ہمارا مغرب سے اختلاف کہاں پر ہے؟ احمد جاوید

2
  • 467
    Shares

مغربی تہذیب اپنے علم اور دیگر تہذیبی ارتقائی قوتوں سے بعض ایسی منزلوں پر پہنچی ہے جن منزلوں کی ہم سب کو ضرورت ہے۔ ان منزلوں کی ضرورت ہر انسان کو ہے چاہے وہ مذہبی سوچ رکھتا ہو یا غیرمذہبی سوچ رکھتا ہو۔ کائنات کا قانون وجود جو انسانی راحتوں میں ایک معاون قوت کا کام کرتا ہے اس میں اہل مغرب جتنی پیش رفت کر چکے ہیں اسکا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔

عمومی بات کریں تو معاصردنیا فطرت کی جس ڈومین میں پہنچ چکی ہے اس کا نہ انکار کیا جاسکتا ہے اور نہ اس سے اصولی طور پر اجتناب کیا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب انسانی ضروریات سے لے کر انسانی آئیڈیلز تک کی اقلیم پر اس وقت واحد حکمران ہے۔ عملی صورتحال یہ ہے کہ آپکو اپنی ذہنی و مادی تعمیر کا سارا سامان مغرب سے ہی لینا پڑ رہا ہے۔ مغرب کایہ علمی غلبہ اس حد تک ہے کہ اب دنیا کو ہرشے وہاں سے لینے کی عادت پڑ چکی ہے۔ آپ حب اسلام میں اپنی تسکین کے لیئے مغرب کو جیسے بھی کوس لیں مگر بہرحال یہ اب ایک واقعہ ہے جس کا انکار ممکن ہی نہیں۔

انسانیت کی گاڑی قطع نظر کہ اس گاڑی کے اسٹیرنگ پر کون بیٹھا ہے وہ جہاں تک پہنچ چکی ہے ہم وہاں تک پہنچنے سے انکار کر کے گاڑی سے نکلنے کا شور نہیں مچا سکتے۔ یہ فعل غیر انسانی بھی ہو گا اور غیر اسلامی بھی ہو گا۔ مغرب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس نے جن منزلوں تک ہم انسان کو پہنچایا ہے اس پر اس نے اپنا حق ملکیت نہیں جتایا۔ اعلی ظرفی کے ساتھ دل میں کوئی کراہت رکھے بغیر ہمیں مغرب کا یہ احسان ماننا پڑے گا اور اس کے خلاف کوئی بھی رائے جہاں غیر عملی ہو گی وہاں غیر دینی بھی ہو گی۔

ہمارا مغرب سے اختلاف کہاں پر ہے؟

یہ گاڑی جو کل انسانیت کو ورثے میں ملی ہے جس کی ڈرائیونگ سیٹ پر ہر زمانے میں کوئی نہ کوئی تہذیب رہی ہے اور آج مغربی تہذیب نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے اس گاڑی کو اگلی منزل تک پہنچا دیا ہے تو منزل پر پہنچنے کے بعد میں ڈرائیور پر انحصار اور اسکی مرضی سے آزاد ہوں۔ اب منزل پر پہنچ کر ہوٹل کا پتہ میں ڈرائیور سے نہیں پوچھوں گا۔ میں اپنے کھانے کا مینیو ڈرائیور سے لینے کا پابند نہیں ہوں گا۔ یہاں مجھے معلوم ہونا چاہیئے کہ مغرب نے جو کچھ دنیا کو دیا ہے اس میں کونسی چیزیں میرے دینی و اخلاقی تصور سے متصادم ہیں۔ مجھے یہ معلوم ہو کہ مغرب میرے لیئے کہاں خطرہ ہے اور یہ کہاں میرے لیئے اللہ کی بہت بڑی نعمت بھی ہے۔

واقعہ یہ ہوا ہے کہ مغرب نے موجودہ انسانی تہذیب کی حرکت میں خدا کے انکار کو ضرورت کے طور پر ڈال دیا ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ اس نے انسان کے اخلاقی، سماجی، معاشی اورعلمی وجود کی تشکیل کے عمل میں خدا کو رکاوٹ بنا کر خارج کردیا ہے۔ تو اب ہمیں اس پورے پیراڈائم سے نہ صرف نکلنا ہے بلکہ اپنے تہذیبی پیراڈائم کا احیاء بھی کرنا ہے۔ ہمیں یہ جواب دینا ہے کہ خدا کو مرکز میں رکھے بغیر، خدا کو زندگی کی حرکتوں میں مرکز و منتہی بنائے بغیر انسان اپنے اخلاقی، تہذیبی اور کسیطرح کے یونیورسل مطالبات پورے نہیں کرسکتا ہے۔ مگر یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ ہم یہ جواب دینے میں ناکام ہیں۔ یہ جواب فی الحال ہمارے حافظے تک ہی محدود ہے۔

ہمارا مغرب سے جو اصولی اختلاف ہے اس اختلاف میں ہمارا ہتھیار انکی ایجاد کردہ بندوق نہیں ہے بلکہ ہمارا ہتھیار ہمارا نتیجہ خیز علم اور ہمارا وہ اخلاقی مظاہرہ ہو گا جو ہماری معاشرت کو تعمیر کرکے دکھا چکا ہو گا۔ اصولی طور پر اس وقت ہم بالکل ناکام ہیں اور ہمیں اسکا کھلے دل سے اعتراف کرنا ہے۔

مگر اس ناکامی کے اعتراف کے بعد ہم کہیں سے راستہ بھی تو ڈھونڈنا ہے۔ تو راستہ یہ ہے کہ اپنے تصور علم پر علمی ترقی کرنا، اپنے تصور اخلاق پر بااخلاق بننا یہ ہماری اس وقت سب سے بڑی ضرورت ہے اور اس سے ہمیں مغرب روک نہیں رہا ہے۔ یہ ہم بغیر کسی خوف کے کر سکتے ہیں۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہم اپنے تصور علم کو نتیجہ خیز بنانے کی جدوجہد سے تین چار سو سال قبل سے ہی دست بردار ہو چکے ہیں۔ مغرب سے لڑنے کا جو اصل میدان ہے ہم اپنی کمزوری کیوجہ سے وہاں سے فرار ہو کر اس میدان میں لڑ رہے ہیں جہاں اس سے لڑنے کی ضرورت ہی نہیں ہے اور جن لوگوں نے لڑائی چھیڑ رکھی ہے وہ مغرب کے غلبے کو ایک نظریاتی جہت دے کر گویا انکے تہذیبی تصورات کو ہم پر مزید مضبوط کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. شاہزیب خان on

    “مغرب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس نے جن منزلوں تک ہم انسان کو پہنچایا ہے اس پر اس نے اپنا حق ملکیت نہیں جتایا۔”

    میرے نزدیک اگر صنعتی دور کے بعد کے دور کو دیکھا جائے تو پوری دنیا میں منڈیوں کے قبضے سے لیکر اقوام پر اپنی من پسند حکومتوں کے ذریعے اپنے مفادات کے فیصلے کروانے سے لیکر انسانی تاریخ کی بد ترین انسان دشمنی کی مثالیں مغرب یعنی استحصالی مغرب نے قائم کی ہیں۔ بگ فارما سے لیکر اسلحہ ساز کمپنیوں تک کونسا مغرب ہے جس نے “اعلی ظرفی” کا مظاہرہ کیا ہے؟ بیسویں صدی کے وسط تک جو کالونذئزیشن جاری تھی وہ انکی خوبی تھی یا اس کے بعد کا امریکی استحصال اور اسکی جنگیں۔ حیرانی ہوتی ہے کہ احمد جاوید صاحب جیسے مفکر بھی مغربی پراپےگینڈے سے بچ نہ پائے اور انکی پھیلائی ہوئی افواہوں کو بلا تنقید آگے بیان فرمانے لگے۔

  2. آپ اگر سیاست کو الگ کردیں اور فکری اور تہذیبی طور پر جاوید صاحب کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں تو بات آسانی سے سمجھ آجاتی ہے۔ آپ کی ساری مثالیں مغرب کے سیاسی ہتھکنڈوں سے تعلق رکھتی ہیں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: