قرۃ العین حیدر فن و شخصیت‘ پر ایک تبصرہ: سہیل وارثی، ممبئی’ 

0
  • 48
    Shares

اُردو ادب میں سہوِ کتابت ایک باقاعدہ فن کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس فن کا ایک نمونہ ’قرۃالعین حیدر فن و شخصیت‘ میں دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ کتاب بمبئی یونیورسٹی میں قرۃالعین حیدر کی فن و شخصیت پر منعقد کیے گئے ایک سیمینار میں پڑھے ہوئے مقالات کا مجموعہ ہے۔ سہوِ کتابت کے جس فنِ شریف کا ذکر ہم کر رہے ہیں وہ سر ورق پر دکھائی دیتا ہے۔ کتاب کا ٹائٹل ’ قرۃالعین حیدر فن و شخصیت ‘ ہے اور نچلے حصے میں صرف ڈاکٹر صاحب علی لکھا ہوا ہے۔ جیسا کہ قاعدہ ہے اگر اِس طرح کی ترتیب ہو تو خیال آتا ہے کہ قرۃالعین حیدر کے فن و شخصیت پر ڈاکٹر صاحب علی نے یہ کتاب تصنیف کی ہے۔ لیکن یہ وہی فن ہے یعنی سہوِ کتابت۔ کم بخت کاتب نے مرتب یا مولف جیسے الفاظ کی کتابت کو نامناسب خیال کیا اور اُسے سِرے سے ڈراپ ہی کردیا۔ دوسرا خیال جو ڈاکٹر صاحب علی کو بد نیت ثابت کرتا ہے یعنی جان بوجھ کر ایسا کیا تاکہ ذاتی تصنیف کا تاثر قائم ہو، کچھ غیر ادبی اور غیر مہذب سا لگتا ہے اِس لیے فی الحال اِ سے سہوِ کتابت ہی سمجھا جائے۔ چونکہ اُردو میں پروف کی غلطیوں کو یا سہوِ کتابت کے کانے پردے کا رواج عام ہے اِس لیے اُس اہتمام کا بھی لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ اور اِس فاش غلطی کو بھی کاتب کے سر ہی ڈال دیں تو بہتر ہے۔

خیر اِس کتاب میں بیس مقالے شامل کئے گئے ہیں اور ڈاکٹر صاحب علی کے الفاظ میں،’’ اِس کتاب میں بیس مقالے شامل ہیں جو اپنے موضوع کے لحاظ سے عینی آپا کی شخصیت اور فن کے مختلف پہلوئوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ عینی آپا کی کثیر الجہت شخصیت کے پیشِ نظر کتاب میں کچھ ایسے مقالے بھی شامل ہیں جو سیمینار میں نہیں پڑھے گئے تھے لیکن یہ مقالے اپنے تنوع کے اعتبار سے عینی کی شخصیت و فن کی مختلف جہتوں کو اُجاگر کرتے ہیں۔ اِس طرح دیکھیں تو یہ کتاب عینی شناسی میں حوالے کی کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔‘ ‘

حوالے کا درجہ رکھنے والی اِس کتاب کے بیس مقالوں میں سے سترہ عدد مقالوں کے تعلق سے تو کہا جاسکتا ہے کہ اچھے، بہت اچھے اور بہت ہی اچھے مقالے شامل کیے گئے ہیں۔ جن میں تین ایسے مقالے ہیں جو اگر نہ شامل کیے جاتے تو دیگر سترہ مقالوں کے ساتھ انصاف ہوتا اور کتاب کا وقار قائم رہتا۔ انتہائی ہلکے اور بے دلی سے لکھے گئے وہ تین مقالے عبدالستار دلوی، یونس اگاسکر اور سلام بن رزاق صاحب کے ہیں۔ اِن تین مقالوں میں سے دو مقالے تو کتاب کے آغاز میں ہی ہیںاور، کی گے پہلیچ نوالے میں یہ کنکر آیا، کے مصداق کتاب کا معیار اور اُس کے حوالے کے درجے کی کتاب ہونے پر شک ہونے لگا۔ پیش لفظ میں کیے گئے دعوے کو پس پشت ڈال کر، دل کڑا کرکے کتاب پڑھ ڈالی، سترہ اچھے مقالے، پڑھ کر طبعیت باغ باغ ہوگئی۔ ڈاکٹر صاحب علی اپنے پیش لفظ میں سید محمد اشرف کے مقالے کے بارے میں لکھتے ہیں، ’’سید محمد اشرف نے اپنے مضمون ’کیا قافلہ جاتا ہے‘ میں افسانوی انداز میں قرۃالعین حیدر کی شخصیت کا بھرپور جائزہ لیا ہے۔ خاص طور سے اُن کے مضمون کا آخری حصہ افسانوی اندازِ بیان کی معراج کہا جاسکتا ہے۔‘‘ بجا ارشاد، ایسا ہی ہے، بلکہ اِس سے بھی خوب ہے۔ پروفیسر رفیعہ شبنم عابدی کے مقالے کے متعلق فرماتے ہیں،’ ’ پروفیسر رفیعہ شبنم عابدی کے مقالے کا موضوع بالکل نیا اور اچھوتا ہے۔ اُنھوں نے قرۃالعین حیدر کی تحریروں میں فنونِ لطیفہ کے تلازمات اور معروضات کو عنوان بنایا ہے۔ میرے خیال میں قرۃالعین حیدر کی تحریروں کا اِس نوع سے مطالعہ بہت ہی کم ہوا ہے۔ ‘ ‘ بالکل درست۔ رفیعہ شبنم عابدی کا مقالہ پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اِس کے لیے رفیعہ نے کتنی عرق ریزی کی ہوگی اور عینی کا کس طرح ڈٹ کر مطالعہ کیا ہوگا۔ اِسی طرح ڈاکٹر صاحب علی نے اپنے پیش لفظ میں مقالات کا دو چار جملوں میں جائزہ لیا ہے۔ جو شخص ایسی نظر رکھتا ہو وہ متذکرہ بالا تین مقالوں کو کس طرح اِس کتاب میں شامل کر سکتا ہے ؟ عبدالستار دلوی کے مضمون کے بارے میں لکھتے ہیں، ’’اُنھوں نے اِس مقالے میں اپنی یادوں کے حوالے سے قرۃالعین حیدر کی شخصیت کے کئی دلچسپ پہلوئوں کا احاطہ کیا ہے۔‘ ‘ مضمون پڑھنے کے بعد احساس ہوا کہ اِس جملے کو چند الفاظ کے ہیر پھیر سے یوں ہونا چاہیے تھا، اُنھوں نے قرۃالعین حیدر کے حوالے سے اپنی شخصیت کے کچھ انتہائی غیر دلچسپ پہلوئوں کا احاطہ کیا ہے۔ الفاظ کی اِس ہیرا پھیری کے بعد اُن کا مضمون زیادہ لطف دیتا ہے۔ اُن کے مضمون میں عینی آپا کسی واقعہ کے بیچ برق رفتاری سے نمودار ہوتی ہیں اور اُن کی تعریف میں ایک انتہائی بلیغ جملہ کہہ کر اُتنی ہی برق رفتاری سے غائب ہوجاتی ہیں۔ قاری کے ہاتھ اگر کچھ لگتا ہے تو عبدالستار دلوی کے کچھ غیر دلچسپ واقعات۔ دوسرا کیس یونس اگاسکر صاحب کا ہے۔ اُن کے بارے میں صاحب علی لکھتے ہیں۔ ’’پروفیسر یونس اگاسکر کا مضمون ’ قرۃالعین حیدر سے تین ملاقاتیں ‘ اِس لحاظ سے ایک اہم مضمون ہے کہ اس میں قرۃالعین حیدر کی ایسی جھلک پیش کی گئی ہے جو ان کی شخصیت کو سمجھنے میں معاون ہے۔‘‘ مضمون پڑھیے اور پھر اِس کمپلیکس جملے کو ری فریز کیجیے بات صاف ہوجائے گی۔ مضمون کے حوالے سے جملہ اب یوں ہوگا، پروفیسر یونس اگاسکر کا مضمون ’ قرۃالعین حیدر سے تین ملاقاتیں‘ اس لحاظ سے ایک اہم مضمون ہے کہ اس میں پروفیسر یونس اگاسکر کی ایسی جھلک پیش کی گئی ہے جو اُن (پروفیسر یونس اگاسکر) کی شخصیت کو سمجھنے میں معاون ہے۔ اِن دونوں ہی مضامین کی خصوصیات یہ ہیں کہ قرۃالعین حیدر کا نام لے لے کر اِس میں اپنے ذاتی مناقب بیان کیے گئے ہیں۔ عبدالستار دلوی صاحب کے مضمون میں اُن ہی کی ذاتی منقبت کا ایک ٹکڑا ملاحظہ فرمائیں،:

’۱۹۶۷ء میں میرا (یعنی دلوی صاحب کا) تقرر مہاتما گاندھی میموریل ریسرچ سینٹر اور لائبریری میں ابتداََ افسرِ اعلیٰ اور پھر ڈائرکٹر کی حیثیت سے ہوا۔ میں نے حتی الامکان کوشش کی میں ایک اعلیٰ پایہ کی ہندوستانی کے حوالے سے اردو اور ہندی کی نیز تاریخ، لسانیات، سماجیات وغیرہ کی لائبریری بنائوں۔ مختلف ذرائع سے نوادرات کی تلاش میں رہتا اور مجھے کتابیں اور رسائل حاصل ہوتے۔۔۔اسی زمانے میں یعنی دو سال بعد ۱۹۶۹ء میں ساری دنیا میں غالب صدی کا جشن منایا گیا، تو یہاں بھی غالب کی تقاریب منعقد کی گئیں۔ سارے ہندوستان میں غالب صدی کی گونج تھی۔ ممبئی میں بھی بڑی شان کے ساتھ ’جشنِ غالب‘ منایا گیا۔ صابو صدیق شیفرڈ روڈ میں اِسی سلسلے کا ایک مشاعرہ ہوا۔ ہندوستان بھر سے شعرا کو مدعو کیا گیاتھا۔ اسی مشاعرے میں ساحر لدھیانوی نے اپنی نظم سنائی جس کے ایک مصرعے کی گونج سارے ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ ہر اُس جگہ سنائی دی جہاں اُردو والے آباد ہیں، وہ مصرع تھا’ اُردو پہ ستم ڈھا کے غالب پہ کرم کیوں ہو‘۔۔۔عینی آپا اُس مشاعرے میں بھی شریک تھیں۔ (عینی یہاں اینٹر اینڈ ایکزٹ کرتی ہیں) میں نے (پھر دلوی صاحب) گاندھی میموریل ریسرچ سینٹر میں مشہور مورخ اور اُردو نواز پنڈت سیتو مادھو رائو کی غالب پر تین تقریروں کا اہتمام کیا تھا جو بہت کامیاب رہا۔ میں اُس زمانے میں پگڈی صاحب سے واقف ضرور تھا، مگر یہ تقاریر پروفیسر ڈی این مارشل صاحب کے مشورے پر منعقد کی گئیں تھیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ عینی آپا اُس جلسہ میں بھی شریک تھیں۔ ‘

اب اِسے عینی بٹیا کی خوش نصیبی نہ کہا جائے تو کیا کہیں۔ سارا کاسارا مضمون ایسے ہی ٹکڑوں سے نور علیٰ نور ہے۔ اِس قبیلے کے دوسرے موہیکان پروفیسر یونس اگاسکر ہیں۔قرۃالعین حیدر سے اُن کی تین گہری ملاقاتوں میں سے ایک ملاقات کا ٹکڑا دیکھیے گا، اِس ٹکڑے کو دیغ کا ایک چاول سمجھنا چاہیے، فرماتے ہیں، ’ ستر کی دہائی سے قبل بھیونڈی کے رئیس ہائی اسکول کے ایک فنکشن میں مس قرۃالعین حیدر کو بہ طور مہمان خصوصی مدعو کرنے کی تجویز پرنسپل صاحب نے رکھی اور اور اُسے عملی جامہ پہنانے کی ذمے داری میرے سر ڈال دی۔ میں تب تک ادب کی دنیا میں تھوڑی بہت شہرت حاصل کر چکا تھا اِس لیے پرنسپل صاحب اور اسکول کے اربابِ اختیار کو یقین تھا (جو بعد میں پورا نہ ہوا) کہ مس حیدر میری بات نہیں ٹالیں گی (جووہ انتہائی رکھائی سے ٹال گئی تھیں)۔ اور میری مشکل یہ تھی کہ میں اسکول والوں کی بات نہیں ٹال سکتا تھا۔ چنانچہ جس طرح حضرت موسیٰ نے حضرت ہارون کا ساتھ مانگا تھا، میں نے اسکول کے ایک اردو کے اُستاد عبدالجبار ہانی کو ساتھ کردینے کی درخواست کی جو فوراََ منظور کر لی گئی۔ (سبحان اللہ، اب یہاں سے حکایتِ موسیٰ و ہارون شروع ہوتی ہے۔ظاہر ہے اِس میں موسیٰ و ہارون کون ہیں اور فرعون کون۔ یہ کلیمِ بے عصا اب چلتے ہیں فرعون بلکہ فرعونۂ وقت عینی کے دربار میں۔ احوال اِس قصے کا کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

’’اُن دنوں مرحومہ (یعنی عینی) ٹائمز آف انڈیا کے ادارے سے شائع ہونے والے انگریزی ہفتہ وار السٹریٹیڈ ویکلی آف انڈیا میں کام کرتی تھیں۔ جبار ہانی نے کبھی ٹائمز آف انڈیا کی عمارت میں قدم نہیں رکھا تھا اور مس حیدر کے روبرو حاضر ہونے کے خیال سے بھی وہ خاصے مرعوب تھے اس لیے جو کچھ کرنا تھا مجھی کو کرنا تھا۔ (بیچارے جبار ہانی بہ موسوم ہارون، وہ تو شاید تا عمر اپنے وقت کے موسیٰ کے احسان مند رہیں گے کہ وہ بہ فیضِ موسوی ٹائمز آف انڈیا کی عمارتِ غیر ممنوعہ میں قدم دھر سکے۔ بھیونڈی کی وادیِ مقدس طویٰ سے منزلوں پر منزلیں مارتا جب یہ دو نفری لشکر بلکہ یک نفری کیونکہ کرنا تو سب کچھ موسیٰ ہی کو تھا، یہ جب مصر پہنچا تو کیا ہوا، ملاحظہ ہو) مجھے ایک سہولت یہ حاصل تھی کہ جن دنوں میں جرنلزم کا ڈپلوما کورس کر رہا تھا، مجھے ایک ماہ کی ٹریننگ کے لیے ٹائمز میں بھیجا گیا تھا جہاں ٹائمز میں بھرتی ہونے والے اُمیدواروں کو ٹریننگ دینے کے لیے ایک مخصوص شعبہ قائم تھا جس میں ٹرینی ٹائمز کے نام سے ایک اندرونِ خانہ پرچہ بھی ترتیب دیا جاتا تھا۔ میں اُس شعبے میں تربیت حاصل کر چکا تھا اِس لیے میرا ہیائو کھلا ہوا تھا(ہیائو، ظ انصاری نے کئیوں کو یہ لفظ سکھا دیا ہے)۔
چنانچہ میں نے بڑے اعتماد کے ساتھ سیکیوریٹی گارڈ سے ویکلی کے دفتر میں جانے کی بات کہی اور ہم دونوں رسپشن پر اپنے ناموں کا اندراج کر کے لفٹ سے اوپر جا پہنچے۔ (سیکیوریٹی سے اتنے اعتماد سے اجازت حاصل کرنے کی داد دینی چاہیے) ہمارا خیال تھا کہ مس حیدر جو اُردو کی اتنی بڑی ادیبہ ہیں، اتنے اعلا گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں، دنیا بھر کی سیر کر چکی ہیںِ،اُس وقت ہمارا دنیا بھر کا تصور بھی خاصا محدود تھا، (جس میں ٹائمز کی عمارت میں قدم رکھنا تو ہفت افلاک کی سیر کرنے جیسا کارنامہ تھا۔) اور پاکستان میں اتنے اہم عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں، اُنھیں یقیناََ ایک الگ تھلگ کیبن دیا گیا ہوگا مگر اوپر پہنچنے پر جب چپراسی نے ہمیں ایک لمبے چوڑے ہال میں بچھی ہوئی متعدد میزوں کے درمیان ایک میز کے پاس لے جا کے کھڑا کر دیا تو ہمارے ارمانوں پر جیسے اوس سی پڑ گئی۔ خیال رہے کہ ہم اس وقت ان کے روبرو بھی کھڑے نہیں ہوسکتے تھے کہ ان کی میز سے سٹی ہوئی ایک اور میز تھی جس سے لگی ہوئی کرسی پر بالکل اُن کے مقابل ایک اور محترمہ تشریف رکھتی تھیں اور اُس وقت غالباََ کسی آرٹیکل کی شکنیں درست کر رہی تھیں۔

میں نے ہم دونوں کا تعارف کرایا (کہ یہ ہارون اور میں موسیٰ ہوں) اسکول کے پروگرام کی نوعیت بتائی اور عرضِ مدعا کیا تو مس حیدر نے فوراََ قصہ مختصر کرتے ہوئے کہا، ’ معاف کیجیے گا، میں بہت مصروف رہتی ہوں اور مجھے ہفتے میں صرف اتوار ہی کا دن ملتا ہے جب میں اپنا ذاتی لکھنے پڑھنے کا کام کرتی ہوں۔ میں آپ کی دعوت نہیں قبول کرسکتی۔ ‘ اس کے بعد اُنھوں نے کچھ اِس انداز سے اپنے کاغذات کی طرف توجہ مبذول کی کہ ہمیں اپنی درخواست دہرانے کی بھی ہمت نہیں ہوئی اور ہم بے نیل مرام وہاں سے لوٹ آئے۔ ‘ (حکایتِ موسیٰ و ہارون اپنے اختتام کو پہنچی۔ لیکن اِس بار تو فرعونہ نے اپنی فرعونیت کی انتہا ہی کردی تھی۔ ہمارا کلیم بھی تو غریب بے عصا تھا۔ میرے خیال میں پروفیسر صاحب کو اقبال کی ضربِ کلیم پڑھنی چاہیے۔

کوئی ایک وجہ ڈاکٹر صاحب علی اگر بتادیں کہ اِن دو مضامین کو اُنھوں نے کیوں شامل کیا ہے تو بڑا کرم ہوگا۔ تیسرا مضمون سلام بن رزاق کا ہے۔ کوئی اقتباس پیش نہیں کرونگا۔ صرف اِتنا کہہ دینا کافی ہے کہ اس مضمون کو پڑھنے کے بات سلام بن رزاق کا کوئی افسانہ اب شاید کوئی پڑھے۔ میرؔ تو بڑے شاعر تھے اِس لیے اِس جہان سے سرسری گزرنے کی بات کی ہے مگر سلام بن رزاق تو گردشِ رنگ ِ چمن پر سے سرسراتے ہوئے گزر گئے ہیں۔ اِس طرح کا تبصرہ اُن سے قطعاََ غیر متوقع تھا۔ بغیر کسی ریفرینس کے عینی پر کچھ لکھنے کا جو حشر ہوسکتا ہے یہ مضمون اُس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ڈاکٹر صاحب علی نے لکھا ہے کہ اِس مجموعے میں اُنھوں نے سیمینار میں پڑھے گئے مقالوں کے علاوہ دوسرے مقالے بھی شامل کیے ہیں تو عاجز کی نظر سے شمیم طارق کے بھی دو مضامین گزرے ہیں جو غالباََ ’آجکل‘ یا ’ ایوان‘ میں شائع ہوئے تھے اگر اُنھیں شامل کرلیتے تو شعور کی رَو کے حوالے سے عینی کی تحریروں میں ایک نیا اینگل بھی لوگوں کے سامنے حوالے کے طور پر آجاتا۔ بقیہ سترہ مضامین کے مقابلے میں یہ تین مضامین اتنے غیر اہم ہیں کہ اِنھیں شامل کرنے پر اگر ہم کہیں کہ یہ اُردو ادب سے غداری ہے تو ذرا سخت بات ہوجائے گی اِس لیے کہنا چاہیے کہ ’صرفِ نظر‘ ہے۔


سہیل وارثی ممبئی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: