جون ایلیاء کا فکری اغوا: خالد بلغاری

1
  • 206
    Shares

“علامہ اقبال پر ایک بڑا ظلم یہ ہوا ہے کہ پیغام اور مقصد اور طرح طرح کی چیپیاں چسپاں کرکے انکو اپنے اپنے مصرف میں لایا گیا۔ انکے پیغام اور مقصد کامطلب یہ سب نہیں ہے کہ مَیں اس میں سے کوئی پیغام نکال لوں، انکا ہر پیغام آپ کو وصول کنندہ نہیں بناتا۔ وہ وصول نہیں ہوتا، وہ آپکو گرفت میں لے لیتا ہے، گھیر لیتا ہے۔ وہ تلقین کی طرح آپ تک نہیں پہنچتا بلکہ آپ کو دوبارہ بنانے، پھر سے تشکیل دینے والی ایک لہر کی طرح آپ میں سے گذرتا ہے اور جب تک آپ اپنے آپ کو اُس رخ پہ نہیں رکھیں گے، آپ اقبال کو نہیں سمجھ سکتے”۔۱

ایک مشکوک سوال سے بات شروع کرنے پر معذرت۔
جون ایلیاء اور اقبال میں کیا قدرِ مشترک ہوسکتی ہے؟
ایک جواب فوری طور پر ذہن میں یہ آتا ہے کہ دونوں شاعر ہیں۔ قدرے غور مزید کریں تو ایک قدر مشترک اور بھی نظر آتی ہے کہ دونوں فلسفی بھی تھے۔

افتخار عارف صاحب کا ایک شعری مجموعہ پچھلے دنوں نظر سے گذرا اور یاد رہ گیا۔ اس مجموعے پر تعارفی حرفے چند جون ایلیا نے لکھے ہیں۔ اس تعارف میں جون صاحب نے لکھا ہے کہ وہ شاعر نہیں بلکہ فلسفی ہیں۔

اقبال اور جون ایلیا کا کسی بھی درجے پر فکری تقابل اگرچہ دونوں ھستیوں کی شان میں ایک طرح کی معنوی بے ادبی سی محسوس ہوتی ہے۔ تاہم دونوں شعراء فلاسفہ کے بارے میں ہمارے علمی حلقے کی دو انتہاؤں کی طرف سے ایک ایسا مشترک رویّہ سامنے آرہا ہے جو ان دو مختلف النّوع ہستیوں کا مطالعہ ایک مشترک زاویہ نگاہ سے کرنے کی گنجائش پیدا کرتا ہے۔

اقبال کے افکار کے ساتھ جیسا سلوک “مذھب پسند” گروہ مذھبی خیالات کی ترویج و اشاعت کیلئے کرتے ہیں۔ اسی سے ملتا جلتا سلوک “الحاد پسند” گروہ الحاد پھیلانے کے لئے حضرت جون کے افکار کے ساتھ کرتے نظر آتے ہیں۔

اقبال کی شاعری اور افکار سے جبراً ماخوذ انواع و اقسام کے نیم مذھبی پیغامات کی، بشکلِ وعظ عوام کے اندر ایک نہایت ابتر سطح پر گردش ہم سبھی دیکھتے ہیں۔ طرّہ یہ کہ اس سلسلے میں اِن خود ساختہ مبلّغین کو حضرت اقبال کی شعری کائنات سے اگر من مانے افکار حاصل نہ ہوسکیں تو تخلیقی وفور اور فکری ثروت مندی کا عالم یہ ہوتا ہے کہ گھٹیا سطح کے طبع زاد خیالات کی ایک لفظی قے کو نیم موزوں کرکے اقبال کے نام سے شائع کروانے کے معاملے میں بھی خودکفیل ہوتے ہیں۔ نہ لکھنے والے نے جانا کہ کیوں لکھا، نہ پڑھنے والے نے سمجھا کہ کیا پڑھا۔
نہ مدّعی نہ شہادت حساب پاک ہوا۔

یوں وعظ و نصیحت کا ایک بے سمت بازار ہمہ دَم گرم رہتا ہے۔ دیکھنے میں یہ آیا کہ حضرت اقبال کے افکار کے ساتھ جیسا سلوک “مذھب پسند” گروہ مذھبی خیالات کی ترویج و اشاعت کیلئے کرتے ہیں۔ اسی سے ملتا جلتا سلوک “الحاد پسند” گروہ الحاد پھیلانے کے لئے حضرت جون کے افکار کے ساتھ کرتے نظر آتے ہیں۔

ایک بنیادی بات تو یہ سمجھنے کی ہے کہ ہمارے ہاں صرف دودھ ہی ناخالص نہیں ملتا، الحاد بھی ملاوٹ شدہ اور دس نمبر ملتا ہے۔ ہمارے دیسی ملحدین جو مذھب کو برا بھلا کہتے نہیں تھکتے، اپنے پھوٹے پِچکے، اندرونی ڈھانچے میں مذھبی ہی ہوتے ہیں۔ مرور ایّام کیساتھ مگر اپنے اوپر طاری کردہ خود ساختہ الحاد کے ایسے قتیل ہوچکتے ہیں کہ اس ڈھونگ کو سچ بھی سمجھنے لگتے ہیں۔ اس جہلِ مرکّب کے زیرِ اثر الحاد کی تبلیغ مذھبی جذبے کیساتھ زور و شور سے کرتے رہتے ہیں۔ اور اس نیک مقصد کیلئے یہاں وہاں سے جو کچھ ہاتھ لگتا ہے اسکو الحاد کے رنگ میں پیش کرکے اخروی نجات کا سامان بہم پہنچاتے ہیں۔

ایک قابل اعتبار دوست سے تازہ روایت ہے کہ پچھلے دنوں ڈاکٹر روتھ کی وفات کے بعد سوشل میڈیا پر جب ڈاکٹر روتھ کے جنّت اور دوزخ میں داخلے کے فیصلے ہو رہے تھے اور طرفین سے دلائل کی بھرمار تھی تو ملحدین کی جانب سے آنجہانی ڈاکٹر کو اُس جنت میں داخل کئے جانے پر شدید اصرار سامنے آیا جسکے وہ سب اصولی طور پر منکر ہیں۔ اس طرح کے مضحکہ خیز اور بھونڈے رویے کی تشریح کسی جدلیاتی فلسفے سے بھی نہیں ہوسکتی۔

جلال الدین رومی کا ایک قول خالد حسینی نے اپنے ناول کے شروع میں نقل کیا ہے۔ “خیر اور شر کے اِن مروّجہ معیارات سے پرے ایک میدان ہے۔ میں تمھیں وہاں ملوں گا”۔
جون ایلیا، سید شفیق حسن ایلیا کے سب سے چھوٹے فرزند، انہوں نے امروہہ ہندوستان کے ایک علمی خانوادے میں ۱۹۳۱ء میں آنکھ کھولی۔ اپنے شعری مجموعے “شاید” کے طویل دیباچے میں بچپن، لڑکپن اور جوانی کے دوران اپنے فکری ارتقاء کا بہت دلچسپ تذکرہ فرمایا ہے۔ سید شفیق حسن ایلیا شعر و ادب سے دلچسپی رکھتے تھے۔ جون صاحب کے مطابق انکے بابا نے کئی کتابیں لکھیں۔ علم نجوم سے خاص شغف تھا۔ ان کتابوں کی اشاعت کا خصوصی وعدہ والد گرامی نے جون ایلیا سے لیا تھا مگر جون لکھتے ہیں کہ وہ یہ وعدہ وفا نہ کرسکے۔ اس وعدہ کے وفا نہ ہونے کا جون کو شدید رنج رہا۔ جون اردو کے علاوہ فارسی بھی جانتے تھے۔ اگرچہ خاندانی طور پر اثنا عشری شیعہ تھے مگر عربی زبان اور فلسفہ دیوبندی علماء سے حاصل کرتے رہے اور آخر تک ان علماء کے فقر و تقوی کے معترف رہے۔ عبرانی زبان سے بھی واقفیت تھی۔ بڑے بھائی رئیس امروہوی شاعر تھے، دوسرے بھائی سید محمد تقی فلسفی تھے۔ گھر میں یعنی شعر و فلسفہ اور زبان و فلکیات کا دور دورہ تھا۔ جون نے بھی شعر کہنے شروع کئے، ایک ڈراما کلب سے متعلق ہوکر اداکاری کے جوہر بھی دکھلائے۔

اسی دیباچے میں اس طرح کے دلچسپ تذکروں کے بعد جون نے اپنے مذھبی افکار اور خیالات، یقین اور گمان کی حالت زار اور ارتقاء کا بھی نقشہ کھینچا ہے۔ خالص فلسفیانہ اصطلاحات کے ساتھ متصوّفانہ اصطلاحات کے استعمال کے ذریعے یہ واضح کیا ہے کہ کیسے انکو بشپ برکلے کی آئیڈیلزم نے متاثر کیا اور کیسے وہ ایک عرصے تک اس فلسفے کے زیر اثر رہے۔ پھر کسی کے مشورے سے ھیوم کی تشکیک پسندی اور علّت و معلول کے انکار کی طرف مائل ہوئے۔ ذات خداوندی کے بارے میں حضرت علی رض کے حوالے سے ایک قول کا ذکر بھی انہوں نے کیا ہے جس میں تنزیہہ پر زور دیا گیا ہے۔

ارسطو، کانٹ اور ہیگل کے حوالے سے عقل کے مقولات کا بیان کیا ہے اور موجود ہونے کے تصوّر کو عقلی مقولات کے اندر محدود ہونا بتا کر اُس مشہور بات کو دوہرایا ہے کہ جو اسلامی الہیات میں تنزیہہ کہلاتا ہے۔ کہ خدا کو موجود کہنا خدا کو محدود کردینے کی طرح ہے۔
کلام اور تصوف، اسلامی فلسفہ کی دونوں راویات کے اندر علی الترتیب معتزلہ اور ابن عربی رح کے ہاں الہیّات کے حوالے سے تنزیہہ کا ذکر پوری آب و تاب کیساتھ ملتا ہے۔ معتزلہ نے اسی بنیاد پر ایک درجے میں صفات کا انکار کیا کہ اس سے ذات کا حادث ہونا اور تعدّد لازم آتا ہے۔ حضرت جون اپنی ذہنی عبقریت کیساتھ یقیناً ان مباحث سے اعلی درجے پر واقف رہے ہونگے۔

اس پس منظر کو جاننے کے بعد

اے خدا ! جو کہیں نہیں موجود
کیا لکھا ہے میری قسمت میں”

جیسا شعر پڑھ کر جو آدمی یہ حکم جاری کردے کہ جون خدا کے منکر، اور ہماری طرح کے ملحد تھے!۔ تو اسکے فکری و عقلی افلاس پر ماتم کرنے کیساتھ ساتھ یہ دعا بھی کرنے کو دل کرتا ہے کہ آپکی “طرح” کا ملحد تو خدا دشمن کو بھی نہ بنائے۔ جو مذھب پسند دوست اس طرح کے اشعار کی بنیاد پر جلد بازی میں جون پر کفر کا فتوی لگاتے ہیں، انکو فکر کرنی چاہئے کہ انکے فتوی کی زد میں اور “کون کون” آتا ہوگا؟

جون ایلیا کی ابتدائی تربیت ایک فلسفیانہ مذھبی گھرانے میں ہوئی۔ اثنا عشری شیعیت کے پس منظر کی بنیاد پر عقلیات کے زیر اثر رہے۔ ہر حساس آدمی کی طرح تشکیک کا شکار ہوئے۔ لا ادریّت کے صحرا میں بھٹکتے رہے، مگر ایک شاعر ہونے کی مجبوری کی بنا پر علمی دیانت سے آخر تک جان نہ چھڑا سکے۔ مسلسل حصول علم کی لگن نے انکو مطالعہ میں غرق کئے رکھا۔ کانٹ مذھبی عقلیات کی معراج مانے جاتے ہیں۔ وہ کانٹ کی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مابعدالطبیعیاتی حقائق علت و معلول اور مقولات کی پابند عقل کی دسترس سے باہر ہیں۔ جبکہ اسلامی صوفی روایت کے بہت توانا جزو کی پیروی میں ذات باری کے بارے میں تنزیہی مقام پر فروکش نظر آتے ہیں۔

شعر کی فکری بلندی کو نوچ کھسوٹ کر اپنے ملحدانہ قد کے برابر کرلینا ایک معیوب بات ہے۔ خود کو شعر کی بلندی تک اٹھانے کی سعی کرنی چاہئے۔

چنانچہ وہ ملحد نما دوست جو ہماری قابلِ فخر، وسیع المشرب اور روشن شعری روایت کے اِس خوبصورت شاعر کو اغوا کرکے اور اسکے عالی افکار کو گھسیٹ کر اپنے روز مرّہ فہم کی گھٹیا سطح پر اتار لانے کی باقاعدہ اور باتقریب کوششیں جامعات میں اور صحافت کے میدانوں میں کرتے رہتے ہیں، ان سے دست بستہ عرض ہے کہ کچھ محنت اور اہتمام حضرت جون اور ہر سچے شاعر کو نصیب ہونے والی اُس علمی دیانت سے اپنا حصہ تلاش کرنے میں بھی کیجئے جو اِن روحوں کو سچائی کی تلاش میں مسلسل محو سفر رکھتے رہے اور جنہوں نے حق کی اس لگن کی وجہ سے الحاد کے کسی جھوٹے ساحل پر اترنا گوارا نہیں کیا۔

شعر کی فکری بلندی کو نوچ کھسوٹ کر اپنے ملحدانہ قد کے برابر کرلینا ایک معیوب بات ہے۔ خود کو شعر کی بلندی تک اٹھانے کی سعی کرنی چاہئے۔

حالت زار کی اِس بے یقینی اور فکری افلاس کی ایسی شدت سے زِچ ہوکر ہمارے ایک فلسفی نے ایک دفعہ کہا تھا کہ؛
” بیس لفظوں پر تو پورا نظامِ ادراک و اظہار کھڑا ہے اور حضرت شکایت کرتے ہیں کہ خدا سمجھ میں نہیں آتا”۔

جون ایلیا مصنّف کی نظر میں ایک بڑے شاعر تھے اور بڑے لوگ، ہمارے طے شدہ خانوں کی سمائی میں نہیں آتے۔ انکے شعر سے اور افکار سے لطف اندوز ہونا سبھی کا حق ہے مگر انکو انکے فکری پس منظر سے کاٹ کر اپنے بونے خیالات کی ترویج کیلئے استعمال کرنا ایک فکری خیانت ہے۔ ان سے اور انکی طرح کے بڑے شعرا سے ملاقات کیلئے اُسی میدان میں جانا پڑے گا جو تقوی اور الحاد کے ہمارے مروّجہ معیارات سے پرے ہے اور جہاں ہمارے یہ محدود پیمانے بے معنی ہوجاتے ہیں۔

یُوں جو تکتا ہے آسمان کو تُو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا؟

۱۔ احمد جاوید، اقبالیات۔

About Author

خالد ولی اللہ بلغاری. بلغار، گلگت بلتستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پیشہ ورانہ میدان طب ہے. فلسفہ کے علاوہ شعر و ادب اور موسیقی سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں.۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. ہر عہد میں نظریاتی/سماجی گروہوں کو اپنے مقصد کے لیے ایسے مفکروں کی ضرورت پڑتی رہی ہے جن کو تراش خراش کر دیوتا کا روپ دیا جا سکے۔ جیسے پاکستان بننے کے بعد صوبوں کو اپنے لیے بڑے شاعروں کی ضرورت محسوس ہوئی تو مختلف زبانوں نے شاہ بھٹائی، خوشحال خان خٹک اور بھلّے شاہ کو چن کر ان کے بت بنائے۔
    اقبال کو ضرورت محسوس ہوئی تو مولانا روم کو دیوتا بنا کر سامنے لائے۔ ترقی پسندوں کو ضرورت محسوس ہوئی ماضی میں لنگر ڈالنے کی تو نظیر اکبر آبادی کو پیر مانا۔ جس زمانے میں بنگلہ دیش پاکستان کا حصّہ تھا اور مشرقی پاکستان کہلاتا تھا تو نظریاتی ضرورت کے تحت نذر الاسلام کو بنگلہ کا عظیم شاعر بنایا گیا اور جو آج بھی بنگلہ دیش کا قومی شاعر مانا جاتا ہے، حالانکہ نذر الاسلام بنیادی طور پر کمیونسٹ تھا اور تحریک پاکستان سے اس کا کوئی تعلّق نہیں تھا۔ آخر عمر میں روحانیت کی طرف مائل ہوا مگر اسلام سے زیادہ دیوی دیوتاؤں پر شاعری کی۔ اب راشٹریہ سیوک سنگھ اسی نذر الاسلام کو ایک مثالی ہندوستانی مسلمان کے طور پر سامنے لانے کی کوششیں کر رہی ہے۔ کیونکہ راشٹریہ سیوگ سنگھ کے مخالفین کے مطابق؛
    “The Sangh Parivar’s main icons, Shyama Prasad Mookerjee and Deen Dayal Upadhyaya, have no appeal in Bengal, therefore, they are trying to look for icons with whom Bengalis can connect,” said CPI(M) Politburo member and Lok Sabha MP Md Salim. “I think their enthusiasm with Islam is born out of incomplete reading of his works. Once they read him in totality, they will drop him like a hot potato.”
    ترجمہ: (کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، م، کے پولٹ بیورو کے رکن اور لوک سبھا کے ایم پی محمد سلیم کا کہنا ہے کہ چونکہ سنگھ پریوار کے بنیادی اصنام شیاما پرساد مکھتجی اور دین دیال اپادھیا میں بنگالیوں کو کوئی دلچسپی نہیں ہے، اس لیے وہ، یعنی راشٹریہ کے لوگ، ایسے اصنام کی تلاش میں ہیں جن کو بنگالیوں سے مربوط کیا جا سکے۔ میرا خیال ہے کہ ان کا نذر الاسلام کے بارے میں لگاؤ اس کے کاموں کے نامکمل مطالعے سے پیدا ہوا ہے۔ جب وہ اسے مکمل طور پر پڑھ لیں گے تو اسے ایک گرم آلو کی طرح پھینک دیں گے۔)
    اسنگدھینو بھٹاچاریہ کا ٹائمز آف انڈیا، کولکاٹا میں چھپا مضمون “نذر الاسلام پر راشٹریہ سیوک سنگھ کی نظر کیوں”۔
    جب انٹرنیٹ کی سہولت عام ہوئی تو الحاد کو بھی اپنی بات کہنے کا ایک سہل راستہ ملا۔ اب ان کو اپنا ایک گرو درکار تھا۔ اس عہد سے پہلے جون ایلیا کو ایک معمولی شاعر بلکہ مجہول سمجھا جاتا تھا۔ ان کی ذات ان کے دو بڑے بھائیوں کے سائے میں دب گئی تھی۔ الحادیوں کی نظر جون ایلیا پر پڑی تو انہوں نے اسے صرف عظیم نہیں بلکہ عظیم تر شاعر بنانے کا فیصلہ کیا۔ پراپیگنڈے میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ خود مجھے سوچنا پڑ رہا ہے کہ ممکن ہے جون ایک بڑا شاعر رہا ہو اور اسے اپنی زندگی میں کچل دیا گیا ہو۔
    بلغاری صاحب نے بہت درست بات کہی ہے۔ آنے والی نسلیں ممکن ہے جون ایلیا کو اقبال کے مقابلے کا شاعر ہی سمجھیں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: