فاروق ستار کا پہلا گول: اقبال خورشید

0

” ایم کیو ایم پاکستان کی کثیر الجماعتی کانفرنس یکسر ناکام ثابت ہوئی!“

صاحبو، یہ الفاظ ایم کیو ایم لندن کی پریس ریلیز کا حصہ تو ہوسکتے ہیں کہ اُن کی خواہش یہی، لیکن اگر کوئی تجزیہ کار یہ موقف اختیار کرے، تو سمجھ لیجیے وہ کراچی کی سیاست سے اتنا ہی واقف، جتنے پاکستانی سیاست داں پاکستان کی خارجہ پالیسی سے۔ چینلز کے معاملے میں درگزر سے کام لیجیے، سنسنی خیزی اُن کی ضرورت۔ ٹھیک ویسے ہی، جیسے ”لائیکس“ اِس فقیر کی۔ سماجی مبصر کا اِس کے بنا کھانا ہضم نہیں ہووے ہے۔

سنتے ہیں، سیاسی جماعتوں نے اِس کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا تھا، جیسے پی پی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور اے این پی۔ اوراِسی بائیکاٹ نے فاروق بھائی کے منصوبے کا بھٹا بٹھا دیا۔
مگر سوال یہ ہے متروکہ وہ جماعتیں کیوں ایک ایسی کانفرنس میں شریک ہوتیں، جس کا کُلی فائدہ اس سیاسی جماعت کو ہونا تھا، جو کراچی میں اُن کی حریف وہ جماعت جو کل تک ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھی جسے تمام تر کوشش کے باوجود وہ شکست دینے میں ناکام رہی تھیں۔

2013 کے بعد کراچی میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن میں ایم کیو ایم کا زیر عتاب آنا،بھائی کے بیانات پر لگنے والی پابندی، پی ایس پی کی علیحدگی اور پھر 22 اگست؛ سچ تو یہ ہے کہ ہر واقعہ ایم کیو ایم مخالفین کے لیے ایک پرمسرت واقعہ تھا۔ چہرے دمک اٹھتے تھے۔ کیا خبر، چند پر اُنھوں نے مٹھائی بھی بانٹی ہو۔

22 اگست کے بعد جن صاحبان نے یہ پیش گوئی داغی کہ ایم کیو ایم قصہ پارینہ ہوئی چاہتی ہے، وہ کچھ ایسے غلط بھی نہیں تھے کہ کراچی کی اس نمایندہ جماعت پر( جسے مخالفین دہشت گرد جماعت کہتے ہیں) نہ صرف پابندی کی تلوار لٹک رہی تھی، بلکہ بھرپور کارروائی بھی امکانی تھی۔ اور کارروائی ہوئی بھی۔90پر تالا پڑ گیا،کتنے ہی کارکن گرفتار ہوئے، مارے گئے، کتنے ہی دفاتر سیل ہوگئے۔ ضرب ایسی کاری تھی صاحب کہ سیکٹر زکا سیٹ اپ بکھر گیا، اے پی ایم ایس او جیسی افرادی قوت فراہم کرنے والی تنظیم منتشر ہوئی۔ البتہ فاروق ستارگروپ کی بھاگ دوڑ سے نہ صرف اِن کارروائیوں کی شدت کسی حد تک کم ہوگئی، بلکہ ایم کیو ایم پاکستان انتہائی کٹھن حالات میں اپنا میئر منتخب کروا کر سیاست میں واپسی کے لیے بھی زور مارنے لگی۔ اچھا،فیصل سبزواری جیسے راہ نماؤں کی واپسی سے بڑا سہارا ملا۔

رکن قومی و صوبائی اسمبلی اوربلدیاتی نمایندوں نے بھی بڑی مدد کی۔ کچھ صاحبان کا خیال کہ ”بھائی“ سے علیحدگی کے بعد ان سب کو اصولی طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔ ایسا کرنا اخلاقی طور پر تودرست ہوتا، مگر یہ سیاسی خودکشی کے مترادف تھا۔ نہ صرف ایم کیو ایم کے لیے، بلکہ اس کے ووٹرز کے لیے بھی۔ اگر اس کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیتے، تو سمجھے لیجیے، یہ مکمل طور پرغیرمتعلقہ ہوجاتی، اور مخالفین کو مٹھائی بانٹے کا اور ایک اور موقع مل جاتا۔

مگر ایسا نہیں ہوا۔ یوں یہ جماعت، جس کی مرضی کے بنا کبھی کراچی میں پتا بھی نہیں ہلتا تھا، اپنے ”بانی قائد“ کے بنا، غداری کے الزامات سہتے ہوئے، لڑکھڑاتی ہوئی آگے بڑھتی گئی۔ میاں صاحب کی نااہلی کے بعد جب الیکشن قریب آتے معلوم ہورہے تھے، یہ از حد ضروری ہوگیا تھا کہ ایم کیو ایم کراچی میں اپنا ووٹ بینک بچانے کے لیے بھرپور کوشش کرے۔ یہ ووٹ بینک اردو اسپیکنگ طبقے پر مشتمل ہے،اوریہ ووٹ بینک چار برس سے جاری آپریشن، پی ایس پی کی مقبولیت، آفاق احمد کی منظر میں واپسی اور فاروق ستار گروپ کی لندن سے لاتعلقی کے باعث نہ صرف بکھر گیا ہے، بلکہ بڑی حد تک کمزور ہوچکا ہے۔اچھا، ووٹرز کی ایک بڑی تعداد متذبذب بھی ہے کہ کیا کریں، کیا نہ کریں!
اس ووٹ بینک کومتحد اور منظم رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ ایم کیو ایم کے مختلف دھڑے، چاہے اپنی شناخت قائم رکھیں، مگر ایک پلیٹ فورم پر اکٹھے ہوں، اورنہ صرف اپنے ووٹرز بلکہ مخالفین کو بھی اپنی موجودی کا احساس دلائیں۔

تو صاحبو، عزیزو، راقم الحروف کے نزدیک اِس ”یک سر ناکام“ کانفرنس کے بعد ایم کیو ایم کے مختلف گروپ اپنے مخالفین، یعنی پی پی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور اے این پی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا چکے ہیں۔اگر اِس کانفرنس کا ایجنڈا اینٹی الطاف پلیٹ فورم کا قیام تھا، تو مان لووہ بھی کسی حد تک پورا ہوا۔

فقیر پیش گوئی کرتا ہے: آیندہ انتخابات میں، ”مالک“ کی مرضی کے بعدیہ پتنگ کا نشان ہوگا، جو کلیدی کردار ادا کرے گا۔ ایم کیو ایم کا نام اور جھنڈا پرانے ووٹرز کو لبھائے گا۔کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کا صرف ایک حریف ہے،اور وہ ہے: ایم کیو ایم لندن!

فاروق بھائی پہلا گول کر چکے ہیں میچ کا اسکور ایک۔صفر ہےدیکھیں آگے کیا ہوتا ہے!


مصنف اقبال خورشید: کالم نگار، فکشن نویس، صحافی۔ مصنف: “ون منٹ اسٹوری” مدیر، سہ ماہی اجرا۔ گبرئیل گارسیا مارکیز اور اورحان پامک کا مداح۔  شرلاک ہومز کا دل دادہ، کراچی سے نالاں ایک کراچی کا عاشق۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: