تصویر پہ معترض خواتین متوجہ ہوں ۔۔۔۔۔ زارا مظہر

0
  • 147
    Shares

کہتے ہی چہرہ آپکی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے۔ ایسے ہی یہ بات لباس کے بارے میں بھی کہی جاتی ہے۔ اور گفتگو کے بارے میں بھی۔ مگر گفتگو تک ہم بعد میں پہنچتے ہیں پہلا فیصلہ تو چہرہ ہی کرتا ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے۔ چلئیے ایک جائزہ لیتے ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جو خواتین اپنی فیس بک پروفائل پر اپنی تصویر لگاتی ہیں انہیں لوگ بہت سراہتے ہیں۔ ان کے ہر لفظ پر واہ واہ ہوتی ہے۔ انہیں کمنٹس اور لائکس ملتے ہیں۔ مگر ایک منٹ ٹہرئیے جناب۔۔۔۔۔۔۔ آپ جو کچھ لکھتی ہیں کیا وہ صرف کمنٹس اور لائکس کے لیئے ہوتا ہے یا سیلف سیٹیسفیکشن کے لیئے، یا کچھ معاشرتی مسائل کی نشاندہی یا اپنی مصروفیت مقصد ہے۔ جو لکھتے ہیں وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ لکھنا کوئی آ سان کام نہیں ہے۔ آپ اپنا کام ، اپنے خیالات اور اپنی رائے ایک دنیا کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ یہ بہت ہمت اور حوصلے کی بات ہوتی ہے۔ کچھ لوگ آپکی حوصلہ افزائی کے لیئے سراہتے ہیں کچھ واقعی ان الفاظ کو سمجھ کر سراہتے ہیں۔ کچھ کی دوستی انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ ایسے ہی کبھی صرف تنقید اور کبھی کڑی تنقید بھی ملتی ہے۔ کچھ اپنی ذہنی کیفیت اور منفی میلان کی وجہ سے کمنٹ یا لائک کرن آپسند نہیں کرتے۔ کبھی آپکے الفاظ یا خیالات سے اتفاق نہیں کیا جاتا۔ مگر ایک خوش قسمتی آپکا خاتون ہونا بھی آپکے ساتھ ہوتی ہے۔ اگر پروفائل پر آپکی تصویر ہے تو شاید کمنٹس اور لائکس زیادہ ملتے ہیں۔ کہ خوبصورت تصویر کو بہرحال مارجن ملتا ہے۔ مگر کیا لوگ ہمیشہ آپکی تصویر کو سراہتے ہیں۔ خصوصی طور پر تب جبکہ آپ ایک سنجیدہ لکھاری کے طور پر اپنا نام بنا چکی ہوں اور کبھی کبھار علمی و ادبی حلقوں میں آپکو برملا سراہا جاتا ہو۔ کیا یہ ممکن ہے کہ آپکی تصویر یا عورت ہونا ادبی حلقوں میں ہمیشہ معتبر ٹہرایا جاتا ہو۔ اگر الفاظ روح سے خالی اور بے کشش ہوں، مضمون دلیل کے بغیر ہو تو کیا آپکی خوبصورت تصویر ان میں روح پھونک سکتی ہے؟ تصویر کی اہمیت نہیں ہوتی کہ رنگ روپ ہمیشہ سے مٹی میں ملتا آ یا ہے۔ مگر آپ کا کام آپکی تحریر ہمیشہ زندہ رہنے والی ہے۔ آپکو امر کرنے والی اور دوام بخشنے والی ہے۔

مجھے کچھ عرصہ سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے اکثر لوگ کبھی مذاق میں اور ہمیشہ اس بات کا تذکرہ کرتے ہیں کہ تصویر کو کمنٹ ملتے ہیں۔ اور میرے احتجاج پر مذاق کہہ کر بات ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں مگر سنئیے۔۔۔۔۔ بندہ مذاق میں بھی وہی بات کرتا ہے جو اسکے اس کے اندر بھری ہوتی ہے۔ مذاق کے حوالے سے ایک بات بہت کلیئر ہے کہ جب دونوں فریقین اس سے حظ اٹھائیں، ورنہ وہ بہت گہرا طنز کہلائے گا۔

دیکھئے اگر آپ کسی وجہ سے اپنی پروفائل پر اپنی تصویر نہیں دے رہیں تو ہم آپ سے اصرار نہیں کر رہے کہ ضرور دیجئے۔ وجہ کوئی بھی ہو جوکہ مذہبی رجحان ہو سکتا ہے۔ یا گھر والوں کی پابندی ہو سکتی ہے۔ اگر آپ اپنے پختہ اسلامی عقائد کی وجہ سے کر رہی ہیں تو وہ صریحاً آپکا اپنا فعل اور فائدہ ہے کسی دوسرے پر کوئی احسان نہیں اور عام طور پر ایسی خواتین دوسروں کو تنقید کا نشانہ بھی نہیں بناتیں۔ لیکن اگر آپ پردہ بالجبر کر رہی ہیں تو پھر یقینا آپ دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنائیں گی جو یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ آپ اپنے پردے سے خوش نہیں۔ اور دوسرے لوگوں کو تنقید یا تضحیک کا نشانہ بنا کر اپنی تسکین چاہتی ہیں۔ اُس دوسرے کو آپکی وجہ سے کتنی ذہنی تکلیف اٹھان آپڑتی ہے شاید آپ کو اندازہ بھی نا ہو۔

مجھے اس تنقید کا سامنا سوشل میڈی آپر آ نے کے بعد سے نہیں ہے۔ چند سال قبل جب بچے جونئیر اسکول  میں پڑھتے تھے۔ (برسبیلِ تذکرہ بتاتی چلوں کہ اپنے لڑکپن سے ہی میری عادت ہے کہ کام پوری توجہ سے دل لگا کر کرنا ہے ورنہ ذمہ داری نہیں اٹھاتی) بچوں کے سونے جاگنے کے اور کھیلنے کودنے کے اوقات گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ مقرر تھے۔ اسکے نتائج ہمیشہ ستائش کی شکل میں ملے۔ بچے ہمیشہ +A گریڈ لاتے جسکا ثبوت انکی رزلٹ فائیلز اور بے شمار ٹرافیاں ہیں۔ جس دن بچوں کا رزلٹ ڈے ہوتا ساری کالونی کو پتہ ہوتا کہ بچوں کی پوزیشنز آ ئیں گی۔

(ایک مسئلہ میرے ساتھ مزید ہے کہ میرے ناقد بنا چوکے، مجھے منہ پہ ہی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں شاید میں شکل سے کسی قابل نہیں لگتی)۔ بہت سی خواتین میرے منہ پر فرمایا کرتی تھیں کہ اسکول والے فیشن ایبل خواتین کے بچوں کو پوزیشن دیتے ہیں۔ (انتہائی بچگانہ بات ہے کہ مجھے لکھتے ہوئے بھی عجیب سا محسوس ہو رہا ہے)۔ ہم تو پردہ کرتے ہیں آپ سج سنور کر آ تی ہیں اسلئے بچے وکٹری اسٹینڈ پر ہوتے ہیں۔ شروع شروع میں تو سمجھ نہیں آ تی تھی کہ کیسے وضاحت دوں کہ محترمہ سارا دن اپنی جان مارتی ہوں۔ راتوں کو دیر گئے تک بچوں کی مختلف ضرویات اور روٹین کے لیئے جاگتی ہوں تب موجودہ نتائج پاتی ہوں۔ دو بجے اسکول سے آ نے کے بعد بچوں کو سلاتی تو چار بجے اٹھنے کا ٹائم ہوتا۔ میں گھنٹہ بھر لیٹ کر چار بجے تک انکے بیگز اور نوٹ بکس چیک کر چکتی اور ہوم ورک والی نوٹ بکس رائٹنگ ٹیبل پر تیار ہوتیں۔ چار سے چھ بجے تک بچوں کی اسلامی تعلیمات کا وقت ہوتا۔ چھ بجے بچے ٹیبل پر ہوتے۔ اور ڈنر کی تیاری کے ساتھ ساتھ بچوں کی ہیلپ بھی کرتی جاتی۔ ایک عادت مزید تھی کہ ٹیچرزسے ہمیشہ میل ملاپ رکھتی۔ نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں پر تبادلۂ خیال کرتی اور یوں کمی بیشی پر قابو پا لیا جاتا۔ اسکول میں کوئی کمپیٹیشن یا سرگرمی ہو رہی ہوتی تو ٹیچرز مجھے سب سے پہلے فون کر کے پوچھتیں کہ بچے حصہ لیں گے ؟ اور میں فوراً حامی بھر لیتی کہ غیر نصابی سرگرمیاں بچے کی شخصیت سازی پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ بچوں کو تقریریں لکھ لکھ کر دیتی اور درست تلّفظ کہ ادائیگی کی خوب تیاری کرواتی۔ نتیجہ حسبِ معمول نکلتا اور میری ذات پھر تنقید کا نشانہ بنتی۔

آخر سہتے سہتے مجھے بھی جواب سوجھ ہی گیا کہ محترمہ سو پچاس کی لپ اسٹک لے آئیےاور آپ لگا کر ٹیچرز کے ساتھ گپ شپ لگا آیا کیجیئے کہ تفریح کی تفریح اور ثواب کا ثواب۔ گھاٹے کا سودا تو ہے نہیں۔ اس طعنے سے میری جان یوں چھوٹی کہ بچی بورڈ کے پیپرز میں بیٹھی اور ٹاپ کیا تو لوگوں کے منہ بند ہوئے کہ نہیں بچی میں بھی قابلیت تھی۔

اپنے موضوع پر دوبارہ واپس آ تے ہیں۔ کہ اب جبکہ آپ اس راز کو پا ہی گئی ہیں کہ صرف زنانہ تصویر کو لائکس اور کمنٹس ملتے ہیں تو براہِ کرم آپ بھی اس سہولت سے فیض یاب ہو جائیے۔ بالخصوص جب آپ پردہ بھی نہیں کرتیں تو پلیز اچھی سی پروفائل پِک بنا کر لگا لیجئے کیا فرق پڑتا ہے۔ یوں بھی کسی مجہول آ ئی ڈی سے کب اندازہ ہو پاتا ہے کہ سامنے والا بندہ یا بندی کیا چیز ہے۔ کوئی پھول ہے، کوئی بچہ ہے یا بلی ہے یا چِڑیا۔ کیا عمر ہے جس سے ہم ہمکلام ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: