سماجی امراض کی اصل وجہ: صادق رضا مصباحی

0
  • 13
    Shares

ہماری عمومی زندگی میں ہمارا رویہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے تمام رابطوں کو ہی مستند جان کر اسی سرکل میں وہی عام رویئے، خیالات اور آرا سن کر انہی کی روشنی میں اپنے مسائل کا حل تلاشتے ہیں. مزید تحقیق اور سوچ بچار کی ہمیں عادت ہی نہیں چاہے کتنی بار سراب منزلوں کا دھوکہ کھا چکے ہوں. لیکن کچھ امور توجہ طلب اور تجزیہ طلب ہوتے ہیں.

جیسا کہ اگر ہم اپنے کسی مرض کے علاج کے لئے کسی ایسے ڈاکٹرکے پاس چلے جائیں جس کی بڑی شہرت ہو، اس کا بڑا سا اسپتال ہو مگروہ حقیقی طور پر مرض کا ماہر نہ ہو توکیا ہم صحت یاب ہوسکتے ہیں؟ اسی طرح جو ڈاکٹر صرف کھانسی بخارکا علاج کرنا جانتا ہو. اس کے پاس اگر ہم آپریشن کے لئے چلے جائیں تو کیا وہ ہمارا علاج کرسکتاہے . ہمارا آپریشن کرسکتاہے؟ کیوںکہ بڑے مرض کے سامنے چھوٹے ڈاکٹر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی لیکن اگر ہم بضد ہوں کہ ہم اسی چھوٹے ڈاکٹر سے علاج کرائیں گے کیوں کہ وہ مشہور بھی ہے اور بجٹ میں بھی ممکن ہے تو یقینا ہم. اپنے ہاتھوں مزید بگاڑ لائیں گے مثال دینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ ہم نے اپنی قومی وملی زندگی کے مسائل کے حل کے لیے ایسے ہی ’’چھوٹے ڈاکٹروں‘‘ کو’’بڑا ڈاکٹر‘‘ سمجھ لیا ہے اوراس کی ’’اونچی دوکان دیکھ کراس سے اپنا ’’آپریشن‘‘ کرانے پربضدہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملی اورقومی مسائل جوں کے توں پڑے ہوئے ہیں. اب تک تو ان کوحل نہیں کیاجاسکا ہے بلکہ ان ’’چھوٹے ڈاکٹروں‘‘کی وجہ سے مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواکی

مجھ جیسا طفل مکتب کیسے بتائے کہ کسی بھی مسئلے کاحل اسی وقت نکلتا ہے جب کوئی ماہراورحقیقی ذمے دار اس کے متعلق اپنی قیمتی رائے دیتا اوراس کا’’علاج ‘‘کرتا ہے کیوں کہ وہ بیمارمعاشرے کا ’’ڈاکٹر‘‘ ہوتاہے۔ اسے. معلوم ہوتا ہے کہ مرض کی جڑیں کتنی گہری ہیں اوراس کاعلاج کیاہے . ہم نے دراصل انہیں ذمے دار سمجھ لیا ہے جوحقیقی ذمے دارنہیں ہیں بلکہ ہم توشہرت ، دولت اور اپنے تعلقات کے پیچھے سرپٹ بھاگنے والے لوگ ہیں ۔ ہم شہرت سے دھوکہ کھانے کے عادی ہیں۔ ہم اپنے پیروں پرکلہاڑی نہیں مارتے بلکہ اپنے پیروں کو کلہاڑی پرمارتے ہیں۔ کسی نہ کسی درجے کی سادگی ہے کہ ہم ازخود غیرحقیقی ، سطحی اور پرلے درجے کے لوگوں کو اونچے سنگھاسن پر بٹھا کر ان کی ’’ذمے داری ‘‘پر ایک مہرتصدیق ثبت کردیتے ہیں۔ مسلمانوں میں شخصیت پرستی کی وبا دوسری کمیونٹی کے لوگوں کی بہ نسبت بہت زیادہ ہے اوراس وبا نے ہماری پوری کمیونٹی کونگل لیا ہے ۔ اکثر ٹی وی چینلوں اور اخبارات میں اکثر دیکھتے ہیں کہ ہماری کمیونٹی کی نمائندگی وہ لوگ کررہے ہیں جو اس کے اہل نہیں ہیں. جزوی طور پر یا تیسرے چوتھے درجے کا اہل قرار دیا جاسکتا ہے مگر یہ دنیاچوں کہ دولت کی ہے، شہرت کی ہے، تعلقات کی ہے اور طاقت کی ہے اسی لیے یہ سب انہی طے شدہ اصولوں کے تحت چل رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اب یہ سب گٹھ جوڑ آسانی سے ختم ہونے والا نہیں ہے۔

اس حقیقت سے کسے مفر ہے کہ میڈیا پر جو اشتہار شائع ہوتے ہیں ان میں اکثر وبیشتر بلکہ اس سے بھی زیادہ ، یہ جھوٹ پرمشتمل ہوتے ہیں۔ سمجھ دار لوگ ان اشتہاری باتوں پرکبھی نہیں آتے مگر متواتر اشاعت اور دہرائی سے یہ ہماری نفسیات پر چھائے رہتے ہیں اسی لیے ہماری زبانوں پر ان کے نام چڑھ جاتے ہیں ۔ ٹھیک یہی مثال حقیقی ذمے داروں اورغیرحقیقی ذمے داروں پرصادق آتی ہے . اس ’’اونچی دوکان‘‘کے قبورڈ، بینر یا اشتہارات پریقین نہیں رکھتا بلکہ اسے دیکھ کرہی آگے بڑھ جاتا ہے توپھر ہم دینی زندگی، ملی زندگی اورقومی زندگی میں ان ’’اشتہارات‘‘ کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کے عادی کیوں ہوگئے ہیں؟ یہ اتنا بڑا سوال ہے جس کا جواب عوام کو نہیں بلکہ خواص کو تلاش کرناچاہیے اوربالخصوص ان لوگوں کو جو کھوکھلی شہرت،تعلقات اور’’اونچی دوکان‘‘سے سامان خریدنے کے عادی ہیں۔ اپنے دماغ کی ڈائری میں بات نوٹ کرلیجیے کہ ایسا کرکے ہم مرض پر مرض بڑھاتے ہی جا رہے ہیں، اس کی سنگینی میں اضافہ کررہے ہیں . اسے مزیدپیچیدہ تر بنارہے ہیں۔ اس لیے ہم ببانگ دہل یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے مسائل میں اضافہ کی اصل وجہ ہم خود اور ہمارا غیر حقیقی ذمہ دارافراد پر اندھا دھند یقین کر لینا یے.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: