ہمارا مغرب سے اختلاف کہاں پر ہے؟ احمد جاوید

2
  • 470
    Shares

مغربی تہذیب اپنے علم اور دیگر تہذیبی ارتقائی قوتوں سے بعض ایسی منزلوں پر پہنچی ہے جن منزلوں کی ہم سب کو ضرورت ہے۔ ان منزلوں کی ضرورت ہر انسان کو ہے چاہے وہ مذہبی سوچ رکھتا ہو یا غیرمذہبی سوچ رکھتا ہو۔ کائنات کا قانون وجود جو انسانی راحتوں میں ایک معاون قوت کا کام کرتا ہے اس میں اہل مغرب جتنی پیش رفت کر چکے ہیں اسکا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔

عمومی بات کریں تو معاصردنیا فطرت کی جس ڈومین میں پہنچ چکی ہے اس کا نہ انکار کیا جاسکتا ہے اور نہ اس سے اصولی طور پر اجتناب کیا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب انسانی ضروریات سے لے کر انسانی آئیڈیلز تک کی اقلیم پر اس وقت واحد حکمران ہے۔ عملی صورتحال یہ ہے کہ آپکو اپنی ذہنی و مادی تعمیر کا سارا سامان مغرب سے ہی لینا پڑ رہا ہے۔ مغرب کایہ علمی غلبہ اس حد تک ہے کہ اب دنیا کو ہرشے وہاں سے لینے کی عادت پڑ چکی ہے۔ آپ حب اسلام میں اپنی تسکین کے لیئے مغرب کو جیسے بھی کوس لیں مگر بہرحال یہ اب ایک واقعہ ہے جس کا انکار ممکن ہی نہیں۔

انسانیت کی گاڑی قطع نظر کہ اس گاڑی کے اسٹیرنگ پر کون بیٹھا ہے وہ جہاں تک پہنچ چکی ہے ہم وہاں تک پہنچنے سے انکار کر کے گاڑی سے نکلنے کا شور نہیں مچا سکتے۔ یہ فعل غیر انسانی بھی ہو گا اور غیر اسلامی بھی ہو گا۔ مغرب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس نے جن منزلوں تک ہم انسان کو پہنچایا ہے اس پر اس نے اپنا حق ملکیت نہیں جتایا۔ اعلی ظرفی کے ساتھ دل میں کوئی کراہت رکھے بغیر ہمیں مغرب کا یہ احسان ماننا پڑے گا اور اس کے خلاف کوئی بھی رائے جہاں غیر عملی ہو گی وہاں غیر دینی بھی ہو گی۔

ہمارا مغرب سے اختلاف کہاں پر ہے؟

یہ گاڑی جو کل انسانیت کو ورثے میں ملی ہے جس کی ڈرائیونگ سیٹ پر ہر زمانے میں کوئی نہ کوئی تہذیب رہی ہے اور آج مغربی تہذیب نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے اس گاڑی کو اگلی منزل تک پہنچا دیا ہے تو منزل پر پہنچنے کے بعد میں ڈرائیور پر انحصار اور اسکی مرضی سے آزاد ہوں۔ اب منزل پر پہنچ کر ہوٹل کا پتہ میں ڈرائیور سے نہیں پوچھوں گا۔ میں اپنے کھانے کا مینیو ڈرائیور سے لینے کا پابند نہیں ہوں گا۔ یہاں مجھے معلوم ہونا چاہیئے کہ مغرب نے جو کچھ دنیا کو دیا ہے اس میں کونسی چیزیں میرے دینی و اخلاقی تصور سے متصادم ہیں۔ مجھے یہ معلوم ہو کہ مغرب میرے لیئے کہاں خطرہ ہے اور یہ کہاں میرے لیئے اللہ کی بہت بڑی نعمت بھی ہے۔

واقعہ یہ ہوا ہے کہ مغرب نے موجودہ انسانی تہذیب کی حرکت میں خدا کے انکار کو ضرورت کے طور پر ڈال دیا ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ اس نے انسان کے اخلاقی، سماجی، معاشی اورعلمی وجود کی تشکیل کے عمل میں خدا کو رکاوٹ بنا کر خارج کردیا ہے۔ تو اب ہمیں اس پورے پیراڈائم سے نہ صرف نکلنا ہے بلکہ اپنے تہذیبی پیراڈائم کا احیاء بھی کرنا ہے۔ ہمیں یہ جواب دینا ہے کہ خدا کو مرکز میں رکھے بغیر، خدا کو زندگی کی حرکتوں میں مرکز و منتہی بنائے بغیر انسان اپنے اخلاقی، تہذیبی اور کسیطرح کے یونیورسل مطالبات پورے نہیں کرسکتا ہے۔ مگر یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ ہم یہ جواب دینے میں ناکام ہیں۔ یہ جواب فی الحال ہمارے حافظے تک ہی محدود ہے۔

ہمارا مغرب سے جو اصولی اختلاف ہے اس اختلاف میں ہمارا ہتھیار انکی ایجاد کردہ بندوق نہیں ہے بلکہ ہمارا ہتھیار ہمارا نتیجہ خیز علم اور ہمارا وہ اخلاقی مظاہرہ ہو گا جو ہماری معاشرت کو تعمیر کرکے دکھا چکا ہو گا۔ اصولی طور پر اس وقت ہم بالکل ناکام ہیں اور ہمیں اسکا کھلے دل سے اعتراف کرنا ہے۔

مگر اس ناکامی کے اعتراف کے بعد ہم کہیں سے راستہ بھی تو ڈھونڈنا ہے۔ تو راستہ یہ ہے کہ اپنے تصور علم پر علمی ترقی کرنا، اپنے تصور اخلاق پر بااخلاق بننا یہ ہماری اس وقت سب سے بڑی ضرورت ہے اور اس سے ہمیں مغرب روک نہیں رہا ہے۔ یہ ہم بغیر کسی خوف کے کر سکتے ہیں۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہم اپنے تصور علم کو نتیجہ خیز بنانے کی جدوجہد سے تین چار سو سال قبل سے ہی دست بردار ہو چکے ہیں۔ مغرب سے لڑنے کا جو اصل میدان ہے ہم اپنی کمزوری کیوجہ سے وہاں سے فرار ہو کر اس میدان میں لڑ رہے ہیں جہاں اس سے لڑنے کی ضرورت ہی نہیں ہے اور جن لوگوں نے لڑائی چھیڑ رکھی ہے وہ مغرب کے غلبے کو ایک نظریاتی جہت دے کر گویا انکے تہذیبی تصورات کو ہم پر مزید مضبوط کر رہے ہیں۔

٭مغرب کی طرف سے درپیش چیلنجز کون کون سے ہیں ؟
ہمیں دو طرح کے چیلنجز درپیش ہیں ، دو طرح کے ایسے خطرات درپیش ہیں جن میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز کریں تو ہم اپنے دین کے ناکام اور بے اثر ترجمان بن کر رہ جائیں گے- ان چیلنجز میں سے ایک باہر سے درپیش چیلنج ہے اور بہت سادہ لفظوں میں، مغرب سے۔جو د نیا کی عملی ، مادّی، انتظامی اور علمی تشکیل کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے، آج دنیا اپنی تعریف کے لیے جن بنیادی اجزاء کی خواست گار ہے ، [ یعنی جن بنیادی اجزاء کے ساتھ دنیا کو موَثر طریقہ سے بیان کیا جا سکتا ہے]، اُن تمام عناصر اور اجزائے تعریف پر کُل کاکُل تصرف مغرب نے حاصل کرلیا ہے۔اس بات کو مانے بغیر اور اس بات کو ایک تلخ حقیقت کے طور پر تسلیم کیے بغیر، ہم اپنے موقف کی ایسی تشکیل نہیں کرسکتے جو موجودہ زمانے پر اثر انداز ہوسکے، اور اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے دین سے تعلق اور اس کی ترجمانی کی بُہیتری یا اکثر ضرورتیں پوری نہیں کرسکتےہیں.
جو چیلنجز ہمیں درپیش ہیں اُن کی فہرست یوں ہے:

الف: مغرب سے درپیش وہ چیلنجز جنہوں نے ہماری بقاء کے ساتھ ساتھ ہمارے تصور ِدین تک کو متاثر کیا ہے-
ب: وہ داخلی چیلنجز جو ہمارے ہی اندر سے اُٹھ رہے ہیں اور دینی فکر اور دین کے پورے بیانیے پر، اور دین کی تمام اقلیموں پر غالب آجانے کی کوشش کر رہے ہیں – یہ داخلی چیلنجز خطرے کے اعتبار سے زیادہ شدید ہیں، اور یہ داخلی چیلنجز اُن چیلنجز کا انعکاس ہیں جو مغرب نے ہم پر مسلط کیے ہیں یا مغرب سے پیداہوئے ہیں-
ہماری پہلی گفتگو بیرونی چیلنجز کے بارے میں ہے اور اگلی گفتگو میں ، ان شاء اللہ ، ہم اپنے ذہن کو داخلی مسائل پر مرتکز رکھیں گے۔اس نیت کے ساتھ کہ ہم ان دونوں طرح کے چیلنجز کا کامیابی کے ساتھ سامنا کرنے کے لیے کیا تدابیر اختیار کرسکتے ہیں؟ یعنی اپنی دینداری کے موجودہ احوال میں کس طرح کی اصلاحات لاکر ایسے مہلک چیلنجز کو اپنے اوپر اوّلا بے اثر بنا سکیں اور ثانیاّ اُ ن پر غالب آسکیں ؟ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
تمہیداَ عرض کردوں کہ ابھی جن چیلنجز کی بات کی ہے اگر اُن کی فہرست بنائی جائے ، اور اُس فہرست کو ابواب میں تقسیم کیا جائے تو وہ تین یا چار اقسام کے چیلنجز ہیں۔ چاہے وہ خارج سے وارد ہوئے ہوں یا وہ خارج سے نکلے ہوں- ان میں کچھ چیلنجز علمی ہیں- علمی سے مراد یہ ہے کہ مغرب نے ایک نظام العمل تشکیل دیا ہے۔ ایک نالج آرڈر بنایا ہے اور اُ س نے نظام العمل کو ذہن اور دنیا کے درمیان تعلق پیدا کرنے کی ایک واحد موَثر اساس بنانے میں کامیابی حاصل کردکھائی ہے- اس طرح کے جو علمی چیلنجز ہمیں در پیش ہیں اگر اُن انہیں جواب نہ دیا گیا، معرفتِ حق اور شعورِ ایمانی کی بہترین قوتوں کے ساتھ اُن کا مقابلہ نہ کیا گیا تو پھر ہمارا دین ہمارے حافظے تک محدود ہوکر رہ جائے گااور ہمارا ایمان ہمارے شعور میں بہترین احوال سے غیر متعلق رہ جائے گا۔ ان چیلنجز کو خواہ کسی بھی وجہ سے نظر انداز کیا گیا خود پسندی یا جذباتیت کی نذر کیا گیا تو نتیجتاَ ہمارا ذہن اپنی بہترین سطحوں پر دین کے چشمہ سے سیراب ہونا بھول جائے گا۔ ہمارا شعور اس بات سے قاصر رہ جائے گا کہ وہ دین یا ایمانیات کو اپنا ایسا بنیادی تناظر اور نقطہ نظر بناسکے جس اساسی تناظر اور نقطہ نظر کے اصول سے دنیا اور آدمی کو سمجھنے والے علوم پیدا ہوتے ہیں۔ تو یہ ہے اس موضوع کی اہمیت: ہم اگلی تحریر میں اسی موضوع پر تفصیل سے بات کریں گے ہے۔

مغرب سے درپیش بڑے چیلنجز:
۱۔ علمی چیلنجز: 
ہمیں درپیش علمی چیلنجز سے آغاز کرتے ہوئے میں ایک بات عرض کروں گا کہ ایک اصطلاح ہے ” ایپسٹیم” جس کا ترجمہ تو شاید نہ ہوسکے، اس کو کھول کر بیان کرنےسے شاید و واضح ہوجائے، ان شاء اللہ، “ایپسٹیم ” کا لفظی مطلب علم ہے، لیکن اس کا اصطلاحی مطلب زیادہ وسیع ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ مزاجِ علم، حدِ علم، صورتِ علم اور ضرورت علم- جب یہ سب اصطلاحیں ایک تہذیب میں یکجا ہوجائیں تو اُنہیں اُس تہذیب کا “ایپسٹیم” کہا جائے گا۔ یہ اس تہذیب کا وہ علمی جوہر ہے جس سے اس کی تمام معلومات جنم لیتی ہی جس کی روشنی میں اس تہذیب کا مجموعی ذہن مختلف خیالات اور نظریات کی تشکیلِ نو یا تجدید کرتا رہتا ہے۔ تو اس پہلو سے ہمیں جس بہت بڑی مصیبت، بہت ہی بڑی رکاوٹ کا سامنا ہے وہ یہ ہے کہ مغرب نے [یعنی مغربی علم، مغربی “ایپسٹیم” نے] “علم ” اور “معلوم” کے درمیان ربط کو [ یعنی علم اور آبجیکٹ کے درمیان نسبت کو] اتنا متعین، اتنا متحجر اور اتنا فکسڈ کردیا ہے کہ آج دنیا اپنی علمی فارم میں، اپنی واقعی حیثیت اور اپنی ذہنی صورت میں، اپنے وجود میں ، اور دنیا اپنے شعور میں بھی ایسی بن کر رہ گئی ہے کہ جس میں کسی بھی طرح کی مابعدالطبعیات کی گنجائش اور ضرورت نہیں رہ گئی ہے۔ آج مغرب نے انسانی ذہن کو اس طرح کرافٹ کردیا ہے اور دنیا کو اس طرح اپنے ذہن میں تعمیر کرلیا ہے اور دنیا کو ایسی تعریفات اور ڈیفینیشن دے دی ہیں کہ جس کے نتیجہ میں خدا کو ماننے اور دین پر چلنے کی روایت تیزی سے اجنبی، غیر مطلوب، اور غیر موَثر ہوتی چلی جا رہی ہے۔سب سے بڑا خَلا جو مغرب کامیابی کے ساتھ ایکسپورٹ کر رہا ہے وہ خَلا یہی ہے کہ اُس نے انسانی شعور اور انسانی دنیا کو ایک ایسا روپ دےدیا ہے اور اُسے ایسے ماحول میں بدل دیا ہے، جہاں خدا کی جگہ بنانے کے لئے تکلف کرنا پڑتا ہے، جہاں دین کو ماننے کےلیے ایک اجنبی پن کے احساس سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس صورت حال کا نتیجہ ہم مسلم سوسائٹیز کی روایتِ علم میں دیکھ رہے ہیں ۔ یہ صرف ایک مفروضہ نہیں ہے۔ اس کا اثر خود مسلم ذہن اور مذہبی ذہن پر پڑا ہے۔ اس کی تفصیلات اس طرح ہیں :

آج مغرب نے دنیا کو واقعی اسٹرکچر / ڈھانچے میں اور دنیا کو اس کی خود ساختہ منظم تشکیل میں انسان کے بارے میں تصور کو اتنا زیادہ بدل دیا ہے کہ انسانی ذہن کے لیے ایمان نامانوس ہوکر رہ گیا ہے ۔ عملِ صالح کے لیے دنیا ایک اجنبی جگہ بن کر رہ گئی ہے ۔ یعنی ہم دنیا میں وہ جگہ ڈھونڈ نکالنے میں مشکل محسوس کرنےلگے ہیں جہاں ہم خدا کو مرکز بناکر، حاکم بناکر، معبود بناکر اور خالق بنا کر رکھ سکیں، مان سکیں اور منواسکیں ،اور جہاں دین کے دئیے ہوئے بنیادی تناظرات چیزوں کو دیکھنے کا واحد ذریعہ ہو۔ آج کی صورتحال یہ ہے کہ انسان کا تجزیہ کرنے والے اور دنیا کے تکنیکی پہلو تک رسائی کی کوشش کرنے والے تمام جدید علوم بِن کہے اس بات پر متفق ہیں کہ اُنہوں نے شےَ کی ساخت، شعور کی بناوٹ اور مزاج کو ایسا بنادیا ہے کہ خدا ایک آئیڈیا اور ایک تصور کے طور پر بھی غیر موَثر اور غیر متعلقہ ہوکر رہ گیا ہے۔

یہ ایسا خطرہ نہیں کہ اس میں صرف اہلِ مغرب مبتلا ہیں اُن کے لیے تو یہ کامیابی ہے۔ اس خطرہ میں جدید تعلیم یافتہ مسلم اذہان بھی گرفتار ہوچکا ہے اور اس خطرے کے پھیلاوَ اورتاثیر کی رفتار اتنی تیز ہے کہ اب یہ خطرہ مذہبی ذہن کے دروازہ پر بھی دستک دے رہا ہے۔ یہ کون سا خطرہ ہے؟ یہ کہ خدا کو ماننا فطری نہ لگے، خدا کی اطاعت جبر بن کہ رہ جائے، اور خدا کے ساتھ تعلق کے تمام مظاہر کسی بھی دنیا کے نقطہ نظر کی تشکیل میں درکار ہی نہ رہیں ۔ یہ تو ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ اس علمی خطرے کے مائی باپ علم کے ہر شعبےمیں پائے جاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر بگ بینگ تھیوری جو کسی بھی طرح سائنسی تَیَقُّن حاصل کرنے میں تاحال ناکام ہے، اور آپ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ اس تھیوری کا اصل مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ کائنات تخلیق نہیں کی گئی، کائنات کا کوئی خالق نہیں، یہ ایک سپر نقطہ یا ذرہ تھی، ایک ناقابل پیمائش نقطہ، جس میں ٹائم اور خلا مجتمع تھے، سموئے ہوئے تھے۔ کسی وجہ سے وہ نقطہ پھٹ کر غبارے کی شکل اختیار کرگیا۔ اس نقطے کے بلاسٹ کرجانے اور داخلی انفجار سے زمان و مکان اور یہ ساری کائنات وجود میں آئی ہے۔ اس نظریہ کی سائنسی تفہیم اس وقت ضروری نہیں ہے۔ میں صرف اس کا نتیجہ عرض کردیتا ہوں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ بگ بینگ کے محض امکان کو بھی مان لینے کے نتیجہ میں کائنات کو مخلوق جاننا اور ماننا ناممکن ہوجائے گا۔ یہ پہلا حملہ ہے۔

دوسرا حملہ نظریہ ارتقاء، یعنی ڈاروِن کی تھیوری آف بائیولوجیکل ایوولیوشن۔ ،مغرب میں جو چیزیں عقیدے کے تحکم اور استقلال کے ساتھ مانی جاتی ہیں ان میں ایک نظریہ ارتقاء بھی ہے جو ڈاروِن کا ہے۔ نظریاتِ ارتقاء اور بھی ہیں۔ سپنسر وغیرہ کے، لیکن ڈاروِن کا نظریہ ارتقاء یہ ہے کہ انسان ایک قدرتی انتخاب ہے، ایک فطری اتفاق سے بنا ہے، یہ مخلوق نہیں ہے: جس طرح بگ بینگ تھیوری کائنات کے مخلوق ہونے کی نفی میں سب سے بڑی دلیل بن رہی ہے، اسی طرح ڈاروِن کا نظریہ ارتقاء انسان کے مخلوق ہونے پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگا چکا ہے۔

مغربی ذہن نے جو دنیا پر اس وقت علمی اور عملی طور پر قدرت رکھتا ہے، اُس عملی اور مجموعی ذہن نے ان دو نظریات کو قبول کر رکھا ہے ۔اور مغرب کے انسان اور دنیا کے بارے میں پیدا ہونے والے تمام علوم ان دو بنیادوں سے پھوٹتے ہیں ۔ یعنی انسان کا تجزیہ کرنے والا علم چاہے “اینتھروپولوجی” “علم بشریات” کا کوئی علم ہو، ان سب میں اس چیز کو ایک بنیادی مسلمہ کے طور پر قبول کیا جاتا ہے کہ آدمی ایک نوع سے دوسری نوع میں شفٹ ہونے کے نتیجے میں پیدا ہوا ہء، کسی “امرِ کُن” کے نتیجے میں بنی بنائی حالت میں یہاں نہیں اتارا گیا۔ تو انسانوں کا مطالعہ کرنے والے گویا کہ تمام علوم اس کی نفسیاتی ساخت میں سے مخلوقیت کے جوہر کو منہا کردینے پر متفق ہیں۔ کیا یہ کم خطرہ ہے؟ یہ وہی نفسیات ہے جس کو پڑھ کر ہمارے یہاں لوگ سائیکیٹرسٹ اور سائیکولوجسٹ بنتے ہیں۔ یہ وہی بگ بینگ نظریہ ہے جس کو مانے بغیر آپ کو فزکس کی کسی کلاس میں داخلہ نہیں ملے گا۔ مطلب یہ کہ ان کا زور، دباوَ، پھیلاوَ اور اُن کی تسلیم اب بہت زیادہ مضبوط اور تقریبا غیر مشروط ہے۔

تیسرا خطرہ یہ ہے کہ مغرب نے اپنی بہترین فلسفیانہ قوتوں کے ساتھ جو سماجی اور سیاسی علوم کی روایت شروع کی۔ یعنی فلسفہ اور سوشیالوجی وغیرہ۔ تو اس کا ایک نتیجہ جو ہمارے ذہن پر مرتب ہوا، جس نے ہمارے شعور کو اس کی اصلی بنیادی اور ساخت سے اکھاڑ دیا۔ اور یہ ممکن ہی نہیں کہ جسے ہر انسانی دماغ محسوس نہ کرسکے، اس کا ادراک نہ کرسکے، اُس کا احساس نہ کر سکے، اور اگر مزاج دینی ہے تو اس پر پریشان نہ ہو۔ وہ یہ ہے کہ ہمارے شعور میں عقیدہ اور علم کو جوڑنے والی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ ہمارا ایمانی شعور خود ہمارے لیے موَثر طور پر مدلّل نہیں رہ گیا۔ اللہ کو ماننا اُس کی تمام شانوں کے ساتھ ہمارے اندر شعور کی بہترین سرگرمیوں کو جنم نہیں دے رہا ہے۔ ہمارا ایمان دنیا اور انسان کے بارے میں علوم کی بنیاد نہیں بن رہا۔ ہمارا ایمان ایک ایسی منطق کو ہمارے ذہن میں جنم نہیں دے رہا ہے جو ایمانیات کا علمی دفاع کرنے کے قابل ہو، یا جوخود ایمانیات کو ہمارے ذہن کی بہترین طاقتوں کے لیے پورا کرسکے اور قابل تسلیم اور محبوب بناسکے۔ یعنی ایمان ذہن کی ایک ضد سے زیادہ اپنے وجود کے شواہد نہیں رکھتا۔ یہ میں علمی پہلو سے کہ رہا ہوں۔ گویا اگر علم کی جہت سے دیکھا جائے تو آج ہمارے علماء کا ایمان بھی، اِلاّ ماشاءاللہ، ذہن کی بہترین حالتوں کو گرویدہ کرنے کے قابل نہیں ہے اور ایسا فطری استدلال، ایسی قدرتی حالت اور ایسا جمالیاتی تموج نہیں رکھتا جو میرے شعور کے تمام گوشوں کو ایک حالتِ سیرابی میں رکھے، اور میرے ایمان پر اُٹھنے والے ہر سوال کو اُس سوال سے اشتراک رکھنے والی منطق کے وسیلے سے حل کر سکے۔
پورے عالمِ اسلام کی سطح پر یہ ایک اتنا بڑا بحران ہے کہ اس کو نظر انداز کرنا نہ صرف یہ کہ بے وفائی ہے بلکہ اقدام خودکشی ہے۔ قومیں قتل سے نہیں خودکشی سے مرتی ہیں۔ تو ویسٹ کا غلبہ ہمیں آمادہَ خودکشی کرچکا ہے، کیوں کہ یہ ایمان کے فطری تقاضوں اور ایمان کے اندر علوم سازی کی جو رَو چل رہی ہے، مغرب کے اس غلبے نے ہمیں اس سے غافل بلکہ محروم کر رکھا ہے۔ یہاں آپ کے سامنے بھر پور اور زور دار انداز میں یہ شکایت رکھی جارہی ہے تاکہ شکایتوں کو حل کرنے والا ذہن اس طرف جلدی سے اور رغبت کے ساتھ متوجہ ہوسکے۔ ایمان کیا ہے؟ ایمان کہتے ہیں شعور کو ایک ایسا حتمی تخیل فراہم کردینا۔ شعور کو ایک ہمہ گیر عقیدہ فراہم کردینا کہ شعور اس عقیدہ کو اپنی رگ رگ میں رچا بسا کر علوم سازی کا کام کرنے کےلیے تیار ہوجائے۔ یعنی ایمان ایک اعلیٰ ترین سطح پر متاعِ شعور بنے اور اپنی فعال حالت میں دنیا اور آدمی یا انسانوں کے لیے درکار تمام علوم کی تشکیل کا واحد سبب اور اکیلی سند بن کر دکھائے ۔ یہ کام وہ تھا جو ہمارے اَسلاف نے بہت کامیابی سے صدیوں تک کرکے دکھایا ہے۔ لیکن آج ہم اس خلا میں رہتے ہوئے بھی اس خلا میں رہنے کے احساس سے محروم ہیں۔

چوتھے یا تیسرے سبب کا ایک ضمنی مظہر یہ ہے کہ آج مغرب [یعنی دنیا] کو علمی اور عملی طور پر چلانے والی قوت کو، نیز مغرب میں تمام علوم و فنون، تمام تہذیبی اَقدار، تمام اخلاقی آئیڈیاز کو بہت مہارت سے اس طرح کرافٹ کیاجا رہا ہے اور اس طرح ڈیزائن کیا جا رہا ہے کہ ان کو قبول کرنے کے نتیجے میں خدا کا انکار واجب ہوجائے۔ آج مغرب میں علم کا جو بنیادی دھارا ہے، اُس بنیادی دھارے کی تشکیل کرنے والے تمام علوم میں دو رویے گویا پکارتے اور چیختے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ دو رویے یہ ہیں: یا تو خدا کا انکار کرنا یا خدا سے لا تعلق رہنا:

چنانچہ خدا کا انکار اور خدا سے لاتعلقی کا رویہ گویا ایک عالم گیر نظامِ تعلیم کی بنیاد اور مقصود کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ یہ وہی تعلیم ہے جو ہم حاصل کر رہے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہمارا ذہن جدید تعلیم کے جتنے زیادہ مدارج طے کرتا جاتا ہے اُتنا ہی خدا سے نامانوس یا بیزار ہوتا چلا جاتا ہے۔ کوئی تو وجہ ہے نا؟ کیا وجہ ہے کہ ہمارا جدید تعلیم یافتہ ذہن اپنے دین کو بہترین علم کی حیثیت دینے میں ناکام ہے۔ اپنے دین کو اپنے مجموعی شعور کے مرکز میں پوری فعالیت اور نتیجہ خیزیت کے ساتھ وابستہ رکھنے میں ناکام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید تعلیم خدا کو طالب علم کا کوئی مسئلہ نہیں رہنے دیتی، جدید تعلیم اپنے اصلی مزاج میں [وہی جو سرسید احمد خان سے شروع ہوئی] دین سے لاتعلقی کی تعلیم ہے۔ جدید تعلیم، چاہے وہ سائنس ہویا سوشل سائنس کی، اُن کا مشترک وصف یہ ہے کہ شعور کے مزاج میں سے ایمان کی ضرورت کو خارج کردیتی ہے۔ آج ہم نے ان رجحانات سے نمٹنے، ان پر غالب آنے اور اُنہیں روکنے کی کوشش نہ کی تو پھر اس دین کے ساتھ تعلق کی تمام ہیئتیں یا تو عادات کے درجے پر رہ جائیں گی یا پھر مشینی اور جبری ہوکر رہ جائیں گی۔

چنانچہ ضروری ہے کہ ایسے لوگ جو دین کے دائرے میں تعلیم و تعلّم کا کام [ان شاء اللہ] اخلاص کی بلند سطح پر ہوکر کررہے ہیں، اُن حضرات سے یہ توقع کی جانی غلط نہیں ہے اور اُن کی جناب میں یہ درخواست گزارنی غلط نہیں ہے کہ خدا کے لیے تعلیم کے اس مزاج کے پھیلاوَ کو روکیں۔ ورنہ یہ مزاج پھیلتے پھیلتے دینی اداروں میں بھی داخل ہوجائے گا، اور کہیں کہیں یہ داخل ہوچکا ہے ۔ خدا سے بے نیازی کا، خدا سے بے رغبتی کا، خدا سے بیزاری کا، خدا سے لاتعلقی کا ، اور کہیں خدا کے ڈائریکٹ انکار کا۔

ہماری سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ ہم نے اپنے دین کو شعور کی ہر نوع پر غالب رکھنے کی جدو جہد سے دستبرداری حاصل کرلی ہے ۔ یعنی یہ ہمارا فرض تھا کہ ہم اپنے دین کو ذہن کی تشکیل کا سبب اور اخلاق کی تعمیر کا وسیلہ اور منزل بناتے۔ لیکن اس کی طرف سے غفلت کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ذہن کو تعمیر اور اخلاق پیدا کرنے والے تمام ذرائع دینی ہاتھوں کی گرفت سے نکلتے چلے جا رہے ہیں اور بخدا نکلتے چلے جا رہے ہیں: مطلب یہ ہے کہ جو بھی اس کے خلاف بولے گا یا تو وہ ضد کریگا یا جھوٹ بولے گا۔ آج ہماری دین داری کے تمام ادارے اور تمام روایتیں ایمان کو اُمّ العلوم اور اُمّ الاخلاق بنانے میں ناکام ہیں، آج ہمیں اگر علم کا [یعنی شعور کی بلندی کا] کوئی نمونہ ڈھونڈنا ہوگا تو وہ دینی حلقوں میں نظر نہیں آتا ۔ چنانچہ آج اگر اخلاقی برتری کا کوئی نمونہ ڈھونڈنا ہوگا تو وہ دین دار لوگوں کے حلقے کی بنسبت دین داری کی روایت سے باہر والے لوگوں میں زیادہ شدت اور تاثیر کے ساتھ نظر آتا ہے ۔ جن اصولوں کی بنیاد پر ہمارا دین اخلاقی وجود کی سیرابی کرتا ہے، ان اصولوں سے سب سے زیادہ انحراف اس دین کے خود ساختہ ترجمانوں نے کیا ہے ۔ ہمارے اس دعویٰ، کہ ہمارا دین ہمارے شعور کی تعمیر کا واحد ضامن ہے، کی تکذیب کا عملی مظاہرہ جس حلقے میں سب سے زیادہ ہورہا ہے وہ وہی ہے جو دینی ذہن رکھنے کو دعویٰ کرتے ہیں ۔

مختصر یہ کہ ذہانت اور اَخلاق میں برتری حاصل کیے بغیر ہم معاصر دنیا میں مخالف و متصادم رجحانات، اقدار اور مزاج کا سامنا نہیں کر سکتے ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ یا تو اس لہر میں بہہ جائیں یا اس لہر کے سامنے بند باندھیں ۔ تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ یا تو مغرب کی اُٹھائی ہوئی اس طغیانی کے آگے مٹی کے گھروندے کی طرح ڈھے جائیں، یا پھر اس طغیانی کے مقابلے لےلیے ڈٹ جائیں، تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ غیر جانبدار رہنے کےلیے غیر جانبدار حلقے ہوا کرتے تھیں، اب دنیا میں ایسا کوئی حلقہ نہیں رہا جس میں ہم پناہ لے کر اس یلغار سے بچ سکیں ۔ چنانچہ اس میں بہت جلدی اور بہت اخلاص کی ضرورت ہے ۔ اس میں ایمان اور علم کے درمیان تعلق کی اور اس روایت کی تجدید اور احیاء کی ضرورت ہے جو ہمارے اسلاف کے ہاں نظر آتی ہے ۔

اور ہمیں اس بات کی بہت ہی زیادہ حاجت ہے کہ ہم اپنی ذات سے ثابت کریں کہ یہ دین انسان کو “اخلاقی وجود” کس طرح بناتا ہے؟ یہ دین تہذیب کو اس کی اَقدار کیسے فراہم کرتا ہے ؟ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان اقدار کو عمل میں آتے ہوئے دکھائیں ۔ غرض یہ حقیقت کہ یہ دین انسانی دنیا میں اخلاق کا مقوم اور اقدار کا بانی کس طرح ہے ، یہ ہمیں صرف نظریاتی طور پر ماضی کی ایک یاد کے اداس پیرائے میں اور مفلسانہ تکبر، خود پسندی، جاہلانہ گھمنڈ اور ضد کے ساتھ ثابت نہیں کرنا ہے ۔ ہمیں اپنے دین کی اخلاقی اور ذہنی نتیجہ خیزی کو اپنی ذات سے ، اپنے اداروں سے ، اپنی معاشرت سے ، ہر صورت میں ثابت کرنا ہے : اور اگر اس میں ہم نے ذرا بھی دیر کردی تو اگلی نسلوں کے لیے دین کو ماننا بوسنیائی مسلمانوں کی طرح ایک کلچرل ایکٹیویٹی تو رہ جائیگا، اس سے آگے اُس کی کوئی معنویت اور تاثیر نہیں رہے گی ۔ تو خدا کے لیے اپنی تمام تر ضمنی اور فروعی مصروفیات کو چھوڑ کر اس طرف پلٹیں۔ اس کام کو کرنے کے لوازم حاصل کریں، وسائل حاصل کریں، اور اس کام کو عمدگی سے، کامیابی سے، انجام دینے والی قابلیت اور مہارت پیدا کرنے کی کوشش کریں ۔

ایک مفکر، ایک ملحد مفکر کا سوال آپ کے سامنے رکھا جا رہا ہے ۔ ایک سوال جو بہت موَثر تھا: “برٹنڈرسل” جو حسنِ اظہار میں بڑے سے بڑے ادیب سے زیادہ تھا، حسنِ تخیل میں بڑے سے بڑے شاعر کے برابر تھا اور اظہار میں واضح ہونے [ اظہار مافی الضمیر] میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا تھا اور صاف انداز میں سوچنے میں معاصر دنیا میں ایک بڑا نام تھا اور صرف فلسفیانہ حلقوں ہی میں نہیں بلکہ اور دائروں میں بھی بہت موَثر [و مقبول] تھا، اس نے ایک کتاب لکھی “میں ایک عیسائی کیوں نہیں ہوں؟” یہ ایک زمانے میں دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں سے ایک رہی ہے اور آج بھی اس کے پڑھنے والوں کا بہاوَ / کی تعداد اور رواج کم نہیں ہوا ہے ۔ اس کتاب میں اُس نے ایک سوال اسلام پر بھی اُٹھایا ہے کہ “اسلام نے کون سی ذہنی اور تہذیبی ضرورت پوری کی ہے؟” مطلب یہ کہ اسلام آج کی دنیا میں کون سی علمی اور تہذیبی ضرورت پوری کر رہا ہے؟ تو اُس کے اِس سوال کو دن میں دو چار مرتبہ اپنے اندر گونجنے دیجئے ۔ اس معاندانہ سوال کو: اور پھر سوچئے کہ آپ اس دعوے کو غلط ثابت کرنے کے لیے کیا کر رہے ہیں یا کیا کر سکتے ہیں ؟ کیا یہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ آپ رَسل کو ٹھوس بنیادوں پر غلط ثابت کریں ؟

اس سوال کی وضاحت کچھ اس طرح ہے:
:- اسلام کا انسانی علم اور تہذیب کے لیے کیا حصہ ہے؟
:- اسلام نے شعور کے علمی افق کو کتنا وسیع کیا ہے اور وجود کے اخلاقی روح / مادہ کو کتنا تخلیقی اور نو خیز پیداوار بنایا ہے؟
:- انسانی تہذیب کی وہ کون سی اقدار ہیں جن کو اسلام عملی طور پر چلا رہا ہے؟

رسل یہ نہیں کہہ رہا کہ ایک ہزار سال پرانی مثالیں لاکر دیں ۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ تمہاری اور تمہارے دین کی کامیابی کی تمام مثالیں ماضی بعید ہی میں کیوں ہیں ؟ اب ظاہر ہے کہ یہ سوال شیطانیت ہے، لیکن جیسے ہی ہم وہاں کھڑے ہو کر کہیں گے کہ یہ سوال شیطنیت ہے ، ویسے ہی اپنے محضر شکست پر دستخط کردیں گے {گویا کہ ہم نے اسی لمحہ اپنی شکست پر دستخط کردیا} ۔ ہم یہ کہ کر فارغ {بری الذمہ} ہوجاتے ہیں کہ یہ شیطانی سوال ہے، یہ کافرانہ سوال {سوچ} ہے، یہ جاہلانہ استفسار ہے ۔ لیکن اس سوال کے جو اثرات پیدا ہورہے ہیں ان اثرات کی روک تھام کا کوئی موَثر انتظام نہیں کرتے ۔ یہ سوال حامد میر جیسے میڈیا کے لوگوں کی طرف سے اٹھایا ہوا سوال نہیں ۔ یہ سوال رَسل کا ہے: جس نے فلسفہ کے ایک اسکول میں مرکزی حیثیت اختیار کی تھی ۔ تاریخِ فلسفہ اس بات کی شاہد ہے کہ رسل ذہن کی ایک بہترین ورکنگ اور تصور سازی کی بہترین روایت کو سمجھتا ہے اور اس کی یہ سمجھ ناقدانہ ہے ۔ رَسل کا کہنا ہے جب میں کسی دین کو قبول کرتا ہوں تو اُس کو اپنے شعور اور زندگی کے ذرّے ذرّے کے لیے بائنڈنگ بناتا ہوں ۔ یہاں رَسل کی علمی حیثیت ہم نے بطور ایک ناقد اور ادیب اس لیے بیان کی کہ اُس کے سوال کی اہمیت اجاگر ہو ۔ کیونکہ اصل چیز یہ ہے کہ ایسی شخصیت کے سوالات آپ کی عمارتِ فکر کو ڈھانے والے حملوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہمیں سوچنا یہ ہے کہ ان حملوں کی روک تھام کا کوئی نظام ہمارے پاس موجود ہے یا نہیں؟ جس علمی اعتبار سے یہ سوال اُٹھایا جا رہا ہے ، عین اسی علمی تیَقُّن کے ساتھ اسکا جواب فراہم کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر ہم ایسے سوالات کے قابل تسلیم بلکہ واجب التسلیم جواب فراہم کرنے کے لائق نہیں ہیں، تو ہمیں بہت غور کرنا چاہیے کہ ہمارا ایمان بھی تو مصنوعی نہیں ہے ؟ ہماری دینداری بھی تو کہیں ایک پردے کی حیثیت نہیں رکھتی ؟ کیا ہمارا مسلمان رہنا محض ہماری ضد پر قائم ہے یا ہمارا مسلمان رہنا شعور کے ایک بہترین اور مستقل فیصلے کی حیثیت رکھتا ہے ؟ یہ ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ جدید ذہن میں جگہ بنالینے والے شبہات اور جدید دماغ میں جڑ پکڑ لینے والے الحاد کو ہم لوگ دور کرلینے کا قصد اور اہلیت رکھتے ہیں یا نہیں؟

٭2۔ اَخلاقی چیلنجز
چیلنجز کی دوسری نوع اخلاقی ہے ۔ اخلاق کہتے ہیں وجود کے مرکز کو ۔ اسی طرح علم کہتے ہیں شعور کے مرکز کو ۔ اسلام ہم سے شعور کے مرکز میں بٹھایا جانا طلب کرتا ہے اور وجود میں بھی مرکزی درجہ پر فعال حالت میں رہنا طلب کرتا ہے ۔ اگر ان دو مطالبات کو پورا کرنے میں ہم سے کوئی بھی کوتاہی ہوئی تو گویا اسلام کو بے اثر اور بے کشش بنانے والی عالمگیر طاقتوں کا ساتھ دینا جیسا عمل ہوگا ۔ اخلاقی چیلنجز وہ ہیں جو ہمارے وجود کی بناوٹ کو دِینی نہیں رہنے دے رہے ہیں ، وہ ہمارے وجود کو بندگی کے مادّے سے تعمیر ہونے میں رکاوٹ بن رہے ہیں ۔ علمی چیلنجز ایسے ہیں جو ہمارے شعور کو ایمانی بننے سے روک رہے ہیں ۔

٭3۔ انتظامی چیلنجز
تیسرا چیلنج ایک طرح سے انتظامی ہے ، یعنی چیزوں پر ایسا تصرف کہ چیزیں ہماری ضرورت کو پورا کرنے کے لائق ہوجائیں ۔ چیزوں کی ایک ایسی عملی تنظیم کہ جسے ہم چیزوں پر وارد کرکے چیزوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی لیاقت حاصل کریں ۔ یہ تو وہ چیلنج ہے کہ جسے ہم انتظامی چیلنج کا نام دے سے سکتے ہیں ۔ انسانی اجتماعیت آئیڈیا اور اخلاق کے ساتھ ساتھ ان آئیڈیاز کو عمل میں لانے کے لیے اور ان کو حقیقی رنگ دینے کے لیے چیزوں پر ایک انتظامی گرفت کا تقاضہ کرتی ہے ۔ چیزوں کی درست مینیجمنٹ کا تقاضہ ، تاکہ چیزیں اپنی اپنی طبعی حدود سے نکل کر انسان کی ضرورت کو مکمل کرنے کی قابلیت پیدا کرلیں ۔ العرض یہ بھی ہمارا مسئلہ ہے ۔ اس مسئلہ کے ضمن میں نظام سازی وغیرہ کے مباحث آجاتے ہیں۔

(Visited 1,730 times, 1 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. شاہزیب خان on

    “مغرب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس نے جن منزلوں تک ہم انسان کو پہنچایا ہے اس پر اس نے اپنا حق ملکیت نہیں جتایا۔”

    میرے نزدیک اگر صنعتی دور کے بعد کے دور کو دیکھا جائے تو پوری دنیا میں منڈیوں کے قبضے سے لیکر اقوام پر اپنی من پسند حکومتوں کے ذریعے اپنے مفادات کے فیصلے کروانے سے لیکر انسانی تاریخ کی بد ترین انسان دشمنی کی مثالیں مغرب یعنی استحصالی مغرب نے قائم کی ہیں۔ بگ فارما سے لیکر اسلحہ ساز کمپنیوں تک کونسا مغرب ہے جس نے “اعلی ظرفی” کا مظاہرہ کیا ہے؟ بیسویں صدی کے وسط تک جو کالونذئزیشن جاری تھی وہ انکی خوبی تھی یا اس کے بعد کا امریکی استحصال اور اسکی جنگیں۔ حیرانی ہوتی ہے کہ احمد جاوید صاحب جیسے مفکر بھی مغربی پراپےگینڈے سے بچ نہ پائے اور انکی پھیلائی ہوئی افواہوں کو بلا تنقید آگے بیان فرمانے لگے۔

  2. آپ اگر سیاست کو الگ کردیں اور فکری اور تہذیبی طور پر جاوید صاحب کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں تو بات آسانی سے سمجھ آجاتی ہے۔ آپ کی ساری مثالیں مغرب کے سیاسی ہتھکنڈوں سے تعلق رکھتی ہیں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: