نئی فکر یا ہماری محرومی کے نئے اسباب: فارینہ الماس

0
  • 28
    Shares

سوال یہ ہے کہ ہم ”مذہب بیزار“ کیوں ہو رہے ہیں؟ شاید اس لئے کہ ہم محبت بیزارہو چکے ہیں۔ محبت ایک وصف ہے اطاعت شعاری اور شکر گزاری کا۔ محبت ایک گر ہے سبھی روحانی طاقتوں اور روح کی طلسماتی کیفیتوں کو مجتمع کرنے کا۔ محبت ایک قوت گویائی اور صفت کبریائی ہے۔ یہ ایک فن ہے، ہر ہر لمحہء موجود سے زندگی کشید کرنے کا۔ اپنے فن اور ہنرکو تخلیق کرنے کا۔ اپنی ذات کا احترام کرنے اور نبھانے کا۔ محبت جھکنا اور خاموشی سے طلب کرنا سکھاتی ہے۔ دکھ کو سہنا اور تلخی کو پینا سکھاتی ہے۔ تنہائی کے گوشے میں بیٹھ کر چپ چاپ فن کو سنوارنا اور وقت کے بے پایاں و لامحدود طلسم خانوں میں لافانی ہونے کا سبق پڑھاتی ہے۔ محبت پی پیغمبروں نے بھی کی اور خوب کی، اپنے رب سے اور اس کی جلوہ نمائیوں سے کی اس کے پیدا کئے بندوں سے کی کہ اور پھر اس کے ہرِ ہر حکم سے وفا نبھائی۔ اس رہ کی تمام صعوبتیں جھیلیں، تمام آزمائیشوں سے گزر گئے۔

محبت فن کار بھی کرتے ہیں اپنے فن اور اس کے اظہار سے اور بے پناہ کرتے ہیں۔ محبت اپنی ذات کی نفی کا نام ہے۔ جو انسان کی جھوٹی اناؤں کے بت پاش پاش کرتی ہے۔ اسے خود پرستی اور خودنمائی کے بے سمت سفر سے بچاتی ہے۔ مذہب کا اوتار ”ایمان“ ہے۔ جو وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں عقل کی سبھی دلیلیں ختم ہو جاتی ہیں۔ جب کیا، کیسے اور کیوں کا سفر ختم ہوتا ہے اور تسلیم کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ اس آدھے سفر میں ہی جب سائنس کی سبھی تاویلیں اور دلیلیں انسان کا ہاتھ چھوڑ دیتی ہیں تو ” ایمان“ کی طاقت آگے بڑھتی ہے اور اس کی انگلی تھام کر اسے زندگی کے پرخار اور بیقرار لمحوں میں سہارا دینے لگتی ہے۔ اپنے غرور اور خود پرستی کے مارے وہ لوگ جو اس انگلی کو جھٹک دیتے ہیں وہ بے منزل اور بے سمت ہو جاتے ہیں۔ ان خود ساختہ دانشووں کے علم کی انتہاؤں کے نقطے پر جہالت کا ایک منہ زور ریلہ انہیں جا لیتا ہے کیونکہ جہاں عالم اپنے علم کے غرور میں مبتلا ہونے لگتا ہے وہیں سے اس کی جہالت اور گمراہی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اسی نقطے سے بچنے کو تو علم اور فکر کے دیوتا سقراط نے مرتے وقت اپنی دیانت، راست گوئی اور انکساری کا ثبوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ” میری حکمت اور علمیت کی حدود یہ ہیں کہ میں نے اپنی کم علمی کی سرحدوں کو پہچان لیا ہے۔“

لیکن ہمارا مسئلہ محض یہ نہیں کہ ہم جہالت کے درجات پر فائز ہیں ہماری کم نصیبی یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنی جہالت کو اپنا تکبر بنا رکھا ہے۔ اس کے خودساختہ غرور کے بوجھ میں دبے ہم اک دوسرے سے ایسے مسئلوں پر دست و گریباں ہیں جو ہماری سوجھ بوجھ سے ہی بالا تر بھی ہیں اور ماضی کا حصہ بھی بن چکے ہیں۔ ہم دو طرح کی سوچ کی انتہاؤں پر اس طور موجود ہیں کہ ان انتہاؤں پر ہمیں اپنا ہی فلسفہ آسمانی صحیفہ سجھائی دیتا ہے اور اپنا ہی مرتبہ خدائی دکھائی پڑتا ہے۔ یہاں سے ہماری نفرتوں سے لتھڑے نشتر اک دوسرے کی گردنوں کا نشانہ باندھے ہوئے رہتے ہیں۔ سقراط کا ماننا تھا کہ انسان صرف اور صرف اپنی جہالت کی وجہ سے ظلم پر آمادہ رہتا ہے، یہ ظلم نفرت کے بیج سے اگتا ہے اس ظلم سے بچنے کے لئے سقراط نے انسان کو ” فن محبت “ کو سیکھنے اور اپنانے کی تلقین کی وہ فن جو لوگوں کو تعلیم سے ہی سکھایا جا سکتا ہے۔

ہم علم سے دور لیکن علم کے غرور میں مبتلا ہیں۔ اسی لئے محبت کی بجائے نفرت کا ہنر سیکھ رہے ہیں اور اسی کو جی رہے ہیں۔ اپنی جہالت اور کم مائیگی کے خاتمے کی تدابیر سوچنے کی بجائے خود ساختہ طور پر خود کو دانشور اور روشن خیال مفکر سمجھ کر بیٹھے ہیں۔ عالم اور فلسفی کا سوانگ رچائے ہوئے ہیں۔ ہم اپنی کم علمی کا بھرم رکھنے کو فاشسٹ یا ملحد تک بن جانے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ اور اسی طاقت کے زعم اور نہ ماننے کی خو کو اپنا ہتھیار بنالیتے ہیں۔ ہر رائج الوقت عقیدے کی نفی، ہر روایت کی حکم عدولی۔ پہلا وار مذہب پر پھر عقائد اور ایمان پر۔۔۔ پھر پرانے رواجوں پر۔۔۔ اپنے ماضی پر اور ماضی کی معتبر سمجھی جانے والی ان شخصیات پر، جو اپنے علم اور تجربے کی بنا پر یا اپنی کسی تسخیر و تخلیق کی بنا پر معتبر ٹھہرتی ہیں۔ ہر رائج الوقت عقیدے پر لعنت ملامت میں ہی ہماری روحانی تسکین اور ہماری جھوٹی اناؤں کی تعمیر ہے۔ یہ ہمارے تئیں ہماری بے باکی ہے، ہمارے خیالات کی بلند نظری ہے۔ ہم سچے ہیں اس لئے باقی سب جھوٹے ہیں۔ دوسروں کے جذبات، خیالات، سب فرسودہ ہیں۔۔۔

ہمارا دکھ بھرا فسانہ یہ بھی ہے کہ ہم پرانی سوچ اور پرانے خیالات کا ملبہ ہٹانا تو چاہتے ہیں لیکن نئی تعمیر کے قابل بھی نہیں۔ ہم آج بھی اپنی تسکین کی خاطر پرانے آئیڈیلز اور پرانے خیالات کو لعنت ملامت تو کرتے ہیں لیکن ہم ابھی تک یہ بھی نہیں جانتے کہ ہم خود کیا چاہتے ہیں؟ ہم پرانے زمانوں کا سوگ منا رہے ہیں اور آنے والے زمانوں کے خوف میں مبتلا ہیں۔ اور اپنے اسی خوف میں دوسروں کو بھی مبتلا رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن نہ تو اپنے زمانے میں جینا جانتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو جینا سکھا سکتے ہیں۔ ہماری تکلیف رفع نہیں ہوتی کیونکہ ہم آج بھی اپنی گزشتہ تکالیف کے کرب میں مبتلا ہیں۔

ایک قصہ گوش گزار ہے۔ یہ قصہ ہے اماں نصیبن کا۔۔۔ اماں نصیبن جن کا بچپن مفلسی اور کسمپرسی میں گزرا۔ ان کی جوانی کی تازگی کو بھی بچپن کی فسردگیوں کی یاد دیمک کی طرح چاٹ گئی۔ بیاہ رچا تو بھی یاد ماضی کا عذاب نئے وقتوں کی شادابیوں کو لمحہ لمحہ نگلتا رہا۔ پھر شوہر جوانی میں ہی داغ مفارقت دے گیا۔ اب تنہا بچوں کی پرورش کا بیڑہ اٹھانا پڑا۔ بڑی مشکل سے گزر بسر ہو تی رہی۔ جیسے تیسے بچے پڑھ لکھ گئے اور اچھی نوکریوں پر لگ گئے۔ اب حالات ابتر سے بہتر ہوئے تو بھی اماں نصیبن نے شکر گزاری سے اچھے دنوں کو منانے کی بجائے۔ خود پر کم نصیبی کو ہی غالب رکھا اور خود کو اچھے کپڑے لتے، کھانے پینے سے محروم بنائے رکھا۔ وہ آنے والے وقتوں کے لئے نقدی جوڑتی رہیں۔ آنے والے وقت جب وارد ہوئے تو بیٹوں کی بیویاں سبھی جمع پونجی پر قابض ہو بیٹھیں۔ اور اماں نصیبن کسمپرسی میں ہی مبتلا رہ گئیں۔ سبھی لوگ کہتے ہیں کہ اماں نصیبن، بد نصیب تھیں۔ لیکن میرا ایسا ماننا نہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اماں نصیبن کا نصیب کم تھا۔ ایسا نہیں کہ ان کی زندگی میں کبھی اچھا وقت ہی نہیں آیا۔ قصور ان کا اپنا ہی تھا کہ وہ لمحہءموجود کی بے قدری کرتی رہیں۔ اچھے زمانوں میں بھی یا تو ماضی کی تلخ یادوں میں گھری رہیں یا آنے والے وقت کی سنگینی کے خوف میں مبتلا رہیں اور زمانہءحال کو گنواتی رہیں۔

ماضی کیا ہے؟ جو ختم ہو چکا ہے۔۔ لیکن وہ ہماری زندگی اور سوچ سے کبھی جاتا ہی نہیں۔ مستقبل کیا ہے ؟ جسے ابھی آنا ہے۔ لیکن ہم اسے آنے سے پہلے ہی خود پر طاری کئے رکھتے ہیں۔ اور حال۔۔۔۔ وہی ایک ایسا زمانہ بچتا ہے جسے جینا اور سمجھنا ہمیں آتا ہی نہیں۔ ہم یقین و گمان کی بھول بھلیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ وہ کرنے سے محروم ہیں جو ہمیں کرنا چاہئے اور وہ کئے جا رہے ہیں جو ہمیں نہیں کرنا چاہئے۔ ہم اس کئے کو بھگت رہے ہیں جو ہم نے کیا ہی نہیں یا اس کو غیب کی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں جو سامنے موجود ہی نہیں لیکن وہ نہیں دیکھ رہے جو ہمارے حال میں شامل ہے۔ اسی لئے حال کی اصلاح سے غافل ہیں۔ ہماری دیدہ دلیری تو دیکھئے کہ ہم اپنے کئے کا الزام بھی اپنے پرکھوں کے سر تھوپ رہے ہیں۔ وہ اجداد جنہوں نے پاکستان بنا کر ہمیں ہمارا مقصد حیات سونپا ہم نے اس مقصد کو اپنی بے عملی سے بے مقصدیت کی بھینٹ چڑھا دیا۔ خواب دکھانے والے خواب تو دکھا گئے لیکن ہم اسے تعبیر دینے کی بجائے اس خواب سے بیدار ہونا ہی بھول گئےِ اسی لئے آج بھی اس خواب میں ہی مبتلا ہیں۔ اور اب اپنی کم زوریوں اور نا اہلیوں کو چھپانے کے واسطے اپنے پرکھوں کی روحوں کو رولنے لگے ہیں۔

یہاں کچھ لوگ تو باقاعدہ ایسے گروہ میں اکٹھا ہو گئے ہیں جو ہمارے اندر مذید بے عملی اور بے مقصدیت کی روح کو بحال رکھنا چاہتے ہیں۔ اس لئے وہ ہمیں کسی عزم یا مقصد میں مبتلا ہونے سے روکنے کے لئے ہمارے اندر مذید اداسیاں انڈیل رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ہمارے ساتھ ماضی میں جو کچھ بھی ہوا غلط ہوا۔ اور جو کچھ بھی ہمارے اجداد نے کیا وہ سب ان کا صریح طور پر غلط اور بھیانک فعل تھا۔ محمد بن قاسم، محمود غزنوی، طارق بن ذیاد غیر انسانی فعل کے مرتکب ہوئے۔ اقبال اور حالی کے نظریات تاحال ہمیں گمراہ کر رہے ہیں۔ تقسیم سراسر ایک فاش غلطی تھی۔ اگر یہ نہ ہوتی تو ہم آج خوش حال ہوتے۔ مسلمانوں کا علیحدہ وطن کا تصور، علیحدہ نظریات سب بے ہودہ نظریات اور ماضی کی صریح غلطی تھے۔ انہیں ہمدردی ہے اس منظر سے جو راجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی کے استان کا بصورت پنجاب سکھوں کے ہاتھوں سے نکل جانے کی فسردگی لئے ہوئے تھا۔ انہیں محبت ہے گاندھی جی کے نظریات سے۔ جو بقول ان کے دنیا کے واحد انسانی اور اخلاقی نظریات ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے تئیں ہمیں خود اپنے آپ سے نفرت کرنا سکھا رہے ہیں۔ یہ لوگ ہمیں ہمارے وجود کی گھن اور بدبودار باس کا احساس دلا رہے ہیں۔۔ یہ ہمیں ہماری روح سے جدا کر کے اک غلیظ اور گلے سڑے وجود میں ڈھالنا چاہتے ہیں۔ یہ ہمیں ہمارے تاریخی آئیڈیلز سے نفرت دلا کر بے آسرا اور خالی ہاتھ بنانے کا مشن خوب نبھا رہے ہیں۔ یہ ہمیں ہمارے ہی وطن میں ہمیں بے وطن کر دینے کی سازش رچا رہے ہیں۔ یہ ہمیں ہمارے ماضی کی الجھنوں میں مبتلا رکھ کر ہم سے ہمارا آج چھین لینا چاہتے ہیں۔ ہمیں صاحب حال بننے سے روکنا چاہتے ہیں۔ وہ ہمیں، ہمارے مذہبی، سماجی اور تمدنی تشخص سے محروم کر دینا چاہتے ہیں۔ کیونکہ جو قومیں اپنے وجود، اپنے ملک، اپنی شخصیت، اور اپنی روایات و عظیم اجداد کی محبت کے سحر میں مبتلا ہو جائیں، وہ قومیں جو اپنے تمدنی و ثقافتی تشخص کو پالیں وہ ترقی کرنے لگتی ہیں۔ اور سر اٹھا کر جینے لگتی ہیں۔ اس لئے کبھی نہ اٹھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہمارا سر جھکا ہی رہے۔

ہمارے ہاتھ ہمیشہ کے لئے خالی ہی رہ جائیں۔۔۔۔۔۔۔

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: