نیاز فتح پوری اور ڈاکٹر منظور احمد کا “فلسفہ” —– سخن سنجی کا وہم

0
  • 48
    Shares

معروف فلسفی اور دانشور ڈاکٹر منظور احمد آسمان ادب کے درخشندہ ستارے نیاز فتح پوری کو ایک روشن خیال اسلامی مفکر کے طور پر متعارف کرانے —منوانے— کی بہت سعی لاحا صل کرچکے ہیں۔ ان عظیم فلسفی صاحب کے ژولیدہ افکار تو کافی معروف ہیں لیکن نیاز صاحب کو اسلامی مفکر باور کرانے سے خود ڈاکٹر صاحب کی فلسفہ دانی مشتبہ ہوجاتی ہے۔ نیاز صاحب کے بارے عبدالمجید سالک لکھتے ہیں: آپ (نیاز) نے جہل کے مختلف اطراف میں اس قدر ہمہ گیری حاصل کی ہے کہ ہندوستان بھر کا پڑھا لکھا جاہل آپ کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

سنا ہے ایک دفعہ آپ اپنا ایک مضمون کسی پختہ کار اور کہن سال ادیب کو سنا رہے تھے۔ جس نے سارا مضمون انتہائی حیرت و استعجاب سے سننے کے بعد فرمایا، “خوب، خوب، بہت خوب کیا آپ اردو میں بھی لکھا کرتے ہیں؟ نیاز صاحب نےگھبرا کر کہا: ” حضرت یہ مضمون اردو میں نہ تھا تو اور کس زبان میں تھا؟” نہ صاحب، ہماری بھی ستر برس ہونے کو آئی ہے، ہم نے تو ایسی اردو نہ آنکھوں سے دیکھی ہے، نہ بزرگوں سے سنی۔ آپ کا مضمو ن تو غالبا سریانی زبان میں تھا”۔

یقین مانیے! چند سال پہلے ڈاکٹر صاحب کے اجتہادات نظر نواز ہوئے تو اگر چہ اس میں کچھ خاص نیا نہیں تھا لیکن اسلوب انشا دیکھتے ہی آنکھیں فرط حیرت سے پھیل گئیں۔ اگر غالب کے الفاظ مستعار لوں تو: حضرت کا جو سخن ہے وہ در عدن ہے۔

ان کی جادوئی انشا پردازی واقعی متاثر کن ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لکھنے کا ہنر تو صرف ڈاکٹر منظور صاحب جانتے ہیں۔ لیکن محض تحریر کا کیا فائدہ؟، جس میں کوئی علمی بات نہ ہو؛ محض اپنے کنفیوز خیالات قرطاس پر منتقل کرنا کوئی کمال نہیں۔ اگر تحریر کو الگ رکھ دیں تو پچھے کچھ باقی نہیں رہتا۔

ہمارے ہاں اچھی تحریر کو اصل معیار مانا جاتا ہے۔ ہر عقیل اور فہیم اسی بات پر متفق الکلام ہے کہ نثر کی رنگینی، لفظوں کی محبوبی، ترکیب کی خوش اسلوبی، عبارت کی سلاست بہت اہمیت رکھتی ہے لیکن علمی دنیا میں یہ اصل نہیں ہے۔ اگر علم کے ساتھ یہ بھی ہو تو نور علی نور۔

نیازصاحب کی طرح اگر کسی کو “سریانی زبان” لکھنے کی خواہش ہو تو اس سے اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ نیاز صاحب جیسے خود ساختہ ادیب جب مذہب پر سخن سازی فرماتے ہیں تو جو وجود میں آتا ہے وہ آپ ان کی کتابوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ اچھا لکھنے کا وہم اگر اہل زبان کو بھی ہو تو نقاد حضرات کب ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہیں، نقاد تو اس تحریر کو پڑھتے ہی نہیں جس پر سرقہ کا شبہ نہ ہو۔ ان حضرات کی عمریں اسی میں گزر گئیں کہ کسی نے کیا لکھاہے، میرے معیار پر پورا ہے کہ نہیں۔ یاد رہے، میں اہل زبان کی بات کررہا ہوں پٹھان ادیبوں کی نہیں۔

About Author

مراد علوی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے طالب علم ہیں۔ دلچسپی کے موضوعات مذہب اور سوشل سائسز وغیرہ شامل ہیں اور اپنی تحاریر میں جرات کے ساتھ اظہار کرتے ہیں، بغیر کسی معذرت خواہانہ رویے کے۔ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے مراد علوی متواضع، خوش رو، خوش خلق اور کسی نظریاتی یا حزبی تعصب سے ماورا ہو کے سوچتے اور تعلق رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: