ہر پاکستانی 94,800 کا مقروض ۔ ذمہ دار کون؟ ڈاکٹر رئیس صمدانی

0
  • 70
    Shares

نا اہل وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دست راست، سمدھی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے چند دن قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران دیدہ دلیری اور فخریہ طور پر قوم کو بتایا کہ دسمبر 2016تک سرکاری اور غیر ملکی قرضوں کا حجم 18574 ارب وپے ہوگیا ہے جس میں ملکی قرضوں کا حجم 12310ارب روپے اور غیر ملکی قرضوں کا حجم 58 ارب روپے ہے۔موصوف کے مطابق 2016 سے مارچ 2017تک 819.1 ارب روپے کا اندرونی قرضے لیے گئے۔یکم جولائی 2016 سے 31مارچ 2017 تک حکومت نے اسٹیٹ بنک اور تجارتی بنکوں سے 819.1 ارب قرضہ لیا۔ وزیر خزانہ کے اطلاع کے مطابق پاکستا ن کا فی کس قرضہ 94,800روپے ہوگیا ہے۔ میں نے تو بہت پہلے ایک کالم بعنوان ’’وزیر خزانہ پر قرض لینے کا بھوت سوارہے‘‘  لکھا تھا۔ یہ موضوع اسی کا تسلسل ہے۔

پاکستانی قوم کو قرض کی دل دل میں دھکیلنے والا آخر کو ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ پاکستان کے عوام نے 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو حکومت سازی کا حق دیا، مرکز، پنجاب، کشمیر، بلوچستان میں نون لیگ کی حکومتیں جب کے سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی۔ ان تینوں سیاسی جماعتوں کو حکومت کرتے چار سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا۔ نون لیگ نے کچھ سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ اقتدار میں بھی شریک کیا ہوا ہے جیسے قبلہ مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت، نون لیگ کی اتحادی ہے، تحریک انصاف کے ساتھ بھی جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں اقتدار میں شریک رہ چکی ہیں۔ 2013ء کی انتخابی مہم میں نون لیگ نے اپنا ایک منشور پیش کیا تھا، میاں صاحب اور ہمنوا اپنی انتخابی تقریروں میں گلا پھاڑ پھاڑ کر اعلان کیا کرتے تھے کہ وہ حکومت میں آکر غربت کا خاتما کردیں گے، غریب کو مشکلات سے نجات دلائیں گے، ملک کو قرضوں سے نجات دلائیں گے، کشکول توڑ دیں گے، بھیک نہیں مانگے گے، اپنے وسائل پر بھروسہ کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ چار سال سے زیادہ کی حکمرانی میں یہ تمام باتیں کہیں دکھائی نہیں دیں۔ میاں صا حب آپ تو ابھی چند دن ہوئے نہ اہل ہوئے ہیں، لیکن حکومت تو اب بھی آپ ہی کی  ہے۔ وزیر اعظم آپ ہی نے نامز د کیا ہے، کہا گیا آپ کا منشور؟ کیا ہوئے آپ کے وعدے غربت کو ختم کرنے کے، غریب کی مشکلات کو دور کرنے کے، کہا گیا آپ کا وعدہ کہ آپ کشکول توڑ دیں گے۔ آج سب کچھ ویسا کا ویسا ہی ہے۔ نہ غربت ختم ہوئی، نہ غریب کی مشکلات میں کمی آئی، نہ کشکول ہاتھ سے چھوٹا، نہ قرض لینے کے عادت گئی، نا آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی عادت گئی بلکہ اس میں تیزی آچکی ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار قرض حاصل کرنے کے ایکسپرٹ بن ہیں۔ بہ الفاظِ دیگر اسحٰق ڈار صاحب آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے قرض حاصل کرنے کے ’ماہر حصولِ قرضہ جات‘ بن چکے ہیں۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو چاہیے کہ انہیں وزیر خزانہ سے ’وزیر حصول قرضہ جات‘ بنا دیں۔ اس میں ان کی اکسپرٹی ہے۔ خدا کی پنا ہ ہر پاکستانی ایک لاکھ روپے کا مقروض۔

وزیر خزانہ ایک اور بات کے ماہر القادری بھی ہیں یعنی عام لوگوں پر ٹیکس کا بوجھ کیسے ڈالا جائے۔بجٹ میں مہنگائی، پھر بجٹ کے بعد منی بجٹ میں مہنگائی اس پر طرۂ امتیاز یہ کہ حکومت کے ریونیو کا شارٹ فال پورا کرنے کے لیے ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھا کر درآمدی اشیاء جو عام لوگوں کے استعمال کی ہوتی ہیں ان پر ٹیکس لگانے کے ماہر۔ قرض سے محبت کرنے والوں سے فلاح کی امید نہیں کبھی نہیں کی جاسکتی۔ علاوہ ازاں حکومت میں شامل صدر مملکت سے لے کر وزیر اعظم تک، وزیروں، سفیروں سے لے کر مشیروں تک سب کو اپنے طرز حکمرانی کو بدلنا ہوگا۔ اپنے رہن سہن کو بدلنا ہوگا، سادگی کو اپنا نا ہوگا، اخراجات کو کم سے کم کرنا ہوگا، ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے روز مرہ کے اخراجات کو کنٹرول کرنا ہوگا، وزیر اعظم صاحب کو اپنے غیر ملکی دورہ پر نظر ثانی کرنا ہوگی، اپنے ساتھ فوج ظفر موج کی روایت کو ختم کرنا ہوگا۔ قرض اتاروں ملک سنواروں اسکیم کہا گئی؟ اسے زندہ کیجئے سب سے پہلے پرانے اکاؤنٹ کا کھوج نکالیے کہ کتنا سرمایا آیاتھا اور وہ کہا ں گیا، کس کس کے پیٹ میں گیا۔ قرض کی لعنت سے چھٹکارہ ہی ملک اور قوم کی بقا ہے۔ مالیاتی اداروں کے دباؤ تلے ملک و قوم کو نہ دباتے جائیں، یہ ہمیں مٹی تلے دبا کر اوپر اشتہار لگادیں گے جس پر لکھا ہوگا ہے کوئی خریدار۔

ہم فوجی حکومتوں کو لاکھ برا کہیں، ڈکٹیروں کی حکومت کہے لیکن پاکستان میں حکمرانی کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ فوجی حکمرانوں نے ملک کو ترقی پر لگایا، ملک کو قرض سے نجات دلائی نہیں تو قرض کے سیلاب کے آگے بند ضرور باندھ دیا۔ میاں نواز شریف کے فلسفے کے مطابق ملک کی ترقی کا پیمانہ ملک میں سڑکوں کا جال بجھانا تصور کیا جاتا ہے، وہ اپنے ہر دور میں موٹر وے، ہائی وے، گرین لائن اورنج لائن چلاتے نظر آئے۔ عوام کی حالت زار کا خاتمہ یہ طویل سٹرکیں کریں گی۔ غربت اور بھوک و افلاس کے نتیجے میں عوام کے لیے چلنا پھرنا ہی دوبھر ہوجائے گا تو ان سٹرکوں اور شاہراہوں کو کون استعمال کرے گا۔ میاں صاحب کے تینوں ادوار میں خاص طور پر نہ اہل ہونے والے ادوار میں غریب عوام کی فلاح اور اس کی غربت کے خاتمے کے جو منصوبے بنائے وہ کہی نظر نہیں آتے۔ جب بھی دیکھو میاں صاحب سٹرکوں کی تعمیر اور سٹرکوں کی تکمیل کے فیتے کاٹتے ہی دکھائی دیا کرتے تھے۔ بجلی کا بحران وہیں کا وہیں، کتنے ڈیم بنے، بجلی سستی ہوئی، نہیں اور مہنگی سے مہنگی تر ہوتی چلی گئی، گیس کی لوڈ شیڈنگ، ٹریفک کا نظام ہر شہر میں بے ہنگم، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، دہشت گردی قابو سے باہر، خود کچھ نہیں کرسکتے تو جو قوت دہشت گردی کے خلاف کام کرنا چاہتی ہے اس کا ساتھ تو دیدو۔ میاں صاحب کو حکومت میں آنے کے بعد کوئی اچھا نہیں لگتا۔ کوئی بات ہوجائے اپنے ہی ساتھیوں کو قربان کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ کوئی ایک بات تو ان کے حق میں جاتی ہو۔

ملک کا قرض کیسے اترے گا، کیا موجودہ وزیر اعظم جنہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ انہوں نے کتنے وقت کے لیے حکومت میں رہنا ہے قرض اتارنے کی کوشش کیسے کریں گے۔ ہر گز نہیں جب اسحاق ڈار جیسا نہ اہل خزانے کا چوکیدار ہوگا بھلا خزانہ کیوں اور کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔ اسحاق ڈار نے وزیر خزانہ کی حیثیت سے پاکستان کو کس قدر مقروض کیا اس کی صورت حال اوپر بیان کی جاچکی۔ ہر پاکستان ایک لاکھ روپے کا مقروض۔ اس کے برعکس وزیر خزانہ کے ذاتی اثاثوں کی صورت حال کیا ہے۔ غضب خدا کا بڑے میاں تو بڑے میاں ان کے سمدھی جی قرض لیتے رہے وہ جاتا کہا رہا۔ یہ وہی سمدھی جی ہیں جوپہلے بھی وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں حال ہی میں اسحاق ڈار نے سپریم کورٹ میں جو ریکارڈ جمع کرایا اس کے مطابق وہ5 سالوں میں 9ملین سے 837 ملین کے اثاثہ جات کے مالک ہوچکے ہیں۔ ایسی کونسی جادو کی جھڑی ان کے ہاتھ میں ہے ملک و قوم کو قرضوں کی دلدل میں پھنساتے رہے خود امیر سے امیر بننے کی دوڑ میں لگے رہے۔ نہ اہل ہونے کے بعد میاں صاحب کو خیال آیا کہ اس ملک میں 80فیصد لوگوں کے پاس سر چھپانے کو گھر نہیں،وہ اب چوتھی بار اقتدار میں آکر انہیں گھر دیں گے۔ اب تک کیا کرتے رہے۔ تینوں ادوار کا تجزیہ کریں،جو منصوبے اس قوم کو دیے جیسے موٹر وے، اورنج ٹرین وغیرہ، یہ تو دیکھیں کہ بجلی کا سرکلر ڈیبٹ 800 ارب ہوچکا ہے، تجارتی خسارہ 30ارب ڈالر ہوگیا ہے، غیر ملکی قرضے اس وزیر خزانہ نے کہا سے کہا پہنچادیے،پاکستانی قوم کے ہاتھ میں کشکول تھمانے کی ذمہ دار حکومت اور حکومتی مشینری، وزیر اعظم خاص طور پر وزیر خزانہ جس کے اپنے اثاثے وقت کے ساتھ ساتھ آسمان سے باتیں کرتے گئے، ملک کی معیشت تباہی کی لکیر کو چھونے لگے اور قوم بھاری بیرونی قرضوں تلے دب چکی۔ اب اللہ ہی اس قوم اور پاکستان پر رحم کر نے والا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: