بلاول بھٹو اور اقتدار: کلیم بخاری

0
  • 31
    Shares

An Interview with history
Karachi,  April 1972

مانسہرہ جلسے میں بلاول بھٹو نے خان صاحب اور نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں اقتدار کے بھوکے ہے اور ان کے لئے اقتدار ہی سب کچھ ہے. اپنے اقتدار کے حوالے سے بلاول بھٹو کے آئیڈیل نانا ذولفقار علی بھٹو کی بات کرتے ہیں.

اپریل 1972 کو اٹلی کی مشہور صحافی رپورٹر اورینا فلاسی، ذولفقار علی بھٹو کی درخواست پر پاکستان آئی کہ بھٹو صاحب خود اسکو انٹرویو دینا چاہ رہے تھے بہت سوال و جواب ہوئے. مگر ہم، اس انٹرویو میں اقتدار کے حوالے سے اہم سوال پر آتے ہیں

اورینا فلاسی کا سوال :”بھٹو صاحب! بہت سارے لوگ آپکی ان باتوں پر یقین نہیں کرتے. انکا خیال ہے آپکو صرف طاقت چاہیے اور کچھ نہیں اور اقتدار میں رہنے کے لیے آپ کچھ بھی کر گزریں گے اور آپ کبھی بھی ان چیزوں سے دستبردار نہیں ہونگے جو اس وقت آپ کے پاس ہیں؟”

بھٹو صاحب: (ایک بات اور ہوئی ہے اس جواب سے پہلے میں اسکو سکپ کرتا ھوں)
“جہاں تک میرے اوپر الزامات کی بات ہے کہ صرف اقتدار کا بھوکا ھوں۔ یہ بڑا ضروری ہے کہ ھم اس بات کو سمجھیں کہ طاقت کیا ہوتی ہے میرےنزدیک پاور وہ نہیں ھوتا جنرل یحییٰ خان کے پاس تھا ۔ طاقت سے میری مراد ہے وہ چیز جسے آپ پہاڑوں کو گرا کر زمین پر برابر کرتے ہیں ۔ جسے صحراؤں پر پھول کھلتے ہے اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتے ہیں جہاں بھوک اور ذلت سے کوئی نہیں مرتا۔ میں ڈکٹیٹر نہیں بننا چاهتا مگر اس وقت مجھے بہت ٹف ھونا پڑے گا۔ جن ٹوٹی کھڑکیوں کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کر رھا ھوں وہ کرچیوں میں بکھری ہوئی ہے۔ مجھے کرچیاں اٹھا کر باہر پھینکنی ہوگی اگر میں نے ان کرچیوں کو باہر پھینکتے وقت احتیاط نہ کی تو یہ ملک نہیں رہے گا۔ میرے پاس صرف ایک بازار رہ جائے گا۔
ایک بات سمجھنے کی ہے آپ سیاست محض کھیل کود کے لیے جوائن نہیں کرتے آپ سیاست اس لیے کرتے ہیں کہ طاقت حاصل کریں اور اسے اپنے پاس رکھیں۔ جو یہ بات نہیں مانتا وہ جھوٹ بولتا ہے. سیاست دان آپکو ہمیشہ یہ یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ بہت اچھاہے ، بہت اچھے کردار کے مالک ہے اور مستقل مزاج ہے. آپ ان کی باتوں میں نہ آئیں. اسطرح کے سیاست دان کا کوئی وجود نہیں ھوتا جو اچھا ھو، مستقل مزاج ھو ۔سیاست کچھ لو کچھ دو کا نام ہے ۔”

یہ تو ہوئی بلاول کے نانا کی تاریخی بات اب ایک اور لیڈر کی بات کرتے ہیں جس نے یہی بات 2017 میں کہی.

عمران خان
وکلاءکنونشن سے خطاب کے دوران اپنی تقریر میں کپتان نے کہا کہ،”مجھ پر یہ الزام ہے کہ میں اقتدار حاصل کرنے یا وزیر اعظم بننے کے لئے یہ سب کچھ کر رھا ہوں.کوئی نواز شریف اور آصف علی زرداری سے پوچھے کہ کیا وہ پٹواری بننے کے لئے الیکشن لڑتے ہیں؟”

بلاول صاحب اقتدار پاور کے لیے حاصل کرنے کا ہی نام ہے. اقتدار حاصل کرنے کے لیے تبدیلی ضروری ہے. کچھ نیا کرنے کا جنون ھو کہاپنے لئے کسی بھی طرح آپ عزت اور شھرت حاصل کریں ، نہ کہ جس طرح آپکی پارٹی اور شریف برادران لمیٹڈ پارٹی کرتی ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: