یہ تمہارا لیکن وہ عہدہ میرا ۔۔۔۔۔۔ علی رضا شاف

0
  • 10
    Shares

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی دفعہ افغانستان اور پاکستان کے متعلق پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان دہشتگردوں کی آماجگاہ ہے، اس کے ساتھ ہی جتلایا باور کرایا کہ ہم پاکستان کو امداد فراہم کرتے ہیں لیکن ہماری باتوں پر عمل نہیں ہوتا۔۔

اب ذرا ہماری وزارت خارجہ کا حال سنیئے۔۔ اعزاز چوہدری جو اس وقت امریکہ میں پاکستانی سفیر ہیں اس سے پہلے سیکرٹری خارجہ ہوا کرتے تھے، اور موجودہ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ جو جونیئرترین تھیں اعزاز چوہدری کے ماتحت کام کرتی تھیں، اس دوران امریکہ میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی تھے جن کی مدت ختم ہونے کے بعد سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کی طرف سے کسی کو سفیر مقرر کیا جانا چاہئے تھا لیکن سب کچھ اس کے برعکس ہوا اور اعزاز چوہدری صاحب نے امریکہ میں سفارتکاری کی خواہش کا اظہار کیا، دوسری جانب ان کی جونیئر تہمینہ جنجوعہ نے بھی موقع کو غنیمت جانا اور سیکرٹری خارجہ کا عہدہ سنبھالنے کا سوچا۔۔ یوں عہدوں کی بندر بانٹ میں عظیم ترین بد مزگی کا مظاہرہ کیا گیا اور ایک سینئر ترین آفیسر جو خود سفیروں کا تقرر کرتا ہے وہ اپنے جونیئر کے ماتحت امریکہ میں سفیر لگ گیا۔۔ اور فارن آفس میں بھی کئی سیئنرز کو بائی پاس کرکے جونئیر کو سیکرٹری خارجہ بنادیاگیا۔۔

فیصلہ آپ خود کیجئے جہاں صرف عہدوں کی بندر بانٹ اور ہوس کا اس قدر مظاہرہ کیا جائے گا وہاں امریکہ میں پاکستان کا مقدمہ کون لڑے گا ؟ اعزاز چوہدری ٹرمپ انتظامیہ کو قائل کرنے میں ناکام کیوں رہے ؟ دوسری جانب بھارتی خارجہ امور کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ نریندر مودی ہمارے لئے تو بدترین دشمن ضرور ہے لیکن بھارت کی تاریخ میں اس سے زیادہ کامیاب اور محبت وطن حکمران نہیں دیکھا۔۔ جس نے ہمارے تمام دشمنوں کو اپنے ساتھ ملا کر بتایا کہ خارجہ پالیسی کتنی اہم ہوتی ہے، امارات جو ہمارے بہترین دوست ہوا کرتے تھے مودی کے گن گانے لگے۔۔ اور ہم چار سال تک وزیر خارجہ ہی نہ لگا سکے۔۔۔!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: