پاپولر فکشن اور خواتین لکھاری: ایک اور منظر نامہ

0
  • 111
    Shares

پاپولر فکشن اور خصوصا اس میدان میں خواتین لکھاریوں پر تنقید کوئی نئی بات نہیں ہے۔ حال ہی میں دانش پر اس باب میں دو مضمون شائع ہو چکے ہیں جن سے قارئین نے کھل کر اختلاف یا اتفاق کیا ہے ۔ اگرچہ دونوں مضامین دو مختلف فکری زاویہ نگاہ سے لکھے گئے ہیں. مگرخواتین کے رومانوی ناولوں سے جھلکتی کسی حد تک غیر حقیقی دنیا کی نشاندہی کرنے جیسے مسائل کو دونوں مضامین میں موضوع بنایا گیا ہے ۔ دونوں مضامین کی ایک اور مشترکہ جہت عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کی تحریروں کا بطور خاص پوسٹ مارٹم ہے۔

ہمارے ذاتی خیال کے مطابق پاپولر فکشن، ادب یا کلاسیکل ادب سے بہرصورت ایک مختلف صنف ہے ۔
ادب زندگی کے “حقیقی رویوں” کو خوبصورتی سے زیر بحث لانے کا نام ہے جس میں لکھاری ” کچھ کہا بھی نہیں اور کہہ بھی دیا” کے فارمولے پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ اب اس فن کا پیمانہ ہر ادیب کے ہاں مختلف ہوتا ہے، حقیقی ادب اپنے سماج کا سچا عکاس ہوتا ہے۔ نقاد مختلف جہات سے اس کی جانچ کرتے ہیں، جس میں زبان، مکالمہ، منظر نگاری، کہانی کی بنت اور اٹھان اور ابلاغ وغیرہ وغیرہ کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ پھر سماج پر اس ادب کے اثرات پر بھی گفتگو ہونی چاہیے۔
پاپولر فکشن کو بھی جب زیر بحث لایا جاتا ہے تو یقینا ان سارے پہلوؤں پر گفتگو کی جا سکتی ہے اور کی جانی چاہیے لیکن اس بنیادی فرق کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ پاپولر فکشن ادب کے برعکس ضروری نہیں سماج کے حقیقی رویوں کا عکاس ہو۔ پاپولر فکشن میں لکھاری، کلاسیکل ادب کی ساری نہ سہی تو کافی پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے۔ اور کم سے کم اردو میں پاپولر فکشن کا ایک بڑا حصہ حقیقی معاشرے کا عکاس نہیں ہوتا ۔ اس صنف میں مرد لکھاری بھی عموما اسی اصول کے تحت لکھتے دکھائی دیتے ہیں (مثال کے طور پر دیکھیے محی الدین نواب کی تحریریں، عمران سیریز وغیرہ) لہذا ایک اصولی بات تو یہ طے ہوئی کہ دونوں اصناف کے لکھاریوں کا باہم تقابل کوئی معنی نہیں رکھتا۔

پاپولر فکشن عموما لوگ تفریح طبع کے لیے پڑھتے ہیں اس لیے یہ عوام الناس میں زیادہ مقبول ہوتا ہے خواص بھی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے رجوع کرنے میں کچھ مضائقہ نہیں سمجھتے ۔ البتہ پاپولر فکشن یقینا کسی غیر معیاری تحریر کا نام نہیں ہونا چاہیے۔ اور نہ ہی اسے تنقید سے ماورا صنف تصور کیا جا سکتا ہے۔
اب اس بنیادی نکتے کو مد نظر رکھتے ہوئے خواتین لکھاریوں کا بالعموم اور عمیرہ و نمرہ کا بالخصوص جائزہ لیتے ہیں ۔

پاپولر فکشن میں لکھنے والی تقریبا سب خواتین، ڈائجسٹوں کی پیداوار ہیں۔ خواتین کے لیے نکالے جانے والے یہ ڈائجسٹ ابتداء میں اپنے رومانوی ماحول کی وجہ سے خواندہ و نیم خواندہ خواتین کی تفریح طبع کا غالبا اکلوتا سامان ہوا کرتے تھے۔ کہانیوں کی شدید رومانی فضا کے اپنے تقاضے تھےجسے پورا کرنے کے لیے محدود تعداد میں خواتین میدان میں اتریں۔ کوئی شک نہیں کہ ان کے پاس کہانی کا کینوس بھی اپنی تعداد کی طرح محدود ہی تھا۔ آپ کے اسلوب میں باہم کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو اگر ایک ہی پلاٹ اور ایک ہی موضوع پر بار بار آپ کو کچھ نیا لکھنا پڑے تو یکسانیت نہ نہ کرتے بھی آہی جائے گی ۔ البتہ وقت کے ساتھ ساتھ رجحانات میں کچھ تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ بہت سی اچھی خواتین کہانی کاروں نے اپنے سفر کا آغاز اسی دنیا سے کیا، جن میں ایک نام آمنہ مفتی کا ہے۔

مگر بہر حال ان رسالوں میں موضوعات کا تنوع مفقود تھا۔ نوے کی دہائی میں کچھ نئے نام نظر آنا شروع ہوئے۔ جنہوں نے جھیل میں کنکرپھینکنا شروع کیے۔ ایک بڑا نمایاں نام تنزیلہ ریاض کا ہے۔ انہوں نے رومانس سے ہٹ کر موضوعات کو چنا۔ اسلوب بھی جاندار تھا۔ آج تک معیار برقرار ہے۔ سٹیج پر کام کرنے والے مسخرے کی زندگی میں سرایت کردہ نفسیاتی و معاشرتی پیچیدگیوں پر لکھی گئی ان کی کہانی پاپولر فکشن کی ایک معیاری کہانی مانی جانی چاہیے۔ اسی طرح  بشری سعید کا “سفال گر” اپنے مکالمہ، نثر اور موضوع کے لحاظ سے انتہائی اچھی اور معیاری کاوش تھی کچھ اور مستقل لکھاری جو مختصر کہانی لکھتے رہے ان میں انیسہ سلیم کا نام نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جن کے ہاں دور دور تک رومان نہیں ہے تحریر کی پختگی سے بھی شاید ہی کوئی انکار کرسکے۔ یوں پیار و محبت سے گندھی فضا میں زندگی کے کچھ دوسرے رنگ قارئین کو یہ سمجھانے کی کوشش کرنے لگے کہ “اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا”

ڈائجسٹ کی دنیا میں نصف لکھاری خواتین آج بھی زیادہ سے زیادہ محبت ڈالنے میں مصروف دکھائی دیتی ہیں ۔ایسے میں دیانت کا تقاضا ہے کہ ان خواتین کی جرات کو سلام پیش کیا جائے جنہوں نے ذرا مختلف موضوعات کو چن کر گلی محلے کی خواتین کو نہ صرف تنوع عطا کیا بلکہ ان کو سوچنے کے لیے نسبتا بڑا کینوس فراہم کیا۔

ایک پورے کینوس کو تبدیل ہوتے وقت لگا کرتا ہے، ظاہر ہے یہاں بھی ایسی ہی صورت حال رہی۔ اس موقع پر ہمیں سید قاسم محمود مرحوم یاد آ گئے۔ اپنے ادارتی سفر نامے “جوگی والے پھیرے” میں وہ اپنے چکوال کے قیام کے دوران خواتین ڈائجسٹ اور شعاع کی پرانی لکھاری نگہت سیما سے ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔” نگہت ایک اچھی لکھاری ہیں ان کی بعض کہانیوں کے انگریزی تراجم بھی ہو چکے ہیں ۔ چونکہ ان کے زمانے میں کوئی ادبی تحریک یا پلیٹ فارم نہیں اس لیے خواتین کے ڈائجسٹوں میں لکھنے پر مجبور ہیں) میں نے پوچھا “ان رسائل میں کہانیاں چھپواتے ہوئے کوئی مشکل تو پیش نہیں آتی”۔ اس نے استہزائیہ قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔ وہ کہتے ہیں “کہانی میں محبت ڈالو”، میں کہتی ہوں “بھئی ڈالی تو ہے” وہ کہتے ہیں اور ڈالو”۔ ایسی ڈیمانڈ شایدقارئین کی ایک بڑی تعداد کے ذوق کے پیش نظر کی جاتی ہو گی۔

ڈائجسٹوں کی دنیا میں قریبا نصف لکھاری خواتین آج بھی زیادہ سے زیادہ محبت ڈالنے میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے میں دیانت کا تقاضا ہوگا کہ ان خواتین کی جرات کو سلام پیش کیا جائے جنہوں نے ذرا مختلف موضوعات کو چن کر گلی محلے کی خواتین کو نہ صرف تنوع عطا کیا بلکہ ان کو سوچنے کے لیے نسبتا بڑا کینوس فراہم کیا۔

یاد رہے کہ خواتین کے پاپولر فکشن میں خواتین اور شعاع ہی معیاری ترین رسائل گردانے جاتے ہیں ۔ ان میں رومانس سے ہٹ کر لکھنے والی خواتین جن میں سے کچھ کا تذکرہ ہم نے اوپر کیا ہے یقینا توجہ کی مستحق ہیں کہ ان کا ذکر الگ سے ہو ۔ انہیں ایک ہی چکی میں سب کے ساتھ رکھ کر نہ پیسا جائے۔ البتہ عمیرہ احمد اور نمرہ کا معاملہ ذرا ہٹ کر ہے ۔ ان کے ساتھ ساتھ حال ہی میں مقبول ہونے والی دو اور مصنفین سمیرا حمید اور سائرہ رضا کا ذکر بھی آنا چاہیے ۔اس لحاظ سے یہ چاروں لکھاری خواتین اپنی ہم عصروں سے مختلف دکھائی دیتی ہیں کہ ان کے پاس نسبتا زیادہ تحریری گلیمر موجود ہے ۔ یہ کہنا غالبا مناسب نہ ہو گا کہ سب کا انداز تحریر یا کہانی کا پلاٹ یکساں ہوتا ہے. خیال ہے کہ ان کے مستقل قاری نام پڑھے بغیر ہی کہانی کے اسلوب سے مصنف کو پہچان لیتے ہیں. عمیر ہ کے ہاں تصوف کا تڑکا کہیں کہیں نہایت اوپرا محسوس ہوتا ہے، مگر مجموعی طور پر کہانی پر ان کی گرفت اچھی ہے ۔ اور وہ قاری تک مرکزی خیال عمدگی سے پہنچا نے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں ۔ عمیرہ اپنی بقیہ دو پیشروؤں کے ہمراہ اکثر اوقات “اور محبت “ڈالنے کا نسخہ ڈالتی نظر آتی ہیں. نمرہ احمدالبتہ ان سب لکھاریوں سے کئی پہلوؤں سے مختلف ہیں ۔ ان کے ہاں اچھی نثر اور تحریر کی دلکشی تو ہے ہی (یاد رہے کلاسیکل ادب کی زبان فکشن سے مختلف ہوا ہی کرتی ہے) بلا کا تجسس بھی ہے۔ جو ان کے پیشروؤں اور ہم عصروں میں سے کسی کے پاس بھی نہیں ملتا۔ ان کی کہانیوں کا انجام اکثر قارئین کی توقعات کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ ان کی مقبول ترین تحریروں میں سے (جو میری نظر سے گزر پائیں) مصحف ایسی تحریر ہے جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اچھے آغاز کے باوجود وہ کہانی پر اپنی گرفت نہ رکھ سکیں ۔ یا اس کہانی میں ذرا زیادہ فلمی رنگ آ گیا۔ نمرہ اپنی کسی تحریر میں ہمیں شرعی محبت کا تڑکا لگاتی بھی نظر نہیں اتیں۔ یا ہو سکتا ہے ہماری ہی نظر کمزور ہو۔ ان کی اب تک کی کہانیوں میں ‘بیلی راجپوتاں کی ملکہ’ایک منفرد کہانی ہے ۔ قراقرم کا تاج محل خالصتا ایک رومانوی تحریر ہے مگر ہمیں تو کہیں وہ آیات سناتی نظر نہیں آ رہیں۔ انہوں نے اپنی نو آموزی کے باوجود اسے ایک رومانوی تحریر کے طور پر ہی برتا ہے۔

‘جنت کے پتے’ اور ‘نمل’میں بھی ان کی تحریر کا گلیمر برقرار ہے اور تجسس بھی ۔ البتہ قرآنی آیات پر سوچنے کو نئے زاویے فراہم کرنا یا کم سے کم سوچنے پر آمادہ کرنا اگر فال نکالنا ہے تو یہ فالیں ہم مختلف مصنفین، فلسفیوں اور حکماء کی تحریروں سے نکالتے ہی رہتے ہیں۔ اختلاف کرنے کا نکتہ تو یہ ہونا چاہیے کہ ان کی اس طرح کی گفتگو کہانی کے مجموعی منظر نامے میں موزوں معلوم ہوتی ہے یا نہیں۔ میرا جواب تو ہو گا کہ” نامناسب بالکل نہیں دکھتی”۔

آپ کو اپنا جواب دینے کی مکمل آزادی ہے مگر دیانت کے ساتھ۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: