ووٹ کا احترام اور ’مجھے کیوں نکالا گیا‘ ۔۔۔۔ مسعود کتابدار

0
  • 14
    Shares

ووٹ کسی جمہوری ریاست میں شہریوں کے بلا تخصیصِ رنگ و نسل و مذہب و ملت اپنے سیاسی نمائندے چُننے کے اختیار اور حق کا نام ہے، یہ حق، بالغ رائے دہی کے اصول کے مُطابق انفرادی اور اختیاری ہے، دوسرے الفاظ میں ووٹروں اور سیاسی طالع آزماؤں کے مابین ووٹ ایک دوطرفہ معاہدہ ہے جو انتخابی مہم کے دوران پارٹی پروگرام کی اُس پیش کش کی بنیاد پر طے ہوتا ہے، پارٹی پروگرام اُن وعدوں پر یا سبز باغوں پر مشتمل ہوتا ہے جس میں یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ نمائندے مُنتخب ہو کر عوام سے کیے گئے وعدے کما حقہ پورا کریں گے، وہ ملکی امور کو عوام کے وسیع تر مفاد میں مروجہ قانون اور آئین کے مطابق انصاف اور غیر جانبداری سے چلائیں گے اور اس سلسلے میں نہ ترجیحات ہونگی اور نہ کسی مخصوص طبقے کے مفاد کو غیر معمولی تحفظ دیا جائے گا، یہ وسیع تر مفاد اپنے مفہوم اور نوعیت کے اعتبار سے عوام کی جان و مال کی حفاظت اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی سے مشروط ہوتا ہے۔

عوام کی بنیادی ضروریات کیا ہیں :
روزگار کے مواقع، روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، طبی سہولتیں، انصاف اور امن و امان، یہ سب کچھ قانون کی حکمرانی کی ذیل میں آتا ہے، چنانچہ منتخب ہو کر حکومت بنانے والے نمائندوں کا پہلا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ عوام کی طرف سے کیے گئے اعتماد یعنی ووٹ کو قومی امانت سمجھیں اور عوام کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹ کا احترام روا رکھتے ہوئے صدقِ دل سے اللہ کے بندوں کی خدمت کریں اور اُن کے دکھ سکھ میں شریک رہ کر اُن کے کام آئیں:

یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں

اللہ کے نزدیک سیاستدان بھی انسان ہے اور عام آدمی بھی انسان مگر بہت سے جاہل اور اُجڈ سیاستدان عام آدمی کو اپنے برابر کا انسان نہیں سمجھتے اور اُسے راستے کا پتھر سمجھ کر اس طرح ہٹا دیتے ہیں، جیسے سابق وزیر اعظم کی ریلی نے ایک ۹ سالہ بچے کو کُچل کر راستے سے ہٹا دیا اور پلٹ کر دیکھا تک نہیں، کیونکہ وہ اُن کے برابر کا حسن نواز، حُسین نوازکے جیسا نہیں تھا، اگر وہ اُسے برابر کا انسان سمجھتے تو اُس کی ریلی میں ہوئی موت کا فوری نوٹس لیتے، فوری قانونی کاروائی کر کے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچاتے اور معاملے کو لٹکانے کے بعد طاقِ نسیاں پر نہ ڈال دیتے اور اُن کا یہ غیرذامہ دارانہ رویہ اس بات کا گواہ ہے کہ وہ ووٹ کی بے حرمتی کر رہے ہیں، وہ ووٹ کے احترام کے قائل ہی نہیں، وہ ووٹ کو صرف اپنے اقتدار کے تحفظ کا پروانہ گردانتے ہیں، اور اُسی کی بنیاد پر دوسرے اداروں سے اپنے مینڈیٹ کا احترام تو طلب کرتے ہیں مگر خود اپنے آپ کو فراموش کردیتے ہیں.

ووٹ کا احترام ووٹر کا احترام ہے، ووٹر کے بچوں اور اُس کے محفوظ مستقبل کا احترام ہے مگر چونکہ ووٹر غریب ہے اس لیے اُس کا احترام نظر انداز کیا جا رہا ہے کیونکہ ووٹر کا ووٹ تحلیل ہو کر لیڈر کی انا میں تبدیل ہو چکا ہے اور لیڈر اب ووٹ کا جو حشر چاہے کرے، اُس کو قطر میں کیش کرائے یا لندن کے فلیٹوں میں بدلوا لے،۔
لیڈر شپ، قیادت اور رہبری عوامی منصب ہے جو حکمران پر خُدا کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داری ہے، قوم کی ذمہ داری کا یہ بوجھ ذاتی کاروبار کے بوجھ جیسا نہیں ہوتا، اس میں تو وہ بوجھ اُٹھانا پڑتا ہے جو ایک الوہی امانت ہے جسے اُٹھاتے ہوئے آسمان، زمین اور پہاڑ تک لرز گئے تھے مگر انسان نے اُٹھا لیا تھا، مگر کیا وہ انسان اب رائیونڈ میں رہتا ہے اور جاتی عمرا کے محل میں رات کو کھڑکی میں کھڑے ہو ہو کر ہواؤں سے پوچھتا ہے کہ ” مجھے کیوں نکالا گیا “۔

ایک اسلامی جمہوریہ کہلوانے والی ریاست میں تو قیادت اور خدمت ہم معنی اور مترادف ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
“سید القومِ خادمھم”، قوم کا سردار اُس کا خادم ہوتا ہے، محض نام کا خادم نہیں بلکہ سچ مچ کا خدمت گزار جو عجز و انکسار کے ساتھ رب کے بندوں کی خدمت پر مامور ہوتا ہے اور اگر وہ خدمت نہ کرے یا خدمت سے اجتناب کرے تو ووٹر اور لیڈر کا رشتہ فسق ہوجاتا ہے بالکل اسی طرح جیسے نکاح ٹوٹ جاتا ہے، یہ حکمران کی طرف سے عوام کے ووٹ کے عدم احترام، تذلیل اور توہین کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے، اور جو ووٹ کا احترام نہیں کرتا، ووٹ اُس کا احترام نہیں کرتا، وہ اپنے مینڈیٹ سے محروم ہوجاتا ہے اور ووٹ کے معاہدے سے از خود ہی نکل جاتا ہے اور جب کوئی خود ہی اپنے عہد کو توڑ کر نکل جائے تو اُسے یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ ” مجھ کیوں نکالا گیا “۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: