عمیرہ احمد : مذہب، رومان، تصوف اور تضاد: عامر منیر کا دلچسپ تجزیہ

0
  • 174
    Shares

ان خیالات کے ابتدائی نقوش محترمہ جویریہ سعید کی تحریر “خواتین ناول نگار اور مذہبی رومانویت : ایک تاثر” سے پیدا ہوئے تھے مگر انہیں الفاظ کا جامہ پہنانے کی تحریک برادرم کبیر علی کے آرٹیکل “عمیرہ احمد و نمرہ احمد وغیرہ کا مسئلہ” سے ملی۔ دونوں آرٹیکلز میں موضوع زیر بحث خواتین کے ڈائجسٹوں میں شائع ہونے والے ایسے رومانوی ناول ہیں جن میں مرکزی کرداروں کے مذہبی عقائد اور مذہب کے احکام پر عملدرآمد کہانی کی بنت کا اہم حصہ ہوتے ہیں، یہ امر اس اعتبار سے انوکھا ہے کہ ماضی قریب تک رومانس اور مذہب کو ایک ہی تحریر میں سمونے کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ جہاں 1857 کے بعد برصغیر میں فروغ پانے والی قلعہ بند مذہبیت رومانس کی گستاخ، بے باک اور بے ادب قلانچوں سے مذہب کی سنجیدہ اور گھمبیر دنیا کا تقدس مجروح ہوتا دیکھتی ہے، وہاں انگریزی ادب سے نمو پانے والی ناول کی صنف بھی مذہب کے درشت چہرے اور چڑھی ہوئی تیوری کو رومانویت کی خوابناکی اور نزاکت کا قاتل سمجھتی ہے۔ ایسے فکری پس منظر میں یہ رومانوی ناول اور ان کی مقبولیت کسی عجوبے سے کم نہیں۔ جہاں تک میر مطالعہ ساتھ دیتا ہے، اس رحجان کی ابتدا عمیرہ احمد کے ناول “پیر کامل” سے ہوئی تھی، اس ناول کی مقبولیت کے بعد عمیرہ احمد نے اسی ڈگر پر کئی ناول لکھے اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دیگر مصنفاؤں نے بھی ایسے ہی ناول لکھنا شروع کر دئیے۔ خواتین کے ڈائجسٹوں میں اس نوع کی دیگر تحریریں اب بھی ہماری نظروں سے گزرتی رہتی ہیں لیکن عمیرہ احمد کی ابتدائی تحریروں کے بعد کسی تحریرمیں اتنی گہری دلچسی محسوس نہیں ہوئی کہ چند صفحات سے زیادہ پڑھنے کا تردد کیا جائے یا اوراق پیچھے کو پلٹ کر مصنفہ کا نام دیکھا جائے، لہٰذا اس تبصرے کو عمیرہ احمد کے ناولوں تک ہی محدود سمجھا جائے۔

بھائی کبیر علی نے عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کو تیسرے درجے کی نثر لکھنے والیاں کہا ہے۔ راقم کو عمیرہ احمد کا “امر بیل” مکمل اور “پیر کامل” نصف کے لگ بھگ پڑھنے کا اتفاق رہا ہے، اس کے علاوہ بھی ان کی تحاریر گاہے بگاہے نظر سے گزرتی ہیں۔ عمیرہ کے پاس کہانی کہنے کا فن بھی ہے، منفرد اسلوب بھی اوراچھوتے آئیڈیاز بھی، انہیں تیسرے درجے کی نثر لکھنے والی کہنا یا ان پر خواتین کے ڈائجسٹس کی روایتی، اوسط لکھاریوں کا ٹھپہ لگا دینا غلط ہے، حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے گلی محلے کے رومانس، خاندانی روایات کے جبر اور سسرالی سازشوں کے گرد گھومتی خواتین کے ڈائجسٹس کی دنیا کو نئی جہتوں اور نئی روایات سے روشناس کروایا، البتہ ان کی مقبولیت دیکھ کر اس میدان میں دیگر لکھنے والیوں نے جس قسم کے گل کھلائے، اس پر تنقید کی اچھی خاصی گنجائش ہے۔ نمرہ احمد کی تحریروں پر تبصرے سے ہمیں قاصر سمجھئے۔

جہاں تک چھ فٹ لمبے، گورے چٹے اور جمعیع خصائل خوباں رکھنے والے ہیرو پر کبیر بھائی کی تنقید کا تعلق ہے، یہ افسانوی، اساطیری، دیو مالائی قسم کا ہیرو نہ صرف ہمارےسیلف امیج کا منہ چڑاتا ہے، بلکہ خالد ولی اللہ بلغاری صاحب سے مستعار لئے ایک خیال کے مطابق ہمیں اپنے گرتے بالوں کی یاد دلا کر ہیرو کے ماتھے پر بکھرے بالوں سے خواہ مخواہ کی رقابت بھی پیدا کر تا ہے، لیکن ہمارا زاویہ نگاہ خالصتاً مردانہ ہے۔ خواتین کے زاویہ نگاہ کا مختلف ہونا عین فطری ہے۔ محترمہ جویریہ سعید نے بھی اپنے آرٹیکل میں اس غیر حقیقی امیج پر تنقید کی ہے، لیکن مجموعی طور پر ہمارا خیال یہی ہے کہ اگر جاسوسی اور سسپنس ڈائجسٹ کی رسونتی، مرینہ، سونیا، سیتا اور ویرا جیسی چندے آفتاب، چندے ماہتاب ہیروئنز پر خواتین کو اعتراض نہیں تو ہمارا بھی سالار سکندر قبیل کے ہیروز پر اعتراض کرنا نہیں بنتا۔ ویسے بھی فکشن سے ذہنی تفریح مطلوب ہوتی ہے، اس کا غیر حقیقی ہونا اگر سلیقے سے نبھایا جائے تو اپنی جگہ آپ ایک خوبی ہے۔ اگر فکشن میں بھی نک چڑھے، میٹرک فیل اور محلے بھر کے “الامے” لانے والے ہیروز یا بھانڈے مانجھنے کے لئے گمشدہ “کوچی” تلاش کرتے ہوئے نکی بہنوں کو بے بھاؤ کی سنانے والی ہیروئنز در آئیں تو نوبت ناول کے آخر میں قاری کے دیواروں سے سر ٹکرانے اور ایسے ناول شائع کرنے والے ڈائجسٹوں کی اشاعت بند ہونے تک پہنچے گی۔

اس معاملے کا دوسرا پہلو ان کہانیوں اور ناولز میں اسلام کے آئیڈیلز اور ان پر عمل پیرا کرداروں کا کہانی کے رومانوی تقاضوں سے ٹکراؤ اور اس ٹکراؤ میں ایسی سچویشنز کا ظہور ہے جو ہمارے معاشرتی تناظر میں کہیں یکسر غیر حقیقی، کہیں خود انہی آئیڈیلز سے متصادم جن کا پرچار تحریر میں مقصود ہے تو کہیں رومانویت کا بیڑہ غرق کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ترقی پسند تحریک نے جب ادب برائے مقصدیت کا نعرہ لگایا تھا، اسی وقت اسلام پسندوں کے کان کھڑے ہو گئے تھے کہ ادب کی ان ابھرتی ہوئی اصناف ناول، افسانہ وغیرہ کو بھی اسلامی اقدار کے پرچار کی مقصدیت کا جامہ پہنایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اور ترقی پسند تحریک کے زیر اثر لکھنے والے فحش نگاری کی حد کو چھوتے جن بے باکانہ رحجانات کو فروغ دینے میں مشغول ہیں، کیا انہی کے ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ان رحجانات کا مقابلہ ممکن ہے؟ قیام پاکستان کے بعد ایک پاکستانی/ اسلامی شناخت کی تشکیل پر اصرار نے اس سوال کو زندہ رکھا۔ مجھے پرانی کتابوں سے ملنے والی انیس سو پچاس کی دہائی میں مطبوعہ ایک کتاب اب بھی یاد ہے جس میں مصنف نے اسلامی ادب کے خد و خال پر بحث کی تھی، شروع سے آخر تک مصنف اسی سوال سے الجھتا رہا کہ محبت ہر زمانے اور ہر جگہ کے ادب کی جان ہے، اس کے قصے کہنے اور ان قصوں کے آئینے میں خود اپنے جذبات کی جھلک دیکھنے سے انسان آج تک نہیں اکتایا نہ ہی شاید کبھی اکتائے گا، لیکن کیا محبت کو اور کردار کی پاکیزگی جیسی مذہب سے فروغ پانے والی سماجی اقدار کو ادب میں یوں باہم نبھایا جا سکتا ہے کہ نہ ہی فن کے تقاضے مجروح ہوں نہ ہی سماجی اقدار کے؟ یہ قرار دینے کے باوجود کہ اسلامی احکامات کی اصل میں کسی بھی مرد و زن کا باہم شادی کا خواہاں ہونا نہ تو برا ہے نہ ہی معیوب، ان اصولوں پر کھڑی سماجی روایات اور اس سے جواز پانے والی قبائلی اقدار کے ڈھانچے کا دفاع کرتے ہوئے مصنف جگہ جگہ “لیکن” “اس لئے” “زیادہ بہتر یہ ہے” “کافی مشکل ہے” وغیرہ قسم کے الفاظ استعمال کرنے پر مجبور دکھائی دیا اور کتاب کے آخر میں حتمی سوال جواب سے اتنا ہی دور تھا جتنا کتاب کے آغاز میں تھا۔

سیارہ یا شاید اردو ڈائجسٹ کے اسی کی دہائی کے کسی شمارے میں ایک ترک مصنفہ کے ناول کا ترجمہ بھی یاد ہے جسے مترجم نے “اسلامی ادب کا نمائندہ” اور “لغویات” سے پاک ٹھہراتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ قارئین یہ ناول پڑھ کر قائل ہو جائیں گے کہ مغربی ادب کی لغویات اور فحاشی سے اجتناب کرتے ہوئے بھی عمدہ ادب کی تخلیق ممکن ہے۔ ناول کے ہیرو اور ہیروئن ظاہر ہے کہ نہایت مذہبی قسم کے افراد تھے، ان کا باہم نکاح ہو چکا ہے لیکن رخصتی میں کچھ عرصہ باقی ہے، اسی دوران ایک آوارہ اور اوباش قسم کا لڑکا ہیروئن پر عاشق ہوجاتا ہے اور اسے لبھانے، اپنے دام میں پھانسنے کے لئے کئی حربے استعمال کرتا ہے، ہماری بلند کردار ہیروئن، ہیرو کو اس امر سے آگاہ کرتی ہے اور وہ دونوں مل کر اس اوباش کی اصلاح کا منصوبہ بناتے ہیں، جس میں کہانی کے کئی پیچ و خم اور نشیب و فراز کے بعد وہ کامیاب بھی ہو جاتے ہیں، اوباش لڑکا ماتھے پر بکھری لٹوں کو سمیٹ کر سنجیدہ اور شریفانہ قسم کا ہئیر سٹائل بمعہ دیگر شریفانہ خصائل کے اپنا لیتا ہے اور اپنی دنیا و آخرت کے بچ جانے پر دونوں کا شکر گزار ہوتا ہے، اس دوران ناول میں ہیرو اور ہیروئن کی ملاقات اور محبت بھرے مکالموں کے تبادلے کے مواقع جا بجا آتے ہیں جن سے انصاف کرنا مصنفہ کے لئے چنداں مشکل نہیں تھا کہ بہرحال ہیرو اور ہیروئن نکاح کے رشتے میں بندھے ہوئے تھے اور ان کے رومانس کی راہ میں کوئی شرعی عذر حائل نہ تھا۔ فنی تکنیک کے اعتبار سے ایک اچھا ناول تھا لیکن چنداں دلچسپی کا حامل نہ تھا، شرعی اور منطقی اعتبار سے ہیرو اور ہیروئن کی محبت کا ہر طرح درست ہونا شروع سے آخر تک مصنوعی اور بے جان سا معلوم ہوتا رہا۔ اگر یہ ناول یادداشت میں محفوظ ہے تو اپنی کہانی یا فنی خوبیوں کے سبب نہیں بلکہ “اسلامی ادب” اور “پاکیزہ ادب” کی نمائندگی کے دعوے کے سبب محفوظ ہے۔

اگر دیکھا جائے تو عمیرہ احمد کے ناول اسی رحجان کا تسلسل اور مجموعی طور پر ایک زیادہ کامیاب کاوش ہیں۔ ہم شاید اسے مشرق اور مغرب کے ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط فکری تعامل کا کسی نتیجہ خیز سمت کی جانب بڑھنا کہہ سکتے ہیں، مشرق کا اپنی شناخت اور ایک ماورائے زمان و مکان ہستی کی اطاعت پر اصرار اور مغرب کا فرد کی انفرادیت اور آزادی پر اصرار کسی حد تک باہم مصالحت میں کامیاب ہوتے دکھائی دیتے ہیں، ایک مذہبی ذہن رکھنے والی ہیروئن کا مبتلائے محبت ہونا روایتی ذہن کو ابھی بھی کافی حد تک مضحکہ خیز جمع ضدین دکھائی دیتا ہے لیکن جدید فکر سے ہم آہنگ ایک ذہن کو اس میں اپنے فیصلے کرنے کے لئے آزاد ایک فرد کا اپنے حق فیصلہ کا استعمال دکھائی دیتا ہے جو ہمارے موجودہ سماجی منظر نامے میں غیر حقیقی تو شاید ہو لیکن مضحکہ خیز یا عجیب ہرگز نہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: