قوم ہرستی اور مذہب

0

قوم مذہب سے ہے ، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں۔۔۔۔۔
جذبِ باہم جو نہیں ، محفلِ انجم بھی نہیں۔۔۔۔۔۔

اقبال کی شاعری کو زمان ومکان سے کاٹ کر نھیں دیکھا جا سکتا. اقبال واحد شاعر ہیں. جن کو صوفی، لبرل، ملا، تمام لوگ اپنے ذوق اور فہم کے مطابق جو انکے معلوم چوکٹھے میں سما سکیں کوڈ کرتے ہیں. جواب شکوہ کا پس منظر یہ ہے کہ جواب شکوہ علامہ نے اس وقت لکھا جب ان پر فتووں کا بھاڑ آگیا تھا.
مذکورہ شعر جواب شکوہ سے ماخوذ ہے جو کہ ایک قسم کی متھیولوجی سے عبارت ہے. اگر جب ہم اسکو عام بناکر ایک پوری سوچ، قوم ،قومیت اور مذہب پر رکھنا چاہتے ہیں، تو بات بلکل الگ ہوجاتی ہے، نہ تو اسکے تاریخی شواہد ہیں، اور نہ ہی زمینی حقیقت اسکا ادراک کر پارہی ہے ،قوم اگر مذہب سے ہے تو پہلے مذہب کو ہونا چاہیے پھر قوم کو، مگر جب اس دنیا میں انسان آیا تو سب سے پہلے اس کو اشیاء کا علم دیا گیا سورہ بقرہ میں تفصیلی کلام موجود ہے. پھر ارتقاء کے نتیجے میں انسانوں نے اپنا گروہ بنایا اسکے بعد خدا نے اس کی ہدایت کے لیے کتاب اتاری اور نبیوں کو بھیجنا شروع کیا، غور کرنے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ
مذہب کا کام رہنمائی ہے. جینے کے طور طریقے اور اخلاقیات سے ہے، ظاہر ہے ایک قوم جب ان سب سے خود کو آذاد کرلے تب بھی وہ قوم ہی رہتی ہے. اس میں کوئی تبدیلی نھیں آتی خدا نے اسے اختیار دیا ہے وہ چاہے جس طرز زندگی کو اختیار کریں. زیادہ آبادی دنیا میں عیسائیت کو ماننے والی ہے مگر واقعہ یہ ہے انکے یہاں مذہب روحانی سکون کا زریعہ ہے اسکے علاوہ اور کچھہ نھیں
یوں غور کریں تو قوم کا دائرہ مذہب سے بڑھ کر محیط ہو جاتا ہے. جب انسان خدا کی عطاکردہ آذادانہ جبلت کے نتیجے میں وہ اپنے لیے رہنے کے طور طریقے چن لیتاہے. مذاہب کا مطالعہ بتاتا ہے زمانہ ماضی میں عوام کی گروہی تقسیم قومیت نے کی جس میں مذہب کا تڑکا شامل تھا. اسلام نے قوم اور قومیت کے بجائے انسانیت کی خدمت اور عبادات پر زور دیا ہے کہ خدا کے نزدیک سب یکساں ہیں . زوال در زوال کے نتیجے میں ہم نے پہلے ایک مسلم قوم نامی امت بنائی پھر اس میں گروہ درگروہ شامل ہوتے چلے گئے. جسکی شروعات اموی دور سے شروع ہوئی اور آج تک جاری ہے. تسلیم لیا جا سکتا ہے کہ موجودہ پس منظر اور گلوبل چیلنجنگ کے نتیجے میں قومیت ، قوم پرستی کے معنی میں تبدیلی آئی ہے، جو پہلے موجود نھیں تھی سمجھنا چاہیے کہ ،انسانیت کے ساتھ ساتھ
قومیت اور قوم سے محبت ایک ناگزیر شے ہے. لیکن چونکہ ہمارا ذہن ملوکیت زدہ ہے اور بغیر اقامہ پاسپورٹ کے ہم خلافت اور بغیر سرحدی راستے کے ایک دوسرے ملک میں جانے اور اسکو فتح کرنے کی سائکولوجی کے ساتھہ سوچتے ہیں. اس لئے قوم پرستی یا قومیت پر سوال جاگنے شروع ہوجاتے ہیں، قوم پرست ہونا یاقومی ہونا اب حقیقت ہے ۔
قوم پرست ہونا، جہاں ملکی فلاح وبہبود کے لیے کام کرنا وقت پڑنے پر ملک کے کام آنا یہ ہی قومیت کی عمومی تعریف ہے. قومیت اب جغرافیاٰی کنڈیشن بن چکی ہے، جسکے بغیر موجودہ حالات و واقعات کا جائزہ لینا ناممکن سا لگتا ہے. حالیہ منظر نامہ آنکھ کھولنے کے لیے کافی ہے. شام کے مہاجر کیمپ کے بچے اب دوسرے ملکوں میں پناہ گزیں ہیں. اس لئے جو قومیت اور قوم پرستی پر فقہی قسم کے مذہبی سوال اٹھاتے ہیں. انھیں کسی خلائی دنیا میں اپنی لئے جگہ منتخب کرلینی چاہیے. نکھوں نے دیکھا شام کے معصوم بچے جنگ میں مارے گئے بیواؤں کو انھیں جیسے مسلم ملکوں نے پناہ دینے سے انکار کردیا، نتیجتا جب مغربی ممالک نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو مسلم ملکوں نے داغ سے بچنے کے لیے اپنی سرحدیں کچھہ معصوں کے لیے کھول دیں اپنی بقاء کے لئے قوم اور قومیت سے لگاؤ اور فطری محبت ہمارا انسانی اور دینی جذبہ ہونا چاہیے،

About Author

Comments are closed.

%d bloggers like this: