ایثار : دوسرے نمبر پہ آنے والا تانیہ شاد کا افسانہ

0
  • 31
    Shares

شام ابھی گہری نہیں ہوئی تھی سب کھلے صحن پرچارپائیوں پر بیٹھے لائیٹ آنے کے منتظر تھے۔۔لائیٹ آتی تب ہی روٹی پکتی سب بڑے کمرے میں بیٹھ کر کھانا کھاتے۔ اسکے بعد اپنے اپنے روزمرہ کے کام نبٹائے جاتے۔ راحیلہ کو تو ابھی کل کے لئے کپڑے بھی استری کرنے تھے۔ چھوٹی بہن اور بھائی سے گپیں لگاتے آخر وقت گذر ہی گیا۔ لائیٹ آگئی لائیٹ آگئی گلی میں بچوں کا شور اٹھا۔ ساجدہ ہنس دی”، اتنے سال پو چکے اب سب کو عادت ہو جانی چاہئے لیکن بچوں نے ضرور شور مچانا ہوتا ہے باجی”
کیا۔کریں سجو! گرمی نے بھی تو مت ماری ہوئی ہے نا بچے پھر بچے ہی ہیں۔”
>چل اب اٹھ اماں کلی لگی ہے چل اماں کے پاس چلیں۔”

نزیراں نے راحیلہ پہ نظر ڈالی۔ سنجیدہ سی راحیلہ بچپن سے ہی بہت صابر تھی ہمیشہ ماں باپ کا ادب کیا کبھی سجو اور کاشی کی طرح ضد نہیں کی ۔بلکہ الٹا بہن بھائیوں کے لئے بڑا پن اور ایثار دکھایا۔ اماں کو ساتھ کے پڑوس میں چاچی حمیدہ کی عیادت کرنا تھی۔ اپنی دھیوں کے لئے دعائیں کرتے ہوئے اٹھ گئی۔ ارادہ تھا کہ ابھی جا کر شام سے پہلے لوٹ آتی۔ماں کے جاتے ہی راحیلہ نے مونگرے کا تھال اٹھایا۔ ساتھ ہی دل میں اپنے منگیتر چچا زاد اسلم کا تصور آتھما۔ وہ خود کوخوش قسمت سمجھتی کہ اس کا ہونے والا شریک سفر پڑھا لکھا اور با ادب نوجوان تھا۔ یونیورسٹی سے ایم کام کر رہا تھا۔ چاچی زینت کا خیال تھا اگلے سال عیدپر شادی رکھی جائے لیکن اسلم نے ہی اپنے گھر والوں کو روکا ہوا تھا کہ پہلے امتحان سے مکمل فراغت تو پا سکے۔ پھر ملازمت بھی تلاش کرنی ہے۔ چاچی زینت فخریہ سب کو بتاتی بھلا اسلم کو نوکری کی ضرورت ہے۔ گھر بار کھیت مویشی اللہ کا دیا سب ہی تو ہے۔
< گئے تھے۔ دروازہ کھلنے کی آواز آئی تو راحیلہ بھی چونک گئی۔ ابا مسجد سے ظہر پڑھ کر واپس آ >اسکول جاتے ہوئے راحیلہ کو اب چھ ماہ سے ذائد ہو چکے تھے۔ اپنے عمدہ اخلاق اورملنسار طبیعت کی وجہ سے بچوں اور اسٹاف میں یکساں مقبول ہو گئی۔
>مس ارم کی بہن میڈم سحر بانو راحیلہ کے ساتھ حد سے زیادہ شفقت سے پیش آنے لگیں کہ اسکول کے انتظامی امور میں ہمیشہ خندہ پیشانی سے ان کا ہاتھ بٹاتی۔

“>نی دھیئے آج اسکول سے چھٹی نہ کر لے تیرے چاچا چاچی کہتے ہیں اسلم بھی ایک ماہ تک امتحان سے فارغ ہو جائے گا تو فیر روزوں بعد عید کا سوچا جائے۔ اور آج موسم کچھ بہتر تو بازار کاچکر لگا لیں۔
اماں جو چاہے طے کر لیں لیکن میں آج کل چھٹی نہیں کر سکتی ابھی پرچے بننے ہیں پھر امتحان اس کے بعد رزلٹ ناں۔
اچھا اچھا خیر ہووے لیکن کوشش کرنا جلدی آجانا۔ ا ہے۔ اماں امتحان قریب ہیں ناں اچھا ٹھیک ہے تو ناشتہ تو دھیان سے کر اماں بس ایسے ہی گرمی میں دل نہیں کرتا۔>
>دل کی کیا کہے دل آج میرا بہت ہی گھبرا رہا ہے اللہ سبکو سلامت رکھے خیر ہووے۔
“>وین کی آواز سنتے ہی راحیلہ نے بڑی سی چادر سےخود کو ڈھانپ لیا۔
>گھر کا دروازہ پار کرتے ہی گلی پراختتام پہ وین کھڑی تھی۔ بچوں کی انہی مزے دار باتوں میں وقت گزر جاتا تھا اسکول پہنچ کر معمول کے مطابق سب کام انجام پا رہے تھے۔ مڈل کلاسز میں لگا تار تین انگریزی کلاسز کے بعد اوپر کا زینہ طے کر رہی تھی گھڑی پہ نظر ڈالی تو بریک میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔لو ابھی تو بریک میں بھی پونا گھنٹہ ہے اماں کہتی آج جلدی آجانا انہی سوچوں میں غلطاں تھی اچانک فائرنگ کی آواز پہ چونک کر دیکھا تو کھیل کے میدان میں تین ڈھاٹے باندھے اسلحہ بردارنظرپڑتے ہی راحیلہ جہاں تھی قدم وہیں گڑے رہ گئے، استانیوں اور بچوں کی چیخ پکار مچ گئی۔۔۔نہیں معلوم خوفناک حلیئے کے یہی تین مرد تھےکہ اور۔ ابھی ان کے پاس واکی ٹاکی تھی جس پہ ہدایات مل رہی تھی ایک نے سیدھا آگے بڑھ کر کلاسز کے اندر گھس کر بچوں کو گھیرا۔ دوسرے نے پرنسپل کے آفس کا رخ کیا تیسرا میدان میں کھڑا بس حکم جاری کر رہا تھا۔ حواس بحال ہوتے ہی راحیلہ نے چپکے سے اپنی جماعت کا رخ کیا اور دروازہ بندکر لیا۔ چوتھی کلاس کے بچےشائد ابھی مکمل صورتحال سے لاعلم تھے۔تب بھی خوفچہروں سے عیاں تھا۔ ہمت کرو بچو! ہم اتنی جلدی ہار نہیں مانیں گے۔ میرے ہوئے ہوئے کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔
مس یہ لوگ کیا ڈاکو ہیں اسکول میں کس لئے آگئے ہیں۔ نہیں نہیں ڈاکو نہیں دشت گرد ہیں ہمارے حوصلے توڑنے آئے ہیں۔
راحیلہ نے کھڑکی کھول کر دیکھا دوسری منزل کی اونچائی اتنی زیادہ نہیں تھی۔ لیکن عمارت کے پچھواڑے کی طرف پکی گلی تھی کچھ تو کرنا ہی تھا
اس کا ذہن تیزی سے کام کرنے لگا پہلے دروازے پر اپنا میز آگے کیا اور اس کے ساتھ بنچ جوڑ دی پھر بچیوں کے دوپٹے اور وی کو باندھ کر رسی بنا لی بچے سب ٹیچر کے ساتھ لگے تھے۔ ایک بنچ کھڑکی کے قریب لائی گئی، جلدی سے پہلے صنوبرکو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا وہ معصوم انکار میں سر ہلاگئی مس پہلے عائشہ کو بھیج دیں اس کو آج بخار بھی کتنا رو بھی رہی یے، عائشہ پیچھے ھٹ گئی نہیں صنوبر میں تمہارے ساتھ ہی جاؤں گی مس پہلے حماد کو اتار دیں وہ ہم سب میں چھوٹا ہے۔ چلو کرو بچو جلدی حماد کا بازو پکڑ کرکھڑکی پہ چڑھایا دھان پان سا حماد جلدی اتر گیا لیکن یہ کیا اترتے ہی اس کا منحنی سا وجود سرخ پڑ گیا باہر بھی دہشت گردوں کا ساتھی کوئی موجود ہے۔ گولی کی آوز حماد کا مڑا تڑا وجود دیکھ کر کلاس سب رونے لگی۔
خود راحیلہ کی آنکھ سے آنسو بہنے لگے دروازہ پہ دھکے پڑنے لگے باہر جو بھی تھا چیخ کر گالیاں دے رہا کھولو۔ ہلکی سی میز کی بساط ہی کیا تھی
بچوں کے چہرے پہ سراسمیگی بڑھتی گئی لیکن اپنی مس کو کمزور پڑتے نہیں دیکھ سکتے تھے راحیلہ نے سب کو اپنے بازووں میں سمیٹ لیا۔۔ آنے والے دو نقاب پوش جن کے ہاتھوں میں جدید کلاشکوف تھی بیٹھو سارے۔ راحیلہ نے ہمت سے کہا دیکھو تم لوگ جو بھی ہو کیا چاہتے ہو یہ تو اتنے چھوٹےبچے ہیں
>بکواس نہ کر استانی پہلے ہی تیری وجہ سے اتنا وقت ضائع ہوا ہٹ جا
تم لوگ دیکھو تو یہ بھی کسی کی اولاد ہیں کیا بگاڑا انہوں نے تمہارا
>دوسرا کسی نامانوس سی زبان میں ساتھی سے کچھ بولا شائد اسے اردو آتی ہی نہیں تھی۔ پہلے والے نے کلاشنکوف کا رخ راحیلہ کی طرف کی زیادہ استانی نہ بن ہٹ جا فورا ہمیں کہا گیا تھا کسی کو مارنا نہیں ہے لیکن اب تو مجبور کرے گی تو
راحیلہ نے بچوں کو اپنے پیچھے چھپانے کی کوشش کی،
نقاب پوش آگے بڑھا، راحیلہ پیچھے ہٹنے لگی، بچے سہم کے دیوار کے ساتھ چپک گئے،
تڑ تڑ گولیاں نکلنے لگی، غیر زبان بولنے والے نے کلاشنکوف خالی کردی،،،
بچے راحیلہ کے نیچے دب گئے،
>راحیلہ اور بچوں کے بدن سے بہتا خون قوم کو ایثار کا انوکھا سبق سنا رہے تھے
، جیسے قوم کے معمار نے مستقبل کی عمارت کی بنیاد خون سینچ کے،بڑی مضبوط اور قوی رکھ دی ہو۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: