اچھی لڑکی ———— سحرش عثمان

0
  • 94
    Shares

میں نے اگر اس کا ہنستا مسکراتا شوخ روپ نہ دیکھ رکھا ہوتا تو عامی لگتی وہ مجھے، ہر دوسری بات سے نالاں، بلند توقعات والی مستقل طور پر ناخوش۔۔۔

آنکھوں کے نیچے حلقے تھے، ہونٹ والا تل جسے وہ بڑے اہتمام کے ساتھ کبھی کاجل سے گہرا کیا کرتی تھی، اب معدوم ہو چکا تھا، اس کی ہنسی کا مستقل تاثر جو آنکھ سے ٹپکا کرتا تھا، غائب تھا، جتنی دیر وہ میرے سامنے بیٹھی رہی انگی کے ناخن سے میز کی سطح کھرچتی رہی، پوچھنے کی نہ ہمت تھی، حوصلہ نہ اختیار۔۔۔

خود ہی کہنے لگی، بہت سی باتیں، بہت سے رویوں کے قصے، لہجوں کے دشت بتانے لگی۔۔۔

اس کی آنکھ کے پانی میں اپنا عکس دیکھنا کیسا کربناک تھا، میرے بیان سے باہر ہے۔۔۔

اس کی شکستہ دلی سے جھنھجلا کہ میں کہہ اٹھی۔۔۔

آخر مصیبت کیا ہے؟؟؟

بے دردی سے وہ بولی تو بولتی چلی گئی، اور میں۔۔۔ میں ساکت ہوجانے کا مفہوم سمجھ گئی اسوقت۔

گھر والے بہو نہیں بنانا چاہتے تھے تو پھر بنایا کیوں؟؟؟

 شائد۔۔۔۔ لڑکے کا پریشر۔۔۔۔ وہ رک رک کر بولی

پھر؟؟؟

پھر اب میں ہوں اور سرد مہری، درشت لہجے، سخت جملے، تعلیم کے طعنے، تربیت والوں کو باتیں۔

وہ کچھ نہیں کہتا؟

نہیں___

تف ایسی محبت پر___ کہتے کہتے رک گئی۔

تو اب؟

گھٹن ہوتی ہے، لگتا ہے پاگل ہوجاؤں گی، میری تعلیم میری تربیت میرا شعور روز امتحان میں ڈال دیتے ہیں، جاہل ہوتی تو ایک کے بدلے دس سناتی، دل ٹھنڈا کر لیتی۔۔۔۔

اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھنا چاہا تھا اس وقت۔۔۔

اور یہ سب کہنا چاہتی تھی کہ۔۔۔

سنو اچھی لڑکی! مجھے پتا ہے جب جب تم مجھے سناتی ہو تو دراصل دل کا درد بانٹتی ہو، میرے پاس بھی حل نہی ہوتے، بس سن لیتی ہوں۔م دنیا جہاں کے فلسفے سناتی ہوں، جھوٹی سچی کہانیاں کہتی ہوں، افسانے گھڑ گھڑ کے تم میں لڑنے کا حوصلہ ڈالتی ریتی ہوں،

دراصل میں خود اسوقت تم سے حوصلہ کشید کرتی رہتی ہوں، زندگی جینے کا ڈھنگ سیکھتی رہتی ہوں۔۔۔

سنو! میں جب جب کہتی ہوں نا تمہیں “بریکنگ نیوز” میں رہنے کا شوق ہے بس، تو اس کا قطعی یہ مطلب نہی ہوتا، میں بس تمہیں “اوفینڈ” کرنا چاہتی ہوں تاکہ تم ساری فرسٹریشن نکال سکو،

جب تمہیں کہتی ہوں “کمپلینگ آنٹی” بنتی جا رہی ہو، تو یقین کرو یہ مطلب نہیں ہوتا، تمہیں دیکھ کر تو میں اپنی بہت سی شکایتوں سے “ود_ڈرا” کر جاتی ہوں۔۔۔

سنو! میں تم سے یہ نہیں کہتی ہر چیز “سرنڈر” کردو میں قائل ہی نہیں اسکی، ہاں یہ ضرور کہتی ہوں تعلق میں گریس قائم رہے اس کے لیے کچھ نہ کچھ تو چھوڑنا پڑتا ہے۔

یہ سوال آتا ہے ذہن میں کہ ہم ہی کیوں چھوڑیں؟

 ہے نا؟

کیونکہ ہم “کمزور” جنس ہیں۔۔۔

 پگلا گئی ہو؟

خود کو آئینے میں دیکھا کرو، کہاں سے کمزور ہو؟

بات کمزوری کی نہیں، بات یہ ہے کہ ہم فریق ثانی سے کہیں زیادہ ذمہ دار، “فیملی اورینٹڈ” اور خیال رکھنا جاننے والے ہوتے ہیں۔

میں نے امیر معاویہ رضی عنہ کا تعلق نبھانے پر دھاگے کو ڈھیل دینے قول پڑھا تو اسوقت پتا ہے کیا محسوس کیا؟

تعلق نبھانا پڑ جائے اگر تو وقت کے بادشاہ کو بھی دھاگا ڈھیلا کرنا پڑتا ہی ہے۔

سنو! اپنی ذات ختم مت کرو اپنی ذات کے خول کو اتنا کھلا بھی مت کرو کہ ہر شخص منہ اٹھائے گھسا چلا آئے، کبھی کبھی لوگوں سے خفا ہوجانا بھی اچھا ہوتا ہے، ان کو یا آپکو اپنی حیثیت پتا چل جاتی ہے، دونوں صورتوں میں آسانی ہوجاتی ہے- سنو! تم کہتی ہو نا شعور آگہی عذاب بن گیا ہے۔۔۔

اپنے تل کو کاجل سےگہرا کرتی چنچل حسینہ سنو!

یہ شعور آگاہی حساسیت یہ عذاب ہی ہوتے ہیں، ہم آپ تو صرف لہجوں کے دشت دیکھتے ہیں نا،

اس کمبخت شعور کے آزار زہر پینا پڑگیا تھا سقراط کو۔۔۔

اس موئی آگاہی نے مصلوب کرا دیا تھا منصور کو۔۔۔

تو شعور اور آگاہی کو سہل مت جانو، اس کی قیمت دینا پڑتی ہے۔۔۔

تم سے یہ کہوں گی

وہ کہوں گی

ایسے کہوں گی

لہجے کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ایک آدھا آنسو بھی ٹپکا دوں گی

یہ ہی سوچ رہی تھی (تمہیں میری ایکٹنگ پر تو خیر کبھی بھی شک نہی رہا)

لیکن پتا کیا ہوا؟

میرے دل پہ مرہم کے جیسی آیت سرگوشی کے سے انداز میں اتری۔۔

وہ “آلمائیٹی” کہتا ہے

بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔۔۔

سنو کیا ہے اس “بے شک” میں “شک” کرنے کی کوئی جرات؟؟؟

گنجائش؟؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: