پارلیمانی نمائندوں کا کردار: ترجیحات اور تضادات — ثمینہ ریاض

0
  • 84
    Shares

پارلیمنٹ یا پارلیمان، جسے قانون ساز یا مقننہ بھی کہا جاتا ہے، ریاست کے دوسرے لیکن لازمی ستون یعنی حکومت کا سب سے بنیادی حصہ، ریاست کے اولین اور اس کے وجود کا نشان یعنی اقتدار اعلی کی مالک و مختار، آئین و قوانین کی مجاز آخری اتھارٹی، انتظامیہ کی مدد گار بھی اور انتظامیہ پر نگران بھی، یہی وجہ ہے کہ پارلیمان پاکستان میں پچھلے دس سالہ جمہوری دور کے دوران حکومتی اراکین، دانشوروں اور میڈیا کے تمام طبقات میں بحث و مباحثے کا سب سے لازمی جزو بنی رہی۔۔۔

پارلیمنٹ حقیقتا جمہوریت کی بیان کردہ تعریف جو ابراہم لنکن نے کی تھی، “عوام کی حکومت، عوام کے لئے، عوام کے ذریعے” کی اصل ترجمان ہے، کیونکہ پارلیمنٹ میں بیٹھے تمام اراکین چاہے وہ سپیکر ہو، وزیر اعظم اور باقی وزرا ہوں یا قائد حزب اختلاف اور باقی نمائندے، وہ عوام کے لئے وہاں آئے ہوتے ہیں، عوام کے ذریعے آتے ہیں اور عوام کے نمائندے ہی کہلاتے ہیں اور ان کی دوسری کوئی بھی حیثیت اسی وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ عوام کے منتخب کردہ ہوتے ہیں۔۔۔

برطانیہ کی پارلیمنٹ کو دنیا بھر کی پارلیمان کی ماں کہا جاتا ہے، گو کہ پارلیمنٹ کے حوالے سے بھی قدیم ادوار میں یونانی ہی باقی علوم و روایات کی طرح فعال نظر آتے ہیں لیکن موجودہ دور کی حقیقی پارلیمنٹ کا مکمل راسخ شدہ اور عملی تصور برطانیہ سے ہی ملتا ہے، جہاں پارلیمنٹ نے صدیوں کے سفر میں بتدریج بادشاہ سے حقوق حاصل کئے اور عوام کی حمایت سے ان کو استعمال میں لایا، یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ پارلیمنٹ کا تعلق براہ راست عوام کے حقوق سے ہوتا ہے اور باقی تمام حوالے اس کے بعد ہوتے ہیں، لیکن جب ہم برطانیہ کو چھوڑ کر پاکستان میں آتے ہیں تو سیاستدانوں، سیاسی تجزیہ نگاروں اور ایک مخصوص قبیل کے لوگوں کے طرز عمل سے لگتا ہے کہ پارلیمنٹ خدا ہے، اور عوام، عوامی حقوق اور ریاست کے باقی ادارے اس خدا کی خدائی کے آگے ایک ذرہ ہیں۔۔۔

اختیارات کے حوالے سے دیکھا جائے تو پارلیمنٹ کے بنیادی اختیارات تین ہیں۔۔۔

قانون سازی کرنا۔۔۔
حکومت کی نگرانی۔۔۔
عوام کی نمائندگی۔۔۔

اور ہم برملا کہہ سکتے ہیں کہ اگر پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ نہیں ہے تو نا تو وہ عوامی امنگوں کے مطابق قانون سازی کرے گی، نا حکومت پر نگرانی کا مقصد عوام کے مفاد میں ہوگا، یعنی ہمیں اب یہ کرنا ہے کہ پارلیمنٹ کے اختیارات کی اس تین نکاتی فہرست کو از سر نو ترتیب دینا ہے اور اس میں عوامی نمائندگی کو پہلے نمبر پر لانا ہے۔۔۔
لیکن ذرا ٹھہریں۔۔۔ توقف کریں۔۔۔ کچھ وقت کے لئے سوچیں کہ کیا ہماری پارلیمنٹ واقعی عوام کی نمائندگی کرتی ہے؟ صرف ایک مثال جو آپ نے اکثر سنی ہوگی وہی دہرانا کافی ہے کہ پچھلے چار سال کے دوران ہمارے انہی نمائندوں کی تنخواہیں کئی سو فیصد بڑھائی گئیں ہیں، جب کہ اس کے مقابلے میں عوام کا معیار زندگی مہنگائی کی وجہ سے کم سے کم تر ہوتا گیا، ہمارے انہی نمائندوں کے لئے ہر سال بیرونی ممالک سے گاڑیاں منگوائی جاتی ہیں اور عوام اپنی گاڑیاں چھوڑ کر ٹیکسیوں اور رکشوں میں سفر کرنے پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں، ہمارے نمائندوں کو قانون کے نام پر قتل بھی معاف کئے جا رہے ہیں اور عوام میں دو سال کے بچے کو بھی ہتھکڑیاں لگا کر تھانوں میں لایا جاتا ہے۔۔۔

آگاہ رہیں۔۔۔ ہم اپنے ہر مسئلے کی وجہ خود ہیں، ہم نے کبھی جانا ہی نہیں کہ ہم ووٹ کس کو کس لئے دے رہے ہیں، ہم جانتے ہی نہیں ووٹ دینے کے بعد ہم نے پانچ سال سونا نہیں ہے۔

ترقی پذیر ممالک میں ایک بات جو مشترکہ طور پر موجود ہے کہ ہماری عوام یعنی ہم سب لوگوں کو اپنے حق نمائندگی کی اصل کا پتا ہی نہیں، ہم نہیں جانتے کہ ہم ووٹ کس بنیاد پر دے رہے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ ہمارا ووٹ لینے کے بعد ہمارے نمائندے پر ہمارے کونسے حقوق فرض ہو جاتے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ پانچ سال کے لئے اپنے نمائندے کو منتخب کرنے کے بعد ہمارے فرائض ختم ہو گئے یا ابھی یہ سلسلہ شروع ہوا؟ ہم ووٹ دیتے ہیں، اپنے نمائندے کے جیت جانے پر دھمالیں ڈالتے ہیں، جگہ جگہ اس کا دفاع کرتے ہیں، اس پر آیا الزام ہمیں خود پر آیا لگتا ہے، کیوں؟؟؟ اس لئے کہ وہ ہماری گلی پکی کروا دے گا؟ اس لئے کہ وہ تھانے کچہری میں ہمارے مسائل حل کروا دے گا؟ اس لئے کہ ہمیں کوئی نوکری دلوا دے گا؟ کیا یہی ہیں عوامی نمائندے کے فرائض؟ کیا ان سب سہولیات کے لئے ہم ان کو پارلیمنٹ جیسی مقدس جگہ بھیجتے ہیں؟ نہیں۔۔۔۔ بالکل نہیں۔۔۔ یہ کام تو ہماری میونسپل کمیٹی اور بلدیہ جیسے اداروں اور نمائندوں کا ہوتا ہے، ہمارے کرنے کے کام تو اور ہیں، ہم نے تو اپنے پارلیمنٹ میں بیٹھے نمائندوں سے پوچھنا ہوتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کرتے؟ کسی بھی اسمبلی سیشن میں زیادہ کرسیاں خالی کیوں ہوتی ہیں؟ اجلاسوں کے بحث و مباحثے میں کبھی ہمیں اپنے علاقے کا ایم این اے بولتا نظر کیوں نہیں آتا؟ کیا ہمارے علاقے کے تمام مسائل حل ہو گئے جو وہ اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کرنے کو غیر ضروری سمجھتے ہیں؟ ہمارے ٹیکسوں سے تنخواہیں لیتے ہوئے وہ اپنی فیکٹریوں، اپنی ملوں، اہنے زرعی فارموں میں کام کرتے کیوں پائے جاتے ہیں؟ کیا ہم جانتے ہیں یہ غیر آئینی ہے؟ ہم میں سے کتنے ہیں جو یہ بات جانتے ہیں کہ ہمارے ایم این اے بشمول اپنے پورے خاندان ثقافتی طائفوں کے ساتھ بیرون ملک جاتے ہیں، صرف اس لئے کہ سرکاری پیسے پر وہاں گرمیاں گزار آئیں، کبھی ہم نے سوچا کہ ثقافتی طائفوں کے ساتھ ان کا اور ان کے خاندانوں کا کیا کام؟ کیا ہمیں کسی تجزیہ نگار نے، کسی دانشور نے بتایا کہ ہمارے نمائندوں پر فرض ہے کہ وہ ہماری سیاسی تربیت کریں، اس کے لئے ان کو ہر وقت عوام سے رابطہ رکھنا ضروری ہوتا ہے، لیکن ہمارے نمائندے تو ہمیں الیکشن کے علاوہ کبھی ملے ہی نہیں، ہم میں سے کتنے ہیں جن کو پتا ہوگا کہ ڈیجیٹل ڈیموکریسی کے اس دور میں ہمارے پاس اپنے نمائندے کا سیل فون نمبر، اس کے سوشل میڈیا اکاونٹ کی معلومات ہونی چاہیے؟ اور ہم کسی بھی وقت ان کو کہیں بھی روک کر ان سے سوال جواب کر سکتے ہیں، کیا ہمارے ہاں ہمیں یہ لوگ سڑکوں گلیوں میں نظر آتے ہیں جو ہم ان کو روک کر کچھ پوچھ سکیں؟

آگاہ رہیں۔۔۔ آگاہ رہیں۔۔۔ ہم اپنے ہر مسئلے کی وجہ خود ہیں، ہم نے کبھی جانا ہی نہیں کہ ہم ووٹ کس کو کس لئے دے رہے ہیں، ہم جانتے ہی نہیں ووٹ دینے کے بعد ہم نے پانچ سال سونا نہیں، اور پانچ سال بعد ہم نے اس ووٹ کو ایک سرجری کے اوزار کے طور پر استعمال کرنا ہے، اگر ہمارے نمائندے سڑکوں، پلوں، اور ترقیاتی کاموں کے لئے بجٹ منظور کرواتے ہوئے تو نظر آتے ہیں، لیکن ہم ان کو پارلیمنٹ میں بجٹ کے اجلاس میں صم بکم عم بنے دیکھتے ہیں تو اسی ووٹ کے نشتر سے ہم نے ان کو کاٹ کر اپنے جمہوری نظام سے الگ کرنا ہے، آگاہ رہیں کہ اگر ہمارے منتخب نمائندے ہمارے حقوق کے لئے کام کر رہے ہیں تو ہماری پارلیمان ہمارے لئے لائق تحریم ہے، آگاہ رہیں کہ ہمیں یہ آگاہی کوئی نہیں دے گا، ہمیں یہ شعور خود حاصل کرنا ہے، ہم نے خود ان کے فیس بک اکاونٹس، ان کے ٹویٹر اکاونٹس، ان کے فون نمبروں کو ان کے لئے عدالت بنانا ہے، آگاہ رہیں کہ وقت یہی ہے، اس کے بعد وہی الیکشن ہیں اور وہی پچھلے ستر سال کے مسائل ہیں اور وہی ہمارے پچھتاوے۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: