ڈیرہ سچا سودا ——– فارینہ الماس

0
  • 71
    Shares

یوں تو مذہب کا سیاسی کردار تاریخی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ایک دور یورپ پر بھی ایسا آیا جب چرچ کی طاقت، پوپ سے لے کر اس کے معمولی ملازمین تک کے اختیارات کی صورت میں ایک طاقتور بیوروکریسی میں ڈھل چکی تھی۔ چرچ نا صرف اپنی فوج رکھنے کا اختیار رکھتا تھا بلکہ کئی طرح کے عوامی ٹیکسوں کی وصولی پر بھی قادر رہا۔ خود اسلامی دور میں سیاست اور مذہب یکجائیت میں ڈھلے رہے۔ بعد ازاں جمہوری نظام حکومت نے کسی حد تک مذہبی پیشواؤں اور سیاست دانوں میں تخصیص کر دی۔

معاشرتی اور سیاسی ترقی کی آرزو نے یورپ کو مذہب کی سیاست سے علیحدگی کی طرف مائل کیا۔ اور ان کے حالات میں بہتری آئی۔ ادھر دنیا کے دیگر ممالک خصوصاً ترقی پزیر اور پسماندہ ممالک نے بھی جمہوری راستے کو اپناتے ہوئے اپنے مسائل کا حل ڈھونڈنے کی جدوجہد شروع کر دی۔ ان ملکوں میں گو کہ مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کے مقام مرتبے میں تخصیص موجود ہے لیکن عوامی سطح پر سماجی ومعاشرتی رواجات مذہبی روایات سے علیحدہ نہیں۔ مذہبی معاملات کو سمجھنے کے لئے بھی شعور کی ضرورت ہوتی ہے اور تعلیم و شعور سے یکسر چشم پوشی صرف “اندھی عقیدت” ہی پیدا کر سکتی ہے۔ وہ عقیدت جو معاشرے کو اس کے سماجی مسائل کا حل تو نہیں دے سکتی، البتہٰ اس کے مسائل کے حل کی آڑ میں مذہبی پیشواؤں کو طاقت ور ضرور بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ملکوں میں مذہب سیاسی و معاشی کاروبار میں ڈھلتا چلا گیا جس کا تمام تر فائدہ سیاسی و مذہبی گروہوں نے اٹھایا۔ اپنی ذاتی سیاسی، سماجی ومعاشی منفعتوں کی خاطر مذہبی خانقاہوں کو سیاست کے جوڑ توڑ میں استعمال کیا جانے لگا۔ ایسے جوڑ توڑ میں اصل طاقت جمہوری ووٹ کی ہوتی ہے جسے مذہبی رہنما کچلے اور مسلے ہوئے عقیدت مندوں سے بٹور کر سیاستدانوں کو دلاتے ہیں۔ جس کے عوض انہیں طاقت میں شیئرنگ کے ساتھ ساتھ، ان کی اندھی عقیدت کے دھندے کو سیاسی رہنماؤں کی آشیرباد بھی مل جاتی ہے اور مالی منفعت بھی ان کے سر کی چھایا بنی رہتی ہے۔ کمزور ناتواں اور جاہل و مفلس لوگوں کی خواہشوں اور تمناؤں کو روحانی مقام پر لے جا کر تقویت دلوانے کی امید پر یہ مذہبی گرو اور پیشوا ان کا بچا کھچا سبھی کچھ لوٹ لیتے ہیں اور ان اندھے عقیدت مندوں کو کہیں بھی کسی بھی مقام پر، لوٹے جانے کا احساس تک نہیں ہوتا۔ یہ ڈھونگی اور بہروپئے نہ صرف ان کی عقیدت کو انہی کے استحصال کے لئے استعمال کرتے ہیں بلکہ سیاسی عہدوں کی حرص میں مبتلا امیدواروں کو بھی ان عقیدت مندوں ہی کے کندھوں پر بیٹھا کر ایوانوں میں پہنچاتے ہیں۔ پاکستان میں تو کئی گدی نشین اور مذہبی رہنما بذات خود اپنی سیاسی ساکھ بنا کر حکومتی ایوانوں تک بآسانی پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن معاشرتی سطح پر ایسے ہزاروں لاکھوں جعلی پیر فقیر اپنی پیری مریدی سے نوٹ بٹور رہے ہیں۔ جن کا دور دور تک مذہب سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔ ہمارے ملک میں یہ بڑھتا ہوا دھندہ، گندگی کی کس سطح تک جا پہنچا ہے اس کا تصور بھی انتہائی روح فرسا ہے۔ کیسے جعلی پیر لوگوں کے جزبات سے اور حتیٰ کہ اپنی مریدنیوں کی عزتوں تک سے کھیل جاتے ہیں یہ ایک دل دہلا دینے والی سچائی ہے لیکن اس سے بھی ذیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ان کے ہاتھوں عمر بھر کی رسوائی پانے والی ان خواتین کو اپنی عزتوں کے تار تار ہو جانے پر کوئی رنج اور ملال بھی نہیں وہ اپنے تئیں اسے بھی ایک اعزاز سمجھتی ہیں۔ اکثر بے اولاد خواتین کا روحانی علاج یہاں اسی طریقے سے کیا جا رہا ہے۔

کچھ ایسی ہی صورتحال ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کی بھی ہے۔ جہاں ہزاروں کی تعداد میں موجود دھرم گروؤں نے ایک ارب کی آبادی کو سیاسی و جذباتی طور پر یرغمال بنا رکھا ہے۔ یہاں صورتحال پاکستان کی صورتحال سے کسی حد تک مختلف ہے۔ یہاں صرف جہالت و غربت کا شکار عوام ہی نہیں بلکہ کھلاڑی، اداکار، سیاستدان بیوروکریٹ و افسران یعنی انتہائی روشن خیال اور تعلیم یافتہ طبقہ بھی اس اندھی عقیدت میں گرفتار ہے۔ چندر سوامی، بابا رام دیو، نرمل بابا اور بابا رام رحیم جیسے سوامیوں اور گروؤں کے نا صرف ہندوستان میں بلکہ ہندوستان سے باہر بھی لاکھوں کروڑوں عقیدت مند موجود ہیں۔ بھارت کے موجودہ حکمرانوں کے علاوہ کئی سابقہ حکمران مثلاً نرسیما راؤ، اندرا گاندھی، واجپائی جیسے حکمران بھی ان گروؤں کے پاؤں میں ماتھا ٹیکتے تھے۔ اندرا گاندھی دھریندر برہمچاری سے جب کہ نرسیماراؤ چندر سوامی سے عقیدت رکھتے تھے۔ یہاں صورتحال کچھ یوں ہے کہ یہ گرو کیونکہ کروڑوں عقیدت مند رکھتے ہیں سو حکمران بننے کے لئے ان سوامیوں کے ذریعے ان کروڑوں عقیدت مندوں کے ووٹ حاصل کئے جاتے ہیں۔ گویا یہ سوامی حکومتی اکھاڑ بچھاڑ میں نمایاں کردار ادا کر تے ہیں۔ خود بی جے پی کے سرکردہ رہنما بھی اپنی حکومت سازی کے فوراً بعد گرو رام رحیم کے آشرم پر ماتھا ٹیکنے پہنچے۔ یہ گرو انتہائی معمولی حیثیت کے حامل تھے لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اپنے عقیدت مندوں میں اضافے کے بعد یہ کروڑوں اربوں پتی بن گئے۔ لیکن ان میں سے اکثر ایسے گرو بھی ہیں جو اپنی منفی کارگزاریوں کے نتیجے میں جیل کی ہوا بھی کھا چکے ہیں۔ لیکن ان پر لگائے گئے الزامات کے باوجود، وقت کے ساتھ ساتھ ان کے عقیدت مندوں میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوا ہے۔

گرو گرمیت رام رحیم بھی ایک ایسا ہی کردار ہے جس نے 1948میں شاہ مستانہ کے ہاتھوں قائم کردہ “ڈیرہ سچا سودا ” کی گدی 1990میں سنبھالی۔ اسے ایک سماجی کارکن، ایک اداکار، ایک گلوکار اور فلمساز کی بھی حیثیت حاصل ہے۔ گو کہ وہ ایک خود ساختہ روحانی پیشوا ہے اور اسے لوگوں کی اکثریت ایک ” راک سٹار گرو” کے نام سے جانتی ہے لیکن دنیا بھر میں موجود اس کے پیروکاروں کی تعداد چار کروڑ سے زائد ہے۔ سن 2010 میں اس نے آشرم پر اجتماعی شادیوں کا انعقاد کیا جس میں ایک ہزار پیروکاروں نے جسم فروش عورتوں سے شادی کی۔ اس نے دھرم پر فلمیں بھی بنائیں۔ اور خود بھی ان میں کردار ادا کئے۔ اس کا ایک خاص سماجی کردار بھی تھا۔ لیکن اس کی منفی سرگرمیاں بھی عروج پر تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی ایک پیروکار نے اس کے گھناؤنے چہرے کو دنیا کے سامنے عیاں کر دیا۔ 2002 ءمیں اس نے اس گرو پر قتل اور ریپ کے الزامات لگائے گئے۔ اس پر کبھی بھگوان وشنو کا روپ دھارنے تو کبھی گرو گوبند سنگھ کا روپ اپنانے کے الزامات بھی لگتے رہے۔ لیکن ریپ کا الزام جو تقریباً دس سال قبل لگایا گیا۔ اور جس کی رپورٹنگ کرنے والا صحافی کو بھی بعد ازاں قتل کر دیا گا اس الزام کی سی بی آئی نے ہر طرح سے تحقیقات کیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ اب اس کیس میں سزا کے طور پر اسے سات سال کی قید کے ساتھ ساتھ جائیداد کی ضبطی کے عمل سے بھی گزرنا پڑ سکتا ہے۔

اس کا آشرم ہریانہ کے علاقے سرسا میں واقع ہے اور گزشتہ دن جب وہ عدالت میں کیس کی شنوائی کے لئے آیا تو اس کے ہمراہ ایک سو گاڑیوں کا قافلہ بھی موجود تھا۔ یہ کیس پنچکلا کے علاقے کی عدالت میں سنا گیا اور فیصلے سے قبل اس علاقے میں تقریباً اس کے دو لاکھ عقیدت مند بھی موجود تھے۔ کسی ممکنہ بد مزگی سے بچنے کے لئے وہاں ہزاروں پولیس اور فوج کے جوان تعینات کئے گئے تھے۔ علاقے کے سبھی اسکول اور دفاتر بند تھے اور وہاں دفعہ 144نافذ تھی۔ ان سارے انتظامات کے باوجود عقیدت مندوں اور پولیس کے باہمی ٹکراؤ کے بعد وہاں صورتحال انتہائی گھمبیر رہی۔ جلاؤ گھیراؤ کا ایک بے قابو سلسلہ تمام دن جاری رہا۔ تاحال 30 سے زاید افراد کے مرنے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم سزا سنائے جانے کے موقع پر وہاں کیا صورتحال ہو گی اس کے بارے اندازہ لگا نا ممکن نہیں۔ ۔ اس سارے واقعے سے ایک طرف تو بھارت کی فوج اور پولیس کی ناقص کارکردگی کی قلعی کھلتی نظر آتی ہے تو دوسری طرف ایسے جعلساز مذہبی پیشواؤں کی وہ اندھی طاقت بھی نمایاں طور پر سامنے آتی ہے جس کے آگے حکومتی ادارے بھی بے بس ہیں۔ مودی سرکار کے ایک رکن کا بیان بھی میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس میں ان کا ماننا ہے کہ” اس سارے واقعے کی قصوروار خود عدالت ہے۔ جس نے ایک فرد کے بیان سے ایک ایسے مذہبی رہنما کو قصوروار ٹھہرا دیا جس کی لوگ پرستش کرتے ہیں۔ “یہاں یہ حقیقت بھی کھل کر سمجھ میں آتی ہے کہ انڈیا میں خواتین کا ریپ ہونا اب کوئی بڑا واقعہ نہیں سمجھا جاتا۔ دنیا کی بڑی جمہوریت کا دعویدار اور ستاروں پر کمند ڈالنے کا خواب دیکھنے والا بھارت جہالت اور گمراہی کے کس مقام پر کھڑا ہے دنیا کے سامنے اس سارے منظر میں یہ حقیقت عیاں ہے۔ یہاں سچے سودے کی آڑ میں جھوٹ کی دکانیں کس طور چلائی جا رہی ہیں اس سے بھی پردہ اٹھ چکا ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: