آزادی مُبارک : سحرش عثمان

0
  • 1
    Share

یہ ایسے نہیں تھا کہ صبح اٹھے اور کہہ دیا نہیں ساتھ رہنا۔کل سے اپنا اپنا کام کریں گے علیحدہ رہیں گے۔۔
اس “ساتھ نہیں رہ سکتے” کے پیچھے ایک لمبی داستاں ہے جدوجہد کی مخالفت کی کوشش کی عزم کی حوصلے کی سفرنگز کی قربانیوں کی ہمت کی خوابوں کی اور ان کی تعبیروں کی۔ اس کے پیچھے اے او ہیوم کی کانگرس سے لے کر دارالعلوم دیو بند تک ہر شخص ہر گروہ چھپا ہے۔
کبھی پیپرز کو طاق پہ دھر کے نمبرز گریڈز کو بھول کر پاکستان افئیرز کی بک کھول کر دیکھیں توایک ایک صفحہ ایک ایک سطر ایک ایک حرف داستانیں سناتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
جیسےمسجد کے مینار نے جھک کے صدیوں کے گم ہونے کے راز کی سرگوشی کی تھی بلکل ویسے ہی کتاب کے صفحات نے سرگوشیوں میں داستان عزم سنائی تھی۔
امیدوں کی بارآوری کی داستاں۔ کسی خواب کی تعبیر کا قصہ۔
تقسیم بنگال کا صفحہ تھا اور وائسرائے کے الفاظ کے “نو باڈی کین فورس ایس” ہاں یہ ہی کہا تھا وائسرائے نے کہ انتظامی فیصلہ ہے بدلا نہیں جائے گا لیکن پانچ سال کے قلیل عرصے میں واپس ہو گیا فیصلہ ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو گیا کہ نہیں رہ پائیں گے ساتھ۔
معاشرے میں ہر طبقہ فکر کا علیحدہ گروہ ہوتا ہے نا جنہیں سوشیالوجسٹس کمیونٹی پیٹرن کے نام سے ڈیل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ہر گروہ کے اپنے مفادات اپنے اصول اپنی رائے۔
جب بھی کسی بڑے فیصلے کا وقت ہوتا ہے تو اس کے محرکات میں معاشرے کا کوئی نا کوئی گروہ ایکٹو ہوتاہے وہ اپنے حق کے لیے کھڑا ہوجاتا ہے۔جیسے مزدوروں کے حقوق کے لیےوہ مزدور جس نے خود کو آگ لگا لی تھی۔جیسے میگنا کارٹا سے پہلے وکلاء کی تحریک جیسے اقوام متحدہ سے پہلے سیاستدانوں کا اکٹھ۔
رب کی کوئی مصلحت تھی جو اس تقسیم سے پہلے معاشرے کے ہر گروہ ہر فرد ہر سلیم الفطرت ہر دور اندیش فرد پر اتمام حجت کردی رب نے __ہر کسی کو یقین ہو گیا کہ ساتھ رہنا ممکن نہیں رہا۔
چاہے وہ اردو ہندی تنازعہ کے زریعے سر سید جیسے فرد کے ہاتھوں لکھوایا جانا ہو کہ شقی القلب مزہبی گروہ اکھٹے رہنے کے قابل نہیں رہا۔
یا پھر سائمن کمشن کے بعد ہندوستان کی چھوٹی سیاسی جماعتوں سے کہلوانا ہو۔۔
وہ گول میز کانفرنسز کا بے نتیجہ ہونا اور سر شفیع کے ساتھیوں کا کہہ دینا کے “یہ زندہ جلا ڈالیں گے یا زمین میں گاڑ دیں گے یا ہندو بنا دیں گے” یونہی بے سبب تو نہیں تھا۔
اور پھر نہرو رپورٹ اور چودہ نکات کو یکسر مسترد کر دینا۔۔۔ارون دھتی رائے کہتی ہے نا کہ چودہ نکات کا مسترد ہونا تاریخ کی سب سے فاش غلطی ہے۔۔
نہیں! یہ بلیسنگ ان ڈس گائز تھی۔
یہ اس ناتواں شخص کو یہ بتانا مقصود تھا۔
کہ اس خوابیدہ قوم کے مستقبل کے لیے تمہیں چنا گیا ہے اور وقت کم ہے بہت کم۔
جب پہلی دفعہ کہا کہ اب الگ رہنے سے کسی طور کم پر راضی نہیں ہم تو کیا ہوا؟؟
سارا ہندو میڈیا کہہ اٹھا “پاکستان” بنائیں گے۔
اور لہجے کے طنز نے بیک فائر کیا بہت سے مسلماں صحافی نا محسوس طریقے سے تحریک کا حصہ بن گئے۔بھلا کسی غیرت کو کب گوارا تھا مثال میں ہی مدینہ آئے اور کوئی پھبتی کسے۔
تحریک کی حمائت کرنے پر جب بہت سے کانگرسی مرد حضرات نے چھوڑ دینے کی دھمکی دی تو بہت سی خواتین خود ہی چھوڑ چلی آئیں بیگم رعنا لکھتیں ہیں نا لیگی خواتین کے حوصلے تو قابل دید تھے پر جو دو طرفہ قیامت کانگرس سے ایفیلیشن والی فیملیز کی خواتین پر جاری تھی وہ بیان سے باہر ہے۔دن میں تحریک کی سرگرمیاں ہوتیں تو اکثر شامیں گھریلو زمہ داریوں کی صورت کانگرس کی میٹنگز کو چائے ناشتے کا پوچھتیں__ اب سوچتی ہوں تو حیرت سے انگلی دانتوں تلے داب لیتی ہوں اتنی جرات کہاں سے آگئی تھی اس دور کی خواتین میں یہ کس کی آواز ان اندھیروں میں حوصلے
کا مینار نور بنتی تھی۔خدا جانے وہ ایسا کونسا جذبہ تھا جو ہر خوف ہر سراسمیگی پر بھاری تھا۔۔خود کو ان کی جگہ پر رکھتی ہوں تو جھرجھری آجاتی ہے یہ سوچ کر ہی کہ بغیر کسی واضح مضبوط سہارے کے خواب دیکھنے والے ایک پریکٹیکل شخص کی سدا پر لبیک کہنا تھا۔۔میں ہوتی تو شائد نہ کر پاتی یوں نہ ہوتا تو یوں ہوتا کے گرداب میں الجھی تو جانے کس سٹیشن پر ہوش آئی۔کسی شہر کا کوئی مصروف سا ریلوے سٹیشن تھا اکثریت آ جا رہی تھی زندگی رواں تھی۔۔بھلا دس لاکھ جانیں کیوں قربان کی جائیں اس جملے کی گردان ذہنی کشمکش کا پتا دے رہی تھی جانے کب تک اسی سوال کا جواب تلاشتی رہتی کے ایک آواز فیصلے کا صحرا بن کر کانوں میں پڑی کہ “ہندو پانی مسلم پانی” اور میں سبز ہلالی ٹرہن میں آ بیٹھی۔
کیونکہ گھر تو آخر اپنا ہے۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: