بس ۔۔۔ چپ! طاہر عمیر

0
  • 85
    Shares

” میں اخبار کے لئے کام کرتی ہوں۔۔
نہیں مجھے کسی بات پر زیادہ حیرانی نہیں ہوتی۔۔ میں بس غریب عورتوں کی مجبوریوں پہ لکھ رہی ہوں۔۔
دراصل مجھے جاننا ہے کہ ایسے کیا حالات ہو جاتے ہیں جو تم جیسی عورتوں کو گھر سے باہر لا کر اتنے سخت کام اور مزدوی کرنی پڑتی ہے۔۔

دیکھو خاموش نہ رہو۔۔ مجھے بتاؤ سب۔۔
ہاں ہاں اپنے بارے میں بتاؤ ۔۔مجھے وہ تمام ناقابل برداشت او ر زہریلی باتیں سننی ہیں جو تم نے سہی ہیں۔۔
اچھا اپنا کوئی ایسا سچ بتاؤ جسے کسی سے کہا نا ہو۔۔
دیکھو تم اپنی یہ چپ نہیں توڑو گی تو بات بنے گی نہیں۔۔کچھ تو بولو۔۔”

اس بنی ٹھنی سی بی بی کی باتیں سن کر پتہ نہیں کیوں شاہدہ نے اپنی خاموشی توڑ ہی دی اورپھر بولنے لگی تو بولتی ہی چلی گئی:

”لڑکی ہوں نا میڈم جی بچپن سے ہی ایک بات سکھا دی جاتی ہے ”چپ” رہا کرو۔آواز اونچی کیوں ہے تمہاری۔۔چپ۔۔۔ اتنی زور سے کیوں ہنس رہی ہو۔۔چپ۔۔زیادہ بحث مت کرو بس کہہ دیا نا۔۔چپ۔۔۔ سو چپ کرنے کی عادت ڈال لی۔۔لیکن یہ عادت ہے بڑی مشکل۔۔لاکھ سمجھاؤ خود کو لاکھ سمجھاؤ دل کو لیکن چپ رہا ہی نہیں جاتا۔۔دم گھٹنے لگتا ہے ۔زبان کو چپ کراؤ تو آوازیں کہاں مرتی ہیں۔۔ یہاں سینے کے اندر گھومتی رہتی ہیں۔۔ خوب شور مچاتی ہیں اور ایک آواز گونجتی ہے تو بند سینے میں بار بار واپس پلٹ کے آتی ہے ایسا لگتا ہے آوازوں کا ہجوم اکٹھا ہوگیا ہو۔۔ تو کیا کریں ان آوازوں کا آپ ہی بتاؤ جی۔۔ کبھی جو اس ہجوم سے تنگ آکر زبان کھولی تو ساتھ ہی دھاڑتی ہوئی اماں کی آواز آتی ہے ۔۔ چپ۔۔ اور آوا زوں کو دیا جانے والا رستہ کھٹ سے بند۔۔ اور آوازیں بھوں بھوں کرتی یوں چکراتی ہیں جیسے بند ڈبے میں بھونڈ چکراتا جاتا ہے۔۔۔

بچپن میں اماں سے کہا اماں مجھے اسکول جانا ہے۔۔ جواب ملا نہیں جاؤ گی۔۔تم کام پہ جاؤ گی میڈم سکینہ کے گھر جا کر برتن مانجھنے کا کام۔۔اور میڈم رقیہ کے یہاں صفائی کا کام۔۔۔لیکن اماں میں تو۔۔۔ “بس چپ”۔۔

اماں اس عید پہ نیا جوڑا لینا ہے۔۔۔ یہ نیا بخار کہاں سے چڑھ گیا تجھے ۔۔۔لیکن اماں سبھی تو لیتے ہیں۔۔ ہم سب جیسے نہیں ہیں کہہ دیا نا بس۔۔۔چپ۔۔۔

یہ کیا کھا رہی ہے؟۔۔۔ اماں ٹافی ہے نذیر چاچے نے دی ہے۔۔ کیوں اس نے کیوں دی تو نے پیسے دئیے تھے؟۔۔ نہیں اماں اس نے مفت میں دی ہے چاچا بہت اچھا ہے بہت پیار کرتا ہے مجھے ۔۔ گود میں بٹھا لیتا ہے اور مفت ٹافیاں بھی دیتا ہے۔۔ خدا غارت کرے تجھے خبردار جو آج سے تو اس کی دکان کی طرف بھی گئی۔۔۔ لیکن کیوں اماں۔۔۔ اور اماں کی دھاڑتی ہوئی چیختی ہوئی جھنجھلاتی ہوئی آواز۔۔ بس چپ رہا کر کتنی دفعہ کہا ہے تجھے چپ رہا کر۔۔۔۔

میں نے سوچا کہ اماں ٹھیک ہی کہتی ہیں چپ رہنا چاہئے اب اگر میں چپ رہتی اور اماں کو ٹافی والی بات نہ بتاتی تو اور بھی کتنی ساری ٹافیاں ملتی رہتی اماں کو کیا پتہ چلنا تھا۔۔
سو میڈم جی میں نے بڑی کوشش کی کہ چپ رہا کروں لیکن نہیں رہ پائی

اماں میڈم سکینہ کا جو بھائی ہے نا جب میں اس کے کمرے میں جاتی ہوں تو مجھے پکڑ لیتا ہے۔۔ کہتا ہے تو بہت سوہنی ہے۔۔ تو نوکروں والے کام مت کیا کر۔۔ اور یہ دیکھ اس نے مجھے سو روپے بھی دئیے ہیں کہتا ہے اس سے سرخی پورڈر خریدنا۔۔ میں کیا کروں اماں۔۔۔ اماں بت بنی مجھے سنتی رہی پھر میرا بازو پکڑ کر مجھے ابے کے کمرے سے دور ایک کونے میں لے گئی اور وحشت آمیز لہجے میں میرے ہونٹوں پہ اپنی انگلی رکھ کے بولی۔۔۔ بس چپ۔۔۔ خبردار جو آج کے بعد کسی کو یہ بات بتائی بس چپ۔۔۔تو اماں کیا میں کام پہ نہ جایا کروں۔؟ ۔۔ مہینہ ختم ہونے دے تنخواہ ملے گی تو تجھے وہاں جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔ لا یہ سو روپیہ دے مجھے میں اسے واپس کردوں گی۔۔۔

اماں نے سوروپیہ واپس کیا یا نہیں یہ مجھے معلوم نہیں میڈم جی لیکن اس دن ہمارے گھر میں پہلی بار ڈھنگ کا کھانا بھی بنا۔۔ اور ابا کے دمے کی دوا بھی اماں کہیں سے لے آئی۔۔ میڈم سکینہ کے بھائی نے مجھے کئی بار پیسے دئیے۔۔ اماں ہر بار مجھے چپ رہنے کا کہہ کر وہ پیسے لے لیتی۔۔مہینہ پورا ہو بھی گیا تو بھی اماں نے میرا وہاں جانا روکا نہیں۔۔ کچھ عرصے بعد میری طبیعت خراب ہوئی تو اماں کے ہاتھ پیر پھول گئے کئی انجانی جگہوں پہ مجھے لے کر گئی لیکن طبیعت سنبھلی ہی نہیں۔۔میں پوچھتی اماں مجھے کیا ہوا ہے کیا میں مر رہی ہوں؟۔۔۔ اماں اپنے ہونٹ بھینچ کر بمشکل اتنا ہی کہہ پاتی ۔۔ چپ

میرا پیٹ پھولتا جا رہا تھا لگتا تھا کسی دن دھماکے سے پھٹ جائے گا۔۔ اماں کو بھی اسی کا ڈر تھا سو مجھے دور ایک جگہ پرکسی عورت کے ہاں چھوڑ آئی کہ کچھ دن یہیں رہ۔۔ میں وہاں اکیلی رہ کر اس دھماکے کا انتظار کرتی رہتی جو بلاخر ایک دن ہو ہی گیا۔۔

مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ ننھا منا سا گڈا میرے اندر سے نکلا ہے میں تو بس حیرانی سے اسے دیکھتی جارہی تھی اور بار بار پوچھتی اماں کیا یہ میرا ہے؟

اور اماں سخت لہجے میں کہتی نہیں یہ تیرا نہیں ہے۔۔ یہ تیرا نہیں ہے۔۔۔ لیکن اماں۔۔۔ اور اماں کی روتی ہوئی آواز۔۔ چپ کر۔۔ چپ کر جا مرجانئے چپ کرجا۔۔

او ر جب اماں مجھے اور اس گڈے کو گھر لے جارہی تھی تب مجھے پتہ چلا کہ وہ کیا کرنے والی ہے میں بہت روئی میں نے کہا اماں ایسا مت کر اسے مجھے دے دے میں اس کے ساتھ تیرے گھر سے اور میڈم سکینہ کے گھر سے بہت دور چلی جاؤں گی۔۔۔ لیکن اماں نے میری ایک نہ مانی

تیار ہوتا تو تجھے دے دیتی لیکن یہ تیار نہیں ہے ۔۔ لیکن یہ میرا ہے اماں۔۔۔ کہا نا نہیں ہے تیرا اور جس کا ہے لیکن وہ کبھی نہیں مانے گا کہ یہ اس کا ہے۔۔ اورنہ ہی یہ دنیا مانے گی کہ یہ اس کا ہے۔۔ تیرے ابے کو پتہ چلے گا تو وہ اس کے ساتھ ساتھ تیرے بھی ٹوٹے کر دے گا۔۔ محلے والوں کو پتہ چلے گا تو تجھے پتھر مار مار کر سنگسار کردیں گے۔۔ ہمارے گھر کو آگ لگا دیں گے۔۔ کیا تو چاہتی ہے کہ اس عمر میں لوگ مجھے سڑک پر گھسیٹیں۔۔ کیا تو چاہتی ہے کہ تجھے چوک میں لے جا کر ساری دنیا پتھر مارے اور تیری لاش اٹھانے کو کوئی آدمی تیار نہ ہو حتیٰ کہ تیرا باپ بھی۔۔ اپنا نہیں تو ہم لوگوں کا سوچ۔۔ میرا اپنے باپ کا اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا سب کی زندگی برباد ہوجائے گی اگر یہ بچہ ہمارے گھر پہنچا

اماں کی باتیں سن کر میں خوفزدہ ہوگئی اور میں نے چپ سادھ لی۔۔ میں نہیں بولی جب اماں نے اس گڈے کو کچرے کے ڈھیر پہ پھینکا ۔۔ اور تب مجھے لگا جیسے وہ کوئی زندہ انسان کا بچہ نہ ہو بلکہ پلاسٹک کا بنا سچ مچ کا ایسا گڈا ہو جس کے اندر زہر بھرا ہوا ہے اور اس سے کھیلنے والا بڑی بھیانک موت مرتا ہے۔۔ میں اس زہرناک گڈے کو کچرے میں پھینکتا دیکھ کرخود ہی چپ رہی کہ اماں کو کہنا ہی نہ پڑا کہ مرجانئے چپ کر جا۔۔

سو میڈم جی میں تو آج تک چپ ہی رہی تھی جی کہ چپ رہنے میں ہی سب کا بھلا ہے۔۔ آپ اخبار کے لئے کام کرتی ہو آپ نے پوچھا تو میں نے بتا دیا۔۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ آجکل سنتا کون ہے ۔۔ اور سن لے تو برداشت کون کرتا ہے ۔۔ جیسے ابھی میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ کی آنکھوں میں میرے لئے کتنی نفرت ابھر آئی ہے سو میں پھر سے چپ ہی کر جاتی ہوں کہ ابھی تو بس سینے کے بند کنویں سے سچ کا ایک بھونڈ ہی باہر نکلا ہے۔ پورا چھتہ باہر آگیا تو آپ برداشت نہیں کر پاؤگی۔۔

شاہدہ بولتی جارہی تھی اور میڈم کا دل چاہ رہا تھا۔۔کہ وہ سینے کے پورے زور سے چلا کر اس بدبخت کو کہے۔۔ ”بس ۔۔چپ”

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: