شہریار صاحب (۱۹۳۶۔۲۰۱۲ ) معراج رعنا کی تحریر

0
  • 47
    Shares

شہریار(کنور اخلاق محمد خان) صاحب سے میری پہلی ملاقات آج سے کوئی بیس برس قبل علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے اُس روایتی مشاعرے میں ہوئی تھی جو ہر سال پچیس جنوری اور چودہ اگست کی شب آرٹس فیکلٹی کے تھیٹر نما کمرہ نمبر سات میں شعبۂ اردو کی جانب سے منعقد ہوتا ہے۔ اُس مشاعرے میں مجروح سلطان پوری مہمان شاعر کی حیثیت سے موجود تھے۔ میں نے جو غزل پڑھی وہ یوں ہی سی تھی لیکن وہ یوں ہی سی غزل میرے اور شہریار صاحب کے درمیان تعلقِ اول کا خاص سبب بنی۔ مشاعرے کے بعد یونی ورسٹی گیسٹ ہاؤس میں دورانِ طعام قاسمی صاحب (پروفیسر ابوالکلام قاسمی) نے اُن سے میرا تعارف کروایا یہ معراج رعنا ہیں، بی۔ اے (سال اول) کر رہے ہیں۔ ادب سے شوق ہے، شعر بھی کہتے ہیں۔ شہریار صاحب نے آہستہ سے مسکرا کر کہا ہاں آج میں نے ان کی غزل سنی۔ اچھی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ غزل اچھی نہیں تھی لیکن انھوں نے جس خلوص کے ساتھ یہ بات کہی تھی یقیناً اُ س غزل میں اچھائی کے کچھ عناصر ضرور پیدا ہو گئے ہوں گے۔ اُس زمانے میں امتیاز احمد، خواجہ جاوید اختر(مرحوم) اشفاق عارفی، قیصر ضیا،، نوشاد عاطر، رسول اختر پروانہ (رسول ساقی) وغیرہ اردو سے ایم۔ اے کر رہے تھے۔ حالانکہ میرے بی۔ اے کے تین پرچوں اردوشامل نہیں تھی پھر بھی میں زیادہ وقت انھیں لوگوں کے ساتھ شعبۂ اردو میں گزارتا تھا۔ ان لوگوں کی الوداعی تقریب میں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا جس میں شہریار صاحب بھی بحیثیت استاد کے موجود تھے۔ خواجہ جاوید اختر نے ترنم کے ساتھ اپنی ایک رومانی غزل سنانے کے بعد شہریار صاحب کی غزل گوئی کی ممکری کی یعنی جس طرح وہ مشاعرے میں غزل پڑھتے ہیں ٹھیک اسی طرح جاوید اختر نے شہریار صاحب کی ایک غزل سنائی۔ غزل سن کر شہریار صاحب خوب ہنسے۔ تقریب کے اختتام پر مجھ سے کہا کیا میں واقعی اسی طرح پڑھتا ہوں؟ میں نے کہا جی سر بالکل اسی طرح پڑھتے ہیں آپ۔ پھر انھوں نے کہا اس کا مطلب میں واقعی بہت خراب پڑھتا ہوں۔ وقت کے ساتھ ساتھ شہریار صاحب سے میرے تعلقات کا سلسلہ دراز ہوتا گیا۔

ریسرچ کے زمانے میں میں اکثر اُن کے گھر جایا کرتاتھا۔ و ہ شعر و حکمت (جس کے مرتبین شہریار صاحب اور مغنی تبسم صاحب تھے ) کے لیے مجھ سے پابندی سے مضامین لکھواتے۔ ایک دن اُنھوں نے مجھے فون کر کے کہا تم ایک اچھا سا مضمون عرفان صدیقی پر لکھ دو، شعر و حکمت میں ان پر ایک گوشہ ترتیب دیا جا رہا ہے۔ میں عرفان صاحب پر فکری منصوبہ بندی کر کے مضمون تقریبا لکھ ہی گیا تھا کہ اچانک ایک دن مجھے جونڈیس کی شکائت ہو گئی اور میں شہریار صاحب کو بغیر مطلع کیے اپنے آبائی شہرچلا گیا۔ تقریبا مہینے بھر کے بعد جب لوٹ کے آیا تو اُن سے میری ملاقات شعبۂ تاریخ کے سامنے ہوگئی۔ اس سے پہلے کہ وہ مجھ سے کچھ کہتے میں ان سے ایک سانس میں اپنا سارا احوال بیان کر گیا۔ مضمون کس مرحلے میں ہے؟ میں نے کہا تقریبا مکمل ہے۔ میں اُسے کل ہی مغنی صاحب کو پوسٹ کر دوں گا۔ انھوں نے کہا پوسٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کل صبح آٹھ بجے تم اُسے لے کر میرے گھر آجانا۔ میں کل شام کی فلائیٹ سے حیدرآباد جا رہا ہوں، وہ مضمون میں مغنی تبسم کو دے دوں گا۔ ویسے بھی اس شمارے کی ترتیب میں خاصی دیر ہو گئی ہے۔ میں نے وہی کیا جواُن کی ہدایت تھی۔

ایک دن میں اور محمد سجاد (پروفیسر، شعبۂ تاریخ) شہریار صاحب سے ملاقات کرنے ان کے گھر پہنچے۔ بہت دیر تک ادب اور تاریخ پر گفتگو ہوتی رہی۔ اُس دن ان کی میز پر دو نئی کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ ایک ساقی فاروقی کی آپ بیتی پاپ بیتی اوردوسری گوپی چند نارنگ کی کتاب تھی جو اردو لسانیات پر تھی اور رضا لائبریری، رامپور سے شالع ہوئی تھی۔ اردو خود نویشت کے حوالے سے جب بات ہونے لگی تو میں نے کہا اب آپ کو بھی چاہئیے کہ اپنی خود نوشت لکھیں۔ ان کا جواب تھا نہیں بھئی یہ کام میں نہیں کر سکتا۔ یہ کارِ جراتِ رندانہ ہے۔ میں بہت بزدل آدمی ہوں۔ اس دن ساقی فاروقی کی کتاب میں، اور نارنگ صاحب کی لسانیات والی کتاب محمد سجادلے کر شہریار صاحب کے گھر سے رخصت ہوئے۔ ایک دن میں نے ان سے کہا کہ میں نے اردو کی جتنی آپ بیتیاں پڑھی ہیں، ان میں قدرت اللہ شہاب کی شہاب نامہ بڑی ایمانداری سے لکھی گئی معلوم ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا تم سچ کہتے ہو۔ شہاب نامہ پڑھ کر شخصیت میں ایک تبدیلی نمایاں ہونے لگتی ہے۔ جس دن میرا پی۔ ایچ۔ ڈی کا زبانی امتحان ہوا ٹھیک اسی دن شہریار صاحب کی کتاب حاصلِ سیرِ جہاں (کلیات)طبعِ دوم سے گزری تھی۔ وہ فکر و نظر کے دفتر آئے(جس کی کئی سال تک شہریار صاحب نے ادارت کی تھی ) جہاں میں نائب مدیر کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ مجھے گرم جوشی کے ساتھ مبارک باد دینے کے بعد حاصلِ سیرِ جہاں کی ایک کاپی پر میرا نام لکھ کر میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا تھا میں پہلا آدمی ہو جو تمہیں ڈاکٹر لکھ رہا ہوں۔ اورمیں اُن کے اس محبت بھرے جملے سے آبدیدہ ہو گیاتھا۔

ایک دن میں اُن کے گھر بیٹھا ہو تھا کی ایک صاحب اردو کے جدیدید افسانہ نگار بلراج مینرا پر ترتیب دی گئی ایک کتاب کے ساتھ حاضر ہوئے، کچھ دیر تک مینرا پر اظہارِ خیال کرنے کے بعد انھوں نے شہریار صاحب سے اجازت لی اور چلے گئے۔ اُن کے جانے کے بعد انھوں نے مجھ سے کہا مینرا کی کہانیاں تمہیں کیسی لگتی ہیں۔ سریندر پرکاش اور انتظار حسین کے مقابلے میں نسبتا کم حُسن معلوم ہوتی ہیں۔ میں نے مزید کہا کہ سریندر پرکاش کی باز گوئی کی طرح بلراج مینرا کے پاس شائد کوئی کہانی نہیں جو اپنے اندر معنی کے متعدد امکانات رکھتی ہو۔ شہریار صاحب نے کہا جب تم نے باز گوئی کا ذکر چھیڑ ہی دیا ہے تو اس کی سحر آفرینی کے متعلق ایک واقعہ بھی سن لو۔ مظہر امام کشمیر دوردرشن کے جب ڈائریکٹرتھے تو انھوں میرے کلام کی رکارڈنگ کا دعوت نامہ بھیجا تھا۔ جس دن مجھے کشمیر جانا تھا عین اُسی دن سریندر کی بازگوئی مجھے موصول ہوئی تھی۔ میں نے اپنے رختِ سفرکے ساتھ اس کتاب کو بھی باندھ لیا۔ دوردرشن کے گیسٹ ہاؤ س پہنچے کے بعد اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو اُس میں اتنا منہمک ہو گیا کہ رکارڈنگ کا وقت ذہن سے محو ہو گیا۔ مظہرامام کو جب میں نے اس کی وجہ بتائی تو وہ بھی باز گوئی کی تازہ گوئی کے مشتاق ہو گئے۔ لہٰذا دوسرے دن رکارڈنگ ہوئی اور تیسرے دن میں باز گوئی کے ساتھ علی گڑھ لوٹ آیا۔ ۲۰۰۹ میں کانپور یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر میری تقرری عمل میں آئی۔ علی گڑھ اور شہریار صاحب سے تعلق کی نوعیت بالواسطہ طور پر قائم رہی۔

ایک دن یہ دل شکن خبر آئی کہ شہریار صاحب نہیں رہے۔ اُن کی موت کی خبر پر کچھ دیر تک ذہن میں تاریکی سی پھیلی رہی۔ جب اندھیرا چھٹا تو اُن کا یہ شعر یاد آیا جو اُنھوں نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو کے ایک مشاعرے میں بہ دہنِ خود پڑھا تھا:

زندگی کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیے
میں نے سب تیاریاں کر لی ہیں مرنے کے لیے


معراج رعنا
اسسٹنٹ پروفیسر،شعبۂ اردو
چھتر پتی شاہو جی مہاراج یونی ورسٹی
کانپور (بھارت)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: