جون ایلیا : انسان نفسیات کا شاعر —- یگانہ نجمی

1
  • 74
    Shares

جون ایلیا اردو ادب کے ممتازشاعرادیب اور دانشور۱۴دسمبر ۱۹۳۱کو بھارتی ریاست اترپردیش میں اعلٰی تعلیم یافتہ اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔جون ایلیا کے والدسید شفیق حسن ایلیا اپنے دور کے معلم،فلاسفراور دانشور تھے۔جون بچپن ہی سے انقلابی سوچ کے حامل انسان تھے۔
فن ادب سے لگائوانھیں ورثے میںملا تھا۔ انھیں انگریزی، اردو،فارسی عبرانی،ہ ندی اور دیگر زبانوں پرعبور حاصل تھا۔ اس کے علاوہ انھیں فلسفہ تا ریخ منطق اور یورپین ادب پر بھی دسترس حاصل تھی۔
جون ایلیا سرتا پا شاعر تھے، ان کو فطرت نے بڑی فیاضی سے علم کے خزانے عطا کیے تھے جن کا انھوں نے بڑی ہنرمندی سے استعمال کیا۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ فطرت کی دی ہوئی چیز کو انسان ناطق بڑے سنبھال کر استعمال کرے۔
جون ایلیا کا پہلا مجمومہ کلام ـــ’’شاید ‘‘ ان کی شعری زندگی میں بہت پہلے آجانا چاہیے تھا لیکن وہ تیس سال کے بعد آیا وہ بھی احباب کے پر زور اصرار پر کیونکہ جون خود کہتے ہیں۔
آپ سوچتے ہوں گے کہ میں نے اپنا کلام نہ چھپوانے میں آخراتنا مبالغہ کیوں کیا؟اس کی وجہ میرا ایک احساس جرم اور روحانی اذیت ہے۔

وہ مشاعروں کو لوٹنے لینے کا فن جانتے تھے ان کی خاصیت ان کا خوبصورت اندازبیان اور دوسرا وہ اپنی پسند کو سامعین کی پسند بنا دیا کرتے تھے۔اگر یہ کہا جائے کہ فنون لطیفہ کو ان پر ناز ہونا چاہیے تو غالبا بیجا نہ ہوگا۔ جون اندرونی دنیا کا مغنی ہے اورایسا کوئی بھی فنکار جو صاحب فکر اور بے ریا ہو، جب یہ دیکھتا ہو کہ باہر کی دنیا سے الگ ہے تووہ بھیڑ میں اکیلا محسوس کرتا ہے اور یہ احساس بیگانگی، رفتہ رفتہ شدت تنہائی میں ضم ہوجاتی ہے، فنکار کا یہ کرب اسے مجہول ذہنی کیفیت میں مبتلا کردیتا ہے۔

روشنی بھر گئی نگاہوں میں
ہوگئے خواب بے اماں جاناں

حال یہ ہے کہ خواہش، پرسش حال بھی نہیں
اس کا خیال بھی نہیں اپنا خیال بھی نہیں
میرے زمان وذات کاہے یہ معاملہ کہ اب
صبح فراق بھی نہیں،شام وصال بھی نہیں

جون ایلیا کو زندگی میں لازوال شہرت حاصل تھی لیکن ہی بھی کہا جاسکتا ہے کہ اکیسویں صدی میں آنکھ کھولنے والے نوجوانوں کے لیے جون ایلیا یقیناََ  ادب کی ایک نئی طرز کا درجہ رکھتے ہیں۔ جون قادرالکلام شاعر تھے۔ ان کی نجی زندگی یوں تو ناکام اور کرب انگیز تھی مگر وہ پیدا ہی شاعری کے لیے ہوئے تھے۔ یوں کہیے کہ جس کے لیے وہ خلق ہوئے تھے۔ وہ بلا شبہ نہایت کامیاب تھی۔جون لڑکپن سے بہت حساس تھے ان دنوں ان کی کل توجہ اپنی خیالی محبوبہ کا کردارصو فیہ تھی۔ ایلیا کے قریبی رفیق سید ممتازسعید بتاتے ہیںکہ ایلیا امروہہ سیدالمدارس کے بھی طالب علم رہے۔شاعر مثالیت پسند ہواکرتا ہے۔اس لیے اندرون ذات اپنے مثالیے کی تلاش میں حیران و سرگرداںرہتا ہے اور جب مثالیہ اسے باہر کی دنیا میں کہیں نہیں ملتا تو شکست خوردہ شاعرپھر اپنے اندر کی دنیا میں پلٹ آتا ہے۔پھر وہ صرف خواب دیکھتا ہے۔

جون کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش
اب کئی ہجر ہو چکے،اب کئی سال ہو چکے

جون کی ہاں شاعری میں جہاں لفظی جمالیات موجود ہے مگر دوسری طرف درشتی اور کھردرا ہٹ اور یہ ہی اسلوب نگارش ان کی نظموں میں نظر آتاہے ان کی ہاں غصہ جھنجھلاہٹ بے راہ روی، بے اعتمادی،شکوک وشبہات نظر آتے ہیں۔ جون ایسی تمام باتوںپر طیش کھاتے رہتے تھے جن پر اب کسی کو غصہ نہیں آتا۔ علم کی بے قدری پر انسانی اقدارکی بے حرمتی پر جہالت کی حکمرانی پر۔

ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کا مریض ہوں
آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی

جون ایک ادبی رسالے انشاء سے بطور مدیر وابستہ رہے جہاں ان کی ملاقات اردو کی ایک معروف مصنفہ زاہدہ حنا سے ہوئی جن سے بعدمیں انہوں نے شادی کرلی۔ جون نے پاکستان ہجرت کی۔اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔اور وہ جلد ہی ادبی حلقوں میںمشہورہوگئے۔

میں رہا عمر بھر جدا خود سے
یاد میں خود کو عمر بھر آیا

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. عبد الرؤف حاطب سیف on

    جون ایلیا صاحب کی سوانح حیات کسی نے لکھی ہے؟؟ اگر ہم ان کے حالات زندگی جاننا چاہیں تو ہمیں کون سی کتاب پڑھنی چاہیے؟؟

Leave A Reply

%d bloggers like this: