عمیرہ احمد کی مخالفت کیوں؟ امجد جاوید

2
  • 46
    Shares

گذشتہ دنوں دانش پہ کبیر علی صاحب کی ایک تحریر نگاہوں سے گزری۔ میں نے ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کی لیکن کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ اس لئے لکھنے میں تاخیر ہوئی۔ اگر انہوں نے عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کے خلاف لکھا ہے تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔میں آزادی رائے کے حق میں ہوں۔ ہر فن پارے پر چاہے وہ کیسا بھی ہو، اس پر تعریف و تنقید کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ وہ عوام کے سامنے پیش ہی اسی لئے کیا جاتا ہے۔ عوام اسے قبول کرے، نہ کر ے، تعریف کرے یا تنقید، وہ عوام کا حق ہے۔ لیکن یہ انتہائی افسوس ناک رویہ ہے کہ اس فن پارے کے خالق کی تحقیر کریں۔ فن پارہ پبلک پراپرٹی مانا جا سکتا ہے لیکن فن پارے کے خالق کی ذات یا شخصیت نہیں۔

عمیرہ احمد کی مخالفت میں۔۔۔۔۔۔ مجھے بلاگر کی زبان پر بھی کوئی اعتراض نہیں۔ کیونکہ جب کو ئی بولتا ہے تو دراصل وہ اپنا اندر آپ کے سامنے کھول کر رکھ دیتا ہے۔ اس کی  سوچ اور ذہن کا اندازہ ہوتا ہے۔ بلاگر کی زبان ہی سے اندازہ ہو گیا کہ وہ کتنا علمی پس منظر رکھتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ انہوں نے بہت پڑھا، اردو کے بارے میں اپنی علمیت کو ثابت کرنے کے لئے کچھ اصطلاحات کا بھی سہارا لیا لیکن غیر معیاری زبان کے استعمال سے کوئی اچھا تاثر نہیں قائم کیا۔

انہوں نے عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کو تیسرے درجے کی نثر نگار کہا مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ کیونکہ یہ ثابت کرنے کا، فرمان جاری کرنے کا، یا فیصلہ دینے کا اختیار انہیں بالکل نہیں ہے۔ یہ فیصلہ وقت کرتا ہے۔ کون سی تحریر زندہ رہتی ہے، کلاسک کا درجہ پاتی ہے یا نہیں پا سکتی، یہ کوئی فرد واحد کا وہ دور بھی فیصلہ نہیں دے سکتا۔ ان دونوں محترم خواتین کے بارے میں اس وقت کے حالات اور واقعات کیا ثابت کر رہے ہیں، یہ سارا زمانہ جانتا ہے۔ اگر کوئی دیوانہ ایسی بڑ ہانک دے تو اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

بلاگر نے کلاسیک، کلاسیک کا بہت ذکر کیا۔ ایک سوال ہے کیا موٹے موٹی فارسی عربی لفظ لکھنا ہی کلاسک ہے؟ یا خوب فلسفیاتی باتیں لکھنا، یا کیا ایسا ہے جو کلاسیک ہے؟ قبول عام ہو نا بھی کوئی جواز نہیں۔ ایسی بہت ساری کتب اور تحریریں ہیں جو بہت پاپولر ہوئیں لیکن وقت کے ساتھ ختم ہو گئیں۔ پاپولر فکشن، کلاسیک وغیرہ کی بحث مجھے نہیں آتی۔ میرا اپنا خیال اور نظریہ ہے۔ زندہ تحریر کسے کہتے ہیں؟ میرے نزدیک ( اگرچہ اس سے اتفاق یا اختلاف کا پورا حق ہے) ایسی تحریر جسے پڑھ کر نئے خیالات ذہن میں ابھریں اور جو کسی بھی نئی سوچ کا محرک بن جائے، وہ زندہ تحریر ہے۔

عمیرہ احمد کی مخالفت میں۔۔۔۔۔۔ بلاگر کی اس علمیت کے بارے میں بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں کہ وہ اردو زبان کے بارے میں کیا جانتے ہیں۔ زبان کی چاشنی موسیقیت وغیرہ کے بارے میں انہوں کہا۔ خیر، میں تو یہ جانتا ہوںاردو زبان رو بہ ترقی ہے۔ کیا وہ ”سب رس“ اب پڑھ سکتے ہیں؟ ”سب رس“ سے لے کر آج تک ایک سلسلہ ہے اردو زبان کا۔ اس میں نت نئے تجربے ہوتے چلے گئے اور ہوتے چلے جائیں گے۔ اگر ہم چاہیں بھی تو جدید دور میں ڈپٹی نذیر احمد کی زبان، بیان کے لئے استعمال نہیں کر سکتے۔ کیا ہم امراؤ جان ادا کی زبان کر برت سکتے ہیں۔ زبان کا اصل مقصد کیا ہے؟ وقت گزرنے کے ساتھ ابلاغ کی ضرورت اور اہمیت بڑھی جس سے زبان اور بیان میں تبدیلی آ نا فطری بات ہے۔ خیر بات بہت طویل ہو جائے گی۔ عمیرہ احمد کی مخالفت میں۔۔۔۔۔۔ جو زبان کی بات کی گئی ہے اس سے حسد اورعناد کی ناخوشگوار بو کے احساس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔

عمیرہ احمد کی مخالفت میں۔۔۔۔۔ لکھتے ہوئے بلاگر نے بڑے ہی عامیانہ اور نچلی سطع پر جا کر ”ڈائجسٹ مارکہ“ کی اصطلاع کا ذکر کیا۔ مجھے لگا کہ یہ ان کی انتہائی لاعلمی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈائجسٹ کی شائع تحریر کو ادب نہ ماننا ادبی غنڈہ گردی ہے۔” جانگلوس“ ڈائجسٹ میں شائع ہوا۔ آج یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے اردو پر اگر احسان ہے تو ڈائجسٹ کا ہے جس نے سب سے زیادہ اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں حصہ لیا۔ آج انہیں ڈائجسٹوں کے مقابلے میں کتنے ادبی پر چے ہیں؟ چند کے علاوہ کیا معیار ہے ان کا ؟ بلاگر کو شاید یہ علم نہیں ہے۔

عمیرہ احمد کی مخالفت میں۔۔۔۔۔۔ میں لکھتے ہوئے بلاگر نے لکھا کہ اردو ادب کی روایات سے واقفیت کی مذہب اور تصوف کاکا تڑکا لگایا۔ موصوف سے یہ سوال ہے کہ کیا معاشرے سے الگ ہو کر لکھا جا سکتا ہے؟ آپ کس معاشرے کی بات کر رہے ہیں۔ کیا ہمارے معاشرے میں لڑکیاں دعا نہیں مانگتیں؟ کیا ہمارا معاشرہ مذہب اور تصوف سے ہٹ کر ہے؟ بلاگرکے ہاں مذہب اور تصوف کا کیا رجحان ااور تاثر ہے، میں اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن موصوف نے وضو کرتے پنڈلیوں پر نگاہ پڑنے کی بات کی؟ یہ تناطر سے ہٹ کر کی گئی بات ہے۔

اور بہت ساری باتیں ہیں، تاہم طوالت کے خوف سے یہیں ختم کر تے ہوئے اصل مدعا کی طرف آتا ہوں۔ مجھے اعتراض ہے تو ان کی مندرجہ ذیل سطروں پر۔۔۔۔۔۔۔

”یہ دونوں خواتین بھی اگرچہ ڈائجسٹ مارکہ قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں انہوں نے ایک اہم اضافہ یہ کیا کہ اپنے ناولوں اور افسانوں میں مذہب اور تصوف کا تڑکا لگانا شروع کر دیا تاہم اردو کے افسانوی ادب میں یہ پہلی بار نہیں ہوااس سے قبل اشفاق احمد، بانو قدسیہ اور ممتاز مفتی وغیرہ نے یہ کام کیا ان لوگوں کے کچے پکے متصوفانہ خیالات سے مجھے اتفاق نہیں مگر وہ لوگ بہرحال زندگی کا تجربہ رکھتے تھے اور ان کی تحریروں میں ادبیت پائی جاتی ہے ان لوگوں کے شروع کئے ہوئے بابوں کے باب کا نتیجہ اکیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں میں عشق کے عین، شین قاف قسم کے ناولوں کی شکل میں نکلااور کئی لکھنے والوں نے بغیر کسی علم اور روحانی تجربے کے متصوفانہ مضامین بیان کرنا شروع کر دئیے اور تصوف کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس سے قبل تاریخ کے ساتھ نسیم حجازی اور عنائت اللہ کر چکے ہیں۔ متصوفانہ خیالات بیان کرنے کا یہی سلسلہ عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کے ہاں پایا جاتا ہے مگر بدقسمتی سے اس میں اتنی بھی جان نہیں جتنی کہ اس سلسلہ کے متقدمین کی تحریروں میں پائی جاتی ہے۔“

یہ سطریں بذات خود ان کے ذہنی خلفشار کی عکاسی کر رہی ہیں۔ ایک ہی سانس میں موصوف نے سب کو رگید کر رکھ دیا۔ انہی سطروں میں سارے سوال موجود ہیں۔

عین، شین قاف۔۔۔۔۔ اس قدر اہمیت رکھتی ہیں کہ ان کا ذکر انہیں کرنا پڑا۔ مجھے نہ صرف ان کے اس طرح ذکر پر اعتراض ہے بلکہ شدید تحفظ بھی۔ یہاں وضاحت کر دوں کہ عشق کا عین محترم علیم الحق حقی نے۔ عشق کا شین محترم علیم الحق حقی اور راقم (امجد جاوید) نے اور عشق کا قاف محترم سرفراز احمد راہی اور راقم (امجد جاوید ) ہی نے لکھا۔ اگر کوئی اور بھی لکھنا چاہئے تو یہ میدان کھلا ہے۔ اور بہت سارے ادباءنے لکھا بھی ہے۔ عشق کا قاف (امجد جاوید) پر اے ٹی وی سے ایک سیریل بھی بن کر آن ائیر ہو چکا ہے۔جو آج بھی عوام پسند کرتے ہیں۔

محترم علیم الحق حقی اورمحترم سرفراز احمد راہی رب تعالی کو پیارے ہو چکے ہیں۔ سو میرا بلاگر سے سوال کرنا بنتا ہے۔ میرا بلاگر سے ایک ہی سوال ہے۔ اور میں ان سے مزید سوال کرنے کا حق رکھتا ہوں۔ وہ سوال یہ ہے کہ کیا بلاگر علم اور روحانی تجربے کے اس معیار پر ہیں کہ عین شین اور قاف پر انگلی اٹھا سکیں؟

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. Salim Mansur Khalid on

    This is not criticism on Nimra and Umera. This defeat of secular brigade. They are bankrupt people. They are perverted and take shelter under the roof of Manto, but have no curage to face the reality of Deen e Islam🕷

  2. ضیغم عابدی on

    جس مضمون کے جواب میں یہ مضمون لکھا گیا ہے واقعی اس میں الفاظ کے چناؤ میں احتیاط نہیں برتی گئی لیکن اگر معنی وہی رکھتے ہوئے اس مضمون میں کچھ جگہ اگر مناسب الفاظ رکھ لئیے جائیں تو اس مضمون سے مکمل اتفاق کیا جا سکتا ہے

Leave A Reply

%d bloggers like this: