عمیرہ اور نمرہ احمد : تنقید، تنقیص یا پدرسری تفاخر ۔۔۔ ثمینہ ریاض

3
  • 173
    Shares

دانش کی نائب مدیر ثمینہ ریاض احمد، مقبول خواتین ناول نگاروں کے حوالے سے دانش پہ جاری حالیہ بحث میں اپنا نقطہ نظر پیش کرتی ہیں۔


اردو ادب کی تاریخ بہت زیادہ قدیم نہیں، وجوہات میں بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی اس زبان کی عمر کل ملا کر دو سو سال بھی نہیں اور اردو کی اولین لغات بھی بیسویں صدی میں مرتب ہوئیں۔ ایسے میں اردو ادب کی اصناف یعنی کلاسیکل، رومانوی یا پاپولر فکشن کو الگ الگ کرنا اتنا مشکل نہیں کہ علم و ادب پہ کام ہی بہت کم ہوا۔ لے دے کے قدیم مصنفین میں سر سید احمد خان اور حالی کے علاوہ ڈپٹی نذیر احمد وغیرہ کے نام ہیں، امرتا پریتم ہو یا بیدی، قرات العین ہوں یا عصمت چغتائی اور منٹو، عبداللہ حسین ہوں یا اشفاق، بانو، شہاب اور مفتی، اردو ادب میں بیسویں صدی میں ذیادہ کام ہوا۔ یہاں ترقی پسند و غیر ترقی پسندوں پہ مشتمل گروہ بندی بھی دیکھنے میں آئی۔

اس ماحول میں عام قاری کے لئیے بیسویں صدی کی آخری چوتھائی میں رسائل و جرائد میں پاپولر فکشن لکھنے والے بہت سے مرد و خواتین ادب کے افق پر ظاہر ہوئے، مردوں نے اس سلسلے میں جب قلم اٹھایا تو ذیادہ تر جاسوسی و سسپنس پہ لکھا یا دوسرے ممالک کے ادبی شاہکاروں کے تراجم کئے، خواتین نے جب لکھا تو کچھ نے موضوع عشق و محبت اور کچھ نے روزمرہ کے گھریلو و معاشرتی مسائل کو موضوع بنایا گو کہ مرد ہوں یا خواتین ادیب ان سے ہٹ کر بھی لکھتے رہے لیکن عمومی رویہ یہی رہا۔

ایسے میں صرف بیس سال قبل ایک ایسی خاتون کہانی نویس پاکستان میں پاپولر فکشن کی صنف میں طبع آزمائی کرنے اتریں کہ جس نے خواتین کے ادب کے تمام مروجہ پیمانے ہی بدل کر رکھ دئیے، عمیرہ احمد کے بارے میں شائد کوئی جانتا بھی نا ہو کہ ان کی پہلی تحریر مردانہ ہم جنس پرستی کے موضوع پر تھی، اور خصوصا مرکزیت اس چیز پر تھی کہ ہم جنس پرست مرد کی بیوی کی خانگی و جذباتی زندگی کس وبال کا شکار ہو جاتی ہے، یہ موضوع خواتین کے ادب میں ایک دھماکہ تھا، جس نے ملک کی آدھی آبادی کی لکھاریوں کو ایک دم جھنجوڑ کر اٹھایا، اور پھر کونسا موضوع تھا جس پر خواتین نے لکھا نہیں۔ لیکن کچھ عرصے سے دیکھا جا رہا ہے کہ خواتین لکھاریوں کو بالعموم اور عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کو بالخصوص طنز و تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، گو کہ یہ کام کچھ خواتین بھی انجام دیتی ہیں لیکن اس میں ننانوے فیصد تعداد ان مردوں کی ہے جنہوں نے ان خواتین کو پڑھا نہیں ہوتا یا صرف تضحیک کرنے کے لئے سرسری سا پڑھا جاتا ہے، ایسے میں وہ تمام خواتین جو ان مصنفین کو پڑھ کر اپنی سوچ مثبت انداز میں سنوار سکی ہیں وہ عجیب سی اذیت محسوس کرتی ہیں۔ اور آج راقمہ نے اسی احساس کے تحت قلم اٹھایا ہے۔ کہ تنقید کرنے والوں نے اپنا اپنا مطالعاتی علم بہت جھاڑا ہے لیکن افسوس ان کا ادب کا وسیع جائزہ بھی ان کو ادب نہ سکھا سکا۔۔۔۔

عجب بات ہے کہ آپ کسی رائٹر کو تنقید و تحقیق کے عمومی اصولوں پر نہیں پرکھتے ہیں بلکہ اپنی اپنی مخصوص عینک لگا کر کبھی رومانوی کہانیوں کا الزام لگاتے ہیں کبھی ان کہانیوں پر غیر حقیقی ہونے کی تہمت لگا دیتے ہیں۔ بھلا کوئی آپ سے پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہے فکشن میں تو حقیقت کو بنا سنوار کر یا بڑھا چڑھا کر لکھنے کی روایت کتنے سالوں پرانی ہے آپ کی توجہ صرف عمیرہ احمد پر ہی کیوں؟ جبکہ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ رومان کی جگہ حقیقت کی سنگینی ہی ناول میں ہو۔ وہی بیروزگاری، غربت اور مہنگائی کا رونا ہو۔ ادب کا معمولی سا قاری بھی جانتا ہے کہ ادب کا مطالعہ وہ حقیقت سے زرا کچھ دور سکون کے لئے بھی کرتا ہے، کیتھارسس بھی مطالعے کا مقصد ہے اور تربیت بھی۔ جب ہی تو کسی رائٹر کے قلم سے نکلے الفاظ کسی کی سوچ بدل سکتے ہیں تو پھر عمیرہ احمد جیسی اعلی تعلیم یافتہ رائٹر کا کچھ مقصد کیسے نہیں ہوگا؟ اپنی اپنی آنکھوں پر سے عینک اتار کر دیکھئے تو ذرا کہ جن دنوں آپ دیوتا جیسی غیر حقیقی کہانیوں میں فرہاد علی تیمور جیسے ستر سال کے بوڑھے غیر فطری ہیرو کے چارم کا شکار تھے ان دنوں ہماری خواتین مصنفین اپنی تحریروں کے ذریعے خواتین میں شعور اجاگر کر رہی تھیں کہ جب کسی عورت کی زندگی میں ہم جنس پرست مرد شوہر کے روپ میں آ جائے تو اس کا مذہب اسے کیا حقوق دیتا ہے اور معاشرے کا سامنا کیسے کیا جاتا ہے۔ جن دنوں پاکستانی مردوں کی اکثریت پورن سائیٹس سرچ کر کے دنیا میں ملک کی شہرت کے جھنڈے گاڑ رہی تھی اس وقت نمرہ احمد اپنے ناولوں کے کرداروں کے ذریعے قرآنی آیات کے حوالوں سے مزین عملی زندگی کو بہتر طور پر گزارنے کے طریقے بتا رہی تھی کیونکہ ہم خواتین جمعہ کی نماز کے خطبے میں جا کر یہ نہیں سیکھ سکتی، وجہ یہ کہ پدرسری معاشرے میں علماء نے عورت کا مساجد میں جانا بھی ممنوع قرار دے دیا ہے ایسے میں یہ خواتین مصنفین ہی تھیں جو مسلمان عورت کو دین و دنیا میں توازن کرنا سکھا رہیں تھیں۔

جن دنوں ہمارے نوجوان لڑکیوں کو تھڑوں پر بیٹھ کر چھیڑنے کے نئے نئے طریقے سیکھ رہے تھے ان دنوں خواتین لکھاری ہمیں بتا رہی تھیں کہ تھڑوں پر بیٹھے ہووں کی اتنی اوقات بھی نہیں ہوتی کہ ان کو ایک نظر دیکھا بھی جائے.

جن دنوں ہمارے نوجوان لڑکیوں کو تھڑوں پر بیٹھ کر چھیڑنے کے نئے نئے طریقے سیکھ رہے تھے ان دنوں خواتین لکھاری ہمیں یہ بتا رہی تھیں کہ تھڑوں پر بیٹھے ہووں کی اتنی اوقات بھی نہیں ہوتی کہ ان کو ایک نظر دیکھا بھی جائے، جن دنوں آپ انکا دیوی اور موت کے سوداگر جیسی بے مقصدیت کی انتہا لئے کہانیاں پڑھ رہے تھے ان دنوں خواتین لکھاری ڈکٹیٹر کے خلاف ہونے والی سب سے بڑی وکلا کی تحریک کو کہانی کے ذریعے عورتوں تک پہنچا رہی تھیں اور یہ کام کرنے والی صرف نمرہ احمد ہی نہیں انیسہ سلیم بھی تھی، سائرہ رضا بھی تھی، جن کا یقینااکثریت کو نام بھی پتا نہیں ہوگا کیونکہ آپ نے تو تنقید کے لئے بس دو نام یاد کئے اور باقاعدہ ایک منظم کمپئین کا حصہ بنے جو ان دو خواتین لکھاریوں کا درجہ کم کرنے کے لئے برپا کی گئی۔

ان خواتین مصنفین کے مقاصد آپ کی سوچ سے بھی کہیں بلند ہیں۔
عمیرہ احمد یا نمرہ احمد جن پر کچھ لوگ مذہبی ہیروئین اور وضو شدہ رومانس کا الزام لگاتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ آپ کا میڈیا جب قندیل بلوچ تراش رہا ہوتا ہے اس وقت لڑکیاں اسی مذہبی ہیروئین کے نقاب کے اندر چھپتی ہیں، جس وقت آپ کا میڈیا سر عام بوس و کنار اور آئٹم سانگز کے نام پر فلموں میں بے ہودگی دکھاتا ہے اس وقت لڑکیاں اسی وضو شدہ رومانس کے لئے اپنی زندگی میں شوہر کے آنے کا انتظار کرتی ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بڑے ادیب اور حقیقی نقاد جو عمیرہ پر تنقید کرتے ہیں اس میں یہ شامل ہے کہ عمیرہ کی کہانیوں میں رومانس ہوتا ہی نہیں اور نمرہ کی ہیروئین رومانس شروع ہونے سے قبل ہی اس کا تیا پانچہ کر دیتی ہے، ہاں باقی کئی خواتین لکھاری رومانس پر لکھتی ہیں لیکن ان کا رومانس بھی آپ کی یورپی ادب سے لی گئی ترجمہ شدہ چربہ کہانیوں سے کہیں عمدہ ہوتا ہے۔

ان دونوں خواتین لکھاریوں پر ایک الزام جو تواتر سے لگایا جاتا ہے وہ ہے ان کے ہیرو کی قابلیت اور شخصیت اب عمر جہانگیر ہو، زارون حیدر ہو، سالار سکندر ہو یا جہاں سکندر اور فارس غازی آخر یہ خواتین ہیرو چنتے ہوئے سی ایس پی آفیسر یا انٹیلی جینس کے محکموں سے نیچے کیوں نہیں رہیں؟ کیوں جوتیاں گانٹھتے کسی موچی کو اور لوہا کوٹتے کسی لوہار کو ہیرو نہیں بناتیں؟ سرخ جینز پہنے اور سپائکس بنائے کسی مٹک مٹک کر چلتے لڑکے سے آخر لڑکی کو محبت کیوں نہیں ہوتی؟ آخر ان کی ہیروئین کے سپنوں کا راجہ کوئی سرمہ لگائے دکاندار، یا پسینے میں بھیگا ریڑھی بان کیوں نہیں ہوتا؟ یا سالار سکندر کے جیسا 150+ آئی کیو والا کیوں ہوتا ہے؟ میٹرک فیل کیوں نہیں ہوتا؟ ہاں یہ اعتراض حقیقی ہے، واقعی یہ غلط کرتی ہیں، اور ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے، ان کو پچھلے بیس سال سے ہر بورڈ، ہر یونیورسٹی کے ہر کلاس کے امتحان میں پوزیشن لینے والی لڑکیوں کے لئے گامے ماجھے ٹائپ لڑکے ہی ہیرو رکھنے چاہیئے تھے۔ پچھلے دس سال کے مقابلے کے امتحانات میں پہلی دس پوزیشن ہولڈرز میں موجود چھ لڑکیوں کے لئے بشیر دکاندار اور غلام رسول لوہار ہی ہیرو ہونے چاہیے تھے۔۔۔۔ کیسی عجیب بات ہے کہ آپ کو مرد ہو کر خود ایسے مردوں کو آئیڈیل بنانا پسند نہیں لیکن آپ افسانوی ادب لکھنے والی خواتین سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ عائشہ ممتاز اور افشان رباب جیسی حقیقی زندگی کی سی ایس پی آفیسرز کے لئے ہیرو عام سے افراد کو رکھیں، جب کہ یہ عمیرہ و نمرہ کی کہانیاں ہی تھیں جنہوں نے لڑکیوں کو بتایا تھا کہ مقابلے کے امتحان بھی کوئی چیز ہوتے ہیں اور ان میں کامیابی کے لئے محنت اور ذہانت سے جان لڑانی پڑتی ہے، لڑکیوں نے اپنے مقاصد سیٹ کر لئے لیکن آپ صرف تنقید کی شکل میں تنقیص کی راہ پر چل پڑے اور آج حیران ہو ہو کر سوچتے ہیں کہ آخر یہ لڑکیاں اتنے نمبر کیسے لے لیتی ہیں؟؟؟

ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ ان کی کہانیوں میں مذہب کو گھسیٹا گیا، صوفیانہ ادب تخلیق کرنے کی بھونڈی کوشش کی گئی۔ پہلی بات تو یہ کہ مذہب ہمارے سماج کے لئے ایک اکسیر ٹانک ہے، سیاست ہو یا معاشرت ہرجگہ مذہب کا تڑکا بکتا ہی ہے۔ دور کیوں جایئے آپ کے ہاں اسلامی ناول نگاری جو آپ کے سماج سے یکسر جدا تھی کس قدر معروف رہی۔ اگر خواتین ناول نگاروں نے اپنے ہاں، زندگی کے کسی بھی مشکل مرحلے میں میں قرانی آیت کوٹ کرنے والے کوئی پی ایچ ڈی ڈاکٹر یا زندگی کو انبیاء کی طرز پر گزارنے کی مثالیں دینے والے کردار پیش کئے تو کیا غلط کرتی ہیں؟ چولہے پر روٹی پکاتی کوئی عورت جو ادب تخلیق کرنے کے لئے روٹی سینکتے یا بچے کو سنبھالتے، کچھ لائنیں اپنی جیسی دوسری عورت کے لئے لکھتی ہے تو اسے چاہیے تھا کہ وہ سب کو گھر چھوڑ چھاڑ، بچوں کو شوہروں کی گود میں پٹخ کر میڈیا کے رنگ و بو میں آنے کا کہتیں، کتنا ظلم کیا انہوں نے جو ان خواتین کو اسی گھر میں رہتے ہوئے نوکریاں کرنے کے ساتھ، شوہر کو مجازی خدا کے طور پر ڈیل کرنا سکھا دیا۔ عمیرہ احمد کی “زینی” میڈیا کی چکاچوند کا شکار ہوئی تو پھر کیسے اس کی اندوہ ناک موت نے کتنے ہی پاؤں میں بیڑیاں ڈالی ہوں گی؟ یہ سوچا ہے کبھی؟ سوچتے تو جان لیتے آج ایک قندیل بلوچ مری ہے، زینی کا کردار نا لکھا جاتا تو شائد ہزاروں قندیلیں بجھ جاتیں۔۔۔

ہمارے ہاں دو طبقات ہیں جنہوں نے شد و مد کے ساتھ ان دونوں خواتین کی تضحیک کی، اور دونوں کے آلہء کار مرد حضرات بنے۔ عمیرہ احمد پیر کامل لکھتی ہے تو ہمارے مذہب کے متوازی بننے والے برصغیر کے ایک مذہب کے گراں فروش باقاعدہ گالیوں کی صورت کہتے پائے گئے کہ اگر ان کے لئے کوئی قتل جائز ہوتا تو بے دریغ عمیرہ احمد کو قتل کرتے، اس کی جرات کیسے ہوئی ہمیں کافر قرار دے؟ جب کہ یہ کام پاکستان کی پارلیمنٹ بہت پہلے کر چکی ہے، لیکن عمیرہ کا قصور یہ کہ اس نے عورتوں کے دلوں میں اس تصور کو راسخ کیا۔ کیا آپ اپنے معاشرتی زندگی میں گھریلو سطح پر گلی محلے میں آباد پڑوس خاندانوں کے میل ملاپ اور بچوں کی دوستیوں کے ضمن میں پیش آنے والے مسائل سے یکسر لاعلم ہیں؟ یقینا آپ بھی جانتے ہوں گے کہ خواتین کے زریعے معاشرے میں نفوذ پذیری کس قدر سرعت سے ممکن ہے۔ تعلیم یافتہ خواتین صرف عمیرہ احمد اور اس طرح کی انہی موضوعات پر قلم اٹھانے والی خواتین کی وجہ سے اپنی اولاد کی بہتر تربیت کرنے کے قابل ہوئی ہیں۔

دوسری طرف نمرہ احمد جب “مصحف'”جنت کے پتے “یا نمل کی صورت میں قرآنی آیات کا ترجمہ کرتی ہے، پوری پوری قرآنی صورتوں کی تفسیر کہانی کی شکل میں پیش کر دیتی ہے تو مولوی حضرات طنزیہ یہ کہتے پائے گئے کہ اب عورتیں بھی فقیہہ بنیں گی؟ کیا امہات المومینین رضی اللہ اپنے گھریلو معاملات پر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی طلب کر کر احادیث کو روایت کرکے فقیہہ نہیں کہلائی گئیں؟ اس وقت بہت افسوس ہوتا ہے کہ جب اصلاح کی علمبردار خواتین بھی تضحیک کا رویہ اپناتی ہیں۔ اور ناول نگار خواتین کی شخصیات پر ذاتی حملے کرنا چاہتی ہیں کہ وہ الہدی کی نگہت ہاشمی کی فین ہیں وغیرہ وغیرہ۔ رائیٹر کی ذاتی زندگی سے کیا لینا دینا ہمیں ؟ کیا تنقید کرنے والے اپنی اپنی مضصوص جماعتوں کی دشمنی نمرہ احمد پر نکالنا چاہتے ہیں؟ ان کے آلہء کار بننے والے والوں کے لئے ان خواتین ناول لکھنے والوں کی تضحیک چند لمحات کا چسکہ تھا لیکن نادانستگی میں آپ ملک کی ایک بڑی آبادی سے مثبت تفریح و تربیت کاحق چھیننا چاہتے ہیں۔

آخر میں یہ کہنا ضروری سمجھتی ہوں کہ آپ عورت ہیں یا مرد، ماڈرن ہیں یا مذہبی، ان خواتین لکھاریوں پر تنقید کریں، لیکن ان کو پڑھ کر کریں، اگر آپ کی تنقید ان کی ہیروئین کے خدوخال ہوں گے تو آپ غلط ہیں کیونکہ ان خواتین کے کرداروں کی نہ تو غزالی آنکھوں کا ذکر آپ کو کہیں ملے گا، نہ شگرفی لبوں کا، نہ گلال گالوں کا، اگر آپ ان کی کہانیوں میں لکھی گئی پھولوں کی سڑک اور رنگوں کی آبشار جیسی منظر نگاری پر تنقید کریں گے تو آپ پھر غلط ہیں، کیونکہ دونوں خواتین کی ہی کہانیوں میں نقادوں کے مطابق آپ کو منظر نگاری کم ملے گی۔

اگر آپ ان خواتین پر یہ تنقید کریں گے کہ انہوں نے دو دو کلو کے پچیس پچیس سو کے ناول کیوں لکھے تو یہ تنقید بھی غلط ہے، کیونکہ وہ تو رسائل میں پانچ پانچ سال کے عرصے پر محیط ماہانہ چند صفحات کی کہانی لکھتی ہیں، ناول کی شکل میں ان کو پبلشر لاتا ہے، جس کا زیادہ فائدہ بھی وہی اٹھاتا ہے، لکھاری نہیں، اس لئے ایک بار پھر یہ کہنا چاہوں گی کہ یہ خواتین تنقید سے بالاتر نہیں، لیکن تنقید ان کو پڑھ کر کی جائے، یہ فارمولہ رائیٹر نہیں، جن پر آپ کے بیان کئے فارمولے فٹ آ جائیں، یہ آپ کی سوچ سے الگ ہیں، منفرد ہیں اور اپنی انفرادیت کے باعث کامیاب ہیں۔


اس موضوع پہ دانش پہ شایع ہونے والی ابتدائی تحریریں ان لنکس پہ ملاحظہ کریں:

عمیرہ احمد و نمرہ احمد وغیرہ کا مسئلہ: کبیر علی         عمیرہ احمد : مذہب، رومان، تصوف اور تضاد: عامر منیر کا دلچسپ تجزیہ

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. عمدہ تحریر۔ ثمینہ ریاض کی ہمّت کی داد دیتا ہوں۔
    بطور قاری ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر لکھنے والا وہ لکھے جو ہم پڑھنا چاہتے ہیں، چاہے وہ ناول ہو، افسانہ ہو یا شاعری ہو۔ نقّاد بیچارے کو نفسِ مضمون کی تنقید تو کم کم ہی آتی ہے، کیونکہ اس کو تنقید کا شعور بھی کم کم ہے۔ وہ تنقید کا مطلب اعتراض سمجھتا ہے حالانکہ نقد کہتے ہیں قدر اور حیثیت کو اور تنقید کسی چیز کی قدر اور حیثیت (ویلیو) کو متعیّن کرنے کا نام ہے۔ کسی بھی فن پارے پر، خواہ وہ ادب ہو، موسیقی ہو، تصویر ہو یا اظہار کا کوئی اور طریقہ، تنقید کا مطلب یہ جانچنا ہوتا ہے کہ اظہار کرنے والے نے اپنے خیال کا اظہار اچھی طرح کیا یا اس میں کوئی کمی رہ گئی۔ ناقد کو یہ کہنے کا کوئی حق نہیں کہ مصور نے مکڑی کی تصویر کیوں بنائی اسے تو بلبل کی تصویر بنانی چاہیے تھی۔
    جہاں تک خواتین کی تحریروں کا تعلّق ہے تو یہ دور مغرب میں بھی گزر چکا ہے، جب خواتین کی تحریروں کو صرف اسی بنا پر مسترد کر دیا جاتا تھا کہ اس کو کسی خاتون نے لکھا ہے، اور کئی خواتین نے مردانہ ناموں سے لکھا۔ ہمارا معاشرہ تو ویسے بھی جہل زدہ معاشرہ ہے جہاں مردوں کو حرم سرا کی خدمات انجام دینے کے لیے خواجہ سرا بنا دیا جاتا تھا اور عورتوں کو محکوم رکھنے کے لیے علم سے محروم رکھا جاتا تھا۔ اس معاشرے میں چاہے عورت کسی بھی میدان میں آگے نکلے یا کسی کمتر طبقے کا مرد، بالاتر طبقے کی پوری کوشش ہوتی ہے اسے مسترد کرنے کی اور گرانے کی۔
    عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کو میں نے کبھی نہیں پڑھا اور شائد آئندہ بھی کبھی نہ پڑھ سکوں، مگر میں یہ جانتا ہوں کہ جو چیز قاری میں مقبول ہوتی ہے وہ کسی سبب سے ہوتی ہے۔ ہم اپنے معیار کے بالا خانے پر بیٹھے اسے جس رنگ کے شیشے سے بھی دیکھیں، لوگوں کو جو چیز اچھی لگتی ہے اور ان کی سمجھ میں آتی ہے اس کا رواج عام ہوتا جاتا ہے، خواہ وہ آزاد نظم ہو نثری نظم ہو، پاپ میوزک ہو، یا مصوری کی دنیا میں امپریشنزم۔ ہمارے رجعت پسندوں نے تو ابتدا میں ترکی جیسے ملک میں کتابوں کی طباعت رکوانے کی بھرپور کوششیں کی تھیں، مگر تبدیلیاں آ کر رہتی ہیں۔
    عورت کے لیے اس معاشرے میں لکھنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ بالعموم گھریلو کام بھی کرنے پڑتے ہیں۔ ایسے میں کوئی لڑکی کاغذ قلم لے کر بیٹھے تو سب سے پہلے تو ماں کو ہی اعتراض ہوتا ہے۔ پھر اگر وہ اپنی تحریر چھپوانا چاہے تو اس میں بھی ہزار رکاوٹیں۔ ادبی محفلوں میں شرکت تقریباً ناممکن، جن کے بغیر سیکھنے اور بہتری کا عمل بہت سست ہوتا ہے۔ پھر بھی کوئی عورت اگر نام بنا لے تو مردانہ حمیّت اسے ناکام بنانے پر تل ہی جاتی ہے۔
    پھر یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مسترد کیے جانے کی صورت میں عورت جلدی ہمت ہار جاتی ہے۔ ہمارے معارے میں ہی نہیں مغرب میں بھی۔ ایک مغربی مدیر کا کہنا ہے کہ اگر ہم کسی مرد کی تحریر کو ناقابلِ اشاعت قرار دیتے ہیں اور اس کو لکھتے ہیں کہ اپنی تحریروں کو بہتر بنا کر بھیجیے ہم آپ کی تحریر کے منتظر رہیں گے تو اس کی اگلی تحریر بالعموم ایک ماہ کے اندر اندر آجاتی ہے جبکہ یہی بات کسی خاتون کو لکھی جائے تو اس کی اگلی تحریر چھ ماہ کے بعد ہی آتی ہے، اور بعض صورتوں میںکبھی آتی ہی نہیں۔
    ایسے باہمت لوگوں کو جو تمام تر حوصلہ شکنیوں کے باوجود آگے نکلنے کی جد وجہد میں مصروف ہیں عرفیؔ کی زبان میں یہی کہوں گا
    عرفی تو میندیش ز غوغائے رقیباں — آوازَ سگاں کم نہ کند رزقِ گدا را

Leave A Reply

%d bloggers like this: