عمیرہ اور نمرہ احمد: ایک تبصرہ ۔۔۔ قرباز علحان رافندی

0
  • 12
    Shares

آج کل کافی مضامین میں نمرہ اور عمیرہ احمد کی تحریروں، ان کے فلسفے، ادبی حیثیت اور اثرات پر گفتگو ہو رہی ہے۔ باقی سب باتیں تو کافی خواتین و حضرات کر چکے ہیں. ایک پہلو پر میں اظہار خیال کرنا چاہ رہا تھا مگر اس سے پہلے ایک “ڈسکلیمر” قسم کی چیز ضروری ہے۔

ڈسکلیمر: نمرہ صاحبہ کو تو کبھی پڑھا ہی نہیں البتہ عمیرہ احمد صاحبہ کا پیر کامل پڑھا تھا۔ سنا یہی ہے کہ نمرہ صاحبہ بھی کچھ ملتا جلتا ہی لکھتی ہیں، مذہب، تصوف اور رومان کو ملا جلا کے۔ احقر کی رائے خواتین کے ڈائجسٹس میں چھپنے والی تحاریر کے بارے میں بہت زیادہ مثبت نہیں ہے۔ ایامِ جاہلیت میں یہ جاننے کے لئے پڑھی تھیں تا کہ ہمیں پتا چل سکے کہ لڑکیوں کے “خوابوں کے شہزادے” کیسے ہوتے ہیں اور ہم ان سے کتنے مِلتے جُلتے ہیں۔ نتائج کچھ زیادہ حوصلہ افزاء نہیں تھے کیونکہ رنگ ہمارا خاصا پکا، گھنی نہیں بلکہ ہلکی پھلکی مونچھوں کے نیچے گلابی ہونٹوں کی بجائے کالے شا ہونٹ اور قد بھی سوا پانچ فٹ سے تھوڑا کم تھا۔ بلکہ کئی بار تو دل چاہا، ان کو لکھ کے بتایا جائے کہ ایسے مرد کہیں نہیں ہوتے۔ اور ان کہانیوں پر ہمارا سب سے بڑا اعتراض بھی یہی تھا کہ وہ لڑکیوں کو تھوڑی غیر حقیقی دنیا اور توقعات میں دھکیل دیتے ہیں، جو بعد کی زندگی میں ان کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔

جو سب سے زیادہ اعتراض سامنے آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ مذہب زدہ رومانس کو پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں میری عرض یہ ہے کہ رومانس مذہبی بندے کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی کم مذہبی شخص کا۔ مخالف جنس میں کشش فطری بات ہے۔ کوئی جرم نہیں ہے۔ داڑھی یا پردہ کوئی رومانس یا فطرت کی ویکسین تھوڑی ہیں؟ بھائی مولوی بھی انسان ہوتے ہیں۔ وضو کرتے ہوئے چھوڑیں، کسی کو کچن میں کام کرتی خاتون میں بھی خوبصورتی نظر آ سکتی ہے۔ دراصل یہ بھی ہماری دینی معاملات میں ایک کم فہمی کی مثال ہے۔ شادی کرنا، چاہنا، چاہے جانا سب فطری تقاضے ہیں بس ان کے زرائع جائز ہونے چاہئیں۔ یہ ہے واحد شرط جو مذہب لگاتا ہے۔

باقی جہاں تک ادبی حیثیت کا تعلق ہے تو عرض یہ ہے کہ “جو پیا من بھائے، وہی سہاگن”۔ بہت کم کسی نئی صنف کی ادبی حیثیت اپنے وقت میں طے ہوئی۔ ابن صفی صاحب جب تک حیات تھے، ان کو کوئی ادبی حلقے میں گھسنے کا نام بھی نہیں لینے دیتا تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا “غیر روایتی” کام آج بھی تروتازہ ہے۔ میں آج بھی ان کی کوئی کتاب ملے تو پھر سے پڑھ لیتا ہوں اور کبھی بور نہیں ہوتا۔ اسی طرح عمیرہ احمد صاحبہ نے بنیادی طور پر ایک نیا اور غیر روایتی تجربہ کیا جسے کم از کم”قبول عام” کی سند حاصل ہے اور بہرحال روایتی خواتین لکھاریوں سے ان کا کام کہیں بہتر ہے۔ ان کو قرت العین حیدر، بانو قدسیہ یا عصمت چغتائی کے ساتھ تقابل میں کھڑا کرنا کچھ زیادہ مناسب اور منصفانہ شائد نہیں۔

بس اب آپ یہ مضمون ختم کریں “اپنے ہونٹوں پر ایک الوہی مسکراہٹ کے ساتھ جو آنے والے روشن دنوں کا پتا دے رہی ہو” اور یہاں آپ راقم کی طرف سے ایک wink emoticon بھی فرض کر لیں۔

تحریر: “قرباز علحان رافندی”
مصنف فساد خلق کے ڈر سے اپنا اصلی نام دینے میں احتیاط ہی بہتر سمجھتا ہے.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: