گھر۔۔۔ تیسرے نمبر پہ آنے والا یگانہ نجمی کا افسانہ

0
  • 13
    Shares

جھولا ڈالو ری سکھی ساون آیو ری رم جھم رم جھم مینہ برسے
بیک گراؤنڈ سے آنے والی اس گانے کی آواز زارا کو ماضی کے اس دور میں لے گئی جسے بچپن کہتے ہیں، جہاں ہر طرف خوبصورت یادیں بکھری ہوئی ہیں۔ جون جولائی میں اسکول کی چھٹیوں میں جب نانی کی سب بیٹیاں جمع ہوتیں تو گھر کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا نانی کے گھر کے کچے آنگن میں آم کا درخت تھاجس میں سب بچے جھولے ڈال کر اور درخت سے کچے پکے آم توڑ کر کھاتے اور مزے کرتے تھے. ایسے میں اودھی اودھی گھٹائیں جب آسمان پر نمودار ہوتیں اور بارش کے قطرے زمین پر پڑتے تو کچی مٹی کی خوشبوسے سار ا آنگن مہک جاتااس موقعے پرپکنے والے پکوان الگ ہی مزا دیتے۔ سونے پہ سہاگہ نانی اماں کی وہ کہانیاں جو ان کے ناسٹیلجیاکا حصہ تھیں۔ وہ جب اپنے آبائی گھراترپردیش میں رہا کرتی تھیں۔ اور اس وقت کے ساون کو یاد کرتی تھیں۔ جہاں وہ اپنی سکھیوں بیلا اور روپ کور کے ساتھ پیلے چنریاں اور ہری ہری چوڑیاں پہنے ساون کے گیت گایا کرتیں .پھر اچانک ایک رات اس آنگن میں بلوائیوں نے ان کے گائوں پر حملہ کردیا۔ راتوں رات انھیں اپنا یہ آنگن چھوڑ کر اپنی عزت وناموس کی حفاظت کی خاطربارڈر پار کرنا پڑا۔ وہ اپنے ابا کو اماں سے یہ کہتے ہوئے سنتی تھیں۔ کہ نیک بخت اب یہ وطن ہمارا نہیں رہا۔ ہمارا وطن اب پاکستان ہے جہاں ہمارے لیے ہر طرح کا سکھ چین ہوگا۔ وہاں کوئی ہماری طرف بری نگاہ ڈالنے والا نہیں ہوگا۔ ہماری عزت و ناموس کی حفاظت کے نگہبان ہوں گے۔ جو اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بنا ہے۔

نانی اماں کی تین بیٹیا ں تھیں جو سب مختلف عادت واطوار کی مالک تھیں کوئی بہت بولتی تو کوئی بالکل خاموش نانی اماں نے اپنی بیٹیوں کی تربیت بڑے اچھے انداز سے کی تھی۔ اس گھر میں ہر ایک کی عزت و احترام کا خیال رکھا جاتا اسلئے ان کے گھر میں آنے والا ہر شخص خوشی کا حسین احساس لئے رخصت ہوتا۔ ان کی دوبیٹیاں رقیہ اور سائرہ شادی ہوکر دبئی چلی گئی تھیں۔ ان دونوں کی شادی ایک کھاتے پیتے گھرانے میں ہوئی تھی۔

جبکہ ان کی منجھلی بیٹی ثریا کی شادی ناصر سے ہوئی تھی جوکہ ایک اسکول ٹیچر تھا اور بد قسمتی سے شادی کے ایک سال بعد ہی وہ ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گیا تھا۔ زارا چار ماہ کی تھی اور بے چاری اپنے والد سے صحیح طور سے آشنا بھی نہ ہوئی تھی۔ ناصر کے انتقال کے بعدثریا اپنی ماں کے گھر آگئی تھی۔ مگر ثریا ناصر کی جدائی میں ہر وقت غمگین رہتی اسی لیے وہ زارا کا خیال بھی ٹھیک سے نہیں رکھ پاتی تھی۔ اس حالت کے سبب رضیہ خالہ ہی زارا کی دیکھ بھال رکھتی تھیں۔ رفتہ رفتہ ثریا بیمار رہنے لگی اور ٹی بی کی مریضہ بن گئی علاج معالجے کے باوجود اس کی صحت دن بہ دن بگڑتی گئی۔ اور آخر کا ر نانی اماں نے اسے اسپتال میں داخل کروادیا لیکن اس کی حالت سنبھلنے کا نام نہیں لیتی تھی پھر ایک دن وہ بھی ناصر کے پاس پہنچ گئی اب نانی اماں کے لیے آزمائشوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔

اب ایک با ر پھر زمہ داری کا بوجھ ان کے کاندھوں پر آن پڑا تھا۔ اتنے دکھوں کے باوجود انھوں نے یہ ذمہ داری خندہ پیشانی سے قبول کر لی۔ زارا اپنی نانی اماں کے ساتھ خوشی خوشی رہ رہی تھی نانی اماں اپنی منجھلی بیٹی ثریا کی نشانی کو سینے سے لگائے اپنی بیٹی کی یادوں کے سہارے جی رہی تھیں۔ وہ زارا کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں خیال رکھتیں۔ محلے کی عورتوں کے کپڑے سی کر گزر اوقات کرتیں تھیں اور اس قلیل آمدنی میں بھی وہ اپنی نواسی کے کھانے پینے کپڑے حتی کہ کھلونے تک کی فرمائش کو پورا کرنے کی کوشش کرتیں۔ زارا اگرچہ پانچ برس کی تھی مگر ایک صابر وشاکر بچی کی طرح سے رہتی اور کبھی کسی شےکی فرمائش نہ کرتی۔ نانی اماں نے زارا کو علاقے کے ایک اچھے اسکول میں داخل کروادیا۔ اب ان کی ذمہ داریوں میں اور اضافہ ہوگیا اور اب وہ پہلے سے زیادہ محنت کرنے لگیں زارا بھی بچپن سے بہت سمجھدار اور ذہین تھی۔ اسے ماں باپ کی جدائی نے بہت حساس ہونے کے ساتھ ساتھ سمجھدار بھی بنا دیا تھاہر سال وہ پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ محنت کے ساتھ پڑھتی ور اسکول میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے کرتے چھٹی جماعت میں پہنچ گئی۔ وہ نانی اماں سے کہتی کہ میں بڑی ہوکر ڈاکٹر بنوں گی اس کی نانی اماں اسے دیکھ کر پھولے نہ سماتیں تھیں۔ پھر نہ جانے ان کی خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گئی گزشتہ سال آنے والے سیلاب نے جہاں گاؤں کے گاؤں اجاڑے وہیں شہر بھی ویران ہوگئے۔

ان کا گھر بھی اسی تباہی کا شکار ہوگیا۔ اس رات بہت زور کی بارش تھی لگتا تھا کہ آج بادلوں سے پانی نہیں رکے گا بجلی کی کڑک و چمک سے دل دہلا جاتا تھا. وہ سہم کر اپنی نانی کے پاس ان سے چپک کر بیٹھی تھی اور دعا کر رہی تھی کہ اے اللہ اس طوفان کو روک دے بارش کا پانی رفتہ رفتہ گھر کے اندر داخل ہو رہا تھا۔ بادل کے گرجنے کی آواز تھی کہ تھمتی ہی نہ تھی نانی کی طبیعت صبح سے ہی خراب تھی۔ اب اچانک ان کی حالت بہت زیادہ بگڑنے لگی، درد کی وجہ سے وہ کراہنے لگیں ان کی یہ حالت دیکھ کروہ بار بار دروازے تک آتی اور باہر گلی میں آوازیں دے کر مدد کے لیے پکارتی شہناز خالہ شہناز خالہ، راجہ بھائی راجہ بھائی کوئی ہے کیا کوئی ہے! مگر اس طوفانی بارش میں کون اس کی معصوم آواز کو سن سکتا تھا۔ وہ پلٹ کر آئی اس کی آنکھیں بھی شاید موسم کا ساتھ دے رہی تھیں اس نے اپنی قمیض کے دامن سے اپنے آنسو پونچھے کہ کہیں اسکی نانی اماں ان آنسوں کو نہ دیکھ لیں کیونکہ وہ اسے کبھی روتا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ مگر یہ کیا! نانی نانی کیا ہو گیا آپ کو وہ نانی کا سر اپنے زانوں پر رکھے چلارہی مگر نانی بے حس و حرکت پڑی تھی وہ نانی جو کبھی اس کی معمولی آہٹ سن کر چونک جاتی تھیں آج اس کے چیخنے چلانے پر بھی بے حس پڑی تھیں۔ ساری رات وہ اپنی معصوم نظروں سے اور آسمان سے بادل پانی برساتا رہا۔ آخر قیامت کی رات کٹی اور صبح سورج کی پہلی کرن نمودار ہوئی مگر امید کی بجائے مایوسیوں کے اندھیرے کے ساتھ. برابر والی عائشہ خالہ کی بیٹی کے جہیز کا سارا سامان بارش کے پانی کی نظر ہوگیا تھا۔ ایسے وقت میں جب سب کچھ داؤ پر لگ چکا تھا۔ اللہ اور رسول کے نام پر بننے والی ریاست میں لٹیروں نے بچا کچا سامان لوٹنا شروع کردیا۔

ریاست چچا اپنی مال مویشیوں کے بہہ جانے کا رونا رو رہے تھے غرض ہر شخص اپنے لٹ جانے کا ماتم کر رہا تھا۔ اچانک ریاست چچا کی نظر زارا پر پڑی جو خاموش سکتے کے عالم میں دروازے کی چوکھٹ سے لگی کھڑی تھی۔
زارا بٹیا کیا ہوا بیٹی کچھ تو بولوریاست چچا اس سے پوچھ رہے تھے پر جواب ندارد، محلے کی دوسری عورتیں بھی اس کے قریب آگئیں۔ ارے بچی بچاری رات کی بارش سے ڈر گئی اس اثنا ء میں ریاست چچا اندر کی طرف دوڑے چارپائی پر نانی اماں ابدی نیند سو رہی تھیں ریاست چچا فوراََ باہر ک طرف لپکے اور شفیق کو پکارا جو ان کا پڑوسی تھا۔ شفیق نے کہا ریاست بھائی ایمبولینس منگوانا پڑے گی اور وہ لوگ ایمبولینس منگوانے کی کوشش میں لگ گئے۔ زارا ان تمام باتوں سے بے خبر سکتے کی حالت میں اپنی نانی اماں کو تک رہی تھی پاس بیٹھی خواتین اس کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ دو سری طرف ایمبو لینس کے لیے کوشش جاری تھیں۔

آخر کار بڑی مشکلوں کے بعد ایمبولینس آگئی اور نانی اماں کا جسد خاکی گھر سے لے جایاگا۔ زارا بے چاری روتی چیختی چلاتی رہ گئی۔ جب اس واقعے کی خبر زارا کی دونوں خالاؤں کو ہوئی جو کہ دبئی میں رہتیں تھیں تو انھوں نے صاف کہہ دیا کہ ہمارا تو ابھی پاکستان آنا ممکن نہیں۔ اور کہاکہ انکے دور پرے کی رشتہ دار کراچی میں رہتی ہے وہ زارا کولے جائیں گی ہم نے انھیں کہہ دیا ہے۔ مگر ایسانہ ہوا کوئی اسے لینے نہیں آیا۔ اس وقت عائشہ خالہ ہی تھیں جنھوں نے اسے اپنے گھر پناہ دی۔ مگر گھر بار کی تباہی نے انھیں یہ جگہ چھوڑنی پڑی۔
وہ اپنے بچوں کی طرح اسکا خیال رکھتیں۔ چاربرس بیت گئے اسے کوئی لینے نہیں آیا وہ اب بچی سے بڑی ہو گئی تھی اوروہ اب اپنوں کی جدائی کو اور بھی زیادہ محسوس کرنے لگی تھی۔ ساری یادیں فلم کی شکل میں نظر میں پھرنے لگیں اور دور سے گانے کی آواز تیز اور تیز ہوتی گئی۔

اب کے ساون کیسا آیا سب ہی مجھ سے دور کوئل اپنی کوک سنا کر کرتی ہے مجبور میں بھی اپنی سکھیوں کے سنگ گاتی میگھ ملہار جھولا ڈالو ری سکھی ساون آیو‘‘ اور ساون کی ایک جھڑی اس کی آنکھوں سے برسنے لگی۔ نانی اماں کی طرح شاید اسے بھی ایک اور ہجرت مطلوب تھی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: