقت تھا اور خرم اپنے کمرے میں اُداس بیٹھا تھا رابعہ کمرے میں داخل ہوئی۔
رابعہ: کیا بات ہے بیٹا کھانا نہیں کھایا؟
خرم: امی بھوک نہیں۔
رابعہ: بیٹا بتاؤ تو۔
خرم: امی آپ نہیں سمجھیں گی۔
رابعہ: بیٹا پتا تو چلے بات کیا ہے۔
خرم: امی ہماری کلاس میں ایک لڑکی ہے۔ رابعہ نے طنز بھری معنی خیز مسکراہٹ خرم کی طرف پھینکی۔
خرم: ماما میں اس لیے آپ سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔
رابعہ: بولو اب کیا ہے۔
رابعہ کا لہجہ اچانک سخت ہو گیا۔
رابعہ: شروع ہو گئے خیر سے؟
یہ جملہ خرم کے دل میں تیر بن کے لگا۔

خرم: ماما بات یہ نہیں، ماما وہ بہت غریب ہے اُس نے بریک ٹائم کسی کے بیگ سے پیسےلیے، میں نے دیکھ لیا اور جب ہمارے سر نے کلاس میں سب سے پوچھا تو میں خاموش رہا، ماما میں سوچتا ہوں۔۔۔۔۔۔
رابعہ : ابھی بتاتی ہوں تمہارے ابو کو کے صاحب زادے کن چکروں میں ہیں، کل تمارے سکول آوں گی اور تماری پرنسپل سے بات کروں گی۔
خرم تڑپ اُٹھا۔
نہیں امی پلیز بات تو سنیں۔۔۔۔

اسی شام خرم کی پھوپھو گھر آئیں۔
رابعہ نے پھوپھو کے سامنے خرم کی طرف دیکھ کر شکایت اور طنز بھرے لہجے میں کہا کے میاں عشق فرما رہے ہیں اور خرم یہ سُن کر شرم سے زمین میں دھنس گیا۔
خرم : پھوپھو میں بتاتا ہوں، ایسی کوئی بات نہیں میں صرف اس لڑکی کو شرمندگی سے بچانا چاہتا ہوں ورنہ وہ اور بگڑ جاۓ گی، اس کی جگہ لڑکا بھی ہوتا تو میں ایسا ہی کرتا، بات لڑکے لڑکی کی نہیں بلکہ انسانیت کی ہے۔
پھوپھو نے غور سے اس کی بات سنی۔
پھوپھو: بیٹا مجھے آپ پر فخر ہے کے آپ اتنے نیک دل ہو، آپ کل بریک میں اس لڑکی سے بات کرنا کہ چوری کرنا بری بات ہے اور آئندہ ایسا نہ ہو۔
خرم کا چہرہ چمک رہا تھا۔

رابعہ: اچھا اب یہ فضول باتیں چھوڑو خرم اور آپ اپنے کمرے میں جاؤ، پھوپھو کو آرام کرنے دو۔
سعدیہ: نہیں نہیں مجھے تو اچھا لگتا ہےجب بچے اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل بڑوں سے ڈسکس کرتے ہیں۔ ایسے آپس میں تعلق مضبوط ہوتا ہے۔

خرم اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے۔
رابعہ اپنی نند سی مخاطب ہوتی ہے۔
سعدیہ یار میں آپ کے بھائی سے بہت تنگ ہوں، میں سوچ رہی تھی ہر وقت آپکو فون کر کے اپنے پرابلمز ڈسکس کرتے رہتے ہیں، میں تو منع کرتی ہوں کے سعدیہ کو تنگ نہ کیا کریں، کبھی کبھی تو جلن ہونے لگتی ہے اتنی اتنی دیر کیا باتیں کرتے رہتے ہو؟
رابعہ نے خواشگوار موڈ میں سعدیہ کی طرف دیکھا اور دوبارہ گویا ہوئی۔
میرا بھائی تو کال کرتا ہے سلام دعا کے علاوہ کوئی بات ہی سمجھ نہیں آتی۔
سعدیہ: اسد بھائی بس اپنی چھوٹی چھوٹی پرابلمز، اپنی خوشیاں، دکھ،پریشانیاں، آفس کی باتیں شئیر کرتے ہیں۔
رابعہ: فضول باتیں۔۔۔۔ انہیں ڈسکس کر کے کیا ملے گا؟
سعدیہ: یہ باتیں فضول باتیں نہیں ہوتی۔

ہماری باتیں ہماری سوچوں ہمارے خوابوں ہمارے جذبات اور ہماری نفسیات کی عکاسی کرتی ہیں، یہ سب ہماری ذات کا حصہ ہیں، جیسے جسم کو خوراک کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی ہماری روح کو جذباتی وابستگی، شناسائی اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمیں سنے اور سمجھے، کوئی ایسا ہو جس سے ہم شئیر کر سکیں، تم شکر کرو کے وہ کسی غیر عورت سے قریب نہیں۔

رابعہ: غیرعورت کیوں ہو گی کوئی؟ مجھ میں کیا کمی ہے؟ میں ایک سے بڑھ کر ایک کھانے پکاتی ہوں، گھر صاف رکھتی ہوں، خود کو فٹ اور خوبصورت رکھتی ہوں، کوئی بیمار ہو جائے تو پوری پوری رات جاگ کر خدمت کرتی ہوں۔

سعدیہ: کیا وجہ ہے کہ اکثر خواتین خود کو سلیقہ شعار،وفادار، باکردار، بااخلاق اور خدمت گزار تو بنائے رکھتی ہیں مگر دوست اور رفیق بننے کی کوشش نہیں کرتیں؟ دکھ درد سننا سمجھنا، مشترکہ مستقبل کے خوابوں میں دلچسپی لینا، جزبات کو سمجھنا، emotional support اور ساتھ دینا نہیں آتا؟ وہ ایک نرس کی طرح سب کی دیکھ بھال کرتی ہیں کھانے پینے اور ہر چیز کا خیال رکھتی ہیں مگر گونگی بہری نرس جو دوسروں کے پرابلمز سننے، دکھ درد بانٹنے، مشورہ دینے اور اپنی بات شئیر کرنے کے صلاحیت نہیں رکھتیں، جسمانی ضرورت کا خیال رکھتی ہیں مگر روحانی و نفسیاتی ضرورت کا خیال نہیں رکھ سکتیں، جزباتی وابستگی اور warmth نہیں دے سکتیں، جس کے بغیر عورت ادھوری ہے۔

کچن میں اور بیڈ روم میں جگہ بنانا اور کمال حاصل کرنا نسبتاً آسان ہے، مگر دل میں جگہ بنا کر رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ دل میں جگہ برقرار رکھنے کے لیے مختلف سطح پر connect کیا جاتا ہے۔ کبھی ذہنی سطح پر تو کبھی جذباتی اور نفسیاتی سطح پر، جن باتوں کو تم غیر ضروری سمجھ کر نظر انداز کرتی ہو اگر غور کرو تو وہ باتیں اندر کا حال بتاتی ہیں، اندر کے حال کا پتہ رکھنا اور اندر اپنی جگہ بنا کر رکھنا سمجھدار عورت کا کام ہے، تمہارے بچوں کو بھی ہر قدم پر تمہارے اعتماد کی ضرورت ہو گی، اگر ماں اپنے بچوں کو سمجھ نہیں سکے گی تو کون سمجھے گا؟ ماں ساتھ اور اعتماد نہیں دے گی تو کون دے گا؟

تم اپنے شوہر کے کپڑوں پر لگے چھوٹے سے داغ اور سلوٹ کو دیکھ لیتی ہو مگر اس کے ماتھے کی شکنوں اور جذبات میں ہوتے اُتار چڑھاؤ سے کیسے بے خبر رہ سکتی ہو؟ وہ ایک وقت کا کھانا نہ کھاۓ تو اتنی بےچین ہو جاتی ہو مگر جب وہ جذباتی طور پر اتنا تشنہ رہتا ہے تو کیسے آرام سے سو جاتی ہو؟ عورت صرف کچن سمبھالنے اور گھر کی دیکھ بھال کرنے کے لیے ہی نہیں بنی، عورت اپنے سے وابستہ اپنے پیاروں کے دلوں پر راج کرنے کےلیے بنی ہے۔

رابعہ کو سوچ میں ڈوبے دیکھ کر سعدیہ کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی، وہ اپنا فرض ادا کر چکی تھی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: