حالی و اقبال: ڈاکٹر مبارک علی کا متنازعہ بیان – ڈاکٹر افتخار کھوکھر

0
  • 68
    Shares

تنقید کرنا جائز سمجھی جانی چاہیے جہاں تک تنقید حقیت پر مبنی ہو اور جس کے بارے کسی گنجائش کی حجت نہ ہو۔ ایک مخلص اور حق پرست نقاد ہمیشہ پوری دلیل کے ساتھ اپنا نکتہ بیان پیش کرتا ہے تاکہ واضع ہو جائے کہ اس کی تنقید کی وجہ کیا ہے۔کسی پر بھی الزام لگایا جا سکتا ہے مگر یہ صرف بے بنیاد الزام ہی رہے گا جب تک اسکے ثبوت میں مکمل دلایل نہ پیش کیے جایں۔

ہر شاعر کو اسکے معروضی سیاسی حالات کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے۔ حالی اور اقبال کو جو کہ مسلمانوں کو زھنی اور عملی جمود اور انگریز کی غلامی سے نجات دلانے کا سبق دیتے تھے اور جو بے شمار ترقی پسند مسلمانوں کے لیے مشغل_ راہ بنے ان کے پیغام پرایک تاریخ دان مبارک علی کا یہ اعتراض، کہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں آئیے اور دیکھئے کہ علامہ صاحب اور حالی نے مسلمانوں کو کیا پیغام ہے۔

۱ اسلام کو جدید دور کے ساتھ ہم آہنگ کرنا اور یہ کہنا کہ اسلام میں ہر طرح کی جدیدیت سے ہم آہنگی اختیار کرنے کی اصلاحیت موجود ہے۔

۲. مسلمانوں کے نظام تعلیم کی تعمیر نو کی جائے تاکہ مسلمان اپنی تاریخ و تمدن اور تہذیب کو برقرار رکھ سکیں اور مستقبل کے لیے راہ ہموار کریں

۳۔ اسکولوں میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ سائنس اور تیکنولوجی پر ذور دیا جائے۔ایسے استاد پیدا کیے جائیں جو اب شعبوں میں کامل مہارت رکھتے ہوں تاکہ مسلمان دنیا کے ساتھ برابری کی سطح پر کھڑے ہو سکیں۔

۳.مسلمانوں کو فرقہ پرستی ترک کر کے ایک وحدت کی شکل اختیار کرنے کی ضرورت اجاگر کرنا کیونکہ اتحاد ہی میں قوم مضبوط رہے گی۔لسانی، علاقائی تعصب ختم کر کے ایک امت واحد بنیں تاکہ دین اسلام کا مکمل تحفظ ہو سکے۔مسلمانوں کی نجات اپنے دین میں ہے ناکہ انگریز کی تلقید میں۔ جب تک مسلمان انگریز کا غلام پے اسی پستی میں جکڑا رہے گا۔ مسلمانوں کو اپنیے تحفظ اور برابری کے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کرنی ہے۔۔۔ پھر جب ہندوؤں کی زھنیت علامہ پر ظاہر ہوگئی تو مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کی تجویز پیش کی تاکہ مسلمان اپنے دین اور اپنی تہذیب و تمدن کا مکمل تحفط آزادی سے کر سکیں اور مسلمانوں کے لیے ہندوستان میں ایک محافظ قوت کا رول بھی ادا کر سکیں گے۔ الگ ریاست نہ ہوئی تو مسلمان انگریز کی غلامی سے بھی بدتر ہندوؤں کے رحم و کرم پر رہے جائیں گے۔

اپنے ایک خط بنام صاحبزادہ آفتاب احمد خان، سیکر ٹری آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس مورخہ ۴جون ۱۹۲۵میں علامہ صاحب لکھتے ہیں (طوالت کی وجہ سے تبصرہ لکھ رہا ہوں) کہ:
ہمیں ایسے عالموں کے ضرورت ہے جو اسلامی فلسفے کے ساتھ ساتھ جدید فلسفے پر بھی عبور رکھتے ہوں، کیونکہ جدید علوم کے اخذ و جذب کرنے میں صرف یہی لوگ مدد کر سکتے ہیں۔اس طرح ایسے عالم تیار کرنا بھی نہایت ضروری ہے جو اسلامی تاریخ،آرٹ( فنون) اور علم تہذیب و تمدن(کلچر) کے مختلف پہلوؤں پر حاوی ہوں، جو اسللامی فقہ میں تحقیق اور تدقیق کے لیے موزوں ہوں اور جو اسلامی افکار اور ادبیات کے مختلف شعبوں میں اپنی تحقیقات سے اسلامی تمدن اور جدید علوم کے درمیان حیات ذہنی کا جو تسلسل پایا جاتا ہے،اس کی ازروئے نشو و نما جستجو کریں۔

پختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے کوئی
اس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام
مدرسہ عقل کو آزاد تو کرتا ہے مگر
چھوڑ جاتا ہے خیالات کو بے ربط و نظام
مردہ لادینئی افکار سے افرنگ میں عشق
عقل بے ربطئی افکار سے مشرق میں غلام
عصر حاضر۔۔۔ضرب_ کلیم
آزادی کے بارے علامہ صاحب فرماتے ہیں:
آزاد کی اک آن ہے محکوم کا اک سال
کس درجہ گراں۔ سیر ہیں محکوم کے اوقات
آزاد کا ہر لخطہ پیام _ ابدیت
محکوم کا ہر لخطہ نئی مرگ و_ مفاجات

اور مولانا مدنی کو ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
مسلمان ہونے کی حثییت سے انگریز کی غلامی کا بند توڑنا او اس کے اقتدار کا خاتمہ کرنا ہمارا فرض ہے اور اس آزادی کا مقصد یہی نہیں کہ ہم آزاد ہو جائیں، بلکہ ہمارا اول مقصد یہ ہے کہ اسلام قائم رہے اور مسلمان طاقتور بن جائے، اس لیے مسلمان کسی ایسی حکومت کے قیام میں مددگار نہیں ہوسکتا جس کی بنیادیں انہی اصولوں پر ہوں جنھوں پر انگریز کی حکومت قائم ہے۔ ایک باطل کو مٹا کر دوسر باطل کو قائم کرنا چہ معنی دارد؟ ہم تو چاہتے ہیں کہ ہند کلیتا نہیں تو تو ایک بڑی حد تک دارالاسلام بن جائے لیکن اگر آزادی ہند کا نتیجہ یہ ہو کہ جیسا دارالکفر ہے ویسا ہی رہے، یا اس سے بھی بد ترین بن جائے تو مسلمان ایسی آزادی وطن ہر ہزار مرتبہ لعنت بیجھتا ہے(مقالات_اقبال۔۔سید عبد الواحد معینی۔۔صفحہ ۲۲۱تا۲۳۸)
مولانا حالی اپنی مشہور نظم مسدس حالی میں فر ماتے ہیں:

نحوست پس وپیش منڈلا رہی ہے
چپ و راست سے یہ صدا آرہی ہے
کہ کل کون تھے آج کیا ہو گئے تم
ابھی جاگے تھے( مسلمان جب دنیا میں علوم میں سرفراز اور کامران تھے) ابھی سو گئے تم
پر اس قوم غافل کی غفلت وہی ہے
تنزل پر اہنی قناعت وہی ہے
لیا عقل و دین سے نہ کچھ کام انھوں نے
کیا دین حق کو بدنام انھوں نے

یہ چند مثالیں ہیں جو ان عظیم مسلمانوں کی سوچ اور فکر کی عکاسی کرتی ہیں۔ عللاوہ ازیں دونوں اس بات کے قائل تھے کہ انگریزوں کا نظام جمہوریت کھوکھلا اور غیر فطری ہے اور سرمایہ داروں کے منافع کا کاروبار پے۔ مسلمانوں کو مغرب کے اقدار مسترد کر کے وہ اقدار اپنانے چاہیئے جو اتباع محمدی کا مظہر ہوں۔قرآن تحقیق کی طرف انسان کو بار بار متوجہ کرتا ہے اس لیے مسلمانوں کو حصول تعلیم کے لیے ہمہ وقت جدوجہد کرنی درکار ہے۔۔طوالت کی وجہ سے مذید لکھ نہیں سکتا۔۔مگر یہ موٹی موٹی باتیں علامہ صاحب اورحالی رح کی سوچ اور فکر پر کچھ روشنی ڈالتی ہیں۔۔
حالی: رسالت محمدیہ کے بارے فرماتے ہیں:

سبق پھر شریعت کا ان کو پڑھایا
حقیقت کا گر ان کو اک اک بتایا
زمانے کے بگڑے ہوؤں کو بنایا
بہت دن کے سوئے ہوؤں کو جگایا

علامہ صاحب۔۔۔

تیری حریف ہے یا رب سیاست افرنگ
مگر ہیں اس کے پجاری فقط۔ امیر و رئیس
بنایا۔ ایک ہی ابلیس آگ سے تو نے
بنائے خاک سے اس نے دو صد ہزار ابلیس
۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں
کچھ پیغام۔ محمد (ص) کا تمہیں پاس نہیں

اب مجھے کوئی بتائے کہ ان پیغامات میں کون سی چیز ہے جو پاکستان کو آگے بڑھنے نہیں دیتی؟۔۔۔یا حالی اور اقبال پر الزام کے پیچھے یہ حقیقت کار فرما ہے؟

اس قوم میں ہے شوخی اندیشہ خطرناک
جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد
گو فکر خداداد سے روشن ہے زمانہ
آزادی افکار ہے ابلیس کی ایجاد

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: