سانحہ راجہ بازار، جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس: چند گزارشات

3
  • 239
    Shares

۲۰۱۳ راجہ بازار واقعے کے ہم بھی عینی شاہد تھے، جلوس کے روٹ پر تقریبا ساری گلیوں پر خار دار تار لگے ہوئے تھے اور جلوس میں داخل ہونے کے راستے مختص کیے گئے تھے، سکیورٹی پر مامور سرکاری اہل کار اور عوامی رضاکار ہر داخل ہونے والے کا جامہ تلاشی لینے کے بعد جلوس میں داخل ہونے دے رہے تھے۔ داخلی راستوں پر واک تھرو دروازے نصب کیے گئے تھے۔ راولپنڈی کی مختلف امام بارگاہوں سے برآمد ہونے والے جلوسوں کا روٹ بھی مختلف ہے، مگر مرکزی جلوس ابھی بنی چوک سے راجہ بازار کی طرف آہستہ آہستہ رواں دواں تھا۔ ہم اصغر مال چوک کے قریب باجماعت نماز پڑھ کر جلوس سے نکل کر آگے مختلف میڈیکل کیمپوں اور پانی کی سبیلوں کو دیکھتے ہوئے آگے جا رہے تھے۔ جمعہ کا دن تھا اس لیے راستے میں آنے والی مختلف مساجد میں جمعہ کی نمازیں پڑھ کر لوگ گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ جب ہم مین راجہ بازار پہنچے تو ایک مسجد سے زور دار خطابت کی آواز آ رہی تھی، ہم اسی طرف بڑھے تو دیکھا کہ کم و بیش دو درجن افراد مدرسہ تعلیم القرآن کے دروازے پر شور کر رہے تھے اور وہ مدرسے کے دروازے کو توڑ کے اندر جانے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ خطیب صاحب سکیورٹی افسران سے کہہ رہتے تھے کہ “ان مشتعل دہشت گردوں کو یہاں سے جلد ہٹوائیں ورنہ حالات کی ذمہ داری آپ پر ہوگی۔ ‘‘

اس دوران بہت سے لوگ خاص طور پر کئی مائیں پولیس افسران کے سامنے ہاتھ جوڑ کر روتی ہوئی کہہ رہی تھیں کہ ان چند مشتعل افراد کو مدرسے کے گیٹ سے ہٹاؤ اور لاؤڈ سپیکر کو بند کرواؤ ورنہ کوئی بڑا فساد برپا ہو سکتا ہے۔ لیکن سکیورٹی پر مامور پولیس اور رینجرز صورت حال پر قابو پانے کے لیے اس وقت کچھ نہیں کر پا رہے تھے بلکہ شروع میں تماشائی بنے ہوئے تھے۔

خطیب صاحب بھی کافی دہشت زدہ محسوس ہو رہے تھے، اسی لیے وہ بار بار ’’خنجر بردار دہشت گردوں‘‘ کا لفظ استعمال کر رہے تھے جسے سن کر گیٹ کو ہلاتے مشتعل لوگ مزید اشتعال میں آر رہے تھے۔ گیٹ پر زیادہ شور شروع ہوا تو مدرسے کی چھت پر لوگ نظر آنے لگے، پھر پتھراؤ شروع ہوا۔

جلوس اس وقت کئی سو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ اس شور کو سن کر مزید لوگ جمع ہو رہے تھے۔ ان میں سے بعض لوگ گیٹ پر موجود مشتعل ہجوم کا حصہ بن رہے تھے مگر زیادہ تر لوگ پریشان دکھائی دے رہے تھے اور وہ لوگوں کو گیٹ کی طرف بڑھنے سے روک رہے تھے۔ جیسے ہی لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا وہ شور شرابہ’’یزیدیت مردہ باد‘‘ اور ’’لبیک یا حسین‘‘ کے نعروں میں بدل گیا۔ اب اوپر سے پتھراؤ ہو رہا تھا اور نیچے ہجوم میں اشتعال بڑھتا جا رہا تھا، نیچے پہنچنے والے پتھروں اور اینٹوں کو بعض لوگ واپس انہی کی طرف پھینک رہے تھے، دروازے کو توڑنے کی کوشش ہو رہی تھی، کچھ دیر بعد لاؤ سپیکر بند ہو گیا۔ پھر ہجوم میں شامل لوگ نئے لوگوں کو اپنی مرضی کی روایت بقدر ضرورت بتاتے جا رہے تھے اور لوگ مزید مشتعل ہوتے جا رہے تھے۔

ہمیں لگا کہ یہ اشتعال اب کسی بڑے فساد کا باعث بننے والا ہے اور ہم کسی طرح سے بھی مشتعل لوگوں کو نہیں روک سکتے تو ہم نے فیصلہ کیا کہ جلد یہاں سے نکلا جائے۔ ہمیں اس وقت یہی خدشہ لگ رہا تھا جس کا اظہار فوج کے ترجمان نے مذکورہ سانحے پر آئی ایس آئی کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ کسی ایک خاص ایجنڈے کے تحت موقع کی نزاکت سے فائدہ اٹھا کر کوئی بڑا واقعہ رونما کیا جا رہا ہے۔

شام تک خبروں کے ذریعے معلوم ہوا کہ بدقسمتی سے یہ ایک بڑے فساد میں بدل چکا تھا جس میں تقریبا ایک درجن لوگ بے دردی سے قتل ہوئے، کئی درجن لوگ زخمی ہوئے، مدرسہ تعلیم القرآن کو مسجد اور ملحقہ مارکیٹ سمیت جلایا گیا، اس کے رد عمل میں راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں متعدد امام بارگاہوں کو جلایا گیا، کئی لوگ اس جلاؤ گھیراو میں زخمی ہوئے، کئی درجن لوگ گرفتار ہوئے۔ صورت حال پر قابو پانے کے لیے راولپنڈی شہر میں کئی دن کے لیے کرفیو لگایا گیا۔ واقعے کے غیر معمولی منفی اثرات کے باعث مختلف حلقوں کی جانب سے اس واقعے پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائے جانے کا مطالبہ کیا گیا۔

اس واقعے کے ابتدائی مرحلے کے ایک عینی شاہد ہونے کے باوجود آج تک میں مکمل خاموش رہا کہ اس واقعے پر ذرا تحقیقاتی رپورٹ کو سامنے آنے دیا جائے۔ کیونکہ ہم نے اسی وقت محسوس کیا تھا کہ یہ کچھ طے شدہ منصوبے پر عمل ہو رہا ہے۔ اتفاقی طور پر جمعہ کا دن، عاشورا کا دن، شیعہ جلوس اور راستے میں دیوبندی مدرسہ (وہ بھی مولانا غلام اللہ خان مرحوم کا مدرسہ جو اپنی سخت گیری میں معروف تھے)، جلوس کے گزرنے کے ٹائم پرمذکورہ مسجد میں عین خطبے کا وقت، راجہ بازار کی گنجان آبادی، راولپنڈی (تجارتی و عسکری مرکز اور بین الصوبائی آمد و رفت کا مرکز جہاں ہر رنگ و نسل و قوم سے وابستہ شہری کثیر تعداد میں رہتے ہیں) جیسی نزاکتوں سے فائدہ اٹھانے کا بہترین موقع یہی تھا۔

اس واقعے نے ملک کی مذہبی ہم آہنگی کی فضا کو بری طرح متاثر کیا۔ یہ شیعہ سنی بلکہ دیوبندی شیعہ فساد پھیلانے کی کوشش تھی جو کافی حد تک کامیاب ہو گئی۔ ملک میں منافرت اور دہشت کی فضا مزید پروان چڑھی اور اس کے بعد کئی فرقہ وارانہ پُرتشدد واقعات میں مزید کئی سو بے گناہ لوگ فرقہ واریت کی اس ظالم آگ کی نذر ہوگئے، مزید کئی خاندان اجڑ گئے۔ مزید کچھ علم و فن کے چراغوں کو مسلک کے نام پر گُل کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ فرقہ واریت کا مذہبی پہلو صرف ایک پہلو ہے جبکہ اس کے سیاسی، معاشی، سماجی اور بین الممالک تعلقات پر مبنی دیگر پہلوؤں کی حرکیات مذہبی پہلو سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں جیسا کہ ہم نے اپنے کئی مضامین میں ان پیچیدہ امور کی طرف اشارہ کیا ہے۔ کسی بھی ایسے واقعے کے بعد کی صورت حال میں یہ بھی دیکھنا اہم ہے کہ اس واقعے سے کس نے کیا فائدہ اٹھایا اور کس نے نقصان اور اس کی آڑ میں کس نے کس بیانے کو تقویت دینے میں کردار ادا کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کے حوالے سے میری معلومات کی حد تک جو بات کھل کر کرنی چاہیے وہ یہ ہے کہ پاکستان میں نوستمبر کے بعد والی دہشت گردی کے سلسلے کے فرقہ وارانہ پہلو کو دیکھا جائے تو اس میں معاملہ کافی حد واضح ہو جاتا ہے۔ مناظروں اور نفرت انگیز تقریروں کی حد تک تو سبھی مسالک میں مذہبی طور پر نفرت انگیز عناصر شامل ہیں، اہل حدیث خطباء ہوں، یا بریلوی مقررین، شیعہ ذاکرین ہوں یا دیوبندی صاحبان منبر، سب مسالک میں دھکتے شعلے بکھیرنے والے موجود ہیں۔ مگر منظم اور عملی طور پر پُرتشدد حملوں میں ملوث طالبان، لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور ان کے دیگر چھوٹے بڑے دھڑے سب کی نظریاتی و مسلکی کوکھ بدقسمتی سے صرف ایک مکتب فکر ہے۔ ان مسلح تنظیموں کی کاروائیوں کا نشانہ زیادہ تو شیعہ و بریلوی جلوس، امام بارگاہ، مزارات، اور شخصیات بنے مگر خود دیوبندی علماء کی ایک کثیر تعداد انہی دہشت گردوں کا نشانہ بنی ہے۔ کچھ اہل حدیث القاعدہ، داعش کے کام آئے ہیں مگر پاکستان میں اہل حدیث مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی کوئی مسلح تنظیم فرقہ وارانہ قتل و غارت میں سامنے نہیں آئی، شیعہ مکتب فکر میں سپاہ محمد کے ختم ہونے کے بعد اگرچہ کوئی منظم مسلح تنظیم نہیں رہی ہے مگر بہت سے دیوبندی علماء کے قتل کے الزامات شیعہ ٹارگٹ کلرز پر ہیں، کئی ایسے قاتل پکڑے بھی گئے ہیں۔ جبکہ بریلوی تنظیموں میں کراچی کی حد تک سنی تحریک کا نام فرقہ وارانہ تشدد میں لیا جاتا ہے۔ بنیادی طور پاکستان میں من حیث المجموع شیعہ سنی کی بنیاد پر کوئی فرقہ واریت نہیں ہے۔ بلکہ مسئلہ شیعہ دیوبندی کے مابین ہے۔ اس معاملے میں کراچی کی صورت حال میں سیاسی اور نسلی بنیادوں پر قتل و غارت بھی عام رہی ہے اس لیے کسی بھی قتل کے واقعے کو فوراً مذہبی قرار دینا بہت مشکل ہے۔

یہ مان لینا ضروری ہے کہ صحابہ کرام کی گستاخی کرنے والے اور خود شیعہ مکتب کے مسلمات سے کھیلنے والے ذاکرین شیعہ مکتب کے ترجمان نہیں ہیں۔ پاکستان کے کسی بھی ذمہ دار شیعہ پلیٹ فارم سے ایسے خرافات سامنے نہیں آتے۔ عجیب بات یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی گستاخی کرنے والے کسی بھی ذاکر یا خطیب کو آج تک کسی نے ہاتھ بھی نہیں لگایا مگر ملک کے عظیم اساتذہ، ڈاکٹرز، وکلا اور سمیت شیعہ شخصیات و ماہرین کی ایک کثیر تعداد کو مسلک کی بنیاد پر ’’گستاخ صحابہ‘‘ قرار دے قتل کیا گیا۔

اسی طرح سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور طالبان کو متحدہ مجلس عمل، ملی یکجہتی کونسل سمیت کسی بھی بین المسالک اتحاد میں شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی جمعیت علماء اسلام کے کسی دھڑے شامل کیا گیا، حتی کہ جمعیت علماء اسلام کی صد سالہ کانفرنس میں بریلوی، اہل حدیث شیعہ علماء سمیت مسیحی رہنماؤں کو بھی دعوت دی گئی تھی مگر مذکورہ تنظیموں کے کوئی رہنما شامل نہیں تھا، نیز جمعیت علماء اسلام کے کئی درجن کارکن اور ایک درجن سے زائد قائدین انہی دہشت گردوں کے حملوں کا شکار ہوئے ہیں۔

ملک میں مخٹلف مکاتب فکر اور مذاہب و اقوام کے درمیان اختلاف ایک فطری امر ہے۔ سب کی ارتقاء اسی تعمیری اختلاف میں ہی مضمر ہے۔ مگر کسی تنظیم یا ملک کے سیاسی مفادات کے حصول اور جذبات کی تسکین کے لیے فتنہ انگیز گروہوں کو مکتب کا ترجمان بننے اور کروڑوں لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیلنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔ ورنہ وطن عزیز میں فتنہ و فساد، قتل و غارت کے بعد گرنے والے ایک ایک انسانی خون کا ذمہ دار ہم ہوں گے اور یتیموں، بیواؤں اور بے بسوں کی ایک ایک آہ کا اور ایک ایک آنسو کا حساب ہمیں دینا ہوگا۔

میں اس تاثر کو بھی غلط سمجھتا ہوں کہ ان چند دہشت گرد عناصر کو بنیاد پر بنا کر آپ پورے مسلک کو نشانے پر رکھیں۔

ہر مسئلے کے صرف مذہبی پیرائے کو زیر بحث لانا اور اسی پر اکتفا کرنا سہل پسندی اور عجلت مزاجی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اداروں کی ذمہ داری کا معاملہ محض یہ اطلاع دینے سے حل نہیں ہوتا کہ اس واقعے کے پیچھے افغان یا انڈین عناصر اور ان کے مقامی پراکسیز تھے یا کوئی اور۔ ریاستی اداروں کو انٹلیجنس شیرنگ (بروقت اور موثر اطلاع رسانی) میں ناکامی اور سکیورٹی کمزوریوں کی ذمہ داری کا بھی اعتراف کرنا ہوگا، دیوبندی علماء و دانشوروں کو دہشت گرد عناصر کے خلاف مزید منظم اور متحد انداز میں ببانگ دہل میدان میں آنا ہو گا اور تشدد انگیز بیانیے کو نظریاتی سطح پر شکست دینا ہوگا۔ شیعہ علماء اور اداروں کو اپنے بے لگام اور دریدہ دہن فتنہ انگیز خطباء، ذاکرین اور عناصر کو لگام دینا ہوگا۔ فرقہ وارانہ خطوط پر لانچ کیے جانے والے ہر بیرونی سیاسی ایجنڈے کو مسترد کرنا ہوگا۔

جب تک ہم ان شدت پسند عناصر کے لئے دہشت پھیلانے کی گنجائش نکالتے رہیں گے اور ان کے دفاع کے لیے زمین و آسمان کے قلابے ملاتے رہیں گے تب تک ہم اسلام کے امن کے پیغام کو عام کر سکیں گے اور نہ ہی مکتب کے تاثر کو صاف کر پائیں گے۔ اپنے گھر کی صفائی ہمیں خود کرنی چاہیے، یہی تہذیب اور مذہب کا تقاضا ہے۔ تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو مروانے کے بعد بھی منافرت اور تشدد کے راستوں کو مسدود کرنے کی ہمیں سمجھ اور عقل کیوں نہیں آرہی؟ اتنے نقصان کے بعد بھی تذبذب کی گھٹائیں صاف کیوں نہیں ہو رہی اور ہمارے دل و دماغ یتیموں اور بیواؤں کی آہوں پر نہیں دھڑکتے اور مسلکی تعصب میں ہماری آنکھیں اندھی اور کان بہرے ہو جاتے ہیں؟ اور دانشوروں کے زبان و قلم ان بے رحم دہشت گردوں کے لیے عذر و جواز تراشنے میں خرچ ہو رہے ہیں؟

جو احباب جنرل غفور صاحب کی اس بات پر شکوہ کناں ہیں کہ یہ سانحہ طے شدہ تھا اور طالبان نے اپنے چند دہشت گردوں کو یہ ٹاسک دیا تھا، اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس سانحے پر دیوبندی نہیں بلکہ شیعہ ہی ہیں، تو پہلی بات یہ ہے کہ اس سانحے میں ملوث دیوبندی دہشت گرد مکتب دیوبند کے ترجمان ہیں اور نہ ہی قتل میں ملوث پُرتشدد ہجوم شیعہ مکتب فکر کا ترجمان۔ اور مدرسہ تعلیم القرآن پر دہشت گرد ٹولے کا منصوبے کے تحت حملے اسی طرح ممکن بلکہ وقوع پذیر ہوا ہے جیسے مولانا نور محمد وزیر، مفتی نظام الدین شامزئی، مولانا حسن جان، مولانا خالد سومرو، مولانا فضل الرحمٰن،، مولانا محمد خان شیرانی، مولانا عبد الغفور حیددری، جیسے دیوبندی زعیم و جید علماء کو نشانہ بنایا ہے، جس طرح باجوڑ کی جامع مسجد، وانا وزیرستان کی مسجد، سوات و ملاکنڈ کی مساجد یا ملک میں دیگر دیوبندی مساجد، جلوسوں اور اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان واقعات اور شخصیات کی فہرست بھی لمبی ہے جنہیں یوبندی مکتب فکر کے لیے درد سر بننے والی دہشت گرد تنظیموں نے نشانہ بنایا۔

یہ بھی جان لیں کہ دانستہ یا نادانستہ طور پر ہر ایک شخص کسی نہ کسی ایجنڈے پر کام کر رہا ہوتا ہے اور ہر کوئی کسی مقصد کے لیے استعمال ہو رہا ہوتا ہے، اس گلوبل ویلیج میں اس سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی مگر اس بات سے آگاہی بہت ضروری ہے کہ آپ کن کے لیے اور کن مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہوتے ہیں۔ تعمیری مقاصد کے لیے یا تخریبی مقاصد کے لیے! آپ کے جذبات کو کام میں لایا جا رہا ہے یا آپ کی صلاحیتوں کو؟ آپ کے اختیارات کو بروئے کار لایا جا رہا ہے یا آپ کے وسائل کو؟

اس موقع پر میں اس جنرل آصف غفور صاحب کی طرف سے آنے والے اس تاثر کو بھی غلط سمجھتا ہوں کہ ان چند دہشت گرد عناصر کو بنیاد پر بنا کر آپ پورے مسلک کو نشانے پر رکھیں۔ اور مشتعل ہجوم کو مکمل کلین چٹ دینا بھی قانون و انصاف کے نازک اور بے رحم تقاضوں کے برخلاف ہے۔ واقعے اور بعد کے جلاو گھیراو میں جو بھی لوگ جس قدر ملوث پائے جائیں ان کو ان کے کیے کی اسی قدر سزا ملنی چاہیے۔

 میں نے اپنی دانست کے مطابق دیانت اور انصاف سے اپنی معروضات آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے، جن سے اتفاق یا اختلاف دونوں کا برابر حق آپ کو حاصل ہے۔


ادارہ کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

About Author

محمد حسین، مصنف، مطالعات تنازعات کے ایک ماہر نصابیات اور تربیت کار ہیں، اور تعمیر امن اور بین المذاہب مکالمے کی بین الاقوامی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. بہترین تجزیہ ہے.
    مجھے یاد ہے اسی واقعے کے ٹھیک چالیس دن بعد جب چھلم شھدائے کربلا (علیہم السلام) کا جلوس ہوتا ہے.اسی دن سے تقریبا ایک ھفتہ پہلے سے راولپنﮈی کے بازاروں میں ایک 48 گھنٹےکا پروگرام کے اشتہارات جگہ جگہ آویزاں کئے گئے تھے.یہ پروگرام عین اسی مقام پر ہونا تھا جہاں سے جلوس گزرتا ہے,تاھم انتظامیہ کا مستحسن قدم تھا کہ اس پروگرام کے انعقاد کی اجازت نہیں دی گئی.اور یوں تمام خدشات کے باوجود جلوس بحمد اللہ پر امن تمام ہوا.
    سوال: اس 48 گھنٹے کا پروگرام مﺫکورہ بالا منصوبے کا حصہ تھا یا یہ بھی مدرسہ تعلیم القرآن کے مھتمم وغیرہ کی معاملہ نافھمی?یا کوئی اور ملی بھگت!!!
    یہ بات ابھی مجھ کو بھی معلوم نہیں ہے
    پتھر ادھر آتے ہیں ادھر کیوں نہیں جاتے.

    نیز جلوس عزا پر پتھراؤ کے ری ایکشن میں جﺫبات میں آکر اگر کسی نے کوئی ری ایکشن دکھایا ہے تو کیا اسے چار سال گزرنے اور آئی ایس آئی کے اس بیان کے آنے کے بعد بھی جیلوں میں رکھا جانا چاھئے???

  2. سلام برادر عزیز حسین صاحب !!اللہ اپ کے قلم اور تحقیق میں مزید تقویت عطا فرما !! جنرل غفور صاحب کا پریس کانفرنس دیر آید درست آید ، طالبان ،القاعدہ ،لشکر جھنگوی ،سباہ صحابہ جیسی عسکری تنظیمیں تو چلے مسلک سے ہٹ کے غیر ملکی ایجینڈے پر کام کرتی ہیں لیکن اس بات کو کیسے دور کیا جائے تعیمی اداروں ہو یا مساجد کے پیش اماموں یا یونیورسٹیز کے طلبا و اساتیذ دیہاتوں کی بات ہی کیا شہروں میں اپنی زندگی گزارنے والے صاحبان اپنے زبان پر کافر کافر ،، کیوں جی قرآن کو نہیں مانتے ، نہیں جی تو کہتے ہیں اصحاب کو برا بلا کہتے ہیں نہیں جی ایسی بات نہیں ،، تو کہتے ہیں بدعتیں پھیلاتے ہیں ،،کسی نہ کسی طریقے سے نفرتیں پھیلانا کو ہی ہم و غم سمجھتے ہیں کوئی بھی تحقیق کرنے کے لیے تیا رنہیں تو ایسی زہنیت و سوچ کتنے ہی سادہ لوح جزباتی صاحبان کو دہشت گرد نہیں بناتے ؟؟ تو ان مسالک کے زمداران کانفرنس اور عوامی اجتماعات تو بہت کرتے ہیں ایک ایسی منافرت کو ختم کرنے کے لیے سمینارز اور عوامی اجتماعات کیوں نہیں کرسکتے ؟؟؟ میرے خیال میں ایک بہت بڑا عنصر اسی طرح کے افواہ اور غیر مطابق حقیقت باتیں ہیں جو پاکستان میں کوڑے سے زیادہ ایسی افواہیں و الزامات گردیش کر رہی ہوتی ہیں ۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: