سیاست میں ’موریلٹی‘ کا کردار: قاسم یعقوب

0
  • 82
    Shares

اخلاقیات (Morality) سماجی مطالعات کا ایک اہم باب ہے۔ موریلٹی کا دارومدار اُن اصولوں پر ہے جو کسی بھی سماج کے طرز ِزندگی کی فلاسفی، مذہبی اقدار اور ثقافتی اعمال (Practices) سے پیدا ہوتا ہے۔ ایتھکس یا اخلاقیات ایک طاقت ہے جو کسی بھی فزیکل طاقت سے زیادہ جاندار اور مضبوط ہوتی ہے، جس کا اثر زیادہ دیر پا اورگہرا ہو تا ہے۔ ہم سماج میں ایک فرد کی حیثیت سے بہت سی طاقتوں کے ہاتھوں یرغمال ہوتے ہیں۔ کسی بھی طاقت سے انکار کسی اور طاقت کے ہاتھوں شکار ہونا ہے۔موضوع یا سبجیکٹ کا کلّی غیر جانب دار ہونا ایک مفروضہ ہے۔ موضوع کبھی غیر جان داری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

سیاست میں موریلٹی کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ آپ اکثر سنتے ہوں گے کہ سیاست میں وقت کی بہت اہمیت ہے۔ یہ ٹائمنگ یا وقت کا اسیر ہونا اصل میں اُس موریلٹی کو سمجھنا یا اُس سے فائدہ اٹھانا ہے جو ایک خاص وقت میں پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔موریلٹی،جیسا کہ پہلے ذکر ہُوا ایک طاقت ہے، لہٰذا اگر اس طاقت سے گریز کیا جائے تو عین ممکن ہے کہ یہ طاقت آپ کو کچل دے۔

پچھلے کچھ دنوں سے پاکستانی سیاست میں موریلٹی نے بہت اہمیت اختیار کر رکھی ہے۔ موریلٹی ایک طاقت کے طور پر جلوہ گر ہے اور سب کو ایک اژدھا کی طرح نگل رہی ہے۔ اُن کو بھی، جو کل تک اسی موریلٹی کے ہاتھوں خود یرغمال تھے، اب کسی اور کو یرغمال دیکھ کر اسے ازلی ابدی اصول قرار دے رہے ہیں۔

یاد رکھیے، طاقت کوئی ازلی ابدی حقیقت نہیں۔ کوئی بھی طاقت خواہ وہ موریلٹی کی طاقت کیوں نہ ہو، اپنے وقت پہ بوڑھی ہو جاتی ہے اور منظر نامے سے غائب ہونے لگتی ہے۔ اس کی جگہ دوسری طاقت لے لیتی ہے۔

سیاست کے ایوان موریلٹی کی طاقت کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں سیاست کا بہت عمل دخل ہے۔پاکستانی سیاست موریلٹی کی طاقت کے آگے ڈھیر ہونے میں دیر نہیں لگاتی۔ موریلٹی کا ایک حصہ تو Unseen ہوتا ہے جیسے مذہبی اقدار، کلچر اور تاریخ کے صفحات مگر دوسرا حصہ واضح اور افراد کے بَس میں ہوتا ہے۔یہ موریلٹی چند ادارے مل کر ترتیب دیتے ہیں جو طاقت کا سرچشمہ کہلائے جاتے ہیں جیسیسول اور فوجی اسٹیبلشمنٹ، مذہبی اشرافیہ،تعلیمی نصابات، میڈیائی ہائپر دنیا اورسیاسی جماعتوں کی تحریکیں وغیرہ۔سیاسی موریلٹی کا رُخ موڑنے میں اِن Seen اداروں کا بہت ہاتھ ہوتا ہے۔ ہمیں معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ اب موریلٹی بدل رہی ہے اور کون بدل رہا ہے۔ہمیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ کس طرح ہم ان اداروں کی پیش کردہ موریلٹی کا ’’شکار‘‘ ہو چکے ہیں۔ اب یہی موریلٹی ایک ’’سچ‘‘ کو جنم دے گی اور وہ سچ ہم سب کا سچ کہلائے گا۔ رفتہ رفتہ وہ سچ ایک جھوٹ میں منتقل ہونے لگے گا۔ہم نہیں مانیں گے مگر طاقت کے یہ ستون (Pillars) ہمیں منوائیں گے۔ ہمیںافیون کے خاموش اثر کی طرح ان اداروں کی پیش کردہ موریلٹی کا عادی بنایا جائے گا۔

علمِ سماجیات میں سب سے اہم مطالعہ کسی بھی سماج پر عمل آرا طاقتوں کا کھوج لگانا ہوتا ہے۔ طاقت (Power Structures) کو سمجھے بغیر ہم سماجیات کی جڑ تک نہیں پہنچ سکتے۔ایک وقت میں ہم Unseen موریلٹی کے قابو میں کم اور Seen موریلٹی کے ہاتھوں زیادہ یرغمال بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ جس میں سب سے زیادہ کردار میڈیائی ہائپر دنیا کا ہے۔ ہائپر حقیقت کا حقیقت سے اِتنا فاصلہ ہی نہیں ہوتا کہ اسے الگ کیا جاسکے۔ یہ حقیقت کا’’جعلی پن‘‘ (simulation) ہے جو غیر محسوس انداز سے حقیقت کوOverlap کر جاتی ہے۔
سیاسی موریلٹی ہائپر حقیقت کی پیداوار ہے اس لیے ہم اسے الگ نہیں پاتے کہ کہاں سے میڈیائی حقیقت شروع ہوتی ہے اور کہاں سے حقیقت۔ویسے کسی بھی حقیقت (Reality) کا وجود نہیں ہوتا، فرق صرف یہ ہے کہ ایک حقیقت وہ ہے جوحالات اور سماج کی تخلیقی و عملی رفتار سے خود بخودپیدا ہوتی ہے اور دوسری حقیقت جسے پیدا کیا جاتاہے،جسے سماجی پرکٹسز کے خلاف جنم دیا جاتا ہے۔یہ بظاہر معمولی سا فرق ہے مگر اس میں افراد کے اذہان کی آزادانہ حرکت اور ان کے مقید کئے گئے اذہان کو قابو کرنے کا گہرا فرق موجود ہے۔ افسوس یہ کہ دونوں صورتوں میں جو حقیقت‘‘ پیدا ہوتی ہے وہ حقیقت اور ہائپر حقیقت کی صورت میں نتائج سامنے لاتی ہے جسے الگ نہیں کیا جا سکتا۔یا یہ کہہ لیں کہ انھیں الگ کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔

اب میں کچھ مثالوں میںسیاست کی ہائپر دنیا اورسماجی کی’’ تخلیقی حقیقت‘‘ میں فرق بتانے کی کوشش کرتا ہوں جو سماجی پریکٹس میں موجود ہونے کے باوجودموریلٹی نہیں قرار پاتی۔
۱۔ افغانستان میںروسی افواج کی دخل اندازی کو طاقت کے مراکزاداروں نے جس انداز سے پیش کیا، افراد کے ذہنوں نے اُسے، اُسی حالت میں قبول کر لیا۔ جہاد ہی ہماری موریلٹی بن گئی۔موریلٹی نے اپنا لوہا منوا لیا۔اس موریلٹی کو نصابات، میڈیا اور مذہبی اشرافیہ کے ذریعے قبول کروایا گیا۔ (یاد رہے مذہبی اشرافیہ اور مذہبی اقدار میں گہرا فرق ہے)
۲۔ طالبان پی پی پی حکومت میں نصیر اللہ بابر نے تیار کروائے،نہ صرف ان کو تسلیم کیا بلکہ ان کا اخلاقی اور سیاسی دفاع کیا۔ مگر جب موریلٹی تبدیل ہوئی تویہی پی پی پی اس کے خلاف فلسفیانہ موریلٹی لے کر سامنے آئی۔
۳۔ بھٹو کی پھانسی کو طاقت کی موریلٹی نے ’’سچ‘‘ قرار دلوایا۔ مگر پھر رفتہ رفتہ طاقتوںکے ردوبدل سے ان کی جگہ نئی طاقتیں آنا شروع ہوئیں تو انھوں نے نئی ’’موریلٹی‘‘ کو جنم دیا جس میں بھٹو کی پھانسی نامناسب قرار پائی۔ مقدس ’’عدلیہ‘‘ پر داغ کے دھبے دکھائے جانے لگے۔

۴۔ نوے کی سیاست میں موریلٹی طاقت کے کچھ ادارے ہی متعین کرتے۔ جو اب یک سر اپنے ’’کارِ عمل‘‘ سے انکار کر رہے ہیں۔ کیوں کہ موریلٹی نے اپنا مرکز کہیں اوربنا لیا ہے۔ پہلے والی موریلٹی اب تبدیل ہو چکی ہے۔

۵۔ بے نظیر بھٹو نے ایک جنرل کے ساتھ مل کر نواز شریف کی حکومت کو گرانے کی ہر کوشش کی۔ جنرل کاکٹر نے جب نواز شریف اور غلام اسحاق سے استعفیٰ لیا تو بے نظیر بھٹو مسکرا رہی تھیں۔ اسی طرح جب بے نظیر بھٹو کی حکومت کو جب انھی کے ایک صدر مملکت فاروق لغاری نے گرا دیا تو نواز شریف مسکرا رہے تھے۔ جب نواز شریف کی حکومت کو مشرف نے چلتا کیا تو پیپلز پارٹی مٹھائیاں بانٹ رہی تھی۔

۶۔ مشرف حکومت نے سیاست دانوں کے خلاف ایک نئی موریلٹی کو جنم دیا جو میڈیا کی ذریعے طاقت پکڑنے لگی۔ مگر پھر اسی میڈیائی طاقت نے مشرف کی آمریت کو نئی موریلٹی سے تبدیل کرنا شروع کر دیا۔ وقت خود ایک بڑی طاقت ہے جو زیادہ دیر کسی بھی موریلٹی کو زندہ نہیں رہنے دیتا۔

۷۔ بے نظیر بھٹو کا قتل پی پی پی کو مورل گرائونڈ پر مضبوط کرتا گیا۔ سب کچھ پی پی پی کے حق میں آتا گیا۔یہ اس وقت کی موریلٹی تھی۔جو اب یک سر اُلٹ ہو چکی ہے۔

۸۔ نواز شریف ڈکٹیٹر سے معاہدہ کر کے باہر گئے، اُسی ڈکٹیٹر سے بے نظیر بھٹو معاہدہ کر کے واپس آئیں۔ نواز شریف حکومت ختم کروا کے پرویز مشرف کو حکومت اور طاقت کا لائسنس دے کے باہر چلے گئے۔ ہو بہو یہی مقاصد کے ساتھ بے نظیر بھٹو واپس آئیں۔ مشرف کو صدر مملکت بنانے اور خود وزیر اعظم بننے کا معاہدہ کرکے ملک میں وارد ہوئیں۔ مگرموریلٹی نواز شریف کو برا بھلا کہتی آ رہی ہے۔ موریلٹی کی طاقت جن کے ہاتھوں میں ہوتی ہے انھوں نے ابھی بے نظیر کی خلاف فیصلہ نہیں کیا۔نواز شریف اور بے نظیر بھٹو دونوں معاہدے کر نے والے ہیں۔معاہدوں کی بیساکھی لے کر ایک باہر چلا گیا، دوسری باہر سے واپس آ گئی۔مگر یہ موریلٹی طے کرے گی کہ کون سا معاہدہ غلط تھا اور کون سا درست۔

۸۔ زرداری حکومت میں موریلٹی کی طاقت نے زرداری کے خلاف فیصلہ دے رکھا تھا۔ نواز شریف خود اس طاقت کے ہاتھوں مجبور کر دیے گئے تھے۔وہ میمو سیکینڈل اور عدلیہ موریلٹی کا شکار ہو گئے اور ایک صدر اور ایک وزیر اعظم کے خلاف پیدا کی جانے والی موریلٹی میں اپنا ’’مال‘‘ سمیٹنے لگے۔موریلٹی نے ہی ہمیں بتایا کہ زرداری دنیا کا کرپٹ ترین آدمی ہے مگر یہی موریلٹی اب ہمیں نواز شریف کے بارے میں بتا رہی ہے، نہ جانے کل کسی اور کے بارے میں بتائے اور ہم مان لیں گے۔ چوں کہ طاقت ہمیں جکڑ لیتی ہے اس لیے ہم آئندہ کے بھی کرپٹ ترین آدمی کو مان لیں گے اور ان پہلے کرپٹ افراد کو بھلا دیں گے جیسے پہلے ہم بھلا چکے ہیں۔

۹۔ اب پھر موریلٹی نے ہمیں نواز شریف کو بے دخل کرنے کا کہا ہے ہم مان چکے ہیں۔ وہی پی پی پی جو نواز شریف کو میمو سکینڈل اور یوسف گیلانی کی نا اہلی پر طعنے دے رہی ہے۔ خود بھی نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کی اگلی کرسیوں پر بیٹھی نئی پیدا ہونے والی موریلٹی کو خوش آمدید کہہ رہی ہے۔وہی موریلٹی جس کی پیدائش کا اعلان خفیہ اور ظاہری ہاتھ کر چکے ہیں، اس وقت پی پی پی، عمران خان اور دیگر جماعتیں اس موریلٹی کو مان چکی ہیں اور اسے پروان بھی چڑھا چکی ہیں۔

یہ نئی سیاسی موریلٹی یک دم نہیں بلکہ رفتہ رفتہ بدلے گی۔ یہی نواز شریف جو اس موریلٹی کا شکار ہو چکے ہیں، سارا میڈیا ان کے گرد گھیرا تنگ کر رہا ہے،کل جب طاقت کا مرکز بدلے گا تو نواز شریف کی جگہ کسی اور کو نشانے پہ رکھے کھڑا ہو گا۔نئی موریلٹی جنم لے رہی ہوگی۔ ہم چپ چاپ اُس کے پیچھے پیچھے چل رہے ہوں گے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: