ہیجڑوں کے چامکے : قسط 11

0
  • 83
    Shares

دانش کی مقبول سیریز ’چامکا‘ کی نئی قسط طویل وقفہ کے بعد پیش کی جارہی ہے، دیکھئے شوکت علی مظفر اس دفعہ اس پراسرار اور اوجھل دنیا سے کیا لے کے آئے ہیں۔


وہ میرے گھر کے سامنے بیٹھا تھا۔ پہلی نظر میں وہ تنگ دستی کا شکار کوئی مفلوک الحال شخص دکھائی دیا۔ کچھ ہی دیر میں میرا پڑوسی شاہد آیا اور اس سے گپ شپ کرنے لگا۔ شاہد سے اچھی دوستی تھی اس لیے کچھ دیر بعد بلا جھجک میں اُس تک پہنچ گیا۔ تعارف ہوا تو میری تمام غلط فہمیاں دور ہوگئیں۔ موصوف کئی لانچوں کے مالک تھے۔اُس کا اصل نام تو معلوم نہیں لیکن شاہد اُسے وَاڈھا کے نام سے پکار رَہا تھا۔ واڈھا کے جانے کے بعد شاہد نے مجھے آنکھ مارتے ہوئے کہا ’’ایک خاص دعوت ہے، چلو گے؟‘‘
’’جس انداز ے تم نے پوچھا ہے؟ لگتا ہے کوئی خاص ہی دعوت ہے؟‘‘ میں نے بھی مسکرا کر جواب دیا۔

’’ہاں ہیجڑوں کے گرو کی برتھ ڈے ہے۔ انتہائی پرائیوٹ قسم کی تقریب ہے جس میں خاص لوگ ہی جاسکتے ہیں۔‘‘ شاہد نے معلومات فراہم کیں۔

’’تمہارا ہیجڑوں سے کیا تعلق؟ جو اتنی خاص دعوت مل گئی تمہیں۔؟‘‘ میں نے پوچھا تو شاہد نے بتایا:

’’یہ جو وَاڈھا آیا تھا، اس کی خاص شی میل فرینڈ ہے دیدار جوکہ اسٹیج ڈانسر دیدار کی ہم شکل ہے۔ اسی کے ذریعے دعوت ملی ہے۔ چلنا ہے تو 13اگست کی شام تیار رہنا۔ ‘‘
13اگست کی رات گیارہ بجے کا وقت ہوگا جب کراچی کے علاقے طارق روڈ کے ایک وسیع بنگلے کے باہر ہم چند دوست کھڑے تھے۔ بنگلے سے وَاڈھا باہر آیا اور ہمیں اندر آنے کا اِشارہ کیا۔ گیٹ پر ہی خوفناک چہرے والے گارڈز نے ہماری جامع تلاشی لے لی اور ہدایت کردی کہ موبائل فونز سے تصاویر اور مووی بناناسخت منع ہے، اگر ایسا کیا گیا تو فونز ناقابل واپسی ہوں گے۔

بنگلے کے اندر کی دنیا ہی نرالی تھی۔ ایک سے ایک پری چہرہ سامنے تھا۔ یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ سب کے سب تیسری مخلوق ہے۔ گلی محلوں، چوک چوراہوں والے ہیجڑوں سے یکسر مختلف ہی تھے یہ چہرے۔ ایک جانب مئے نوشی کی میز سجی ہوئی تھی اور اس کے پیچھے کچھ خاص مہمان دکھائی دے رہے تھے۔ وَاڈھا نے سرگوشی کی، یہ سب بڑے لوگ ہیں، کچھ سیاسی، کچھ سماجی، کچھ کاروباری اور سب ہی اپنی اپنی خاص دوست کی دعوت پر آئے ہیں۔

ایک پرکشش ہیجڑا سامنے آیا۔ لباس انتہائی قیمتی مگر نیم عریاں تھا۔ اس نے ہمیں ہماری مخصوص نشستوں پر بیٹھنے کیلئے رہنمائی کی اور ساتھ ہی چرس یا ڈرنک سے لطف اندوز ہونے کی پیش کش کی۔ جس پر ہم نے معذرت کرلی۔ میری نظریں اسٹیج پر تھیں جہاں میزبان نے کسی ہیجڑے کا نام لیا اور اسے رقص کی دعوت دی۔

ہیجان انگیز رقص کی محفل جاری تھی۔ اسی دوران یوں لگا جیسے میرے سامنے اسٹیج ڈانسر دیدار آن کھڑی ہو۔ وہی قد بت، وہی جسمانی نشیب و فراز، وہی مسکراہٹ۔ اس کے آتے ہی وَاڈھا کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا۔ دیدار نے ہمیں اپنے خاص چامکے وَاڈھا کا دوست سمجھ کر کھلے دل سے ویلکم کیا اور پھر سے مہ نوشی کی دعوت دی۔ اس بار وَاڈھا نے ہمارے بارے میں اسے بتادیا کہ اس طرح کی چیزوں سے پرہیز ہے۔ دیدار نے مسکرا کر محفل کے بارے میں پوچھا کہ کیسی لگی؟

’’بہت منفرد، ایسے چہرے پہلی بار دیکھے ہیں۔‘‘

’’یہ سب خاص لوگ ہیں، پورے پاکستان سے چنے ہوئے ہماری برادری کے لوگ۔ کچھ تو دبئی سے آئے ہیں۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس دعوت میں پیشہ ور ہیجڑوں کے علاوہ بڑے (امیر) لوگوں کی بھی کچھ اولادیں ہیں جنہیں خدا نے اس روپ میں ڈھالا ہے۔ اس نے اِشارے کر، کرکے بتایا کہ وہ کون سے ہیں۔ پھر دیدار نے ہی معلومات دیں کہ جو کاروباری اور سیاسی لوگ دکھائی دے رہے ہیں انہی کی بدولت سیکورٹی اور اتنی مہنگی پارٹی کا انتظام ہوا ہے۔ یہ ہمارے قدردان ہیں اور سال میں صرف ایک بار ہی کسی نئی جگہ پر یہ پارٹی ہوتی ہے۔ یہاں نشہ مفت ہے۔ جتنی چاہے شراب پی لو، جتنی چاہے چرس پھونک دو۔ اسی وقت نفاست کے ساتھ ایک ٹرے میں کچھ سگریٹ لائے گئے جس میں سے ایک وَاڈھا نے اُٹھا کر ہونٹوں میں دبا لیا۔ دیدار نے انتہائی محبت سے اس کی سگریٹ جلائی۔پہلا ہی کش لے کر وَاڈھا نے دھوا ں خارج کیا تو چرس کی پھیلی ہوئی بو میں مزید اضافہ ہوگیا۔ کچھ دیر بعد دیدار نے اجازت چاہی کیونکہ اسٹیج پر اس کا نام پکارا جار ہا تھا، اس کی پرفارمنس کا ٹائم آن پہنچا تھا۔ وَاڈھا بھی اس کے پیچھے لپکا، سو، پانچ سو والے نوٹوں کی گڈیاں اس کے ہاتھ میں پوری نہیں آرہی تھیں۔ دیدار کے رقص کے دوران وَاڈھا اس پر نوٹ نچھار کر رہا تھا۔ وہی نوٹ جس پر قائد اعظم کی تصویر تھی اور رَات بھی آزادی والی تھی۔ بارہ کب کے بج گئے تھے۔ چودہ اگست شروع ہوچکا تھا اور ہیجڑوں کی یہ شراب و شباب کی محفل بھی اپنے عروج پر تھی۔ شاہد نے میرے کان میں سرگوشی کی۔ اس وَاڈھا کو بہت سمجھایا ہے لیکن اس کی عقل میں بات آتی ہی نہیں۔ پہلے ہی تین لانچیں بِک چکی ہیں اس کی۔ باپ نے بہت مارا بھی ہے مگر خود کو کنگال کرنے سے باز نہیں آئے گا۔ مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا تھا جو وَاڈھا اپنے لیے ڈھنگ کے کپڑے لینے کی بجائے اپنی محبوبہ پر نوٹوں کی بارش کررہا ہو اس کا انجام بالآخر یہی ہونا ہے۔

رقص کی محفل تمام ہوئی اور اب سالگرہ کا کیک کاٹنے سے پہلے میزبان نے اعلان کیا کہ جس جس نے’’ موہڑہ‘‘ دینا ہو وہ دے دیا جائے۔ سب ہیجڑے اور قدردان گرو کو قیمتی تحائف دینے لگے۔ سالگرہ کا کیک کاٹا گیا اور پھر گرو نے اختتامی رقص سے محفل کو تمام کیا۔

اسی دوران ایک اور ہیجڑے نے ہمیں اپنی سالگرہ کا دعوت نامہ تھما دیا جو چند دن بعد کا تھا اور اس کے کارڈ پر سخی حسن کے کسی شادی ہال کا پتہ درج تھا۔ وَاڈھا سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا’’یہ لوکل پروگرام ہے، مت جانا۔‘‘

بنگلے سے باہر آکر گاڑی میں بیٹھے تو دل و دِماغ ٹھکانے پر آئے۔ ایک طلسمی دنیا سے باہر آکر سب خواب سا محسوس ہورہا تھا۔ صبح ہونے والی تھی، آزادی کے نغمے گونج رہے تھے لیکن میرے آنکھوں میں نیند کی بجائے اب بھی محفل میں موجود چامکوں کی خر مستیاں ناچ رہی تھیں۔ پھر وَاڈھا نے ہمارے خیالات کو منتشر کردیا، وہ دیدار ہیجڑے کے ساتھ ایک قیمتی گاڑی میں بیٹھا ہوا ہمیں ہاتھ ہلا کر رخصت ہوجانے کی اجازت دے رہا تھا۔

دسویں قسط یہاں ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: