قربانی کا جانور —– معلمہ ریاضی

0
  • 16
    Shares

سنیے! قربانی کا جانور کب لائیں گے؟‘ بیگم نے شیخ صاحب سے پوچھا۔
’جب سستے ہونگے‘ شیخ صاحب نے سکون سے جواب دیا۔
’مطلب؟ کب سستے ہونگے؟ بقر عید کے بعد‘ بیگم نے حیران ہوکر پوچھا۔
’ارے بیگم! نور الہدیٰ شاہین مہنگے جانوروں کا بائیکاٹ کروا رہا ہے، دیکھو۔۔۔۔ شیخ صاحب نے بیگم کو بتایا۔
’ہیں! یہ صاحب کون ہے؟‘ بیگم صاحبہ نے حیرت سے پوچھا۔
امی! بڑے اچھے انکل ہیں۔ وہی نا جنہوں نے رمضان میں فروٹ کا بائیکاٹ کرایا تھا اور ابو تین دن پزا ہٹ کا پزا، میکڈونلڈ اور کے ایف سی کا برگر لائے تھے۔ سچ! میں تو تربوز کھا کھا کر تھک گیا تھا‘۔ پاس بیٹھے پپو نے مما کو ٹوٹی خبر یعنی بریکنگ نیوز دی۔
’نالائق! تو روزہ رکھتا کب تھا جو تجھے تربوز کی اہمیت معلوم ہو‘، شیخ صاحب نے بیٹے کو گھُرکا۔
’سنیے جی! فروٹ کی جگہ تو پزا کھا لیا، گائے کی جگہ کیا کریں گے؟‘ بیگم نے نکتہ اٹھایا۔
’سستے سے سستا جانور خریدیں گے نا‘ شیخ صاحب نے وضاحت کی۔
’تو کیا مرغی خریدیں گے؟ سستی گائے کہاں سے ملے گی؟‘ بیگم نے سوال اٹھایا۔
’مل جائے گی یار ابھی دن ہیں‘ شیخ صاحب نے بات ختم کردی۔
ـــــــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب یہ ہوا کہ شیخ صاحب روز منڈی ہاتھ ہلاتے ہوئے جاتے اور ہاتھ ہلاتے ہوئے واپس آجاتے۔ سستے سے سستا خریدنا ہے، یہ سوچ کچھ خریدنے نہیں دے رہی تھی۔
آخر بیگم تنگ آگئیں۔ ارے کب آئے گا ’سستا نوری جانور‘؟ برابر والے شاہ صاحب اپنا بیل لے آئے ہیں، دو لاکھ کا‘ بیگم نے اطلاع دی
شیخ صاحب بھڑک گئے، ’ریاکاری ہے، دکھاوا ہے، قربانی نہیں کرتے، نمود ونمائش کرتے ہیں دو لاکھ کا بیل لاکر گلی میں باندھ دیتے ہیں‘
’ارے گلی میں نا باندھیں تو کیا بیڈ روم میں سلائیں، الماری میں ہینگر سے لٹکائیں یا دراز میں بند کر کے تالا لگا دیں کہ نمائش نا ہو؟‘ بیگم نے تنک کر پوچھا۔
شیخ صاحب نرم پڑ گئے، منمناتی آواز میں بولے، ’بیگم! دیکھو یہ امیر لوگ مہنگے مہنگے جانور خرید کر ہم جیسے سفید پوشوں کے لئے قربانی کرنا مشکل کردیتے ہیں، نور صاحب فرماتے ہیں کہ بجائے تیس لاکھ کا ایک جانور خریدنے کے، ایک ایک لاکھ کے تیس جانور خرید لیں، قربانی تو ایک لاکھ کے جانور سے بھی ہوجائے گی۔ ذیادہ کھال، ذیادہ گوشت۔۔۔ اور غریبوں میں بانٹیں۔ کتنی اچھی بات کہہ رہا ہے نا؟ شیخ صاحب نے بتاتے ہوئے تائید چاہی۔
’سننے میں تو اچھی لگ رہی ہے مگر۔۔۔۔ خیر آپ اپنا جانور تو لائیں‘، بیگم نے آدھی تائید تو کرہی دی۔
شیخ صاحب پھول گئے خوشی سے۔۔۔ ’ارے ابھی بائیکاٹ شروع ہوا ہے دیکھنا دام نیچے گریں گے منڈی میں، پھر خرید لائوں گا‘
بیگم عجیب سے نظروں سے دیکھ کر رہ گئیں۔
ــــــــــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔
شیخ صاحب آفس سے گھر آئے تو گھر کی حالت دیکھ کر انکی سٹی گم ہوگئی۔ گھبرا کر بیگم کو آواز دی۔
بیگم م م م ! ! کہاں ہووووو؟
بیگم اندرونی کمرے سے برامد ہوئیں، ’جی جان؟‘
’ہمارے گھر کیا ڈاکا پڑ گیا ہے؟‘ شیخ صاحب نے گھبرائے لہجے میں پوچھا
’ارے اللہ نا کرے! ڈاکا کیوں پڑنے لگا؟
’تو سب گھر کا سامان کہاں گیا؟‘ شیخ صاحب نے غصے سے پوچھا۔
’ارے وہ آپ اتنے دنوں سے بتارہے تھے نا کہ قربانی تو ایک لاکھ کی گائے کی بھی ہوجاتی ہے تو جو تیس لاکھ کی ایک گائے کرتا ہے وہ ایک لاکھ کی تیس گائے کر کے گوشت غریبوں میں بانٹ دے یا پھر ایک سستا جانور خرید کر باقی رقم سے کسی غریب کی مدد کردے، تو میں نے سوچا کہ سویا تو چٹائی پہ بھی جا سکتا ہے بیڈ روم سیٹ کی کیا ضرورت ہے تو سارا بیڈ روم سیٹ اٹھا کر کام والی ماسی کو دے دیا، اسکی بیٹی کی شادی پہ کام آئے گا۔ اور آفس تو آپ شارٹس اور ٹی شرٹس میں بھی جا سکتے ہیں تو آپ کے سارے برانڈڈ سوٹ محلے کے چوکیدار اور سامنے والے پارک کے مالی کے دے دیے‘۔
’اور۔۔۔۔۔‘ بیگم چہک چہک کر بتاتے ہوئے یہیں تک پہنچی تھیں کہ شیخ صاحب دھاڑ پڑے۔
’دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟ سارا گھر لُٹا دیا،۔۔۔۔ قربانی کا گھر کی چیزوں سے کیا تعلق؟
’ہیں! آپ خوش نہیں ہوئے؟‘ بیگم نے کمال معصومیت سے پوچھا۔
’تم مجھے چٹائی پہ سلارہی ہو اور امید کرتی ہو کہ میں خوش ہونگا؟ شیخ صاحب تلملا کر بولے۔
’واہ! آپ کے ’نورانی نور‘ انتتیس لاکھ غریبوں میں تقسیم کروائیں وہ بھی کسی نامعلوم امیر سے۔ اسکی ایک گائے کے تیس ٹکڑے کروائیں اور آپ اس پہ خود بھی تالیاں بجوائیں اور ہم سے بھی داد مانگیں اور اگر یہی کام آپ کو خود کرنا پڑے تو چلانا شروع کردیں۔ یہ کونسا اسلام ہے؟
’بب بیگم! غریبوں میں بانٹنا چاہیے نا، مگر جتنا ہماری حیثیت ہے، پورا گھر تھوڑی دینا چاہیے‘ شیخ صاحب ہکلا کر بولے۔ دماغ میں چٹائی گھوم رہی تھی ساتھ میں خود کو ٹی شرٹس اور شارٹس میں آفس میں بیٹھے سوچا تو ابکائی سی آگئی۔
’ہاں! اب آیا نا اونٹ پہاڑ کے نیچے‘ بیگم خوش ہوکر بولیں ’ہماری کیا حیثیت ہے یہ اللہ و اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیا ہے۔ ہم پہ غریب کا حق ہے کہ اپنے سو روپے میں اسے ڈھائی روپے زکوٰۃ دیں،رمضان میں گندم، کشمش وغیرہ میں سے جو جنس ہم پسند کریں اسکی رقم کے برابر فطرہ ادا کریں، قربانی میں ’اگر چاہیں‘ تو تیسرا حصہ غریب کو دیں، قربانی کی کھال صدقہ کریں۔ اگر ہم یہ سب کردیتے ہیں تو بندوں کی کیا مجال ہمارا رب بھی ہم سے نہیں پوچھے گا کہ ہم نے باقی کے ساڑھے ستانوے روپے اپنے اوپر کیوں خرچ کیے۔ گندم کا نصاب کیوں رکھا کشمش کا کیوں نہیں، سارا گوشت خود کیوں کھایا غریب کو کیوں نہیں دیا۔ کیوں کہ اس نے ہمیں خود اختیار دیا ہے۔ اور یہ جو ایک کے بجائے تیس کا بظاہر خوش کن نعرہ ہے معلوم ہے اس کے کتنے خراب اثرات نکلیں گے۔
’کیا؟‘ شیخ صاحب نے بے ساختہ پوچھا۔
’جسکو نمائش کرنی ہے وہ ایک چھوڑ دس طریقے نکال لے گا؟ پہلے چند امیروں میں مہنگا سے مہنگا جانور خریدنے کی دوڑ لگتی تھی، اب اسی پیسوں میں ذیادہ سے زیادہ سستا جانور خریدنے کی دوڑ لگے گی۔ ایک کہے گا میں نے چالیس چالیس ہزار کے اسی جانور لیے، دوسرا سینہ چوڑا کرے گا میں نے پینتیس پینتیس ہزار کے سو جانور لیے۔ جانوروں کی تعداد اور ٹوٹل امائونٹ بڑھتا جائے گا اور فی جانور قیمت کم ہوتی رہے گی۔
اور یہ جو ہم سفید پوش لوگوں کو تیس، پینتیس، چالیس، پچاس یا ساٹھ ہزار کا جانور مل جاتا ہے نا وہ بھی نہیں ملے گا کیوں کہ سارے جانور ان امیروں کے باڑوں میں سمٹ جائیں گے۔ پھر بجاتے رہئے گا تالیاں‘
’اسلامی معیشت کہتی ہے کہ کم چیز ذیادہ لوگ استعمال کریں نا کہ ذیادہ چیزیں کم لوگ استعمال کریں۔ اور ہاں یہ بانٹنے والی بات مت کیجیے گا، ایک عام آدمی جو چالیس ہزار کی گائے خرید سکتا ہے اسکی قوتِ خرید کا جانور امیر اپنے باڑے میں لے جائے گا اور پھر غریب کو گوشت دیکر احسان جتائے گا۔ وہ کیوں لے امیر سے گوشت؟ خود کیوں نا کرے قربانی؟ ایسا عمل کریں کہ معاشرے میں خود انحصار افراد کی تعداد بڑھے نا کہ بھکاریوں کی‘
’اور ہاں! غریب کی بیٹی کا واسطہ بھی مت دیجیے گا۔ پتا نہیں کون غریب ہے جو سارا سال بیٹی بٹھا کر رکھتا ہے اور عین قربانی کے دنوں میں شادی کرنے کھڑا ہوجاتا ہے‘
شیخ صاحب نے دل میں خود کو کوسا کہ کامرس گریجویٹ سے شادی کیوں کی اور ساتھ ہی قسم کھائی کہ بیٹے کی کسی بی اے پاس سے شادی کریں گے، ایسا حساب کتاب تو نہیں سننا پڑے گا میرے پپو کو۔
مان لی تمہاری ساری باتیں، ابھی جاتا ہوں منڈی، مناسب جانور لیکر آتا ہوں، مگر میرا بیڈ؟؟؟‘
’کہیں نہیں گیا آپکا بیڈ، پڑوس میں بھیا کے گھر بھجوایا ہے‘ بیگم نے چہک کر کہا
شیخ صاحب کو تو شروع دن سے اندازہ تھا کہ انکے ’سالے‘ بہت ہی سالے‘ ہیں مگر اتنے ’سالے‘ ہیں آج احساس ہوا۔ شیخ صاحب منڈی کا رخ کرتے ہوئے دل ہی دل میں نور الہدیٰ شاہین کو مخاطب کر کے بولے، ’نور بیٹا! اللہ کرے تیری بیوی جہیز میں چٹائی لائے اور تیرا سسرال بھی تیرے پڑوس میں آباد ہو پھر پوچھوں گا بائیکاٹ کیا ہوتا ہے‘۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: