گارڈن کالج راولپنڈی اور تعلیم کا نوحہ:  طاہر ملک 

0
  • 5
    Shares

ایک مشنری سکول سے شروع ہونے والے کالج گارڈن کالج کی ابتدا 1903 میں ہوئی وسیع و عریض رقبہ پہ مشتمل اس کالج میں خوبصورت لان اور باغات تھے۔ کالج کا آڈیٹوریم لائبریری دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے۔ کالج کے پرنسپل پروفیسر سٹیورٹ نے آپنی کتابوں کا ذاتی ذخیرہ لائیبریری کو عطیہ کیا۔ آج بھی بہت سے نادر مخطوطات اور کتب کالج لائیبریری میں محفوظ ہیں البتہ آڈیٹوریم کی حالت ناگفتہ بہ ھے۔ جب تعلیمی اداروں میں فنون لطیفہ ہی نہیں تو پھر آڈیٹوریم کی حالت کیا ہوگی۔

 ایک وقت تھا جب گارڈن کالج میں لڑکیاں اور لڑکے اکٹھے پڑھتے تھے۔ مشہور زمانہ لیاقت باغ کالج کے سامنے واقع ھے موسیقی ادب اور ڈارمے کالج کی غیر نصابی زندگی کا اھم جزو ہوتے تھے۔ کالج کے بہت سے طلباء قومی سطح پر نامور فنکار بنے، مشہور اداکار راحت کاظمی ان میں سے ایک ہیں۔ کالج کے پہلے مسلمان گریجویٹ جسٹس دین محمد 1904 میں فارغ التحصیل ہوئے۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم شوکت عزیز سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل جہانگیر کرامت جنرل احتشام ضمیر وغیرہ۔ سیاستدانوں میں سردار سکندر حیات پرویز رشید راجہ انور شیخ رشید اور بہت سے نام۔ اردو ادب میں عابد حسن منٹو، فتح محمد ملک، راجہ انور اور بہت سے دانشور اسی کالج سے فیض یاب  ہوئے۔ جنرل ایوب کے خلاف چلنے والی قومی تحریک جس کے نتیجے میں انہیں استعفیٰ دینا پڑا کی ابتدا اسی گارڈن کالج سے ہوئی۔ کالج کے سابق پرنسپل صاحبان میں زیدی صاحب پروفیسر نصراللہ ملک خواجہ مسعود پروفیسر سجاد حیدر ملک جیسی علمی شخصیات نے کئی نسلوں کی تربیت اور علمی نشوونما کی۔ جنرل ضیاء کے دور آمریت میں پروفیسر سجاد حیدر ملک کا تبادلہ جنوبی پنجاب کے علاقے لیاقت پور میں کر دیا گیا، کالج کے طلبا جنرل ضیاء کی گاڑی کے سامنے اچانک نمودار ہوتے اور احتجاج شروع کر دیتے کالج کے پروفیسر بہت سے طلباء کی مالی امداد بھی کرتے، پروفیسر سجاد حیدر ملک نے اپنے دفتری میز کی دراز میں نقد کیش رکھا ہوتا کسی طالب علم کو جب پیسوں کی ضرورت پڑتی ضرورت کے مطابق رقم لے کر اپنا نام اور رقم کی تفصیل لکھ کر پرچی دراز میں چھوڑ دیا کرتا بعد ازاں بہت سے شاگرد پیسے واپس رکھ دیتے ۔ریٹائرمنٹ پر پروفیسر سجاد حیدر ملک نے اپنا سامان باندھا لیکن پیسے دراز میں رھنے دئیے عملہ کے یاد کرانے پر کہا میں کالج سے جا رہا ہوں لیکن طلبہ کی ضرورتیں تو یہیں ہیں۔ واقعی وہ امیر لوگ تھے ان کے پاس معاشرے کو دینے کے لئے بہت کچھ تھا۔

 آج اخبار کی ورق گردانی کرتے ہوئے اسی گارڈن کالج کا ایک اشتہار نظر سے گزرا۔ کالج کو مختلف مضامین کے درس وتدریس کے لئے تدریسی عملہ درکار ھے۔ تعلیمی قابلیت اور تجربے کے ساتھ کالج کو روانہ اجرت کی بنیاد پر ڈیلی وہجز اساتذہ  درکار ہیں۔ ایک صدی سے زائد عرصہ بیت گیا لیکن کالج پر کبھی اتنی غربت نہیں چھائی کہ اس کے پاس استاتذہ کو دینے کے لئے پیسے نہ ہوں۔ سلام ھماری انمول اور بے جوڑ ترقی پر۔ کالج سے چند گز کے فاصلے پر اربوں روپے سے تعمیر شدہ میٹرو بس سروس گزر رہی ہے۔ کالج اور ھسپتال بنیادی سہولیات سے محروم دکھائی دیتے ہیں اور دوسری جانب حکمرانوں کے ذاتی تشہیر پر مبنی اربوں روپے کے سرکاری اشتہارات اخبارات اور ٹی وی سکرین کی زینت بنتے ہیں۔ کاش یہ وسائل صحت اور تعلیم پر خرچ ہوں کیونکہ جو قومیں تعلیم اور صحت کے معیار پر سمجھوتا کر لیتی ہیں وہ اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیتی ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: