بڑی عید کے بڑے جانور —– ببرک کارمل جمالی

0
  • 15
    Shares

پاکستان کے مختلف اضلاع سے بیوپاری بلوچستان پہنچ گئے ہیں جو جگہ جگہ پے قربانی کے جانوروں کی تلاش میں ہیں، یہ بیوپاری پاکستان کے مختلف شہروں سے بوریا بستر لیکر بلوچستان کی سر زمیں پہ پہنچے ہیں اور ان بیوپاریوں کو تلاش ہے اعلی نسل کے موٹے تازے جانوروں کی جو قربانی پہ “قربان” ہو سکیں ۔قربانی کے جانوروں کی خصوصیات یہ ہیں کہ وہ خوبصورت اور وقت پہ دانت ٹوٹے شدہ نا ہوں اور قربانی کی تمام صفات اس میں شامل ہوں، اس سے پہلے کبھی بلوچستان میں اتنی بڑی تعداد میں بیوپاری نہیں آئے جتنے اس سال آئے ہیں بلوچستان میں اس برس آنے والے بیوپاریوں کی تعداد کے حوالے سے اگرچہ واضح اعداد و شمار تو دستیاب نہیں ہیں مگر ایک بات طے ہے کہ ہر سال کے مقابلے میں اس سال مویشی منڈیوں میں انتہائی رش ہے اور ایک میلہ کا سما لگا ہوا ہے۔

بلوچستان میں اتنے موٹے تازے جانور دیکھ کر سب بیوپاری بہت خوش ہو رہے ہیں لیکن حیرت اور خوشی کے ساتھ کچھ تشویش اور اندیشے بھی موجود ہیں، بلا شبہ منڈی میں آئے ہوئے جانور ہٹے کٹے ہیں مگر ان جانوروں کی جسامت فطری نہیں ہے بلکہ یہ جانور مختلف کیمیکل شدہ ادویات کے ساتھ پال پوس کے بڑے کئے جاتے ہیں جن میں سر فہرست کھاد ، گھی ، ملٹی وٹامن کی ادویات اور انجیکشن شامل ہیں، جو جانوروں کے گوشت میں اضافہ کرتے ہیں اور ان کے جسم میں سکس پیک جیسی صورت حال بنا دیتے ہیں حتی کہ ان جانوروں کے گوشت کا ذائقہ بھی بد مزہ ہوتے ہے مگر ان جانوروں کو آپ بڑے بڑے وی وی آئی پی کلچر شدہ بلاکس میں دیکھیں گے جو شیر کی طرح دھاڑیں مارتے ہوئے آنے والے لوگوں کا دل بہلانے میں مشغول ہوتے ہیں۔

اس عید کا آغاز پورے ملک میں چاند نظر آنے سے تو نہیں ہوتا ہے مگر ہاں قربانی کا جانور آنے سے ضرور ہوتا ہے۔ جس گھر میں دنبہ یا بکرا قربانی کے لئے لایا جاتا ہے اُس کے قربان ہونے سے پہلے تک اُس پر بچے بڑے سب لوگ قربان ہو جاتے ہیں انہیں طرح طرح کی خوراک دی جاتی ہے مگر ان کو کیمیکل ملی روزمرہ کی خوراک نہ ملنے کی قجہ سے وہ دوسری خالص خوراک لگن سے نہیں کھاتے، مگر پھر بھی ان کی بھر پور خدمت شروع کی جاتی ہے تاکہ قربانی پہ اس کو قربان کر سکیں۔

پہلے زمانے میں بلوچستان میں لڑکیاں عید پہ ہاتھوں میں مہندی لگاتی تھی مگر اب ہم نے وہ مہندی اپنے بکروں بیل اور دیگر قربانی کے جانوروں کو لگانا شروع کر دی ہے تاکہ مارکیٹ میں اچھی قیمت حاصل کر سکیں ۔ مہندی کے ساتھ ساتھ گھنگھرو بھی جانوروں کے گلے میں ڈال دیئے گئے ہیں اور تو اور ان جانوروں کے پاوں پائل سے سج دھج گئے ہیں پہلے زمانے میں پائلیں کسی کسی خوش نصیب عورت کو نصیب ہوتی تھیں آج کل بڑی عید پہ ہر جانور کے نصیب میں آ چکی ہیں۔

صحت مند و خوبصورت جانوروں کو قربان کئے جانے کا منظر دیکھنے کے قابل ہوتا ہے، کئی لوگ محلے میں آ پہنچتے ہیں اور ان مناظر کو کیمرہ میں قید کرنے میں لگ جاتے ہیں، نوجوانوں کا ایک ٹولہ محلے میں بنا ہوتا ہے اور وہ عید سے ایک یا دو دن پہلے موٹر سائیکلوں پر گھوم کر جانوروں کے ساتھ سیفلیاں بنانے میں لگ جاتے ہیں اچانک کسی جانور کی ٹانگ اٹھ گئی اور سیلفی بنانے والے کے منہ پہ لگ گئی تو اس کے دانت منہ سے باہر آ جاتے ہیں پھر اس نوجوان کی کونسی عید؟ کیسی عید؟ کیسی خوشیاں؟ نوجوان اپنے بکرے کو تیار کر کے گلی محلے میں لے کر پھرتے ہیں اور گلی کے دیگر بکروں کے ساتھ برابری کرتے ہیں اور یہ لوگ بکروں کے ذبح ہونے پر غمگیں بھی ہو جاتے ہیں جبکہ یہ پہلے سے علم و احساس ہوتا کہ ان جانوروں کو اس ہی مقصد کے لئے لایا گیا تھا۔

اکثر گوشت کاٹتے ہوئے چھری سے کٹ لگ جاتے ہیں، مگر پھر بھی پورے محلے کے گوشت کاٹتے رہتے ہیں حتی کہ عید پہ دو چار انگلیاں بھی زخمی کر دیتے ہیں مگر انگلی کے زخم سے ذیادہ گوشت کھانے کا مزا آتا ہے اور قربانی کا گوشت کھاتے کھاتے انگلیاں ٹھیک ہو جاتی ہیں، کیونکہ فریج اور قربانی کے گوشت کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے وہ یہ کہ بد بو نہ پھیلنے تک فریج گوشت سے بھرا پڑا رہتا ہے عید کے دس دن بعد تک گوشت ہر گھر کی خوراک ہوتا ہے۔

بکرا عید پر مختلف قسم کے لذیز کھانے بنائے جاتے ہیں مختلف پکوانوں کی ہر صوبے کی اپنی علیحدہ اور منفرد روایات آج بھی برقرارہیں، دسویں کے چاند کی دید، پٹاخوں کے چٹاخ پٹاخ، اجتماعی نماز، ہجوم کا فردا فردا بغل گیر ہونا، گوشت کی بھرمار، عزیز رشتہ داروں کی آمد ، اور ان کو اکیس توپوں کی سلامی دینے کےلئے اکیس گھروں سے گوشت کے تحفے پہنچنے کو ہی عیدالضحی کا نام دیا جاتا ہے.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: