میں کون ہوں اے ہم نفسو؟ –ایئر فورس اور پشاور– احمد اقبال کی آپ بیتی 10

0
  • 18
    Shares

سینئر لکھاری اور دانشور جناب احمد اقبال کی زیر طبع خود نوشت۔ گذشتہ سے پیوستہ۔


اچانک دست قدرت نے دوستی کے اس مربع کو تکون میں میں بدل دیا۔ ماجد ائیر فورس میں تھا اور رسالپورمیں اپنی تربیت کی تکمیل کر چکا تھا۔ دستور کےمطابق اس کی نسبت ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی خاندان کی ایک لڑکی سے طے ہو چکی تھی لیکن ماجد اس سے بہت محبت کرتا تھا اور ہم سب اسے خوش قسمت قرار دیتے تھے کیونکہ اس کی منگیتر نہ صرف یہ کہ بہت خوبسورت تھی ( ہم سب اس کی تصویرماجد جے والٹ میں بارہا دیکھ چکے تھے)  بلکہ ہر طرح سے اس کی ضرورت اور معیار پر پوری اترتی تھی۔ دیر شادی میں ماجد کی طرف سے نہیں اس کی منگیتر کی طرف سے تھی جس کو میڈیکل کی تعلیم پوری کرنے کے لیے مزید دو سال درکار تھے۔ باہمی اتفاق رائے سے انہوں نے طے کیا تھا کہ لڑکی بھی شارٹ سروس کمیشن لے کرائیر فورس جوائن کر لے گی۔ اس طرح ان کی پوسٹنگ ایک ہے اسٹیشن پررہتی لیکن ؎تدبیر کند بندہ تقدیر زند خندہ۔ ایک بار ماجد نےشیڈول کے مطابق سیبر جیٹ کے ساتھ پرواز کی۔ اس کی منگیتر کہیں وار برٹن روڈ پر رہتی تھی اور غالباً اس کے والد یا بھائی بھی ائیر فورس میں سکویڈرن لیڈر تھے۔ ماجد کی فلائٹ کے وقت اس کی منگیتر چھت پر آگئی تھی۔ ماضن نے رومانٹک ہو کے اس کو سلام محبت پیش کرنے کے لیے غوطہ مارا جو ائیر فورس میں سلیوٹ کا انداز تھا۔ عین وقت پر فرشتہء اجل نے جہاز کو اٹھنے سے روک دیا۔ جہاز سیدھا اسی چھت پر گرا۔ ماجد اوراس کی محبوبہ منگیتر کا ساتھ تا قیامت عالم ارواح میں امر ہوگیا۔

اس المناک حادثے کا اثرہم پر بہت عرصہ رہا جو ایک فطری بات تھی لیکن جہاں جہاں ہم چہار درویش ساتھ نظر آتے تھے وہاں اس المیہ نے سب کو سوگوار کیا۔ آج یہ سب لکھتے ہوئے میری نظر میں ماجد اور اس کی منگیتر کے مسکراتے چہرے ہی ہیں۔ میں نے ان کے سوختہ تن والے تابوت بھی نہیں دیکھے تھے اور تدفین کے وقت موجود ضرور تھا لیکن بہت پیچھے رہ کر مغفرت کی دعا کرتا رہا تھا۔

میرا دوسرا اچانک گم ہو جانے والا دوست ارشاد تھا۔ پشاور چھوڑنے کے بعد میں وقفے وقفے سے پشاور گیا تو ارشاد اسی شگفتہ پرخلوص مسکراہٹ کے ساتھ ملا اور مجھے اپنی کار میں لیے پھرا۔ ہم ہر پرانی جگہ گئے اور پرانے لوگوں نے ہم دو کو بھی خوش آمدید کہا۔ ارشاد کی درسی کتابوں اور اسٹیشنری کی دکان جو صدر بازار کی ایک گلی میں تھی اب مین روڈپر لینسڈاون سینیما کے نیچے آ گئی تھی۔ ’’دارالادب‘‘ اب سرحد میں ٹیکسٹ بکس کے سب سے بڑے پبلشرز تھے۔ ان کا پریس کارخانہ بازار میں کہیں تھا اور خود ارشاد نے رہائش کے لیے قیوم اسٹیڈیم کے قریب بہت بڑا قلعہ نما گھربنوا لیا تھا۔ گاڑی سیدھی جاتی تھی اور کھلےگیٹ سے اندر غائب ہو جاتی تھی۔ ایک بار میں نے کہیں بینر دیکھا ’’دس ہزارکا ہدیہ رکھنے والا منفرد‘‘ قرآن پاک۔ ملنے کا پتہ دارالادب کا تھا۔ شو روم پر مجھے اچانک یاد آیا تو میں نے اس کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ارشاد نے ایک ملازم سے نسخے منگوایا۔ بلا شبہ وہ قابل تحسین باطنی خوبصورتی کا شاہکار بھی تھا۔ میں بہت دیر اس کی دید میں عقیدت وستائش کے جذبات کے ساتھ محو رہا۔ جب میں نے اسے واپس کیا تو ارشاد نے ملازم سے کہا کہ اسے میرے لیے پیک کردے۔ اسے روکنا اور یقین دلانا کہ میرا یہ مقصد نہیں تھا بہت مشکل ثابت ہوا۔ بالآخر میں نے کہا کہ اچھا سے رکھو۔ میں دس ہزار کا ہدیہ دوںگا اور لے جائوں گا لیکن اس کے بغیر ہرگز نہیں۔ اس نے ناگواری سے مانا لیکن مجھے اس کی نیت پر اس وقت شک ہوا جب اس نے کراچی میں میرا پوسٹل ایڈریس پوچھا۔ وہ میں نے نہیں دیا ورنہ اس کا تحفہ مجھے ڈاک سے وصول کرنا پڑتا۔

2005 میں جہاں گردی کے بعد میں پنڈی لوٹ آیا۔ ایک صبح میں اپنی کار میں پشاور پہنچا تودارالادب پبلشرز کا شو روم بند پڑا تھا۔ ادھر اُدھر کے لوگ کچھ بتا نہ سکے تو میں اس کی پرانی چھوٹی سی دکان پرگیا جو اسی گلی میں موجود تھی لیکن وہ بھی بند پائی۔ میں نے ساتھ والی دکان کے مالک سے پوچھا تو اس نے سپاٹ لہجے میں کہا ’’ارشاد تو فوت ہو گیا‘‘
میں کچھ دیر ا س خبر کے صدمے کو برداشت کرتا رہا۔ پھر بہ مشکل پوچھا ’’کب‘‘ دکاندار نے کہا ’’کافی دن ہوگئے۔ ۔ سال تو نہیں ہوا۔ ۔ ۔ ‘‘
میں نے کہا ’’کیا ہوا تھا؟‘‘ کچھ نہیں۔ ۔ ہارٹ فیل۔ ۔ آدمی کا کیا پتا ہوتا ہے۔ ۔ ۔ تب سے دکان بند ہے۔ ۔ ‘‘ اور وہ ’’دارالادب پبلشرز۔ ۔ ان کا کارخانو بازار والا پریس۔ ۔ ۔ ؟‘‘ میں نے پوچھا
دکاندار نے نفی میں سر ہلایا ’’پتا نہیں‘‘ اور کسی گاہک کی طرف متوجہ ہوگیا۔ میں خاموشی سے باہر نکل آیا۔
مجھے بھی پتا کر کے کیا کرنا تھا۔ ۔ مگر مجھے ارشاد سے آخری ملاقات یاد آتی رہی۔ میرے ساتھ ایک دوست پنڈی سے گیا تھا اور ہم نمک منڈی میں وہی چربی میں تلے کباب کھارہے تھے۔ ارشاد نے سبز چائے منگوائی تو میں نے کہا ’’میں پیپسی پیوں گا۔ ‘‘
اس نے کہا پاگل ہوگیا ہے تو؟ پشاور میں دیکھا کسی کو کباب کھا کے پیپسی پیتے؟‘‘
میں اپنی بات پر قائم رہا ’’آج پشاور والے مجھے دیکھیں گے‘‘
مرجائے گا بلے۔ ۔ بیوہ مجھے کوسے گی‘‘
میں نے کہا ’’تو کسی کے کوسنے سے نہیں مرتا۔ ۔ مجھے مرنے دے‘‘
اس نے رونی صورت بنا کے میرے دوست سے کہا ’’تم جائو اس کی بیوی کو بتا دینا کیونکہ شام تک یہ تو مر جائےگا۔
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں۔ ۔ کتنا گھسا پتا شعر کیسے سچ ہو گیا تھا۔ میں زندہ تھا اوروہ مرگیا تھا۔

وقت نے یہ زخم بھی مندمل کردیا۔ دو سال بعد میرا پھر پشاور جانا ہوا۔ اپنے ساتھ میں بیوی کو بھی لے گیا تھا۔ میں اسے تمام پرانی جگہیں دکھانا چاہتا تھا۔ میرا قیام حیات آباد میں ایک دوست عطاءالرحمان کی کوٹھی میں ہوا جو واپڈا میں نیلم جھلم پروجیکٹ کا چیف انجینئر تھا لیکن دوستی نبھانے اور آداب میزبانی میں وہ اس کی بیوی اور دو ڈاکٹر بیٹیاں خلوص اور محبت میں ہمیشہ سب سے آ گے رہے کہ بس چلتا تو ہمارے قدموں میں اپنی جان بھی بچھا دیتے، ہم ان کی کار میں نکلے تو ہر یادگار جگہ کو دیکھا اور سب بچھڑ جانے والوں کو یاد کیا۔ رات کو میرا موڈ پنیر کے پکوڑے کھانے سے زیادہ بیوی کو کھلانے کا بنا کیونکہ یہ چیز اور کسی شہر میں دستیاب نہ تھی۔ گاڑی سڑک پر دارالادب کی اور لینسڈاون سینیما کی ویران عمارتوں کے سامنے سڑک کی دوسری طرف رکی جہاں ہماری پرانی مخصوص دکان موجود تھی تو ارشاد کو یاد کرکے بے اختیار دل سے آہ نکلی
پھر دکان والا آگیا ’’پکوڑے تو نہیں ہیں۔ ۔ پنیر ختم ہوگیا‘‘
اچھا۔ ۔ ؟ یار میں تو بیوی کو پہلی بار لایا تھا۔ ۔ خود تو بہت کھائے ھے ہم نے‘‘
اس نے مجھے غور سے دیکھا ’’آپ چار لوگ آتے تھے نا‘‘
میں نے حیرانی سے کہا: ’’تم نے کیا مجھے پہچان لیا۔ ۔ 40 سال بعد۔ ‘‘
اس نے کہا ’’ایک تو وہ سامنے والے ارشاد صاحب فوت ہو گئے۔ ۔ ۔ ایک بہت پہلے جہاز کے حادثے میں مارا گیا تھا‘‘
میں دم بخود رہ گیا ’’ہاں۔ ۔ ماجد۔ ۔ مگر میرا چھوتا بھائی ہے کراچی میں۔ ۔ تم یہیں ہو؟‘‘
جی۔ ۔ لیکن اس وقت میں ویٹر تھا۔ ۔ اب مالک ہوں۔ ۔ جگہ خرید لی تھی میں نے۔ ۔ آپ ایک منٹ ٹھرو۔ ۔ میں لاتا ہوں پنیر۔ ۔ ‘‘
پنیر آنے تک ہم اس شخص کی یادداشت پر اش اش کرتے رہے۔ لیکن اس وقت میں فرط جذبات سے گنگ ہوگیا جب اس نے پیسے لینے سے انکار کر دیا۔

‘آپ کمال کرتے ہو جی۔ ۔ بھابی پہلی بار آئی ہے اور آپ اسے کراچی سے لائے ہو۔ گھر ہوتا تو کچھ دیتا۔ ۔ یہاں دکان پر لوں؟ اللہ معاف کرے مجھے۔ ۔ اتنا کمینہ نہیں ہوں میں بھابی جی ’’وہ رو ہانسا ہو گیا۔ میری بیوی نے نیچے اتر کے اس کا شکریہ اداکیا اور اس کا پتا بھی لیا لیکن ہم اس کے گھر نہیں گئے۔ اس کی وہ صورت آج بھی میری نظر میں پھرتی ہے۔ اگلی صبح میں اور بیوی میزبانوں کے گھر کے بہت خوبصورت باغ میں بیٹھے تھے تو میں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ باغ کی آرائش میں مجھے مالی سے زیادہ خاتون خانہ کا ہاتھ لگتا ہے

بیوی نے حیرانی سے کہا ’’وہ کیسے؟‘‘
میں نے کہا ’’سبزہ و گل سےایسی مینا کاری کوئی عورت ہی سوچ سکتی ہے۔ ۔ مالی اتنی محنت کب کرتے ہیں‘‘
اتنی دیر میں خاتون خانہ نکل آئی تو بیوی نے اس سے کہا
وہ ہنسنے لگی اور خوش ہوئی کہ کسی نے اس کی محنت کو سراہا تھا ’’بالکل ٹھیک کہا بھائی نے۔ ۔ میں مالی کے سر پر سوار رہ کے کام کراتی ہوں ورنہ وہ تو بیگار ٹالتے ہیں‘‘ ہم نے وہیں ناشتہ کیا پھر میزبان ہمیں کارخانو بازار عرف باڑے لے گئے۔ وہاں سے دو اسمگل شدہ کپڑے کے دو قیمتی سوٹ میری بیوی کودئےاور ایک میرے لیے خریدا کچھ دیگر گفٹ ائٹم لیا۔ پٹھانوں کی روایتی مہمان نوازی کے ساتھ یہ ان کا خلوص تھا اور محبت تھی جس نے ہمیں ان کا گرویدہ کردیا۔ چند مہینوں میں ہمارے تعلقات ایسے ہو گئے کہ اکثر برسوں میں نہیں ہو پاتے۔ ۔ ۔ لیکن پھر کیا ہوا؟

ایک صبح ہم کراچی میں تھے کہ عطاءالرحمان کا فون آیا’’ میری بیوی کا ہارٹ فیل ہوگیا ہے۔ ایک بجے جنازہ ہوگا‘‘۔ شاک سے میں گنگ ہوا تو اسے یہ بھی نہ بتا سکا کہ میں تو کراچی میں ہوں۔ چند ماہ بعد ہی عطاءالرحمان بھی مفلوج ہو کے دنیا سے گیا۔
ان یادوں کو دہراتے ہوئے احساس ہوتاہے کہ پشاور نے ہی مجھے مفارقت کے سب سے گہرے زخم دئیے۔

(جاری ہے) ۔۔۔۔

مضمون کا پچھلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: